تنقید کو مسئلہ نہیں بنانا چاہیے

ابوعکاشہ نے 'اسلامی متفرقات' میں ‏جون 2, 2017 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,920
    تنقید کو مسئلہ نہیں بنانا چاہیے
    پیغمبروں کی دعوت میں دو خاص اسلوب پائے جاتے ہیں معروف کا حکم اور منکر سے روکنا ۔ اس کا لازمی حصہ ہے ۔ معروف پر اظہارپسندیدگی اور منکر سے نفرت اور اظہار برات ۔ یہ چیز دراصل تنقید ہے ۔ اس سماج پر جس میں پیغمبر پیدا ہوا ہے ۔ یہاں سوال یہ اٹھایا جا نا چاہیے کہ عموما پیغمبروں کو ایسی تنقید کا موقع کب دیا گیا ؟۔۔ محمد عربیﷺ کے حوالے سے غور کریں تو سب کو معلوم ہے کہ چالیس سال بعد آپ کا باضابطہ طور پر یہ موقع دیا گیا کہ آپ مکی سماج کے اخلاقی ،اعتقادی اور عملی ریوں پر تنقید کریں اور اصلاح کا کام کریں ۔ یہ چالیس سال کیا تھے ؟؟۔۔ حقیقت میں ناقد کی ذات کو بالغ اور تنقید کا اہل بنایا جا رہا تھا ۔ اس کی ذہنی ساخت ،لفظیات ،خواہشات اور اظہار وادا کے اسالیب کو انتہائی متوازن کیا جارہا تھا ۔ مزید یہ کہ سماج کو ناقد کی چالیس سالہ غیر دعوتی اور غیر تنقیدی زندگی دکھائی جارہی تھی تاکہ قول وعمل کے تضاد کا اندیشہ نہ وجود پا سکے ۔ اب ہم غور کر سکتے ہیں کہ رسولﷺ نے سماج پر کس طرح تنقید کی ۔ ابراھیم علیہ السلام کی تنقید کافرانہ نظام کے لئے بہت سخت مانی جاتی ہے ۔ مگر قرآن کھولئے کہ وہ سخت تنقید ہے کیسی ؟۔۔۔سراسر بیانیہ اسلوب جس میں اخلاص کی گرمی ہی نہیں بلکہ آپ روحانی فضا میں پڑھیں تو آنچ بھی آئے گی ۔ آپ کوبین السطور میں اتنا گہرا اخلاص نظر آئے گا کہ آپ اسے ہاتھوں میں بھی محسوس کرسکتے ہیں ۔ آپ بات کرسکتے ہیں ،،بل فعلھم کبیر ۔۔کی جہاں مفسرین کرام طنز و تعرض کا حوالہ دیتے ہیں جو قابل انکار نہیں لیکن یہاں تنقید کا معروف مفہوم ہی ہمارا ساتھ نہیں دے سکتا بلکہ آیت کے ما وماعلیہ ،مقام دعوت ، سامعین کے احوال سب کچھ سامنے رکھیں تو پتہ چلے گا کہ ایسا کہنا موزوں تھا
    موسی علیہ السلام کو جب فرعون جیسے بدبخت ،،شقی حکمران کے پاس دعوت پہنچانے کا حکم ہوتا ہے تو نرم بات کی تاکید کی جاتی ہے ۔ نرم بات کہنے کا مطلب کیا ہے ؟ حق چھپانا ؟ باطل کی چاپلوسی؟ بعض حقائق کو لپیٹ دیینا ؟ ۔۔۔ ہرگز نہیں ! نرم بات کہنے کا مطلب ہے ۔ وجادلھم بالتی ھی احسن ۔ صحیح بات صحیح طریقہ سے بلکہ اس سے بڑھ کر دوستانہ اور محبوبانہ طریقے سے پیش کرنا ۔
    قرآن جب انسان کی سرکشی پر نقد کرتا ہے تو کہتا ہے ۔ قلیلا ماتشکرون ۔ تم لوگ بہت کم شکر ادا کرتے ہو ۔ غور تو کیجئے ناشکری کو "کم شکری" کے ذریعہ نشانہ بنایا گیا ہے سورہ رحمن میں باربار صرف اتنا کہاجاتا ہے کہ تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو چھٹلاو گے؟جس میں مشفقانہ ڈانت اور ناصحانہ نارضگی کے سوا کیا نظر آسکتا ہے ۔ آپ ذق انت العزیز الکریم کی طنزیہ مثال دے سکتے ہیں لیکن سچ یہ ہے کہ یہ سزا آخرت کا بیان ہے جہاں ہر وہ طریقہ اپنایا جانا ہے ۔ جس سے مجرم کی تکالیف بڑھ سکے
    ان سب باتوں کے باوجود یہ ماننا چاہیے کہ تنقید کسی کی شادی کا سہرا اور شاہوں کے دربار کی قصیدہ نگاری نہیں ہے ۔ تنقید اتنی بھی سادہ نہیں کہ صرف کھرے سکوں کو الگ کرنا کھوٹے سکوں کو خودبخودنمایاں کردے گا ۔ اس لئے تنقید کو مسئلہ نہیں بنایا جانا چاہیے بلکہ گورا کرنے اک مزاج بنایا جائے ۔ تنقید نگار کوئی فرشتہ نہیں ہوتا کہ ہر وہ لفظ کو ایسا تول سکے کہ رتی ماشہ کا فرق نہ ہوپائے ۔ اس کے تمام احتیاط اور دقیق نظری کے باوجود جھول آنے کو نکارا نہیں جاسکتا اور یوں بھی تنقید کوئی پھولوں کا باغ نہیں بلکہ کانٹوں کے پھولوں اور کبھی کبھی صرف کانٹوں کا جنگل ہوتا ہے ۔
    بشکریہ ، ماہنامہ اعتدال
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
  2. محمد عرفان

    محمد عرفان -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 16, 2010
    پیغامات:
    764
    جزاکم الله خیرا
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں