نو مسلم بیٹے کے قتل پر ماں نے ہندومت چھوڑ کر اسلام قبول کر لیا

عائشہ نے 'نو مسلم اور تائب شخصيات' میں ‏دسمبر 4, 2016 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,496
    مینا کشی 56 سالہ خاتون ہیں جو ایک سال پہلے تک بہت مذہبی ہندو تھیں۔ایک سال پہلے ان کے بیٹے فیصل (سابقہ نام انیش کمار) نے اپنی بیوی اور تین بچوں سمیت اسلام قبول کر لیا، جس پر ہندو انتہا پسند تنظیم آر ایس ایس (راشٹریہ سوامی سیوک سنگھ) کے لوگوں نے اس سال نومبر میں ان کو شہید کر دیا۔ قاتلوں میں فیصل کا بہنوئی ونودھ بھی شامل تھا۔
    اپنے بیٹے کے قتل کے بعد مینا کشی نے بھی اسلام قبول کر لیا ہے۔ان کا اسلامی نام جمیلہ ہے۔ ان کو اس بات کا غم ہے کہ ان کے 32 سالہ بیٹے کو اپنی مرضی سے اسلام قبول کرنے کے جرم میں جینے کے حق سے محروم کر دیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ فیصل اسلام قبول کرنے کے بعد بھی اپنے والدین کے ساتھ ہی رہتا تھا اور اس کے والدین کو اس کے ساتھ رہنے یا قبول اسلام کے فیصلے پر کوئی اعتراض نہ تھا۔ فیصل اور اس کے بیوی بچے گھر پر نماز ادا کرتے تھے ہمیں اس پر بھی کوئی شکوہ نہیں تھا۔
    جمیلہ کا کہنا ہے "میرا قبول اسلام میرے بچے کے قاتلوں کے لیے جواب ہے۔ انہوں نے اسلام اختیار کرنے پر اس کی جان لی۔ اب میں بھی اسی راستے پر ہوں۔" جمیلہ نے اسلام قبول کرنے کے بعد اپنے شوہر کا گھر چھوڑ دیا ہے۔ وہ اپنے بیٹے فیصل کی بیوہ اور بچوں کے ساتھ الگ گھر میں رہ رہی ہیں۔ جمیلہ نام ان کے بیٹے کو پسند تھا۔ وہ کبھی کبھار مذاق میں ان سے کہتا کہ اگر وہ اسلام قبول کریں تو جمیلہ ان کے لیے بہت مناسب نام ہے۔ تاہم جمیلہ کا کہنا ہے کہ اس نے کبھی اسلام قبول کرنے کے لیے ان پر دباؤ نہیں ڈالا۔
    یاد رہے کہ آرایس ایس کا موجود حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی سے گہرا تعلق ہے۔ ہندوستان کی انتہاپسند ہندو تنظیمیں جس طرح گھٹن، تعصب اور تنگ نظری کی فضا بنا رہی ہیں، اس میں ایک 56 سالہ خاتون کی صدائے حق اس بات کا ثبوت ہے کہ انسانوں کے دل اور دماغ جبر سے جیتے نہیں جا سکتے۔
    تحریر برائے اردو مجلس : ام نورالعین
    خبر کا حوالہ
    http://www.thenewsminute.com/articl...version-hindu-mother-too-embraces-islam-53707
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • متفق متفق x 1

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں