سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس پاکستان عوامی تحریک کی سبکی کی تاریخ

عائشہ نے 'خبریں' میں ‏ستمبر 26, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    17 جون 2014 کو لاہور کے علاقے ماڈل ٹاون میں تحریک منہاج القران کے مرکزی سیکریٹریٹ اور پاکستان عوامی تحریک (پیٹ) کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری کی رہائش گاہ کے سامنے قائم تجاوزات کو ختم کرنے کے لیے آپریشن کیا گیا تھا۔ کسی بھی دینی تحریک اور مذہبی رہنما کو مفت کے فدائی تو مل ہی جاتے ہیں۔ سو طاہرالقادری کے فدائیوں نے تجاوزات کے خلاف آپریشن کو گویا جابر سلطان کے خلاف جہاد سمجھ کر مزاحمت شروع کر دی۔پولیس سے جھڑپیں ہوئیں۔ 14 انسان جان سے گئے، 90 زخمی ہوئے۔
    اپنے مداحوں کے جذبات کا فائدہ اٹھانے کے لیے طاہرالقادری نے اس سانحے کو سیاسی شہرت کے لیے استعمال کرنے کی بھونڈی کوششیں کی۔ کنٹینر پر دھرنے دیے، عوام اور ملک کا وقت ضائع کیا۔
    جسٹس باقر نجفی رپورٹ آئی۔ انسداد دہشت گردی کی عدالت نے طاہرالقادری کی امیدوں پر پانی پھیرتے ہوئے وقت کے وزیراعلی اور وزیراعظم کو معاملے سے بری کر دیا۔ تاہم پولیس افسران سمیت 115 ملزمان پر فردجرم عائد ہوئی۔
    عوامی تحریک ایک بار پھر ہائی کورٹ گئی تاکہ اپنی خواہش کے مطابق کچھ شخصیات پر ملبہ ڈالا جائے لیکن آج 26 ستمبر 2018 کو وہاں سے بھی یہی فیصلہ آیا کہ اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف اور وزیراعلی شہباز شریف، رانا ثناءاللہ، خواجہ آصف اور سعد رفیق کو اس کیس میں طلب نہیں کیا جا سکتا۔
    اب طاہر القادری صاحب مزید عزت افزائی کے لیے سپریم کورٹ جائیں گے کیوں کہ کافی لوگوں کو آج کل وہاں ہرا ہرا نظر آ رہا ہے۔وہاں کیا ہوگا اللہ جانتا ہے۔
    اس سارے معاملے میں مذہبی انقلابی نوجوانوں کے لیے ایک سبق ہے۔ انقلاب کے چکر میں تجاوزات کے خلاف آپریشن کو روکنا فریضہ جہاد مت سمجھ لیا کریں۔ پاکستانی تاریخ کے ساتھ ساتھ انقلابات عالم کا مطالعہ کریں تا کہ کوئی آپ کو بے وقوف نہ بنائے۔
    سب سے زیادہ دکھ کی بات ہے کہ یہ 14 انسان اب کبھی زندگی کی نعمت دوبارہ نہیں پا سکیں گے۔
     
    Last edited: ‏ستمبر 26, 2018
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • متفق متفق x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں