سولہ دسمبراور پاکستان کےدو المناک واقعات

سید انور محمود نے 'مضامين ، كالم ، تجزئیے' میں ‏دسمبر 15, 2016 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. سید انور محمود

    سید انور محمود رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مئی 11, 2015
    پیغامات:
    225
    تاریخ: 15 دسمبر، 2016

    سولہ دسمبراور پاکستان کےدو المناک واقعات
    تحریر: سید انور محمود
    پاکستان 14 اگست 1947 کو وجود میں آیا تھا لیکن اسے وجود میں آئے ہوئے ابھی صرف چوبیس سال چار ماہ اور دو دن ہی گزرے تھے کہ بھارتی سازش نے 16 دسمبر 1971 کو پاکستان کو دو لخت کردیا۔سقوط ڈھاکہ یا سانحہ مشرقی پاکستان کو گزرے آج 45 سال ہوگئے ہیں اور تب سے مشرقی پاکستان بنگلہ دیش کہلاتا ہے۔ تینتالیس سال بعد پھر اسی سیاہ دن پاکستانی قوم کو طالبان دہشتگردوں کے ہاتھوں سانحہ پشاور کی صورت میں رونا پڑا۔ 16 دسمبر 2014 کو پشاور کے کینٹ ایریامیں وارسک روڈ پر واقع آرمی پبلک اسکول پر دہشت گردوں نے حملہ کیا اور148 لوگوں کو مار ڈالا جس میں 132 بچے تھے، زخمی ہونے والوں کی تعداد بھی 124 تھی۔سولہ دسمبر 2014 کے دن دہشت گردوں نے جس درندگی کا مظاہرہ کیا تھا اس پر انسانیت ہمیشہ شرمندہ رہے گی ۔ 16 دسمبر دو مرتبہ پاکستانی ماوں کی گودیں اجاڑ چکا ہے۔

    بھارت نے پراپیگنڈے کے میدان میں بہترین صلاحیتوں کامظاہرہ کرکے عوامی لیگ کی علیحدگی پسند تحریک پر جمہوریت کا رنگ چڑھا دیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ اس وقت کے امریکی صدر رچرڈ نکسن پاکستان کی حمایت کرنا چاہتے تھے، ان کی حمایت کا اصل ہدف مغربی پاکستان کو بھارتی جارحیت سے بچانا تھا نہ کہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کو کیونکہ بقول اس وقت کے وزیر خارجہ ہنری کسنجر کہ ’’مشرقی پاکستان تو کسی بھی صورت میں پاکستان سے علیدہ ہوگا‘‘۔ اکثر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان آرمی ایکشن کے وقت ہی ٹوٹ گیا تھا، باقی 16دسمبر کو جنرل نیازی نے ہتھیار ڈال کر رسم پوری کردی۔ سقوط ڈھاکہ محض بھٹو یا یحیی خان‎ کی وجہ سے نہیں ہوا یہ توبیچ میں آگےورنہ اس کے پیچھے چوبیس سالہ بھارتی سازش تھی، جسکا ذکر بھارتی وزیراعظم نریندرمودی نے گذشتہ سال بنگلہ دیش کے دورے کے دوران کیا تھا اور اپنی دہشتگردی کا برملااظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ "بنگلہ دیش کا قیام ہر بھارتی کی خواہش تھی اوربھارتی فوج مکتی باہنی کے ساتھ مل کرلڑی تب ہی بنگلہ دیش کو آزادی نصیب ہوئی"۔

    مشہورتاریخ دان ڈاکٹر صفدر محمود اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں کہ ’’بلاشبہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی میں بھارت نے فیصلہ کن کردار سر انجام دیا اور اگر بھارت پاکستان سے 1947 کی تقسیم کا بدلہ چکانے اور سبق سکھانے کے لئے عوامی لیگ کی سرپرستی نہ کرتا، مکتی باہنی کو اسلحہ اور تربیت سے لیس نہ کرتا اور مشرقی پاکستان پر فوجی یلغار کرکے ہمارا بازو نہ کاٹ دیتا تو شاید ہم اس سانحے سے دوچار نہ ہوتے۔ بھارت کے علاوہ پاکستان کو توڑنے میں روس نے بھی اہم کردار سر انجام دیا جس کی مکمل اور خوفناک حمایت بھارت کو حاصل تھی۔ اس حمایت کو عملی جامہ پہنانے کے لئے دس سالہ دوستی کے معاہدے کی آڑ میں جہاں روس نے بھارت کو بے پناہ اسلحہ فراہم کیا گیا وہاں روس نے بھارتی کارروائی کو ڈپلومیٹک چھتری بھی فراہم کردی۔ چنانچہ روسی کھلم کھلا حمایت نے نہ صرف اقوام متحدہ کی جنگ بندی کی قراردادوں کا راستہ روکے رکھا بلکہ امریکہ کے بحری بیڑے کو بھی آگے نہ بڑھنے دیا اور چینی مداخلت کے امکانات بھی معدوم کر دیئے‘‘۔

    نریندر مودی کی طرف سے 1971کے سقوط ڈھاکہ میں بھارت کے ملوث ہونے کے اعتراف نے بھارت کی پاکستان دشمنی کو پورئے طریقے سے ننگا کردیا ہے۔سقوط ڈھاکہ ایک ایسا دردناک واقعہ ہے کہ جس قدر اسکے بارے میں سوچو اتنی ہی تکلیف ہوتی ہے مگرافسوس اس بات کا ہے کہ ہمار ئے حکمرانوں نے مادر وطن کے دو ٹکڑے ہوجانے والے اس سانحے سے آج تک کوئی سبق حاصل نہیں کیا ہے۔ کم از کم پاکستان کے تحقیقی اداروں اور یونیورسٹیوں کو پاکستان توڑنے، پاکستانیوں کو مارنے اور پاکستان کو بدترین الزامات کا نشانہ بنانے والے اقدامات کا معروضی اور تحقیقی انداز سے جائزہ لینا چاہیے۔

    سولہ دسمبر 2014کو آرمی پبلک اسکول پردہشت گردوں نے حملہ کیا، دہشتگرد اسکول کی پچھلی طرف سے آڈیٹوریم میں داخل ہوئے اور داخل ہوتے ہی بچوں اور اساتذہ پر فائرنگ کردی ۔ سیکیورٹی فورسز کی جانب سے فوری طور پر کارروائی شروع کی گئی لیکن اُسکے باوجود مرنے والوں کی تعداد 148 ہے، جس میں 132 بچے تھے، زخمی ہونے والوں کی تعداد بھی 124 تھی۔ تحریک طالبان پاکستان نےپشاور میں اسکول پر حملے کی ذمے داری قبول کرلی تھی۔ اس سانحہ نے جہاں پوری دنیا کو غمناک کیا، وہیں پاکستانی قوم کو بھی جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا اوردہشتگردی و انتہا پسندی کے خاتمہ کیلئے پوری قوم متحد ہوگئی تھی ۔آرمی پبلک اسکول کےمعصوم بچوں پرحملہ ظلم وبربریت کی بدترین مثال ہے۔ ماوں کی گودیں اجاڑنے والے انسانیت اورپاکستان کے دشمن ہیں،تعلیم دشمن دہشتگرد انسان کہلانے کے بھی مستحق نہیں ہیں۔ طالبان دہشتگردوں کے حملے میں مارئے جانے والوں میں 10ویں جماعت کے طالب علم اسفند خان کی والدہ مسز شاہانہ اجون نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ والدین کو سکون نہیں آرہا، انہوں نے کہا تھا کہ"وہ اپنے بچوں کی فیس کے ساتھ اسکول کی سکیورٹی فیس بھی دیتے تھے"۔ اُن کا کہنا تھا کہ "اسکول کی حفاظت کی بنیادی ذمہ داری آرمی کی تھی اور اُنہوں نے کیا سکیورٹی کی تھی وہ اس بارے میں والدین کو بتائیں اس کے بعد وفاقی اور صوبائی حکومتیں ذمہ دار ہیں"۔

    لال مسجد کےدہشتگردمولانا عبدالعزیز نے پشاور حملے کی مذمت کرنے سے انکار کردیا، سول سوسایٹی کی طرف سے اُس کے خلاف کئی کیسز بھی دائر کیئے گئے تھے تاہم اس کے باوجود اُس کے ہاتھوں میں ہتکڑیاں پہنانے کی ہمت کوئی نہ کرسکا، پاکستان کے وزیر داخلہ اس کے خاص ہمدردوں میں سے ہیں۔ سول سوسایٹی کی طرف سے حکومت سے کہا گیا کہ دہشتگردی کے خلاف زرہ برابر بھی لچک کا مظاہرہ نہ کریں اورنام نہاد جہادیوں اور عسکریت پسند سوچ رکھنے والے افراد کے خلاف عدم برداشت کی پالیسی کے تحت ایکشن لیا جائے۔ حکومت کی جانب سے کوئی ایکشن نہیں لیا گیا۔آج پشاور اسکول پر دہشتگردی ہوئے پورے دو سال ہوچکے ہیں ، کچھ سوالات اس دہشتگردی کے بارئے میں باربار اٹھائے جارہے ہیں، آج بھی بچوں کے والدین یہ سوال کررہے ہیں کہ ان تمام واقعات میں حکومت پاکستان اور اس کے ادارے کہاں تھے اور کیا کر رہے تھے؟ پشاور اسکول حملے کے متاثرہ والدین یہ سوال بار بار اٹھاتے ہیں کہ اسکول کی سکیورٹی کی ذمہ داری کس کی تھی، کیوں اور کس نے ایک سال قبل اس کی سکیورٹی کم کرنے کا فیصلہ کیا تھا؟ فوج بتائے کہ طلبہ کے تحفظ میں غفلت کہاں ہوئی؟قومی ایکشن پلان کو پشاور اسکول حملے کا منتظر کیوں ہونا پڑا؟ شدت پسندوں کی فوج کو ملک کے اندر کن کن کی مدد حاصل تھی؟ اور انکے سہولت کار کون تھے یا ہیں؟ اور آخری سوال وہ کون ہیں جو دہشتگردں کی سرگرمیوں سے پہلو تہی کرتے رہے؟ گذشتہ سال بھی یہ سوال تھا اور آج بھی یہ ہی سوال ہے کہ” سانحہ پشاور کا ذمہ دار کون ہے؟"۔؟ اگر اس سوال کا جواب کسی نے نہیں دیا تو پھر یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ پشاور میں ان طلبا کے قتل عام کے ذمہ دار انٹیلی جنس ایجنسیاں، سیکوریٹی کے ادارے، صوبائی انتظامیہ اور وفاقی حکومت کے ذمہ داران ہیں۔ ان سب نے ان بچوں کو دھوکہ دیا ہے۔ یہ سب ان مرحوم بچوں اور ان کے والدین اور گھر والوں کے مجرم ہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
    • ناپسندیدہ ناپسندیدہ x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
  2. عمر اثری

    عمر اثری -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 21, 2015
    پیغامات:
    461
    اپنے گریبان میں ذرا جھانک کر دیکھیں. معلوم ہو جاۓ گا کہ یہ کس کی سازش تھی
     
  3. عمر اثری

    عمر اثری -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 21, 2015
    پیغامات:
    461
    تقسیم کا ذمہ دار کون تھا؟؟؟
    کیا تاریخ کا مطالعہ نہیں رہا؟؟؟
    خود تقسیم کے ذمہ دار اور الزام ہندوستان پر؟؟؟
     
  4. Ishauq

    Ishauq -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 2, 2012
    پیغامات:
    9,612
    بھائی جان اتنا غصہ؟؟؟؟ آپ ہی تاریخ بتا دیں ۔۔۔۔۔ مورخ صاحب کیا لکھتے رہے ہیں؟
     
  5. عمر اثری

    عمر اثری -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 21, 2015
    پیغامات:
    461
    ابتسامہ
    پیارے بھائی یہ غصہ نہیں ہے.
    ہاں دکھ ضرور ہے کہ فیس بوک کے مضامین اب اسلامی فورم پر بھی شروع ہو چکے ہیں.
    تاریخ یہی کہتی ہے کہ محمد علی جناح ہی تقسیم ہند کے ذمہ دار تھے.
    مولانا ابوالکلام آزاد رحمہ اللہ نے کتنا روکا لیکن لوگوں نے اس سے کوئی نصیحت نہیں لی.
     
    • معلوماتی معلوماتی x 1
  6. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,919
    بھائی فورم بھی سوشل میڈیا کا حصہ ہیں.فرق صرف یہ یے کہ یہاں کچھ قوانین موجود ہیں. یہ تاریخ کا موضوع ہے .تقسیم ہند پر مثبت گفتگو بھی ہو سکتی ہے. ان الزامات کو غلط ثابت کیا جا سکتا ہے. لیکن غصہ نہیں کرنا چاہیے : )
     
    • متفق متفق x 1
  7. عمر اثری

    عمر اثری -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 21, 2015
    پیغامات:
    461
    محترم شیخ!
    آپ مجھے جانتے ہیں کہ میں صرف زیادہ تر اس فورم پر پڑھنے کے لۓ آتا ہوں. اور میں سیاسی موضوعات میں بالکل بھی نہیں الجھتا. لیکن بات ایک تو میرے ملک کی ہے اور وہ بھی غلط. اس لۓ دخل اندازی کی
     
  8. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,919
    آپ اس موضوع کو چھوڑ دیں.اپنا مطالعہ جاری رکھیں. سوشل میڈیا اور فورمز پر کچھ نا کچھ کسی نا کسی کے خلاف لکھا جاتا ہے. صرف اس وجہ سے باقی کام نہیں رکنے چاہیں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • متفق متفق x 1
  9. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    تحریک آزدئ ہند کے دوران ہندوؤں کے تعصب نے قائداعظم محمد علی جناح اور ان جیسی سوچ والے کئی مسلم رہنماؤں مثلا علامہ محمد اقبال -رحمہم اللہ - کواس نتیجے تک پہنچایا کہ انگریز کے بعد ان کے ساتھ رہنا مسلم قوم کے لیے تباہ کن ہو گا۔
    آج کشمیری اور ہندوستانی مسلمان بھائیوں کی حالت زار ان کی رہنماؤں کی بصیرت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ تقسیم ہند کے ذمہ دار ہندووں کے مکار اور ڈھیٹ لیڈر تھے جو مسلمانوں کو ان کے جائز حقوق دینے کو کبھی تیار نہ تھے۔
    مولانا ابوالکلام آزاد تحریک آزادئ ہند کے اکیلے مسلم رہنما نہیں تھے۔ کانگرس سے نکل کر آنے والے مسلم سیاست دان، جمعیت علمائے ہند کے بڑے بڑے مسلم علما، جلد ہی ہندو کا خطرہ بھانپ کر مسلم لیگ میں شامل ہوئے۔ یہ سب اخلاص سے انگریز سے آزادی کے لیے لڑے۔ سب کا احترام سر آنکھوں پر یہ سب مجاہدین آزادی ہیں۔ البتہ مسلم لیگ کو یہ اعزاز ملا کہ بیک وقت انگریز اور ہندو کی غلامی سے جان چھڑانے کی کوشش کی اور جنوبی ایشیا میں مسلمانوں کے لیے پاکستان نامی گوشہء عافیت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ آج کشمیر،روہنگیا، بنگلہ دیش، نیپال، اور کئی دوسرے علاقوں کے مسلمانوں سے بہتر زندگی یہاں ہے۔ یہ ملک اللہ کی نعمت ہے اور اللہ سے دعا ہے کہ دنیا بھر کے مسلمانوں کو امن، اور ترقی کی نعمت ملے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
    • ناپسندیدہ ناپسندیدہ x 1
  10. سید انور محمود

    سید انور محمود رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مئی 11, 2015
    پیغامات:
    225
    عمر اثری صاحب گریبان میں تو جھانک لیا جائے گا، لیکن آپکو ایک مشورہ ہے تھوڑا تمیز سیکھو اور تمیز بازار میں نہیں ملتا۔۔۔۔۔ ساتھ ہی ایک مشورہ ہے کچھ پڑھ کر تبصرہ کیا کرو، آپ اکیلے نہیں ہیں جو ابو کلام آزاد کے پچاری ہیں، ابوکلام آزاد کا کارنامہ یہ تھا کہ نو سال کانگریس کے صدر رہے لیکن مسلمانوں کےلیے کچھ نہیں کیا، قائد اعظم آپکے مولانا کو کانگریس کا شوبوائے کہا کرتے تھے، اور آخر میں ایک اور مفت مشورہ بھی کہ کبھی بھارت کا ایک چکرلگا آو حقیقت سامنے آجائے گی۔
     
    • ناپسندیدہ ناپسندیدہ x 1
    • متفق متفق x 1
  11. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    کسی کو اس وقت تک دہشت گرد کہنا درست نہیں جب تک کسی عدالت کی جانب سے ایسا جرم ثابت نہ ہو چکا ہو۔
    وزیرداخلہ کو دہشت گرد کا ہمدرد کہنا بھی غلط ہے۔ وزیرداخلہ نے ہر ہفتے ایک کالم نہیں لکھنا ہوتا۔ اس نے ملک کے لیے بڑے فیصلے کرنے ہوتے ہیں۔ سول سوسائٹی نامی ایک اقلیت کا بس چلے تو اس ملک کے ہر باحجاب اور باریش فرد کا صفایا کر دیں۔ جس عدم برداشت کی پالیسی کو نافذ کرنے کی بات کی جا رہی ہے وہ تباہ کن ہو گی۔ بہتر یہ ہے کہ آپ اپنے ملک کے لوگوں کو لٹکانے کی بجائے ان کو شعور دیں تا کہ وہ ملک کے اچھے شہری بن سکیں۔ اسی لیے اب تک حکومت پاکستان اور پاکستانی افواج بہت برداشت اور تحمل کے ساتھ دہشت گردی کے مسئلے سے نمٹنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس میں کامیاب بھی ہیں، سن 2015 اور 2016 میں ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی ہوئی۔
    برسبیل تذکرہ گزشتہ دو سالوں میں کافی ایرانی اور افغانی دہشت گرد پکڑے گئے۔ کالم میں ان کے کردار کا کوئی تذکرہ نہیں۔ہمارے مسائل حل نہ ہونے کی ایک وجہ ایسے یک طرفہ اور جانب دارانہ تجزئیے بھی ہیں جن میں آدھا سچ لکھا جاتا ہے۔
     
  12. سید انور محمود

    سید انور محمود رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مئی 11, 2015
    پیغامات:
    225
    بات سمجھ میں آگئی محترمہ ، آپکو اس کالم میں کیا کیا لکھنا برا لگا ہےلیکن افسوس میں آپ سے پوچھ کر نہیں لکھتا، آپکے تبصروں کا شکریہ۔
     
  13. عمر اثری

    عمر اثری -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 21, 2015
    پیغامات:
    461
    شاید آپ کو اسکی ضرورت ہے. میں نے کوئی بدتمیزی نہیں کی.
    بازار میں ملتا تو آپ نے سیکھ لی ہوتی. لیکن یہ قرآن و حدیث اور اچھی تربیت سے ملتا ہے.
    اس سے بڑی جہالت اور کیا ہو سکتی ہے. اب آپ فتوے بازی مزید کریں. مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا.
    بہت عمدہ جواب تھا لیکن بات بڑھانے کا شوق نہیں ہے
    بھارت میں ہی ہوں. الحمد للہ

    چکر آپ ذرا اپنے ملک کا لگائیں.

    اب آپ کے کسی مراسلے پر تبصرہ نہیں کروں گا. کیونکہ جہالت کا جواب دینے کا وقت نہیں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  14. سید انور محمود

    سید انور محمود رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مئی 11, 2015
    پیغامات:
    225
    بھائی معاف کرنا، میں کسی بھارتی کے منہ نہیں لگتا، میں نے اپنے ملک اور تمارئے ملک کے چکر لگائے ہوئے، مجھے معلوم نہیں کہ جو شخص ساری عمر ہندوں کی غلامی کرتا رہا ہےآپ اس کے پچاری ہیں، ایک دفعہ پھر آپ کو کہتا ہوں تمیز سیکھو، بال ٹھاکرئے کا انداز چھوڑ دو۔
     
    • ناپسندیدہ ناپسندیدہ x 1
  15. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,919
    لا حول ولا قوة الا بالله
    عمر اثری بھائی، سید انور محمود صاحب کے بچوں کی عمر کے ہیں.آپ پر احترام واجب ہے. اور سید انور محمود صاحب، آپ ان کی لغزش کو چھوٹا سمجھ کر درگزر کردیں. اللہ آپ کو جزائے خیر دے.
    فریقین کا یہ رویہ نامناسب ہے. اس سے دور رہیں.
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 5
  16. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    مولانا ابوالکلام آزاد رحمہ اللہ کو ہندوؤں کا غلام کہنا بالکل غلط بیانی ہے۔ جناح اور آزاد دونوں مسلمانان ہند کے انتہائی مخلص سیاسی رہنما تھے، دونوں نے مل کر کئی معاملات پر مسلمانوں کا موقف بہتر انداز میں دنیا کے سامنے پیش کیا۔ تقسیم ہند پر دونوں کی مختلف رائے کا یہ مطلب نہیں کہ اسلام کے لیے ان کی گراں قدر سیاسی خدمات کو بھلا دیا جائے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  17. حسين عبد الله

    حسين عبد الله نوآموز

    شمولیت:
    ‏جولائی 13, 2016
    پیغامات:
    24
    محترم عمر بھائی۔کالم میں بلاشبہ بھارت کے حوالہ سے سخت زبان ہے ۔۔۔اسی وجہ سے شاید شروع کی سطور سے آپ کا ذہن تقسیم ہند کی طرف منتقل ہو گیا ۔۔۔۔اور آ پ اسی سمت میں غور کرنے لگے۔۔
    ورنہ کالم تقسیم ہند سے متعلق نہیں ہے ۔۔۔مولانا ابوالکلامؒ اور محمد علی جناحؒ دونوں کا ذکر غیر متعلق تھا۔۔۔وہ اور موضوع ہے ۔
    اس کالم کا عنوان ہی ۱۶ دسمبر ہے جس دن ۔۔۔بنگلہ دیش کا واقعہ۔۔۔اور حالیہ دہشتگردی کا واقعہ ہوا۔۔۔
    حیرت ہے ۔۔الفاظ کی تکرار سے نئی بحث شروع ہوگئی ۔۔
    کبھی تکرار میں ذاتیات پر بحث شروع ہوجاتی ہے تو ۔۔۔آدمی ضروری نہیں کہ ان جملوں سے متفق بھی ہو۔
    اس لئے میرے خیال میں ایڈمن بھائی کو چاہیے کہ وہ جملے دونوں طرف سے ریمووہی کردیں ۔۔ان میں نفع تو ہے نہیں۔۔تاکہ اگلی بار وہی بھائی آئے تو اس کو وہ جملے نہ ملیں ۔اور غصہ تازہ نہ ہو جائے۔یہ جملے نافع بالکل نہیں ہوتے ۔
    اور عمر بھائی۔یہ جملہ جو آپ نے لکھا ہے
    تاریخ یہی کہتی ہے کہ محمد علی جناح ہی تقسیم ہند کے ذمہ دار تھے.
    مولانا ابوالکلام آزاد رحمہ اللہ نے کتنا روکا لیکن لوگوں نے اس سے کوئی نصیحت نہیں لی.

    بالکل صحیح ہے ۔ اور اس کا انکار کسی کو نہیں ہے ۔ ظاہر ہے بھئی پاکستان محمد علی جناح ؒ وغیرہ کی ہی کوشش سے بنا ۔اور یہ تقسیم ہند ہی تھی۔
    اور مولانا آزادؒ بلاشبہ آزادی ہند کے راہنما تھے ۔۔۔تقسیم ہند کے نہیں۔۔۔لیکن وہ اور موضوع ہے ۔۔
    یہاں ۔۔بنگلہ دیش کا ذکر ہو رہا ہے ۔۔جس سے نہ جناحؒ کا کوئی تعلق ہے نہ آزادؒ کا۔
    بھئی دینی انداز سے سوچنے والوں سے تو یہ امید ہونی چاہیے کہ وہ سب سے پہلے مسلمان ہی ہونے چاہییں پھر قومی شناخت ہونی چاہیے۔
    بھئی یہ کیا ۔۔۔تم بھارتی ، میں پاکستانی۔۔
    اگر کبھی ہم قومیت کے اثر میں آجائیں تو کئی صحیح چیزیں بھی غلط کہہ جاتے ہیں ۔۔اور غلط کو صحیح۔
    بہتر سوچ یہ ہے کہ جب کبھی کسی ملک کے خلاف بات کی جاتی ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ اس ملک کے عوام کی بات ہو رہی ہے ۔ بلکہ وہ حکومت اور صاحب اقتدار کے بارے میں ہوتی ہے ۔۔
    اب کشمیر میں بھارت ظلم کر رہا ہے ۔۔تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ معاذ اللہ ۔۔۔محترم ڈاکٹر ذاکر نائیک۔۔یا عمر اثری یہ ظلم کر رہے ہیں ۔۔
    بلاشبہ انڈیا کا سنجیدہ طبقہ اس کے خلاف بول بھی رہا ہے ۔
    اسی طرح پاکستان کی حکومت کے کاموں سے بھی ہم خوش نہیں ۔۔۔
    جو بنگلہ دیش کا موضوع ہے ۔۔اس میں ۔۔بھارتی سازش کا یہی مطلب ہے کہ اس دور کی حکومت کا عمل دخل اور رسوخ ۔۔۔
    ہاں بلاشبہ حق بات کہنی چاہیے ۔۔۔پاکستان میں ہم ازراہ تفنن بولتے بھی ہیں کہ بھٹو صاحب نے ایٹم بم بھی بنایا اور بنگلہ دیش بھی۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  18. بابر تنویر

    بابر تنویر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,318
    شکریہ حسین عبداللہ صاحب۔ بھائ جیسا کہ آپ نے ذکر کیا کہ یہاں موضوع تھا بنگلہ دیش کی پاکستان سے علیحدگی کا۔
    سید انور محمود اور عمر اثری صاحب دونوں ہماری مجلس کے معزز ممبر ہیں۔ عمر اثری ابھی نوجوان ہیں اور شائد جلد ہی جذباتی ہو گۓ۔ اور جناب سید انور محمود شائد میرے ہم عمر ہیں یا کچھ کم اور اس عمر میں بھی اکثر برداشت تھوڑی کم ہو جاتی ہے۔ بہر حال یہ اچھی بات ہے کہ عکاشہ بھائ کے کمنٹس کے بعد دونوں جانب سے برداشت اور در گزر کا مظاہرہ کیا گیا۔
    جہاں تک بنگلہ دیش کی علیحدگی کا سوال ہے اس کی بہت سے وجوہات ہیں جن میں سے ایک وجہ ہند کا کردار بھی ہے۔ جس کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔
    کسی بھی موضوع پر اراکین مجلس کی راۓ مختلف ہو سکتی ہے۔ لیکن اختلاف راۓ کا اظہار کرنے میں بھی کچھ حدود کا خیال رکھنا چاہیے اور بات ذاتیات تک نہیں جانی چاہیے۔
    آخر میں تمام اراکین سے درخواست ہے کہ ان کے تبصرہ جات مذکورہ موضوع کے تناظر میں ہی ہونے چاہئیں۔ تقسیم ھند اور اور اس حوالے سے قائد محترم اور مولانا آزاد کا کردار زیر بحث نہیں ہے۔
    جزاکم اللہ خیرا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں