جنید جمشید: جدوجہد کرنے والوں کے لیے تحریک

مریم جمیلہ نے 'نو مسلم اور تائب شخصيات' میں ‏دسمبر 12, 2016 کو نیا موضوع شروع کیا

موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔
  1. مریم جمیلہ

    مریم جمیلہ رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 26, 2015
    پیغامات:
    111
    جنید جمشید مجاہدہ کرتے ہوئے ایک دور کے لیے تحریک تھے۔

    شیخ یاسر قاضی:

    یہ 1992 کے موسم گرما کی بات ہے۔ میں یونیورسٹی آف ہیوسٹن میں زیر تعلیم تھا جب جنید جمشید اپنے بینڈ وائٹل سائنز کے ساتھ ہمارے کیمپس میں موسیقی پر مشتمل دورہ کرنے آئے۔ سینکڑوں مسلمان طلبا شرکت کے لیے گئے اور جیسا کہ ظاہر ہے وہاں معمول کی موسیقی، رقص اور گانے کا انتظام تھا۔ ہماری مسلم سٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (جس کا میں ایک لازمی حصہ تھا!) نے اس تقریب کے خلاف کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا اور اشتہارات تقسیم کیے جس کا مقصد مسلمانوں کو یہ یاد دہانی کرانا تھا کہ ایسی مجالس میں شرکت کرنا ان کے لیے مناسب نہیں ہے۔جنید کے ہال کے باہر اس 'احتجاج' کا میں بھی حصہ تھا۔
    پھر اللہ تعالی نے جنید کو ہدایت دی، انہوں نے موسیقی ترک کر دی اور ایک مبلغ بن گئے۔
    15 سال بعد جب میں نے مدینہ سے گریجویٹ کر لیا، 2007 کے موسم گرما میں لندن میں اسلام چینل کے تعاون سے منعقد ہونے والے GPU Event میں جنید جمشید سے ملاقات ہوئی تو ان کو اس کہانی سے آگاہ کیا۔ یہ ملاقات ہم دونوں کے ایک ہی سٹیج پر مغربی دنیا کے سب سے بڑے اجتماع – تقریبا چالیس ہزار حاضرین- سے خطاب کرنے کے چند منٹ بعد ہو رہی تھی۔ میں نے ان سے کہا کہ اللہ تعالی کیسے حیران کن طریقے سے کام کرتے ہیں۔ ایک دن میں ان کی محفل موسیقی کے خلاف کوششیں کر رہا تھا اور آج ہم دونوں ایک ہی سٹیج پر ایک ہی پیغام کے لیے موجود تھے۔ میں نے انہیں اپنی دعا کی کتاب کا ایک نسخہ بھی تحفے میں دیا۔ وہ اس بات پر اتنے متاثر اور جذبات سے اس قدر مغلوب ہو گئے کہ بے اختیار مجھے گلے لگا لیا جو کہ میں کبھی نہیں بھول سکتا۔ میں نے دیکھا کہ ان کی آنکھوں میں آنسو امڈ آئے تھے۔

    بے شک اللہ ان لوگوں کا مقام بلند کرتا ہے جن سے وہ راضی ہوتا ہے اور ان کے لیے اس دنیا میں بھی محبت لکھ دیتا ہے۔
    اللہ تعالی جنید جمشید کی موت کو بطور شہادت قبول فرمائیں (حادثے میں وفات پانے والےباقی تمام لوگوں کے ساتھ) اور ان کے خاندانوں کو صبر اور سکون عطا کریں۔
    میں یقین نہیں کر سکتا کہ انہوں نے اپنی آخری نماز جمعہ کی امامت میں ان دو آیات کو تلاوت کے لیے چنا کیونکہ اس حادثے کی روشنی میں یہ عجیب المناک انداز میں خوبصورت معلوم ہوتی ہیں۔ پہلی رکعت میں انہوں نے سورہ بقرۃ کی آیات نمبر 53 تا 57 تلاوت کیں جس میں اللہ کی راہ میں وفات پانے والوں کا ذکر ہے کہ وہ مرتے نہیں بلکہ اپنے رب کے ہاں زندہ ہیں اور ہمیں حکم ہے کہ ہر مصیبت کے وقت میں کہہ دیں، 'بے شک ہم اللہ ہی کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔'
    دوسری رکعت میں انہوں نے سورہ فصلت کی آیات 30 تا 33 تلاوت کیں جو بتاتی ہیں کہ انسانوں میں سب سے افضل وہ ہیں جو اللہ کی طرف دعوت دیتے ہیں، اچھے کام کرتے ہیں اور اپنے ایمان کا اعلان کرتے ہیں۔ اللہ ایسے لوگوں کو موت کے وقت تسکین و راحت پہنچائے گا۔ فرشتے خود جنت میں خوش آمدید کہتے ہوئے ان کو تسلی دیں گے۔
    یہ بات کس قدر متاثرکن ہے کہ ان کی آخری آیات یہ تھیں۔ ان شاءاللہ ان کی خوبصورت وفات کے ساتھ ،جس سے اللہ نے ان کو نوازا ، یہ ایک مثبت نشانی ہے۔


    نعمان علی خان:
    جنید جمشید کی خوبصورت یاد میں

    میں اپنی ٹین ایج میں تھا جب وائٹل سائنز دل دل پاکستان کے ساتھ نمودار ہوا۔ تب سے انکا میوزک چاہے بینڈ کے ساتھ ہو یا سولو، میری زندگی کا نہ جدا ہونے والا حصہ بن گیا۔ مجھے دل سے ان کے تقریبا سب گانے یاد تھے۔ شاید اب بھی ہیں۔
    مجھے انکو جاننے کا موقع ان کی تبدیلی کےبعد ملا۔ وہ مجھے ایک امریکہ میں عربی پڑھانے والے پاکستانی نوجوان ٹیوٹر کے طور پر جانتے تھے۔ ہم ایک دوسرے کے زیادہ قریب نہیں تھے۔ لیکن پچھلے کچھ سالوں میں ہم نے ایک دوسرے کو بہت جانا اور بیشک ہم دونوں کی مشترکہ انسپیریشن مولانا طارق جمیل صاحب تھے۔
    ان سے ذاتی ملاقات کے زریعے مجھے ہماری جنریشن کی ایک بہت بڑے ثقافتی شخصیت کی نان سیلیبریٹی سائڈ دیکھنے کا موقع ملا۔ ان کی حس مزاح، نوجوانوں کے لیے ان کی فکر، شکرگزاری اور عاجزی کمال کی تھی۔ (جو میرے لیے بہت حیران کن تھا کیونکہ وہ شروع سے ہی بہت مشہور رہے دنیا میں)
    انہوں نے مجھے فون کیا اور میرے لیے دعا کی اور جب میں نے انکو شک کے فائدے کی بات کہی تو انہوں نے میرا شکریہ ادا کیا۔ میں انکو اکثر واٹس ایپ کیا کرتا تھا۔ وہ مجھے کہتے وہ مجھے اپنا چھوٹا بھائی سمجھتے ہیں۔ جب میں نے ان سے اپنے پاکستان آنے کا پلان ڈسکس کیا تو انہوں نے بڑے بھائی کا کردار ادا کرتے ہوئے کہا فکر مت کرو میں سب سنبھال لوں گا۔
    میں ایک گلوکار کی حیثیت سے فین سے زیادہ ایک دوست اور بڑے بھائی کی حیثیت سے انکا فین تھا۔ میں انکو پرانی باتوں کی وجہ سے اکثر چھیڑتا بھی تھا اور یہ بہت خوبصورت ہوا کرتا تھا۔ وہ بس اتنا کہتے 'ویل نعمان، اسکا بس یہی مطلب ہے کہ تمہارا میوزک کا ٹیسٹ بہت اچھا ہے۔'
    ایک انسان جس کے پاس وہ سب تھا جسکا ایک نوجوان خواب دیکھتا ہے اور انہوں نے یہ سب کچھ چھوڑا اس راستے کی خاطر جسکا انہیں علم تھا کہ اس راہ میں انکو تعریف کم اور تنقید زیادہ ملے گی۔ ایک آرٹسٹ اور ایک انٹرٹینر جو اپنے لاکھوں فین کی طرف سے آنے والی محبت اور تعریف کو تضحیک اور تنقید میں بدلنے کے لیے تیار تھا۔ ایک انسان جس نے فرقہ پرستی کی بھیانک شکل دیکھی اور تذلیل برداشت کی اسی مذہب کے نام پر جس کے لیے اس نے سب کچھ قربان کردیا تھا۔ اور ایک انسان جسکو اللہ نے ایک شہید کے طور پر واپس بلانے کا فیصلہ کیا۔
    میں ہمیشہ ان کو ایک ایسے انسان کے طور پر یاد رکھوں گا جس نے اپنے عقیدہ پر مضبوطی سے قائم رہ کر زندگی گزاری اور ہمشہ اللہ کا شکرگزار رہوں گا کہ میں جنید جمشید کو اپنا دوست کہہ سکتا ہوں۔

    ایک زبردست شخص، ایک زبردست زندگی۔ ہم انکی میراث کو تحریک بناتے ہیں ایک بہتر تبدیلی کے لیے۔ اگر اللہ انکو مزید طاقت اور ہمت دیتا تو وہ اسکو بھی زندگی کے مقاصد کی تلاش میں نکلے نوجوانوں کے لیے وقف کردیتے۔
    اللہ انکی، انکی اہلیہ اور طیارے کے حادثے کا شکار ہونے والے تمام افراد کی شہادت کو قبول فرمائے۔
    آپکی کمی محسوس ہوگی جنید بھائی۔
    آپکا چھوٹا بھائی نعمان۔


    (ترجمہ:
    Nouman Ali Khan Urdu)
    https://www.facebook.com/NAKURDU/


    امام طاہر انور:
    جنید جمشید کی وفات پر چند تاثرات۔
    شیخ نعمان بیگ کے توسط سے مجھے جنید بھائی سے ملنے کا موقع ملا جب وہ چند برس قبل یہاں (سان جوز) آئے تھے۔ ایک مرتبہ وہ انسٹیٹیوٹ آف نالج کی تقریب کے سلسلے میں آئے تھے اور دوسری دفعہ گرینڈ مولد کے لیے آنا ہوا۔ آج صبح اٹھا اور یہ خبر سنی تو بالکل سکتے اور دل شکستگی کی حالت میں بیٹھا رہ گیا۔ پھر یہ احساس گہرا ہونے لگا کہ موت رب کی مرضی کے مطابق کسی بھی لمحے، کسی بھی جگہ اور کسی بھی طریقے سے آ سکتی ہے۔ کچھ چیزیں میرے ذہن میں آئیں۔

    ہم اپنا آخری ہفتہ کس طرح گزاریں گے؟ ہم کس چیز میں مشغول ہوں گے؟ تبلیغی جماعت سے اتفاق ہو یا اختلاف، مگر یہ ایک جماعت ہے جس میں لوگ اپنے گھروں کا سکون چھوڑ کر دوسروں کو اللہ کی طرف دعوت دینے کے لیے نکل پڑتے ہیں۔ اس میں وہ خود کو خدا اور انسانیت سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کی یاد دہانی کراتے ہیں اور لوگوں کو مسجد کی طرف بلاتے ہیں۔ کسی تقریب یا بازار کی طرف نہیں بلکہ اللہ کے گھر کی طرف بلاتے ہیں۔ اپنے گھر میں موجود آرام دہ بستر سے دور، کسی مسجد میں رات بسر کرتے ہوئے۔ انہوں نے اپنی زندگی کا آخری ہفتہ لوگوں کو اللہ کی طرف دعوت دیتے ہوئے گزارا۔
    ہماری آخری ٹویٹ یا سوشل میڈیا پر آخری پوسٹ کیا ہو گی؟ فیس بک پر ان کی آخری پوسٹ جمعہ 2دسمبر کی تھی۔ ان کی آخری ٹویٹ جنت ارضی اور اللہ کے راستے میں ہونے کے بارے میں تھی۔ انہیں معلوم نہیں تھا کہ یہ ان کی آخری ٹویٹ یا آخری پوسٹ ہو گی ۔ چیزوں کو مثبت کھیں۔
    انہوں نے اپنے پیچھے کیا چھوڑا؟ انہوں نے ہمارے لیے وہ خوبصورت شاعری باقی رہنے دی جس میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت، توبہ اور اللہ سے ملاقات کی باتیں ہیں۔یا اللہ! یہ کیسا تحفہ ہے جو وہ پیچھے چھوڑ گئے! لاکھوں لوگ یہ الفاظ سنیں گے اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے محبت کرنے لگیں گے۔کیسا دائمی صدقہ ہے یہ!
    اللہ تعالی ان تمام لوگوں پر اپنی رحمت نازل کریں جو اس حادثے میں وفات پا گئے، ان کے درجات بلند کریں اور ان کے اہل خانہ کو صبر عطا کریں۔ آمین!


    داؤد محمد- اسلامک ریلیف، امریکا:
    میں جنید سے پہلی مرتبہ 2009 میں ایونٹ آف انسپریشن کے دورے پر UK میں ملا تھا اور ان کی صلاحیتوں اور سٹیج پر موجودگی سے دنگ رہ گیا تھا۔ اس دورے کے دوران ہم نے ایک شہر سے دوسرے تک گاڑی میں سفر کیا اور مجھے ان کی ہمراہی کا شرف حاصل ہوا۔ کسی کے ساتھ سفر کے دوران ایک دوسرے کو اچھی طرح سے جاننے کا موقع ملتا ہے۔ لوگ بے تکلف ہو جاتے ہیں ۔ وہ اور Outlandish تقریباتمام سفر کے دوران گاتے رہے تھے۔
    اگلے سال ہم انہیں امریکا لائے اور انہوں نے Native Deen کے ساتھ Children in Need کے لیے چھ شہروں پر مشتمل دورہ کیا۔ اس دورے کے دوران انہوں نے اردو میں نشید پڑھے اور مجھے لوگوں سے تبصرے سننے کو ملے کہ اردو سے نا واقفیت کے باجود وہ مسحور ہو گئے تھے۔ پھر چند اور مرتبہ اسلامک ریلیف کے لیے بلایا۔ بہت شفیق انسان تھے، خود اپنے آپ کو اس مقصد کے لیے وقف کر دیا اور ہمارے کفالت یتیم پروگرام کی بھی رکنیت اختیار کی۔ اپنے ارادوں اور کاموں کے بارے میں بے حد پرجوش ، رحمدل انسان تھے۔مجھے مذاقا کہتے کہ میں ان کا پسندیدہ پٹھان ہوں۔ ان کی مسکراہٹ بھلائی نہیں جا سکتی، یہ آپ کو خوش کر دینے کی صلاحیت رکھتی تھی۔ ان کی کمی واقعتا محسوس ہو گی۔


    ذیشان شاہ (گلوکار):
    نوے کی دہائی میں پاکستان میں رہتے ہوئے جنید جمشید اور ان کے بینڈ وائٹل سائنز سے واقف نہ ہونا ممکن نہ تھا۔ان کے کونسرٹس میں جانا، ان کی موسیقی سننا اور فخریہ اونچی آواز میں دل دل پاکستان گانا، اس سب کی بہت پسندیدہ یادیں میرے پاس محفوظ ہیں۔ پاکستان میں ان کے جیسی کوئی مثال نہیں ملتی ۔ پاکستان کے اپنے جوانوں کا بینڈ!
    مگر پھر میں امریکا چلا گیا اور پاکستانی موسیقی سے تمام تعلق ختم ہو گیا۔ زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ جنید جمشید میں آنے والی تبدیلی اور انکی روحانی بیداری کا سننے میں آیا۔ انہوں نے موسیقی کو خیرباد کہہ دیا تھا۔ میں اس بارے میں ان کے لیے صرف عزت رکھتا تھا۔ جب وہ اپنی مشکلات سے نبرد آزما تھے، مجھے بھی اپنی جدوجہد کاسامنا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ اس دوران یوٹیوب پر میں نے ان کی ایک گفتگو سنی تھی۔ وہ بے حد پر اثر تھی اور میں اس کے ہر لفظ کو خود پر منطبق کرسکتا تھا۔ لاعلمی میں ہی وہ میرے رہنما بن گئے تھے۔ انہوں نے اپنی مثال سے دکھایا کہ اللہ کے لیے خود کو کیسے بدلا جاتا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ایسی ہی مشکلات میں پھنسے بہت سے لوگوں کے لیے وہ ایک حقیقی تحریک تھے۔
    اگرچہ وہ اپنے گرد موجود لوگوں کے ستائے اور آزمائے ہوئے تھے، اپنی غلطیوں کے لیے معافی مانگنے سے وہ کبھی نہ ہچکچائے اور نہ ہی کبھی خود کو اس سے بلند خیال کیا۔ یہ چیز خاصی ہمت طلب ہے اور جس قسم کے وہ انسان تھے اس بارے میں بہت کچھ کہہ دیتی ہے۔

    جنید بھائی مجھے ہمیشہ اسی طرح یاد رہیں گے۔ ایک ایسا شخص جس نے اللہ کے لیے سب کچھ تیاگ دیا اور صرف اسی پر بھروسہ کیا۔ انہوں نے مجھے عاجزی، وقار اور صرف اللہ کی رضا اور اس کی جنت کے لیے کام کرنے کا جذبہ سکھایا۔ باقی سب کچھ پھر اسی کے بعد آتا ہے۔


    فاطمہ برکت اللہ:
    اللہ جنید جمشید بھائی، ان کے خاندان اور طیارے کے حادثے میں جاں بحق تمام لوگوں کی مغفرت فرمائے اور ان کو جنت نصیب کرے۔
    انہوں نے اپنی زندگی کا رخ ایسے وقت میں موڑ دیا جب وہ ایک مشہور پاپ سٹار بنے رہ سکتے تھے۔ انہوں نے دنیا کی لذت کو چھوڑ کر آخرت کی لذت کو چنا اور دوسروں کو اسی راستے کی طرف دعوت دینا اپنا مقصد بنا لیا۔
    ہم ان سے کچھ سال پہلے ملے تھے اور تب انہوں نے ہم سے چند اچھی باتیں کی تھیں۔ میرے شوہر بتاتے ہیں کہ وہ ہمارے دور دراز کے رشتہ دار تھے۔ رحمہ اللہ، سبحان اللہ!

    ان کے نشید مکہ اور مدینہ کی طرف لوٹنے اور اللہ کو چاہنے کا جذبہ جگاتے ہیں۔اللہ تعالی ان کے اہل خانہ کو صبر دیں اور ہم سب کو اس واقعے سے اپنی زندگیاں درست سمت موڑ دینے کی تحریک حاصل ہو، قبل اس کے کہ ہمارا نام بھی ایک ہیش ٹیگ بن جائے جس کے بارے میں لوگ ٹویٹ کریں یا پیغامات کا تبادلہ کریں۔ آمین!
    بھائیو اور بہنو!ہمارے دل اپنے بہن بھائیوںاور ایک داعی الی اللہ کے گزر جانے پر تکلیف میں ہیں مگر اللہ کی طرف سے بار بار یاد دہانی ملتی ہے کہ ہمارا وقت بھی عنقریب آنے والا ہے۔ عزیز بہن! عزیز بھائی! اللہ کی طرف آجاؤ! زندگی اللہ کی اطاعت میں نہ گزارنے کے لیے بہت مختصر ہے۔


    محمد الشِناوی:
    اے اللہ! جنید جمشید اور اس طیارے کے تمام لوگوں کا جن کے بارے میں ہم امید رکھتے ہیں کہ آپ نے انہیں شہداء کے طور پر چن لیا ہوگا، سب کا خوبصورت استقبال کیجیے۔ ہم گواہی دیتے ہیں کہ اس نے آپ کو راضی کرنے کے لیے بہت کچھ چھوڑ دیا ۔ آپ ہی اس کے منصف حقیقی ہیں اور ہماری سوچ سے بڑھ کر رحم فرمانے والے ہیں۔

    جمع و تالیف: حنا زبیری
    بشکریہ: MuslimMatters.org
    http://muslimmatters.org/2016/12/08/junaid-jamshed-inspired-a-generation-of-struggling-souls/
    ترجمہ: مریم جمیلہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
    • ظریفانہ ظریفانہ x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
  2. عفراء

    عفراء webmaster

    شمولیت:
    ‏ستمبر 30, 2012
    پیغامات:
    3,920
    جزاک اللہ خیرا مریم۔ فرقہ پرستی میں لوگ مرنے والے کی اچھائیوں کو فراموش کر بیٹھے۔ کچھ فرقہ پرست لوگوں نے تو انتہا ہی کر دی ہے تعصب میں اور وہی لوگ ان کی زندگی میں بھی دائرہ اسلام سے خارج کرنے میں پوری طرح سرگرم رہے۔ دوسری طرف تبلیغی جماعت والوں نے مبالغہ آرائی میں حد کی ہوئی ہے۔ اگر انسان نصوص پر بات نہ کر سکے تو خاموش رہنا چاہیے۔
    بہرحال میرے لیے جنید جمشید کی زندگی میں یہ اہم سبق ہے کہ ہم اپنے لیے راہنما سوچ سمجھ کر چنیں۔ کیونکہ کل کو اللہ کے ہاں یہ بات قابل قبول نہیں ہو گی کہ ((ربنا إنا أطعنا سادتنا وكبراءنا فأضلونا السبيلا)) (الاحزاب، 67) یہ نہ ہو کہ ہم خواہش نفس کی پیروی کرنے والوں کی تقویت کا سامان فراہم کرتے رہیں۔
    رہا جنید جمشید کی شخصیت کا معاملہ تو وہ اللہ کے پاس ہے۔ اللہ اپنے بندے کو خوب جانتا ہے۔ بظاہر جدو جہد کرنے والوں کے لیے وہ واقعی ایک تحریک ہیں۔ لہو و لعب سے جس طرح توبہ کر کے پھر کبھی نہ پلٹے تو یہ ایک عزیمت کا کام ہے، اللہ کی توفیق کے بغیر ممکن نہیں۔ اللہ ان کی لغزشوں سے درگزر فرمائے اور ان کے ساتھ رحم کا معاملہ فرمائے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 6
  3. مریم جمیلہ

    مریم جمیلہ رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 26, 2015
    پیغامات:
    111
    بالکل متفق- جزاک اللہ خیرا
    آمین یا رب العالمین! ^
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  4. عفراء

    عفراء webmaster

    شمولیت:
    ‏ستمبر 30, 2012
    پیغامات:
    3,920
    وایاک
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  5. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,496
    مبالغہ آرائی نہ تو کسی کی مخالفت میں کرنی چاہیے نہ حق میں۔کہا جا رہا ہے کہ اس نے موسیقی کو خیرباد کہہ دیا تھا جب کہ 2016 میں الٹا اس نے موسیقی کے ساتھ گانے گائے۔ پیپسی کا پراجیکٹ جس کے لانچ میں ایک تصویر کا شور بھی اٹھا اور یہ 17 اکتوبر 2016 کے ایک شو کی وڈیو جس میں موسیقی کے ساتھ گانا گایا جارہا ہے۔ ایک مبلغ کو ایسے شوز میں نہیں جانا چاہیے جہاں ڈانس، موسیقی اور گانے شئیر ہوں کجا کہ وہ خود مائیک پکڑ کر گانے لگے۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ دعائے مغفرت کرنی ہو تو عاجزی سے کرنی چاہیے۔ نہ حامی اچھا کام کر رہے ہیں مخالف، اور نہ ہی تاریخ مسخ کرنے والے۔ اگر نوجوانوں میں سے کوئی بھی اس کی طرح موسیقی اور داڑھی کو ساتھ لے کر چل پڑا تو اس کا وبال کس پر ہوگا؟
    ٹائم 21:15
    وڈیو میں بہت تیز موسیقی ہے۔ آپ آواز بند ہی رکھیں تو اچھا ہے۔ ایسے لوگ مجاہدہ کر رہے تھے نہ تحریک ہیں۔ مجاہدہ وہ کر رہے ہیں جو مسجدوں میں بوریانشین ہیں، کیمروں کی روشنیوں سے دور، انسانیت کو علم کے نور سے آراستہ کر رہے ہیں لیکن ہم ان کے لیے اپنی تحریریں صلاحیتیں خرچ نہیں کرتے۔ رول ماڈل وہ لوگ ہیں یہ نہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا قیامت کے نزدیک زنا ریشم اور گانے بجانے کے آلات عام ہو جائیں گے۔ ایسے مبلغ اس ترویج میں حصہ ڈال رہے ہیں۔
     
    Last edited: ‏دسمبر 13, 2016
  6. مریم جمیلہ

    مریم جمیلہ رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 26, 2015
    پیغامات:
    111
    اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ ، وارْحمْهُ ، وعافِهِ ، واعْفُ عنْهُ ، وَأَكرِمْ نزُلَهُ ، وَوسِّعْ مُدْخَلَهُ واغْسِلْهُ بِالماءِ والثَّلْجِ والْبرَدِ ، ونَقِّه منَ الخَـطَايَا، كما نَقَّيْتَ الثَّوب الأبْيَضَ منَ الدَّنَس ، وَأَبْدِلْهُ دارا خيراً مِنْ دَارِه ، وَأَهْلاً خَيّراً منْ أهْلِهِ، وزَوْجاً خَيْراً منْ زَوْجِهِ ، وأدْخِلْه الجنَّةَ ، وَأَعِذْه منْ عَذَابِ القَبْرِ ، وَمِنْ عَذَابِ النَّار
    اللهم جازه بالإحسان إحسانا و بالسيئات عفو و غفرانا، اللهم آمين!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  7. حسين عبد الله

    حسين عبد الله نوآموز

    شمولیت:
    ‏جولائی 13, 2016
    پیغامات:
    24
    جنید جمشید کے بارے میں اچھے نظریات رکھنے والے اور اچھے کلمات کہنے والوں سے گزارش ہے کہ وہ مزید کوئی بات کرنے سے رک جائیں ۔ کیونکہ اس سے ۔۔۔ان سے نفرت کرنے والے اور ان کے بارے میں برا نظریہ رکھنے والوں میں رد عمل کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے ۔ اور پھر ان کو مُردوں کی برائیاں ڈھونڈنی پڑتی ہیں ۔
    اس لئے بس یہ حدیث بیان کرنا کافی ہے ۔
    حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے
    مُردوں کو برا نہ کہو۔کیونکہ کے بیشک وہ اس بدلہ کو پا چکے ہیں جو انہوں نے آگے بھیجا ہے ۔ (اوکماقال) (بخاری)
     
    • متفق متفق x 2
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  8. Asif

    Asif -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 4, 2007
    پیغامات:
    161
    اللہ تعالی ان کے درجات بلند فرمائے اور ان کے قبر و آخرت کی منزلیں آسان فرمائے آمین
     
  9. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,496
    علی الاعلان نافرمانی کا کام کرنے والے (المجاھر بالعصیان) کی برائی کا بیان، مردوں کو برا کہنے میں نہیں آتا۔اس کے مداحوں کو یہ حدیث شریف کیوں یاد نہیں آتی؟
    كُلُّ أُمَّتِي مُعَافًى إِلَّا الْمُجَاهِرِينَ
    میری پوری امت کو معاف کیا جاسکتا ہے، مگر گناہ کا علی الاعلان ارتکاب کرنے والوں کو معاف نہیں کیا جائے گا۔ (متفق علیہ)
    کیوں کہ علی الاعلان برائی کرنا اللہ سبحانہ وتعالی کے احکام کا کھلم کھلا مذاق اڑانا ہے۔ موسیقی، حرام کام ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے شراب پینا حرام ہے۔ کوئی کسی شو میں شراب پیے تو ہم چیخ پڑیں گے لیکن موسیقی ہم نے حلال کی ہوئی ہے۔
    اس کو مذکورہ "شو" میں لوگوں نے نہیں بھیجا تھا۔ وہ اپنی مرضی سے گیا تھا۔ اپنی مرضی سے داڑھی ٹوپی کے ساتھ موسیقی پر گانا گایا۔ اب اس کو شہید اور خوابوں میں معاف کیا گیا بتانے والے بھی مبالغہ کر رہے ہیں۔ دوسری طرف یہ کہنے والے کہ اس پر عذاب آیا ہے وہ بھی غیب کی باتیں بتا رہے ہیں۔ غیب کا علم صرف اللہ کو ہے جو چاہے اس سے کرے گا۔ لیکن مجاھر بالعصیان کو لعنت کرنا بھی جائز ہے اور اس کی نماز جنازہ پڑھنا بھی جائز ہے۔
    بعض لوگ اس کے پرانے انٹرویوز دیکھ کر رو رہے ہیں۔ ان میں سے یہ چند ہفتے پرانا انٹرویو بھی ہے۔ یہ بتانا فرض ہے کہ ایسی چیزیں مت دیکھیں۔ یہ بھی کہ اس کے ایک نہیں کئی افکار گمراہ کن تھے، جیسے اس کا یہ کہنا کہ ابھی موسیقی کو حرام نہیں کہہ سکتا اس لیے کہ ہماری قوم اس سچ کے لیے تیار نہیں، یہ تبلیغی جماعت کے اسی اصول کا نتیجہ ہے کہ ہم نے نہی عن المنکر نہیں کرنا، صرف امربالمعروف کرنا ہے۔ جب کہ قرآن مجید امر اور نہی سے بھرا پڑا ہے۔ یہ کیسی تبلیغی حکمت عملی ہے جو نبی ﷺ کی دعوت کے الٹ ہے؟قرآن کے الٹ ہے؟ اسی لیے اسے مثالی مبلغ قرار دینا بھی درست نہیں کہ اسے رول ماڈل سمجھ لیا جائے۔
     
    • مفید مفید x 1
  10. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,496
    کھلم کھلا کبائر کا ارتکاب کرنے والے کی امامت درست نہیں۔ افسوس کہ تبلیغی جماعت ایسے افراد کو امامت کے لیے بھیج دیتی ہے۔ صرف ان کی شہرت کی بنیاد پر۔
    وسئل ابن أبي زيد رحمه الله عمن يعمل المعاصي هل يكون إماماً؟ فأجاب: أما المصر المجاهر فلا، لا يمكن أن يكون إماماً، ولا يجعل إماماً، ولا يمكن من ذلك، ويطالب بتغييره، ويرفع أمره؛ لأنه منصب قيادي يؤم فيه المسلمين، كيف يؤمهم ويتقدمهم ثم يكون مجاهراً بمعصية.

    وسئل عمن يعرف منه الكذب العظيم، أو القتات النمام الذي ينقل الأخبار للإفساد بين الناس، هل يجوز إمامته؟

    فأجاب: لا يصلى خلف المشهور بالكذب والقتات والمعلن بالكبائر، مع صحة الصلاة، أي أنها لا تعاد، ولكن يكره الصلاة وراء هذا الرجل، أما من تكون منه الهفوة والزلة، فلا تتبع عورات المسلمين.
    وقال مالك رحمه الله: من هذا الذي ليس فيه شيء.كل إنسان يعصي، وقال مالك مردفاً: وليس المصر والمجاهر كغيره.
    المصيبة في المصر والمجاهر، هذا في مسألة إمامته، وماذا عن عيادته إذا مرض، وعيادة المريض المسلم أجرها عظيم، ومن حق المسلم على المسلم، لكن العلماء قالوا: لا يعاد المجاهر بالمعصية إذا مرض؛ لأجل أن يرتدع ويتوب، ويرتدع غيره ممن يمكن أن يقع في المعصية، وإذا عاده من يدعوه إلى الله وينصحه، فهو حسن من أجل دعوته، أما إذا خلا عن هذه المصلحة، ليس هناك مصلحة شرعية فلا يعاد زجراً له ولأمثاله، وماذا عن الصلاة عليه؟ لقد ذكر أهل العلم رحمهم الله في هذه المسألة، المجاهر بالمعصية إذا مات فإنه لا يصلي عليه الإمام ولا أهل الفضل؛ زجراً له ولأمثاله، وردعاً لمن يقع في هذا.
    وقال شيخ الإسلام ابن تيمية رحمه الله: بنبغي لأهل الخير أن يهجروا المظهر للمنكر ميتاً إذا كان فيه كف لأمثاله، فيتركون تشييع جنازته، فمن جاهر بشيء فمات مصراً مات مجاهراً يترك أهل الفضل والخير الصلاة عليه، ويصلي عليه عامة الناس ما دام مسلماً لم يخرج من الإسلام.

    http://almunajjid.com/8309
     
    Last edited: ‏دسمبر 14, 2016
  11. طالب علم

    طالب علم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2007
    پیغامات:
    959
    بلندی پہ اپنا نصیب آ رہا ہے
    .
    میں نے اسے ایک بار بھی نہیں سنا اور ہزارہا بار سنا ، کسی کو فون کرتے تو اس کی آواز گونجتی
    بلندی پہ اپنا نصیب آ رہا ہے
    سنا ہے اس کا جہاز بلندی پر گیا ، اور پہاڑ سے ٹکرا گیا ، نصیب بلندی پر چلا گیا .... انسان تھا ، بہت گناہ گار ہی رہا ہو گا ، لیکن سنا ہے کہتا تھا -
    الٰہی تیری چوکھٹ پر بھکاری بن کے آیا ہوں
    سراپا فقر ہوں عجز و ندامت ساتھ لایا ہوں

    سنا ہے کہ شاہوں کے شاہ کو ، خالق کو عاجزی بہت پسند ہے ، سنا ہے اسے اپنے در کے " منگتے " بہت اچھے لگتے ہیں
    ہمارے علامہ شہید کہا کرتے تھے :
    اللہ تیرے در کے منگتے ہیں اللہ ..........
    جنید جمشید دل بدلنے کی دعا سے خالق کی طرف گیا ، پھر اس کا دل بدل گیا -
    انسان تھا ، خطا کا پتلا تھا ، بہت بری زندگی سے دین کی طرف آیا تھا ، کم علم تھا ، کچھ باتیں منہ سے نکل گئیں ....بجا کہ مناسب نہ تھیں ، لیکن میں نے تب بھی لکھا تھا جنید کے مخالف فتوے باز سیدہ کی محبت میں نہیں بول رہے بلکہ مسلکی نفرت کے سبب شور کیا جا رہا ہے
    ..وہ اب ان سب جھگڑوں سے آزاد ہو کر کے اپنے رب کے حضور چلا گیا - اس نے اپنا حساب خود دینا ہے ... ہم اس کے لیے دعا تو کر سکتے ہیں نا
    .......ابوبکر قدوسی

    --------------------------------------------



    ---------------------------------

    کل جنید جمشید کا جنازہ ہے، مرحوم سے مجھے کافی اختلاف تھے اور رہیں گے، مذید یہ کہ ان کے استاد طارق جمیل صاحب سے کہیں زیادہ اختلافات ہیں لیکن میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ اللہ جنید جمشید کی مغفرت فرمائے، آمین!

    ----------------------------------
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 5
    • ظریفانہ ظریفانہ x 1
  12. انا

    انا -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 4, 2014
    پیغامات:
    1,400
    اللہ تعالی جنید جمشید کی مغفرت فرمائے اور ان کے گھر والوں کو صبر دے۔ بحیثیت مسلمان مجھے ان کے انتقال پر افسوس ہے اور اہل خانہ سے دلی ہمدردی ہے۔
    اس بات سے بھی انکار نہین کہ ان کی بہت سی باتیں نوجوانوں کے لیے مثال ہیں ۔ لیکن بحیثیت داعی ان کے لیے دعائے مغفرت کے ساتھ ، ان کے اسلام کی راہ سے ہٹ کر کیے گئے کاموں کا احتساب نہ لینا نہ صرف امت مسلمہ کے ساتھ بلکہ خود جنید جمشید کے ساتھ بھی ظلم ہو گا۔
    ایک بہت اہم بات جس کی طرف ام نور العین سسٹر نے توجہ دلائی قدرے سخت انداز میں ہی سہی لیکن صدقہ جاریہ کی طرح ایک غلط قائم کی گئی مثال اگر جاری رہی تو یہ جنید جمشید کے لیے زیادہ بڑا نقصان ہے۔ جو علی الاعلان بحیثیت مبلّغ اور داعی اگر آپ نے میوزک کے لیے نرم گوشہ عوام الناس کو دکھا دیا تو یہ فکر کی بات ہے۔ جتنی دعائے مغفرت اہم ہے ، اتنی یہ فکر بھی اہم ہونی چایئے کہ ان کے کہے ہوئے اقوال ، اعمال سے دوسرے لوگ متاثر ہو کر غلط راہ پر نہ چل نکلیں اور یہ کہ باقی لوگوں کا وبال ان پر نہ آئے۔
    اللہ تعالی ہم سب کو اخلاص عطا فرمائے اور حق بات کہنے کی توفیق دے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں