نمرہ احمد کے ناول "نمل" پر تنقیدی تبصرہ

ابوعکاشہ نے 'گپ شپ' میں ‏فروری 7, 2017 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,921
    نمرہ احمد کا ناول ـ نمل۔ خریداری کے لئے دستیاب ہے ۔
    جن خواتین و حضرات نے خواتین ڈائجسٹ میں اس کو نہیں پڑھا ۔ وہ اب فائدہ اٹھا سکتے ہیں ۔

    ناول کی قیمت :2500روپے
    صفحات : 1437

    ناول پرمفصل تنقیدی تبصرہ پھر کبھی سہی ۔
    جب تک ناول میرے پاس پہنچتا ہے ۔مجھے ناول کے سائز نے پریشان کردیا ہے ۔ ویلے لوگوں کا بھی عجیب مشغلہ ہے مسلم نوجوان نسل کے پاس قرآن کی آیت یا اس آیت کی تفسیر پڑھنے کے لئے وقت نہیں ۔وہ کس طرح وقت نکال کر 1437صفحات کے اس ناول کو پڑھے گا؟
    یہ صرف اس صورت میں ہی ممکن ہے ۔جب اس چیز میں انسان کے مزاج کے مطابق مطلوبہ نشہ آور چیز ملا دی جائے ۔

    nimal.jpg
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
  2. سیما آفتاب

    سیما آفتاب محسن

    شمولیت:
    ‏اپریل 3, 2017
    پیغامات:
    485
    درست کہا اس کا ضخیم سائز اس کا ایک منفی پوائنٹ ہے
     
    • متفق متفق x 1
  3. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,921
    یہ تھریڈ میں نے شروع کیا تھا کہ ناول پرکچھ لکھا جائے ۔ مگر وقت نہیں ملا ۔ اور بھی منفی پوائنٹس ہیں ۔ اگرچہ مثبت بھی ہیں ۔

    ایک بہن کا تبصرہ ۔۔
    کبھی کبھار فیس بک دیکھ کر گمان ہوتا ہے کہ دور حاضر میں شاید ہدایت کی کتاب جنت کے پتے،نمل اور پیر کامل ہیں۔۔۔عجیب بات ہے کہ قرآن کی آیات تفسیر،احادیث ،اسلاف کے واقعات وغیرہ سب چھوڑ کر ایک یہی چیز سب سے زیادہ نظر آتی ہے نیوز فیڈ میں۔۔
    قال شیخ صالح ابن عثیمین اذا اردتم الخیر فواللہ لا نعلم طریقا خیرا من طریق السلف رضی اللہ عنھم
    فعضوا عل سنۃ رسول اللہ بالنواجذ،واسلکوا طریق السلف الصالح،وکونوا علی ما کانو علیہ
    شیخ صالح عثیمین نے بہت پیاری بات کہی ہے اس ضمن میں کہ (اگر تم خیر کو حاصل کرنا چاہتے ہو تو جان لو اللہ کی قسم ہم اسلاف سے زیادہ کسی کو بھی خیر کے طریقے پر نہیں پاتے۔اس لئے کہ انہوں نے رسوال اللہ ﷺ کے طریقے کو اپنی داڑھوں (مضبوطی)سے پکڑا ہوا تھا ۔اس لئے اسلاف کے طریقے پر چلو اور اس طریقے ہر ہو جاؤ جس پر وہ تھے۔(الابداع فی کمال الشرع)
    بلاشبہ یہ ناول اچھے ہوں گے اور بہت سے لوگوں کو ہدایت کے حوالے سے عمل زندگی میں اس سے فائدہ بھی ہوا ہومگر میرا نکتہ یہ ہے کہ کسی بھی ایسی چیز کو ہدایت کا نمونہ بنا کر پیش کرنا جو کہ غلطیوں کے امکان سے خالی نہ ہو تو یہ بہت بڑی جسارت ہے
    اس کی مثال ایسی ہے کہ کوئی اسلامی نشید(اسلالمی نظموں) کو ہر وقت تبلیغ کے لئے استعمال کرتا رہے اور قرآن کی تلاوت اور باقی سب چیزوں سے زیادہ نشید پر ہی فوکس کرے تو آپ بھی بلاشبہ اس کو بے وقوف کہیں گے کیونکہ کسی گانوں کے عادی شخص سے گانے چھڑوانے کے لئے ابتدائی مراحل میں یہ طریقہ تو آزمایا جا سکتا ہے علما بنیادی شرائط کے خیال کے ساتھ اس کی اجازت تو دیتے ہیں مگر ہر وقت محض اس کو پروموٹ کرنا تو یہ غور طلب بات ہے کہ ہم کس چیز کو اہمیت دے رہے ہیں۔اسلاف ہدایت لینے اور دینے کے لئے ایسی چیزوں کا استعمال نہیں کرتے تھے کیونکہ جہاں پر تھوڑی بہت خیر آتی ہے وہاں کچھ ایسے نقائص وخرابیاں بھی جنم لیتی ہیں جو غیر محسوس ہوتی ہیں اور ایک عام انسان کو ان کا ادراک بھی نہیں ہوتا۔
    بالکل یہی معاملہ یہاں بھی ہے کہ دین سے دور اور دینی کتب سے بیزار شخص کو ابتدائی طور پر پڑھنے کے لئے ایسی کتب تو دی جاسکتی ہیں مگر ان ناولز کو اس انداز سے پرموٹ کرنا کہ گویا کتاب کا حرف حرف ہدایت کا مجموعہ ہے کہ اس کے کیپشنز،پوسٹرز بنا کر ہر بندہ شئیر کررہا ہے تو یہ غلو کی ہی ایک قسم ہے۔کیونکہ جو انسان پڑھتا ہے لازمی طور پر اس کے شعور کے ساتھ ساتھ لا شعور میں بھی جاتا ہے ان کہانیوں کو پڑھنے کے بعد لوگ وہی کردار ،وہی شخصیتیں اور مزاج اپنے اردگرد تلاش کرتے ہیں اور کسی ایسی آئیڈیل صورتحال اور لوگوں کے متلاشی رہتے ہیں خیر یہ ایک لمبی بحث ہے جو کہ یہاں مقصود نہیں ہے۔۔مقصود یہ ہے کہ ہمیں ایک ناول کو ہدایت کی کتاب کا درجہ دینے سے گریز کرنا چاہئے۔ اور غلو سے پرہیز کرنا چاہئے۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  4. سیما آفتاب

    سیما آفتاب محسن

    شمولیت:
    ‏اپریل 3, 2017
    پیغامات:
    485
    متفق
    ناول کو اصلاحی ناول تک سمجھنا ٹھیک ہے مگر "حرف آخر" سمجھنا غلط ہے
     
  5. حیا حسن

    حیا حسن رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 6, 2017
    پیغامات:
    118
    متفق..
    نوجوان نسل دلچسپی ہی ایسی چیزوں میں لیتی ہے یا ان کو راغب ہی اس ہی کی طرف کیا جا رہا ہے..
    جتنا بھی ضخیم ناول ہو عوام پھر بھی کہتی نظر آتی ہے کہ صفحات بڑھا دیں..
    نمل تو میں نے نہیں پڑھا جنت کے پتے ضرور پڑھا تھا..
    عین ممکن ہے کہ مصنفہ نے جو لکھا ہو وہ حرف حرف ٹھیک نہ ہو، مگر پھر بھی کچھ چیزیں ایسی لکھتی ہیں جن سے لوگوں کی عملی ذندگی میں تبدیلی آتی ہے..
    شروعات بے شک ان کی ناول پڑھنے سے ہوتی ہے اور متاثر بھی یہیں سے ہوتے ہیں مگر یہ شروعات ان کو مستند اسلامک انسٹیٹیوٹس تک پہنچا دیتی ہے..

    تو دونوں ہی باتیں ہیں...
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  6. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,921
    بلکل دونوں باتیں ہیں. راستہ بھی کھلا ہے. جس پر چاہیں عمل کر سکتے ہیں. معلوم نہیں کہ کونسے اسلامک انسٹیٹوس ہیں.بہرحال، شاید ایک دو سال قبل مجلس پر اس حوالے سے کچھ لکھا گیا تھا. ضرور مطالعہ کریں.
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  7. حیا حسن

    حیا حسن رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 6, 2017
    پیغامات:
    118
    ہمارے اسلام آباد میں لڑکیوں کے لیے ایک ہی انسٹیٹیوٹ ہے اور وہ ہے الہدی انٹرنیشنل، یہاں تو اسے انسٹیٹیوٹ ہی کہا جاتا ہے...آپ معلوم نہیں کیا سمجھ رہے ہیں..
    الہدی پر امید ہے آپ کو اعتراض نہیں ہو گا...
     
    Last edited: ‏جون 9, 2017
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  8. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,921
    مجھے واقعی معلوم نہیں ہے ۔ اس لئے لکھا ہے ۔ الہدی ہو یا کوئی اور مجھے کسی پر کوئی اعتراض نہیں ۔ جس مضمون کی طرف اشارہ کیا ہے ۔ وہ یہاں ہے ۔
    http://www.urdumajlis.net/threads/اسلامی-ناول-مضر-یا-مفید؟.36668/
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں