ارطغرل کی شخصیت حقیقت یا افسانوی

ابوعکاشہ نے 'ذرائع ابلاغ' میں ‏مئی 10, 2020 کو نیا موضوع شروع کیا

Tags:
  1. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,861
    پاکستان کے پی ٹی وی ہوم چینل پر ایک ترکی تاریخی ڈرامہ سیریل ارطغرل دکھائی جارہی ہے. ذیل میں بردار ابو ہشام ضیاء نے اس کی کچھ تفصیل ذکر کی. افادہ عام کی خاطر اسے یہاں شیئر کیا جا رہا ہے.. ڈرامہ اسلامی ہو یا غیر اسلامی رمضان مبارک جیسے مہینے میں دیکھنا یا دکھانا کوئی ثواب کا کام نہیں. اسلام کا ڈراموں، فکشن، جیسی تفریح سے کوئی تعلق نہیں
    .....
    مقدمہ میں مولف نے ذكر كيا کہ ارطغرل كى شخصيت كے متعلق بہت پوچھا جاتا ہے کہ كيا اس كا حقيقى وجود ہے۔ غور كرنے پر معلوم ہوتا ہے کہ بعض نے ايسى چيزوں کا اضافہ کيا جن كى كوئى حقيقت نہیں ہے اور بعض نے انصاف كيا اور يہ كہ ارطغرل كى شخصيت كا حقيقى وجود ہے۔

    شروع میں مولف نے ارطغرل اور اس كے قبيلہ سے متعلق ذكر كيا.

    اس كے بعد عثمان بن ارطغرل اور بعض ديگر عثمانى سلاطين كا ذكر كيا.

    عثمانى سلطنت كے عظيم كارنامے ذكر كيے اور اس متعلق يورپی مورخين كى شہادتيں بهى ذكر كى ہیں۔

    كتاب میں خاص تحقيق نہیں ہے اور مولف نے معاصر مصادر پر اعتماد كيا جيسے يلماز اوزتونا، محمود شاكر، على الصلابى.

    اس كتاب ميں بعض تاريخى امور سے اختلاف كيا جاسكتا ہے مگر اس ميں ان خرافات كا ذكر نہیں ہے جو تركى ڈرامے میں ہیں۔

    مثلا اگر اس كو زير بحث نہ بهى لائيں کہ شيخ ابن عربى كا عقيده كيا تها مگر كيا ان كى ملاقات ارطغرل سے ثابت ہے؟
    ڈرامے میں شيخ ابن عربى كے روحانى اثر كو بار بار دكهايا گیا ہے جس كى كوئى حقيقت نہیں ہے اور شيخ ابن عربى اور ارطغرل ملاقات ثابت نہیں۔ شيخ ابن عربى اور ارطغرل كى عمر ميں دس سال كا فرق ہے جب كہ ڈرامے میں وه ايک بڑی عمر كے بزرگ کے روپ میں ہیں۔

    اسى طرح حلب كے قاضى كو رشوت لينے والا دكهايا گیا ہے جب وه بهاء الدين بن شداد تهے جن كى عظمت كے مورخين معترف ہیں۔ بعض ان كو اس زمانے کا قاضى ابو يوسف كہتے ہیں۔ وه صلاح الدين كے ساتهى تهے اور اس متعلق ايک کتاب " النوادر السلطانية والمحاسن اليوسفية " بهى لكهى.

    يہ دكهايا گیا کہ ارطغرل نے بايجو نويان كو قتل كيا اور يہ درست نہیں جبكہ وه 656 ميں ہلاكو خان كى فوج كا حصہ تها اور يہ ڈرامے میں واقعے کے بعد كى بات ہے۔

    یہ تو چند امور ہیں۔ جيسا كہ پہلے ذكر كرچکا ہوں کہ بعض مورخين نے ذكر كيا كہ اس ڈرامے میں تاريخى حقائق صرف 5% ہیں۔

    بعض ساتهى اس بحث ميں جذباتى ہوجاتے ہیں اور سعوديہ اور تركيا كے مابين اختلاف يا اخوانى اور سلفيوں کے مابين اختلاف كى نظر سے ديكهتے ہیں جو كہ درست رويہ نہیں ہے۔ ہم صرف تاريخى حقائق كى بات كررہے ہیں۔

    تركيا جس ميں كافى عرصہ لادينيت کا رجحان رہا اس میں اس طرح كا ڈرامہ مثبت ہے جس سے ان كو ماضى كى ياد دلائى جائے۔
     
    • متفق متفق x 1
  2. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,861
    اگر ایک ارطغرل کا سیریل دیکھ کر ترکوں سے محبت ہو جاتی ہے ، اور اس کی بنا پر آپ اسلام سے قریب ہوتے ہیں، اس کے برعکس رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے لے کر اب تک بے شمار عرب کمانڈر کے واقعات پڑھنے، اور سننے کے باوجود آپ کو عرب سے نفرت ہوتی ہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی جانفشانی کے واقعات سننے کے باوجود آپ کو صحابہ کرام سے محبت نہیں ہوتی ہے، تو اس کا مطلب ہے کہ آپ مریض القلب ہیں، اور آپ کا دل بیمار ہے، آپکو اپنے ایمان پر غور وفکر کرنے کی ضرورت ہے۔
    منقول.
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں