مقبوضہ کشمیر: جدوجہد آزادی کے 71 برس گزر گئے

عائشہ نے 'اسلام اور معاصر دنیا' میں ‏اکتوبر، 27, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    آج مقبوضہ کشمیر پر غاصبانہ قبضے کے خلاف جاری جدوجہد آزادی کے 71 برس مکمل ہو رہے ہیں۔ دنیا بھر میں کشمیری اس دن کو یومِ سیاہ کے طور پر گزاریں گے۔اکہتر برس پر محیط مزاحمت کا یہ طویل عرصہ ایک باہمت قوم کے جگر پاش مظالم پر صبر، اور بے مثال جرات کی طویل تاریخ ہے، جس کا ہر صفحہ بے گناہ شہیدوں کے لہو سے تر ہے۔ خود سے حجم میں کئی گنا بڑے، مکار اور سفاک قابض کو ناکوں چنے چبوانے والے بہادر اہل کشمیر ان اکہتر برسوں میں لمحہ لمحہ جس درد سے گزرے ہیں اس کا تصور ہی بھیانک ہے۔ مزاحمت کی اس قابلِ فخر تاریخ میں سب کچھ ہے لیکن سرِ تسلیم خم کرنے کا اختیار کبھی زیرِ غور نہیں آیا۔اہل کشمیر اپنی زندگی کو میدان جنگ میں جینے کے عادی ہو چکے ہیں۔غاصب ان پر اعصاب شکن مظالم کی آخری حد آزما کر دیکھ چکا، مگر ان کے تیور بتاتے ہیں کہ وہ آزادی تک لڑتے رہیں گے۔ اس بہادر قوم کی تین نسلیں مزاحمت کی روایت کو بے مثال استقامت سے آگے بڑھاتی رہی ہیں، آج تحریک آزادی میں ایک اور جوان نسل کا گرم خون شامل ہو چکا ہے۔ یہ اعلی تعلیم یافتہ کشمیری نوجوان ہیں جو ہر محاذ پر اپنے وطن کا مقدمہ بخوبی لڑ رہے ہیں۔ اپنے وطن کی آزادی کے لیے انہیں کسی کی مدد کی ضرورت نہیں رہی۔ اپنوں کی بےحسی، انسانیت کے زوال، اور دشمن کے مکر سے بیک وقت نبرد آزما کشمیری یہ جان چکے ہیں کہ ظلم کی اس دنیا میں انہیں اپنی جنگ خود لڑنی ہے اور یہ اس فن سے بچپن میں ہی آشنا ہو جاتے ہیں۔ ہر کشمیری زبان حال سے پکار کر کہتا ہے۔۔۔
    ہم ہیں کشمیری ہماراطوفان نہ رکنے پائے گا
    اے ہند تجھے تنکوں کی طرح لہروں میں بہا لے جائے گا
    تو ہے بازار غلامی ہم تجھ کو نہ دیں گے سلامی
    بھارت ہم ہونے نہ دیں گے آزادی کی نیلامی
    کشمیر ہے امت مسلم کاکشمیر نہ بکنے پائے گا
    (شاعر: سلیم ناز بریلوی)​
     
    Last edited: ‏اکتوبر، 27, 2018
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    مقبوضہ کشمیر میں زندگی کا تجربہ کیسا ہے؟ کچھ کشمیری خواتین کی رائے
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں