بٹائی، بھرنا اور من گھپ سے متعلق سوال

مقبول احمد سلفی نے 'آپ کے سوال / ہمارے جواب' میں ‏دسمبر 12, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    800
    ہمارے علاقہ میں زمین سے متعلق چند معاملات ہیں ، ان میں آپ کی رہنمائی درکار ہے ۔ ایک مسئلہ بٹائی کا ہے یعنی ایک شخص زمین دے اور دوسرا کھیتی کرے۔ دوسرا مسئلہ بھرنا کا ہے اس کی شکل یہ ہے کہ قرض حاصل کرنے کے لئے زمین گروی رکھی جاتی ہے اورجب تک قرض نہیں لوٹایا جاتا تب تک مرتہن زمین سے فائدہ اٹھاتا ہے ۔ تیسرا معاملہ "من کھپ" کاہے یعنی زمین والا دوسرے شخص کو اس شرط پہ کھیتی کے لئے زمین دے کہ فی کٹھہ (720 یا 1361 اسکوائرفٹ)ایک من اناج دے گا۔
    سائل: حافظ عبدالقادر وحیدی سلفی

    الجواب بعون اللہ الوھاب
    الحمدللہ:
    پہلا معاملہ زمین بٹائی پر دینے کا تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے ، نبیﷺ نے خیبر کی زمین بٹائی پہ لگائی تھی ، اس کی پیداوار کا آدھا حصہ مسلمانوں کو ملتا تھا۔ بٹائی میں لگانی اور پیداوار کا معاملہ طے ہونا چاہئے یعنی کاشت کاری پہ ہونے والے اخراجات کا معاملہ طے اور واضح ہو،نفع میں دونوں طے شدہ مقدار میں شریک ہوں گے اور نقصان کی صورت میں بھی دونوں شریک ہوں گے۔

    دوسرا معاملہ شرعا جائز نہیں ہے ۔جب کوئی قرض حاصل کرے اور قرض کے بدلے کوئی چیز بطور ضمانت گروی رکھ دے ، اس حد تک معاملہ جائز ہے مگر جو چیز بطور ضمانت رہن رکھی گئی ہے اس سے فائدہ اٹھانا جائز نہیں ہے جبکہ یہاں بھرنا میں زمین سے فائدہ اٹھا یا جارہاہے،اگرچہ قرض دار کی طرف سےزمین سے فائدہ اٹھانے کی اجازت ہو پھر بھی جائز نہیں ہے کیونکہ قرض کی مہلت کے بدلے یہاں فائدہ اٹھایا جارہا ہے جو کہ سود کی شکل ہے۔ اس گروی رکھی زمین سے فائدہ اٹھانے کی جائز شکل موجود ہے کیوں نہ ہم جائز طریقے سے فائدہ اٹھائیں ۔ قرض لینے والا مرتہن سےمزارعت (بٹائی) کا معاملہ طے کرلے اور اس کی پیداوار سے اپنا حصہ لیا کرے یا اپنا حصہ چھوڑ کر اتنا قرض میں کم کروالے۔ اسی طرح زمین کرائے پر بھی دے سکتے ہیں جس طرح مکان یا تجارتی زمین کرائے پر لگائی جاتی ہے۔ ان دو صورتوںمیں قرض دار اور قرض خواہ دونوں جائز طریقے سے فائدہ اٹھاسکتے ہیں ۔

    تیسرا معاملہ مشروط طریقے سے زمین بٹائی پر دینے کا ، اس میں شرعی طور پرقباحت ہے ۔ جب زمین والا فی کٹھہ ایک من اناج طے کرلیتا ہے تو نقصان کی صورت میں صرف عامل کو خسارہ ہوگا ۔ ایسا بھی ممکن ہے کہ آسمانی آفات کی وجہ سے مکمل فصل برباد ہوجائے ایسی صورت میں عامل کا اپنا جو نقصان ہوا ، ہوا ہی، زمیندار کو فی کٹھہ اناج اپنے گھر سے دینا پڑے گا۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے کہ نہ کسی کو نقصان پہنچاؤ اور نہ ہی خود نقصان اٹھاؤ۔

    واللہ اعلم بالصواب
    کتبہ
    مقبول احمدسلفی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,398
    جزاک اللہ خیرا شیخ!
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں