وقت اور زندگی شریعت کی روشنی میں (The Time & Life in The Light of Shariah )

ڈاکٹر عبدالمنان محمد شفیق نے 'اتباعِ قرآن و سنت' میں ‏نومبر 11, 2016 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ڈاکٹر عبدالمنان محمد شفیق

    ڈاکٹر عبدالمنان محمد شفیق ركن مجلسِ شوریٰ

    شمولیت:
    ‏جون 30, 2015
    پیغامات:
    212
    وقت اور زندگی شریعت کی روشنی میں

    (The Time & Life in The Light of Shariah)

    ڈاکٹر عبد المنان محمد شفیق

    ہم سب اس امر سے بخوبی واقف ہیں کہ وقت ہی زندگی ہے اور زندگی ہی وقت ہے ۔ اور ان دونوں کا عطا کرنے والا صرف اور صرف اللہ تعالى ہے۔فرمان باری تعالى ہے: الذی خلق الموت و الحیاۃ لیبلوکم ایکم احسن عملا , وہو العزیز الغفور(ملک/2) یعنی جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تم لوگوں کو آزمائے کہ تم میں سے کون بہتر عمل کرتا ہے۔ اور وہ غالب بخشنے والا ہے۔
    مذکورہ بالا آیت سے بالکل واضح ہے کہ زندگی اور وقت كا عطا كرنے والا تنہا اللہ جل جلالہ ہے ۔ اور عطا کرنے کا مقصد آزمائش ہے۔اور اس آزمائش میں کامیابی صرف اور صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو اچھے و بہترین عمل کرنے والے ہیں۔ لہذا ہم سب اپنے انمول بیش قیمت اوقات کو ضائع کرکے اپنی زندگی ضائع نہ کریں۔اور یہ قطعی طور پر جان لیں کہ یہ زندگی ہمارے پاس اللہ کی طرف سے امانت ہے۔ لہذا ہمیں جس طرح امانت میں بغیر اس کے مالک کی اجازت کے کوئی تصرف کرنے کا حق نہیں حاصل ہوتا ہے ۔اسی طرح ہمیں اپنی زندگی میں اپنی مرضی کے مطابق تصرف کرنے کا حق حاصل نہیں ہے کہ ہم جس طرح چاہیں اپنی زندگی گذاریں ۔ لہذا ہمیں اسی طرح اپنی زندگی گذارنی ہے جس طرح اللہ و اس کے رسول نے حکم دیا ہے۔

    اورساتھ ہی یہ بھی یاد رکھیے کہ ہم اپنی زندگی کا گذرا ہوا ایک سکنڈ بھی پوری دنیا کی دولت دے کے واپس نہیں لا سکتے ہیں ۔ اور قیامت کے دن ہم سب سے ہماری زندگی کے بارے میں دو سوال پوچھا جائے گا۔ایک پوری عمر کے بارے میں دوسرا جوانی کے بارے میں جیسا کہ صحیح حدیث میں وارد ہوا ہے: وعن معاذ بن جبل رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : (لا تزول قدما عبد يوم القيامة حتى يسأل عن أربع خصال عن عمره فيما أفناه وعن شبابه فيما أبلاه وعن ماله من أين اكتسبه وفيما أنفقه وعن علمه ماذا عمل فيه.) . رواه البزار والطبراني بإسناد صحيح قال الألباني في صحيح الترغيب والترهيب (صحيح لغيره) حديث رقم 3595
    ترجمہ: حضرت معاذ بن جبل سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا: کسی بھی بندہ کا پاؤں قیامت کے دن اس وقت تک اپنی جگہ سے نہیں ہٹے گا یہاں تک کہ اس سے چار چیزوں کے بارے میں سوال نہ کر لیا جائے۔

    1۔ اس کی عمر کے بارے میں کہ اس کو کہاں ختم کیا۔

    2۔اس کی جوانی کے بارے میں کہ اس کو کہاں لگایا و استعمال کیا۔

    3۔ اس کے مال و دولت کے بارے میں کہ کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا۔

    4۔اس کے علم کے بارے میں کہ اس کےمطابق کتنا عمل کیا۔

    بزار اور طبرانی نے اس کو صحیح سند سے روایت کیا ہے۔ اور علام البانی نے اس حدیث کو صحیح ترغیب و ترہیب میں صحیح لغیرہ قرار دیا ہے۔حدیث نمبر 3595۔

    مطلب بالکل واضح وصاف ہے کہ اللہ تعالى ہم سے ہمارے تمام اوقات کا حساب لے گا۔اورہمیں اپنے تمام اوقات کا اللہ کو حساب دینا ہے۔

    یہ جان لینے کے بعد کیا ہم اور آپ روز قیامت اپنی زندگی و جوانی کا حساب دینے کے لیے تیار ہیں؟

    لہذا آئیے ہم عہد کرتے ہیں کہ ہم اپنی زندگی اللہ و اس کے رسول کے بتلائے ہوے طریقہ کے مطابق گذاریں گے اور ایک ایک سیکنڈ ضائع ہونے سے بچائیں گے اور نیک و اچھے عمل کریں گے تاکہ یوم قیامت حساب میں ناکامی نہ ہو جو سب سے بڑی ناکامی ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
    • اعلی اعلی x 1
  2. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    جزاک اللہ خیرا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں