آخر 'ابن تیمیہ' نے کایا پلٹ دی۔۔۔!

ابوعکاشہ نے 'سیرتِ سلف الصالحین' میں ‏مئی 6, 2020 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,860
    آخر 'ابن تیمیہ' نے کایا پلٹ دی۔۔۔!

    گذشتہ روز سوشل میڈیا پر شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے دفاع میں ایک مضمون نظر سے گزرا۔ تحریر کے مندرجات لکھنے والے کے گہرے مطالعے اور تحقیقی صلاحیتوں کے آئینہ دار تھے، لیکن مقالہ نگار کا نام ہمارے لیے بالکل اجنبی اور نامانوس تھا۔ دل میں خیال آیا کہ ان سے تعارف حاصل کیا جائے اور پتا چلے کہ یہ صاحبِ نظر شخصیت کون ہے اور کہاں اقامت پذیر ہے۔ چنانچہ رابطہ کرنے پہ انھوں نے بتایا کہ میرا نام حسن محمود( Hassan Mehmood )ہے اور راولپنڈی کا رہنے والا ہوں۔
    مزید پوچھنے پر بتانے لگے کہ بچپن سے مطالعہ کی عادت ہے۔ کالج کے بعد جامعہ شرعیہ راول پنڈی سے ثانویہ عامہ پاس کیا، پھر مزید تعلیم ممکن نہ رہی تو ایک جگہ جاب شروع کر دی۔ بنیادی طور پہ فقہ حنفی کا طالب علم ہوں اور علمائے دیوبند سے محبت کا تعلق رکھتا ہوں۔ ابتدائی طور پہ انہی کی توالیف کا مطالعہ کیا۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ کی کتب سے تعارف بعض فلسفیانہ نکات کے رد میں ہوا تو ان کی تحریروں سے متاثر ہوا۔ پھر جب "العقیدۃ الواسطیۃ" اور "فتوی الحمویہ" کا مطالعہ کیا تو عقائد میں سلف کا مذہب سمجھ میں آیا اور بفضلہ تعالی دل و جان سے اسے قبول کر لیا۔
    جناب حسن صاحب اپنی حالیہ مطالعاتی دلچسپی کا محور بتاتے ہوئے کہنے لگے کہ "پھر مجموع الفتاوی کا مطالعہ شروع کیا جس کی قریب سولہ جلدیں پڑھ چکا ہوں۔ اس کے علاوہ ابن تیمیہ کے قرآن سے استشہادات سے متاثر ہوکر حفظِ قرآن کی طرف متوجہ ہوا اور بحمد اللہ اب تک تین پارے حفظ کر چکا ہوں۔ اس کے ساتھ ہی کتبِ احادیث کا مطالعہ شروع کیا ہے جس میں صحیح البخاری ختم ہونے کے قریب ہے۔۔۔۔جوں جوں محترم حسن صاحب اپنے فکری انقلاب اور علمی توجہات کی داستان سنا رہے تھے، ایک طرف اگر اپنے بھائی کی منہجِ سلف سے وابستگی پر خوشی محسوس ہو رہی تھی اور دل سے ان کے لیے اللہ رب العزت سے توفیق مزید کی دعائیں نکل رہی تھیں، وہیں دوسری طرف اپنے عہد کے مجدد اور امت کے عبقری عالم امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے علوم ومعارف کی اہمیت بھی کھل کر سامنے آ رہی تھی کہ ہر دور میں کتنے ہی گم گشتگانِ راہ حق کو ان کی بدولت صحیح عقائد سے شناسائی حاصل ہوئی.
    قارئین اپنے اس بھائی کے واقعہ نے ایسے ہی ایک نامور مصری عالم ومحقق کے ذہنی انقلاب کی یاد تازہ کر دی جو بہت دلچسپ اور سبق آموز ہے۔ ملاحظہ کیجیے!

    شیخ محمد خلیل ھرّاس رحمہ اللہ مصر کے نامور عالم اور جامعہ ازھر میں عقیدہ ومنہج کے استاد تھے۔ 1916ء میں مصر میں پیدا ہوئے اور اپنا سارا تعلیمی دورانیہ جامعہ ازھر ہی میں گزارا۔
    شیخ ھراس رحمہ اللہ منطق وفلسفہ میں بڑی مہارت رکھتے اور اس فن کی باریکیوں سے خوب آگاہ تھے۔ جامعہ ازھر میں جب آپ پی ایچ ڈی کا تھیسیس لکھنے کے لیے موضوع کی تلاش میں تھے تو کسی دوست نے مشورہ دیا: 'آپ ابن تیمیہ پر ناقدانہ رسالہ لکھیں'۔ شیخ خلیل خود بھی امام ابن تیمیہ سے بڑی نفرت کرتے اور ان کے مخالف ہی تھے، جس کی ایک وجہ تو جامعہ ازھر کا اشعری ماحول اور دوسری وجہ امام ابن تیمیہ کا منطق وفلسفہ پر بڑی سخت تنقیدیں تھیں۔
    چنانچہ شیخ خلیل نے عزم مصمم کر لیا کہ وہ مرحلہ دکتوراہ کے لیے ابن تیمیہ ہی کو موضوعِ بحث بنائیں گے اور اپنی کتاب میں ان کی علمی اغلاط کو اجاگر کریں گے۔ لیکن آپ کے پاس امام ابن تیمیہ کی تصنیف کردہ اصل کتب موجود تھیں نہ آپ نے کبھی ان کا براہ راست مطالعہ ہی کیا تھا، کیونکہ ابھی تک آپ نے امام کے مخالفین ہی کی کتب سے ان کے بارے میں تھوڑا بہت پڑھ رکھا تھا. اس لیے پہلے تو آپ نےامام ابن تیمیہ کی تمام ممکن الحصول کتب جمع کیں اور پھر بڑے انہماک سے ان کا مطالعہ کرنے لگے۔ تین ماہ تک شیخ ھراس سارے کام چھوڑ چھاڑ کر پوری توجہ سے امام صاحب کی تصانیف کا تنقیدی مطالعہ کرنے میں مگن رہے، تاکہ اپنے تھیسیس کی تکمیل کے لیے ضروری مواد جمع کر سکیں۔ چونکہ آپ کا بنیادی مقصد یہی تھا کہ امام ابن تیمیہ کی علمی کمزوریاں، عقدی نقائص اور منہجی اخطا احاطہ تحریر میں لائیں، اس لیے آپ نے بڑی دقت نظری اور ژرف نگاہی سے ان کتابوں کو پڑھا۔
    لیکن کرنا خدا کا یہ ہوا کہ جوں جوں آپ ان کو بہ غور پڑھتے جا رہے تھے توں توں آپ پر اپنے موروثی عقیدے کی کمزوریاں اور کتاب وسنت سے ان کا ٹکراو عیاں ہوتا جا رہا تھا۔ کیونکہ پہلے تو صرف مخالفین ہی کی زبانی امام موصوف کے بارے میں کچھ پڑھ سن کر اپنے دل میں ان کے لیے بغض پال رکھا تھا، لیکن جب پہلی دفعہ امام کے علوم ومعارف کا براہ راست مطالعہ کرنے کا موقع ملا تو آپ پر واضح ہوا کہ مخالفین نے کس قدر بے انصافی سے کام لیتے ہوئے آپ کے بارے میں بھد اڑا رکھی ہے اور کئی غلط سلط باتیں ان کی طرف منسوب کر دی ہیں۔ پہلے آپ عمر بھر یہی سنتے رہے تھے کہ ابن تیمیہ کسی نئے مذہب کا موجد اور بدعی نظریات کا حامی ایک متشدد عالم ہے، لیکن جب براہ راست ان کو پرکھنے کا موقع ملا تو یہ حقیقت کھلی کہ وہ تو ہر موقف کے لیے کلی اعتماد قران وسنت پر کرتے ہیں اور اس کی تشریح وتفہیم میں صحابہ وتابعین کے فہم وتعبیر سے سر مو انحراف نہیں کرتے۔ جب شیخ خلیل کو امام کے یہاں ہر ہر مسئلے میں قرآنی آیات سے بہ کثرت استشہاد، احادیث نبویہ سے بھرپور استدلال اور ان کی توضیح میں صحابہ وتابعین کے اقوال پر کلی اعتماد نظر آیا، اور ساتھ ہی مخالف نظریات کا عقل ونقل ہر دو اعتبار سے سقم اور بودہ پن کھل کر سامنے آ گیا تو آپ کے دل ودماغ میں یہ خیال انگڑائیاں لینے لگا کہ مجھے تو اس قدر طلب وتحصیل کے باوجود اب جا کر ٹھیٹھ اسلامی عقائد سے آگہی ہوئی ہے اور پہلی بار دینی افکار کا روشن چہرہ نکھر کر سامنے آیا ہے۔
    شیخ خلیل کے شاگرد علامہ محمد امان جامی آپ کی زبانی نقل کرتے ہیں کہ آپ نے ہمیں بتایا: "زندگی میں پہلی بار ان کتب کے گہرے مطالعے کے بعد ہی مجھے اسلامی تعلیمات کا صحیح فہم اور کامل ادراک نصیب ہوا۔" حالانکہ اس سے پہلے آپ ضروری تعلیم مکمل کر چکے اور بڑے نامور اساتذہ سے مختلف علوم وفنون بھی سیکھ آئے تھے۔
    ( ممکن ہے کسی کی نازک طبع پر یہ الفاظ گراں گزریں تو عرض ہے کہ میں صرف ناقل ہوں، اور اگر پھر بھی یہ بات ہضم نہ ہو تو وہ امام عالی مقام کی کتب براہ راست پڑھ کر آزما سکتا ہے)۔
    واضح رہے کہ یہ اکیلے شیخ ھراس ہی کے احساسات نہیں ہیں، بلکہ برصغیر کے معروف عالم ومصنف مولانا ابو الحسن ندوی مرحوم نے بھی لکھا ہے کہ مصر کے ایک معروف محقق علامہ بہجت بیطار نے مجھے بتایا: ایک مرتبہ جامعہ ازھر کے بعض علماء نے میرے سامنے ان خیالات کا اظہار کیا تھا کہ جب ہم نے ازھر میں مروجہ نصاب کے مطابق توحید سے متعلق بعض کتب پڑھیں تو ہمارے دل ودماغ میں اسلام سے متعلق بڑے شکوک وشبہات ابھر آئے، حتی کہ قریب تھا ہم دائرہ اسلام ہی سے باہر نکل جاتے، لیکن پھر اللہ کی توفیق سے ہمیں شیخ الاسلام ابن تیمیہ کی کتب میسر آئیں اور ہم نے ان کا مطالعہ کیا تو ہمارے دلوں میں از سر نو ایمان کی محبت پیدا ہوئی اور ہم راہ راست پہ آ گئے۔ ( مذکرات سائح فی الشرق العربی، ص: 231)

    قصہ مختصر۔۔۔ جب شیخ ھراس مرحوم امام ابن تیمیہ کی مولفات کے مطالعہ سے فارغ ہوئے تو ان کا ذہن یکسر بدل چکا تھا اور اب نہاں خانہ دل میں نفرت کی جگہ نئی محبت لے چکی تھی۔ پھر بھی آپ نے مقالے کا موضوع تو یہی رکھا، لیکن اس کا زاویہ تحریر بدل لیا۔ پہلے تو صرف ان کے نقائص اور عیوب جمع کرنے کا ارادہ تھا، اب اسی مقالے میں امام ابن تیمیہ کی عبقری شخصیت، علمی عظمت، روشن تجدیدی کارنامے اور گلشنِ سلف کی بے مثال آبیاری کو اجاگر کرنے کا تہیا کر لیا اور "ابن تیمیة السلفی" کے نام سے اپنا مقالہ لکھ کر ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ پھر آپ نے ارضِ مصر میں اس عبقری عالم کی تعلیمات اور افکار و نظریات کے تعارف اور مخالفین کی اڑائی ہوئی گرد کا صفایا کرنے کے لیے یکے بعد دیگرے امام ابن تیمیہ سے متعلق تین اور کتب: الصفات الإلهية عند ابن تيمية"، "ابن تيمية ونقده لمسالك المتكلمين في مسائل الإلهيات" اور " شرح العقيدة الواسطية" تصنیف کیں۔ علاوہ ازیں آپ نے امام ابن قیم کی کتاب "القصيدة النونية" کی شرح بھی لکھی۔
    آخر کار ساری عمر توحید کی تعلیم دینے والے اس عالم ربانی کی موت بھی دعوت توحید دیتے ہوئے ہوئی اور وہ یوں کہ آپ ایک جگہ " التوحید وأهمية العودة إليه" (توحید کا تعارف اور اس کو اپنانے کی اہمیت) کے عنوان پر خطاب فرما کر فارغ ہی ہوئے تھے کہ آپ کی روح قفسِ عنصری سے پرواز کر گئی اور راہی ملک بقا ہو گئے۔ آپ نے ستمبر 1975ء میں ساٹھ سال کی عمر میں وفات پائی۔

    آخر میں ،موضوع کی مناسبت سے، شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے افکار وآرا کا مطالعہ کرنے والے حضرات بالخصوص ان کے ناقدین کی خدمت میں ایک گزارش ہے جو تیمیات کے بہت بڑے محقق اور ان کے علوم ومعارف میں متخصص شیخ محمد عزیر شمس حفظہ اللہ نے اپنے ایک محاضرے میں ذکر کی کہ امام ابن تیمیہ کے علمی مواقف اور تحقیقی آرا کو جاننے کے لیے ضروری ہے کہ آپ، ثانوی مصادر پر اعتماد کرنے کے بجائے، پہلے ان کی اپنی تالیف کردہ کتب ورسائل سے انھیں بہ غور پڑھیں، اور چونکہ امام کی یہ عادت ہے کہ وہ ایک ہی موضوع پر اپنی تصانیف میں متعدد مقامات پر لکھتے چلے جاتے ہیں، کہیں مجمل، کہیں مفصل، کہیں ایک پہلو سے اور کہیں اسے پوری طرح جمیع جوانب سے مکمل دلائل کے ساتھ زیر بحث لاتے ہیں، اس لیے آپ ان کا موقف کسی ایک کتاب سے پڑھ کر یہ دعوی کرنا نہ شروع کر دیں کہ آپ امام کے موقف کو اچھی طرح سمجھ گئے ہیں بلکہ ان کے تمام لٹریچر میں منتشر ایک ہی موضوع سے متعلق متفرق مادہ علمیہ پر مکمل نظر ڈالیں، تب آپ پر عیاں ہو گا کہ اس مسئلے سے متعلق امام کی صحیح رائے، دلائل اور استدلال کی نوعیت کیا ہے، اور اسی طریق سے آپ کو معلوم ہو گا کہ اس موضوع پر امام ابن تیمیہ نے کیا نئی تحقیق پیش کی ہے جو ان کو دیگر مصنفین سے ممتاز کرتی اور ان کی عبقریت کو اجاگر کرتی ہے۔ جب ہم بایں طور ان کی کتب پر نظر ڈالیں گے تو اس کا ایک اور فائدہ یہ ہو گا کہ اگر ان کی بعض کتب میں کسی جگہ طباعتی اغلاط نے ایک بات کا مفہوم بگاڑ دیا ہے، تو دوسری جگہ دیکھنے سے ہم اس غلط فہمی کا شکار ہونے سے بچ پائیں گے، اور یہ صرف ایک خیال ہی نہیں بلکہ حقیقت میں بھی ایسا ہوا ہے اور کئی الفاظ کی تصحیفات نے امام کی طرف وہ موقف بھی منسوب کر دیا جس سے وہ بری ہیں اور انہی کی دیگر تحریرات سے وہ غلط فہمی دور ہو جاتی ہے۔
    اللہ تعالی ہمیں کتاب وسنت کی روشن پگڈنڈی سے وابستہ رکھے اور ہر جگہ عدل وانصاف برتنے کی توفیق ارزاں کرے۔ آمین یا رب العالمین.

    بشکریہ. (حافظ شاھد رفیق)
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں