سعودی عرب کی طرح پاکستان کو بھی کرپشن سے پاک کریں گے:عمران خان

زبیراحمد نے 'خبریں' میں ‏اکتوبر، 9, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    وزیراعظم پاکستان عمران خان نے حال ہی میں سعودی عرب کا دورہ کیا۔ وزارتِ عُظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد یہ ان کا پہلا غیر ملکی دورہ تھا۔ اپنے اس دورے کے دوران انہوں نے خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز، ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور دیگر اعلیٰ سعودی حکام سے تفصیلی بات چیت کی۔

    اس موقع پر ’العربیہ‘ نیوزچینل کے جنرل منیجر اور سینئر صحافی ترکی الدخیل نے عمران خان کا خصوصی انٹرویو کیا۔ ان کے انٹرویو کے اہم اقتباسات خبر کی شکل میں شائع کیے جا چکے ہیں۔ اتوار کی شب ان کا تفصیلی انٹرویو ٹی وی پر نشر کیا گیا۔

    ’ترکی الدخیل‘ کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ سعودی عرب اور پاکستان کے باہمی تعلقات کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنے یہ ملک پرانے ہیں۔ دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات کافی مضبوط اور دونوں قوموں کے ایک دوسرے کے لیے ہمدردی اور غم گساری کے جذبات بھی قابل تحسین ہیں۔ پاکستانی قوم نے سعودی قوم کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا۔ دوسری طرف سعودی حکومتوں اور عوام نے بھی پاکستان کی ہمیشہ دل کھول کر مدد کی۔ جس وقت بھی پاکستان کو کوئی مشکل پیش آئی تو سعودی عرب کو ہم نے اپنے شانہ بہ شانہ پایا۔

    انہوں نے کہا کہ اقتدار سنھبالنے کے بعد پاکستان کا ہر وزیراعظم سب سے پہلے سعودی عرب ہی کا دورہ کرتا ہے۔ اس کے دو اسباب ہیں۔ پہلا سبب دونوں قوموں اور حکومتوں کے درمیان مضبوط اور قابل اعتماد تعلقات اور دوسرا مکہ اور مدینہ جیسے مقدس شہروں کی زیارت ہے۔ اللہ کے خصوصی فضل وکرم سے ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہے ہیں۔

    بدعنوانی کا خاتمہ
    ’العربیہ‘ کو دیے گئے انٹرویو میں عمران خان نےکہا کہ ہم پاکستان کو مالی اور انتظامی کرپشن کی لعنت سے اسی طرح پاک کرنا چاہتے ہیں جس طرح سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے سعودی عرب میں کرپشن کے خلاف مہم چلائی۔ اختیارات اور اثر ونفوذ رکھنے والے افراد کے جرائم سے لڑنا مشکل ہے۔ ان کے پاس وافر مقدارمیں دولت ہوتی ہے اور وہ دولت کے بل پر مہنگے وکیلوں کی خدمات لینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ وہ اپنی رقوم بیرون ملک بنکوں میں منتقل کر سکتے ہیں۔ بیرون ملک پاکستان کا پیسہ واپس لینا آسان نہیں۔ حکومت نے ایک کمیشن قائم کر دیا ہے جو بیرون ملک موجود پاکستانیوں کی جائیدادوں کی نشاندہی کرکے ان کی واپسی کے اقدامات کرے گا۔ انسداد کرپشن کے لیے ہم ایک نیا ایکشن پلان بنا رہے ہیں جو مغربی ممالک پر بھی دباؤ ڈالے گا تاکہ ان کے ہاں چھپائی گئی پاکستانی دولت کو وطن واپس لایا جا سکے۔ غریب ملکوں کے مٹھی بھر اُمرا پیسہ امیر ملکوں میں لے جاتے ہیں جس کے نتیجے میں ان کے ہاں غربت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔

    سعودی امداد
    عمران خان نے ترکی الدخیل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے مزید کہا کہ ‘ہماری طرف سے پیغام یہ ہے کہ ہم سعودی قوم کے ساتھ کھڑے ہیں کیونکہ سعودی عرب نے ہمیشہ ہماری ہرضرورت اور مشکل میں ہمارا ساتھ دیا ہے۔

    اسلام آباد اور الریاض کے درمیان سیاسی تعاون کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’ہم نے ہمیشہ سعودی قیادت کی حمایت کی مگر موجودہ حالات میں ہمیں عالم اسلام کے درمیان جاری اختلافات کو ختم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ لیبیا، صومالیہ، شام اور افغانستان کے ساتھ پاکستان بھی اندرونی خلفشار کا شکار رہا ہے۔ عالم اسلام میں پائے جانے والے اختلافات نے ہماری اجتماعی قوت کو نقصان پہنچایا۔ اختلافات کی آگ بجھانے کے لیے پاکستان کردار ادا کر سکتا ہے۔ ہمیں عالم اسلام میں مصالحت کے لیے مہم شروع کرنی چاہیے۔ فرقہ بندی اور اختلافات کو ہوا دینا عالم اسلام کے مفاد میں نہیں۔ میں ذاتی طورپر کہتا ہوں کہ اختلافات کی آگ پاکستان بجھا سکتا ہے۔ ہم اسی لیے سعودی عرب آئے اور مملکت کے ساتھ کھڑے ہونے کا اعلان کرتے ہیں۔

    اقتصادی ترقی
    ایک سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں ماضی کی حکومتیں عوام کے معاشی مسائل کے حل میں ناکام رہی ہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت نے معیشت کی بہتری، روزگار اور دیگر اقتصادی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے موثر اقدامات کا فیصلہ کیا ہے۔ ہم نے محدود مدت، درمیانی مدت اور طویل مدت کے اقتصادی پلان تیار کیے ہیں۔ ملک کو اقتصادی بحران سے اسی طرح نکالا جا سکتا ہے۔ وسائل کی تقسیم کے لیے ہم نے نیا بجٹ تیار کیا۔ اس طرح پاکستان تجارتی اور برآمدات کی ترقی کی راہ میں حائل رکاوٹوں سے نکل سکے گا۔ اقتصادی چیلنجز سے نمٹنے کے ساتھ ساتھ ہم ملک میں گورننس کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے نئی اصلاحات لا رہےہیں۔ یہ اسی وقت ممکن ہے جب ادارے مضبوط ہوں۔ میں دعوے سے کہتا ہوں کہ ہمارے اقدامات تھوڑا عرصہ گذرنے کے بعد اپنا رنگ دکھانا شروع کر دیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ اپنے اقتصادی اہداف کے حصول کے لیے ہم نے سادگی اور کفایت شعاری کا اسلوب اختیار کیا۔ حکومتی اخراجات کم اور مشکل وقت میں اپنے وسائل سے استفادہ کرنے کا فیصلہ کیا۔

    جہاں تک درمیانی مدت کی اسکیموں کا تعلق ہے تو تو پاکستان کے پاس اس کے بھی بے شمار مواقع موجود ہیں۔ پاکستان کو کارآمد اور با صلاحیت نوجوان افراد کار کی کوئی کمی نہیں۔ یہ نوجوان بھی ہمارا سرمایہ ہیں۔ پاکستان میں گوررننس کا نظام بہتر ہوتے ہی ہم پاکستان میں غیرملکی سرمایہ کاری قبول کریں گے۔

    ٹیکسوں کا نفاذ
    اقتصادی اصلاحات اور ترقی کے اہداف کےحصول کے ذرائع کے بارے میں بات کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ’ٹیکسوں کا نفاذ‘ اہم ذریعہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مہذب معاشرے میں مال دار لوگ ٹیکس ادا کرتے ہیں تاکہ کم مال دار یا غریب طبقے کا معیار زندگی بہتر کیا جا سکے۔

    ان کا کہنا تھا کہ مغربی ممالک بالخصوص اسکنڈنیوین ممالک نے ٹیکسوں کے نفاذ کی پالیسی اختیار کی۔ یورپ میں ترقی کا راز بھی ٹیکسوں کے نفاذ میں مضمرہے۔ ان ملکوں میں امراء سے ٹیکس لیے جاتے اور ملکوں کی معیشت سنواری جاتی ہے۔ پاکستان کی صورت حال کو بہتر بنانے کے لیے اصلاحات کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں صرف سات لاکھ افراد ٹیکس دیتے ہیں جب کہ دو کروڑ افراد کو ٹیکس دینا چاہیے۔ ٹیکس ادا کرنے والی اس قلیل تعداد کے ٹیکسوں پر آگے نہیں بڑھ سکتا۔

    https://urdu.alarabiya.net/ur/middl...ان-کو-بھی-کرپشن-سے-پاک-کریں-گے-عمران-خان.html
     
  2. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    وزیراعظم پاکستان عمران خان نے کہا ہے کہ انسداد بدعنوانی کے لیے ان کے سامنے سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان رول ماڈل ہیں، جس طرح شہزادہ محمد بن سلمان نے اپنے ملک سے دہشت گردی کی لعنت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے جُرات مندانہ مہم چلائی، میں اسی طرح پاکستان کو کرپشن سے پاک کرنا چاہتا ہوں۔

    ‘العربیہ‘ نیوز چینل کے جنرل منیجر ترکی الدخیل کو دیے گئے ایک انٹرویو میں شہزادہ عمران خان نے کہا کرپشن میں ملوث تمام عناصر کے خلاف پوری قوت کے ساتھ کارروائی کرنا ہوگی اور اس کے لیے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان رول ماڈل ہیں۔

    ایک سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ ملک کی دولت لوٹ کر بیرون ملک بنکوں میں رکھی گئی ہے۔ ہم اس رقم کو واپس قومی خزانے میں جمع کرائیں گے۔ تاہم انہوں اعتراف کیا کہ بیرون ملک رکھی گئی رقوم کی واپسی اتنا آسان کام نہیں۔ چوروں نے ملک لوٹ کر دوسرے ممالک میں اپنے خفیہ اثاثے بنا رکھے ہیں۔ ان کی نشاندہی بھی ایک مشکل امر ہے۔

    خیال رہے کہ عمران خان کا تفصیلی انٹرویو پرسوں اتوار کی رات کو نشر کیا جائے گا۔

    تحریک انصاف کے سربراہ اور پاکستان کے نو منتخب وزیراعظم عمران خان نے چند روز قبل سعودی عرب کا دورہ کیا تھا۔ سعودی عرب میں ان کا شاندار استقبال کیا گیا۔ اپنے پہلے بیرون ملک دورے کے دوران انہوں نے سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سمیت کئی دوسری اہم شخصیات سے ملاقاتیں کی تھیں۔

    https://urdu.alarabiya.net/ur/middl...ادہ-محمد-بن-سلمان-رول-ماڈل-ہیں-عمران-خان.html
     
  3. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    وزیراعظم پاکستان عمران خان نے ’العربیہ‘ چینل کو دیے گئے ایک اںٹرویو میں کہا ہے کہ ان کا ملک اور حکومت عالم اسلام میں جاری تنازعات کے حل کے لیے موثر کوششیں کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عالم اسلام میں جاری تنازعات نے مُسلم امہ کی قوت کوشدید نقصان پہنچایا۔ پاکستان تمام فریقوں کے ساتھ مل کرعالم اسلام میں جاری لڑائیوں کو ختم کرانے کے لیے اپنا کردار ادار کرےگا۔

    ’العربیہ‘ کے جنرل منیجر ترکی الدخیل کو دیئے گئے انٹرویو میں عمران خان نے سعودی عرب کی طرف سے دامے، درہمے سخنے ملنے والی امداد کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ الریاض نے پاکستانی قوم کے لیے ہمیشہ سب سے بڑھ کر امداد مہیا کی۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ مسلمان ممالک میں جاری لڑائیاں خطرناک ہیں۔ صومالیہ، لیبیا، شام اور افغانستان میں جاری محاذ آرائی ہمارے سامنے ہے۔ اس نے ہمیں بہت کم زور کیا۔ ان لڑائیوں کو ختم کرانے کے لیے پاکستان اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔

    اس سے پہلے عمران خان کا جدہ میں ’ قصر السلامہ ‘ ( شاہی محل) میں پہنچنے پر شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے بہ نفس نفیس خیر مقدم کیا۔اس موقع پر سعودی مسلح افواج کے ایک چاق چوبند دستے نے پاکستانی وزیراعظم کو گارڈ آف آنر پیش کیا۔

    شاہ سلمان نے عمران خان اور ان کے وفد کے ارکان کے اعزاز میں شاہی دیوان میں ضیافت کا بھی اہتمام کیا ۔ پاکستانی وزیراعظم نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے بھی دونوں ممالک کے درمیان تاریخی اور برادرانہ تعلقات پر بات چیت کی ہے۔

    انھوں نے جدہ میں اسلامی تعاون تنظیم ( او آئی سی ) کے سیکریٹری جنرل یوسف بن احمد العیثمین سے بھی ملاقات کی ہے اور ان سے مسلم امہ کو درپیش مسائل کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا ہے۔اس ملاقات میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ اور سعودی عرب میں متعیّن پاکستانی سفیر خان ہشام بن صدیق بھی موجود تھے۔

    https://urdu.alarabiya.net/ur/middl...-حل-کے-لیے-موثر-کوششیں-کریں-گے-عمران-خان.html
     
  4. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ پاکستان کو جب بھی مدد کی ضرورت ہوئی تو سعودی عرب نے آگے بڑھ کر مدد پیش کی ہے۔ وزیراعظم نے یہ بات عرب دنیا کے معروف نیوز چینل "العربیہ" کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں کہی۔

    انٹرویو کے میزبان اور نامور صحافی ترکی الدخیل سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں جو بھی شخص اقتدار میں آئے گا یقینا وہ پہلے سعودی عرب کا دورہ کرے گا۔

    عمران خان نے باورکرایا کہ اُن کا ملک ہمیشہ سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑا ہوتا ہے۔

    اس سے قبل وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے وزیراعظم کے پہلے بیرونی دورے پر روشنی ڈالتے ہوئے زور دے کر کہا کہ مملکت کے ساتھ پرانے اور انتہائی مضبوط تعلقات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ان تعلقات کو مزید گہرا بنانے کے لیے کام کرے گا۔

    وزیراعظم عمران خان گزشتہ روز سعودی عرب کے ایک روزہ سرکاری دورے پر مدینہ منورہ پہنچے تھے۔ انہوں نے مسجد نبوی کی زیارت کی، وہاں روضہ مبارک پر سلام پیش کیا اور نوافل ادا کیے۔ آج بدھ کے روز عمران خان نے سعودی عرب کے توانائی اور صنعت کے وزیر ڈاکٹر خالد الفالح اور متعدد سعودی عہدے داران سے ملاقات کی۔

    عمران خان خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے بھی ملاقات کریں گے۔ اس کے بعد وہ اپنے بیرونی دورے کی دوسری منزل یعنی متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظبی کا رُخ کریں گے۔

    وزیراعظم عمران خان کا مکمل انٹرویو اتوار کو سعودی عرب کے وقت کے مطابق شام 7 بجے (پاکستان کے وقت کے مطابق رات 9 بجے) العربیہ نیوز چینل پر نشر کیا جائے گا۔

    https://urdu.alarabiya.net/ur/middl...-عرب-نے-آگے-بڑھ-کر-مدد-پیش-کی-عمران-خان-.html
     
  5. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کے حالیہ دورے کے بعد سعودی عرب کی جانب سے پاکستان میں مختلف منصوبوں میں 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا امکان ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم عمران خان کا دورہ سعودی عرب بہت کامیاب رہا ہے اور سعودی حکومت نے پاکستان ، چین اقتصادی راہ داری (سی پیک) کے مختلف منصوبوں میں بھاری سرمایہ کاری کرنے کے ارادے کا اظہار کیا ہے۔ اس حوالے میں دورے کے موقع پر پاکستانی اور سعودی قیادت کے درمیان تفصیلی بات چیت ہوئی ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کی سی پیک میں شمولیت کے لیے پاکستان نے چین کو بھی اعتماد میں لے لیا ہے۔وزیر اعظم کے دورے کے موقع پر پاکستان نے سعودی عرب سے 15 ارب ڈالر کے پیکج کی خواہش کا اظہار کیا تھا ۔اس کے جواب میں سعودی حکومت نے 10 ارب ڈالر دینے کی ہامی بھری ہے۔ یہ رقم سی پیک کے تحت منصوبوں میں سرمایہ کاری کی صورت میں لگائی جائے گی۔

    سعودی عرب گوادر میں ایک آئل سٹی بھی تعمیر کرے گا ۔یہ آئل سٹی سی پیک منصوبے کا حصہ ہوگا۔ اس سے قبل یہ ’تیل شہر‘‘ چین نے تعمیر کرنا تھا۔ وفاقی وزیراطلاعات فواد چودھری نے جمعرات کو پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ پاکستان اور چین کے ساتھ سعودی عرب بھی سی پیک کا تیسرا اہم شراکت دار ہو گا اور اس منصوبے میں بھاری سرمایہ کاری کرے گا۔

    انھوں نے بتایا کہ اکتوبر کے پہلے ہفتے میں سعودی عرب کا اعلی ٰسطح کا ایک وفد پاکستان آئے گا جس میں سعودی وزیرتوانائی خالد الفالح اور دوسرے اعلیٰ عہدے دار ہوں گے۔ سعودی عرب کے علاوہ متحدہ عرب امارات(یو اے ای)نے بھی پاکستان میں بھاری سرمایہ کاری پر آمادگی ظاہر کی ہے۔

    واضح رہے کہ اس وقت چین کی خلیجی عرب ممالک سے تیل کی درآمدات کو گوادر سے سنکیانگ تک پہنچانے کا ایک منصوبہ بھی زیر غور ہے اور گوادر سے سنکیانگ تک تیل کی ایک نئی پائپ لائن بچھانے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے جس کی یومیہ صلاحیت دس لاکھ بیرل ہوگی۔

    https://urdu.alarabiya.net/ur/middl...ان-میں-10-ارب-ڈالر-کی-سرمایہ-کاری-متوقع-.html
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں