کچھ نمازی ایسے بھی

ساجد تاج نے 'مثالی معاشرہ' میں ‏فروری 4, 2019 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,756
    کچھ نمازی ایسے بھی


    لاہور کے اک ایریا کیولری گرائونڈ میں موجود خالد مسجد میں اکثر اوقات نماز پڑھنے کا اتفاق ہوتا ہے جہاں دو تین ایسے نمازی دیکھے جنہیں دیکھ کر دل بہت خوش ہوتا تھا میرا۔ایک شخص ویل چیئر پر مسجد میںنماز پڑھنے آتا تھا جو اپنی ٹانگوں سے معذور تھا۔ مسجد کے باہر موجود پارکنگ میں وہ اپنی ویل چیئر رکھتا اور ایک شخص اسے اپنے بازئوں میں اٹھا کر مسجد کے اندر لے کر آتا تھا ۔ ایک دن میرا پھر سے اسی مسجد میں نماز پڑھنے کا اتفاق ہوا تو میں نے دیکھا کہ وہ شخص آیا لیکن اس بار کوئی دوسرا شخص اس کے ساتھ نہ تھا وہ اپنی ویل چیئر سے نیچے اترا اور زمین پر بازئوں کی مدد سے خود کو گھسیٹتے ہوئے مسجد کے اندر داخل ہو رہا تھا۔وضو خانے میں گیا وضو کیا اور اپنی نماز کو ادا کیا۔ نماز ادا کرنے کے بعد وہ پہلے کی طرح خود کو گھسیٹتے ہوئے مسجد کےباہر لاتا اور ویل چیئر پر بیٹھ جاتا۔مجھے حیران کر دینے والی بات یہ تھی کہ اس میں اپنا کمائی کا ذریعہ اسی ویل چیئر پر کر رکھا تھا جس پر بیٹھ کر وہ مسجد میں آتا جاتا تھا۔ اس ویل چیئر پر اس نے بچوں کے لیے غبارے، کھلونے اور کچھ دوسرا چھوٹا موٹا سامان بیچنے کے لیے رکھا ہوا تھا۔ دوسری بات جو میں اس میں دیکھی اور جو میرا حوصلہ بلند کرتی اور مجھے سبحان اللہ ماشاءاللہ کہنے پر مجبور کرتی وہ یہ تھی کہ میں نے اس کے چہرے پر ہمیشہ مسکراہٹ اور اطمینان ہی دیکھا۔
    ٔمیں نےایک ایسے نمازی کو بھی دیکھا جو ایک ہاتھ سے معذور تھا لیکن وہ باقاعدگی سے نماز پڑھنے مسجد جایا کرتا تھا۔
    میں نے ایسے نمازی کو بھی دیکھا جو اذان سنتے ہی اپنے کاروبار کو بند کر دیتا اور نماز کے لیے مسجد روانہ ہو جاتا تھا۔
    میں نے ایسے نمازیوں کو بھی دیکھا جو اذان کے وقت اپنی زبان پر ایسی چپ لگا لیتے ہیں کہ جیسے وہ کبھی بولے ہی نہ ہوں۔
    میں نے ایسے نمازیوں کو بھی دیکھا جو سفر کے دوران گاڑی روک کرسڑک کنارے اپنی نماز ادا کر لیتے ہیں۔
    سچ کہوں تو ایسے نمازی بہت کم دیکھنے کو ملتے ہیں جو نماز کو مجبوری یا عادت سمجھ کر نہیں بلکہ اللہ تعالی کا حکم سمجھ کر ادا کرتے ہیں۔ایسے نمازیوں کے چہروں پر عجب سا نور ہوتا ہے اور وہ بہت مطمئن اور سکون میں نظر آتے ہیں۔اب تو لوگ اذان سنتے ہیں تو انہیں بہت سے ضروری کام آجاتے ہیں۔ فلموں ڈراموں میں اتنے مگن ہو جاتے ہیںکہ کونسی نماز کا وقت گزر گیا انہیں پتہ نہیں چلتا۔کوئی کسی کو نماز کے لیے بول بھی دے تو ٹال مٹول کر دیتے ہیں یا مذاق بنانے لگ جاتے ہیں کہ یار ہم نے اکٹھی پڑھ لیں یا ہماری نمازیں پڑھی گئی ہیں۔کیسی عجیب بات ہے نا کہ چوبیس گھنٹےشیطانی کاموں میں گزارنے ہوں تو ہم ہنسی خوشی گزار دیں گے لیکن ان چوبیس گھنٹوں میں اپنے اللہ دیں گے لیکن ان چوبیس گھنٹوں میں اپنے اللہ کے لیے ہم آدھا گھنٹہ نکال کر اپنی نمازیں نہیں پڑھ سکتے۔فجر کی نماز ہماری نیند ہم سے چھین لیتی ہے، ظہر کام کی مصروفیت میں رہ جاتی ہے، عصر سستی میں رہ جاتی ہے ، مغرب سفر میں گزر جاتی ہے اور عشاء تھکاوٹ کی وجہ سے پڑھ نہیں پاتے۔ نماز نہ پڑھنے کے ہزاروں بہانے ہمارے پاس موجود ہوتے ہیں لیکن یادرکھ اللہ سب دیکھ رہا وہ تیرے ظاہر اور باطن کو بخوبی جانتا ہے۔ کسی دانشور نے کیا خوب کہا ہے کہ نماز پڑھ اس سے پہلے کہ تیری نماز پڑھی جائے۔

    حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بَيْنَ الْعَبْدِ وَبَيْنَ الْكُفْرِ تَرْكُ الصَّلَاةِ ". سنن ابن ماجہ:حدیث نمبر: 1078
    جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بندہ اور کفر کے درمیان حد فاصل نماز کا چھوڑنا ہے“

    حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَالِسِيُّ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْعَهْدُ الَّذِي بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمُ الصَّلَاةُ، فَمَنْ تَرَكَهَا فَقَدْ كَفَرَ ".سنن ابن حدیث نمبر: 1079لَّذِي بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمُ الصَّلَاةُ، فَمَنْ تَرَكَهَا فَقَدْ كَفَرَ ".سنن ابن حدیث نمبر: 1079
    بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمارے اور منافقوں کے درمیان نماز معاہدہ ہے ۱؎، جس نے نماز ترک کر دی اس نے کفر کیا“۔

    حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَيْسَ بَيْنَ الْعَبْدِ وَالشِّرْكِ إِلَّا تَرْكُ الصَّلَاةِ، فَإِذَا تَرَكَهَا فَقَدْ أَشْرَكَ ". سنن ابن ماجہ حدیث نمبر: 1080
    انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بندے اور شرک کے درمیان نماز چھوڑنے کا فرق ہے، جب اس نے نماز چھوڑ دی تو شرک کیا“ ۱؎۔
    وضاحت: ۱؎: مشرک اور کافر دونوں کا حکم ایک ہے، دونوں جہنم میں ہمیشہ رہیں گے، معاذ اللہ! اتنی صاف حدیثوں کو دیکھ کر بھی کوئی نماز ترک کر دے تو اس سے زیادہ بدبخت و بدنصیب کون ہو گا کہ مشرک اور کافر ہو گیا، اور دین محمدی سے نکل گیا، «أعاذنا الله» !
    قال الشيخ الا لبانی: صحيح
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں