طاغوت کی تعریف

اسرار حسین الوھابی نے 'اتباعِ قرآن و سنت' میں ‏اکتوبر، 10, 2020 کو نیا موضوع شروع کیا

Tags:
  1. اسرار حسین الوھابی

    اسرار حسین الوھابی رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مئی 18, 2020
    پیغامات:
    35
    طاغوت کی تعریف

    بقلم : عبدالرحمٰن بن عبدالحمید الامین حفظہ اﷲ
    مترجم : ابوعلی السلفی المہاجر حفظہ اللہ (الکراتشی)

    بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

    میرے نزدیک طاغوت کی جامع تعریف وہ ہے جو ’’ابن قیم الجوزی رحمہ اللہ‘‘ نے اپنی کتاب ’’اعلام الموقعین عن رب العالمین‘‘(۵۰/۱) مطبوعہ دارالجیل میں کی ہے۔کہتے ہیں:

    ’’طاغوت سے ہر وہ معبود (جس کی عبادت کی جاتی ہو) متبوع (جس کی اتباع کی جاتی ہو) مطاع (جس کی بات مانی جاتی ہو) مراد ہے جسے بندہ اس کی اصل حیثیت سے زیادہ درجہ دے پس ہر قوم کا طاغوت وہ شخص ہوا کہ اللہ اور اس کے رسول کو چھوڑ کر لوگ اس کے پاس فیصلے کروانے کے لئے جاتے ہوں، یا اللہ کے سوا اس کی عبادت کرتے ہوں، یا اللہ کی طرف سے عطاء کردہ کسی بصیرت (دلیل، رہنمائی، حکم) کے بغیر ہی اس کی اتباع کرتے ہوں، یا اس کی بات مانتے ہوں اور نہ جانتے ہوں کہ اس طرح تو اللہ کی بات ماننی چاہیے یہ سب دنیا جہاں کے طواغیت (جمع طاغوت) ہیں ان کے بارے میں اور ان کے ساتھ لوگوں کے تعلقات و معاملات کے بارے میں غور وفکر کرنے پر آپ جان لیں گے کہ یہ لوگ اللہ کی عبادت سے ہٹ کر طاغوت کی عبادت میں لگ چکے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کی طرف تحاکم (فیصلے کے لئے جانا) کے بجائے طاغوت کی طرف تحاکم (فیصلے کے لئے جانا) کرتے ہیں اور اللہ کی بات ماننے اور اس کے رسول کے نقش قدم پر چلنے کے بجائے طاغوت کی بات ماننے اور اس کے نقش قدم پر چلتے ہیں۔

    امام جوہری رحمہ اللہ طاغوت کی تعریف میں فرماتے ہیں:

    ’’طاغوت سے کاہن (غیب کی خبر دینے کا دعویٰ کرنے والا) شیطان اور گمراہی کا ہر سردار مراد ہے، یہ ایک بھی ہو سکتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

    ”یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّتَحَاکَمُوْآ اِلَی الطَّاغُوْتِ وَ قَدْ اُمِرُوْآ اَنْ یَّکْفُرُوْا بِہٖ۔“

    ’’وہ طاغوت کے پاس فیصلہ کروانے کے لئے جانا چاہتے ہیں حالانکہ انہیں حکم دیا گیا ہے کہ اس کے ساتھ کفر کریں۔‘‘

    [سورۃ النساء، آیت:٦۰]

    اور ایک سے زیادہ بھی ہو سکتے ہیں جیسا کہ فرمایا:

    ”اَوْلِیٰٓؤُھُمُ الطَّاغُوْتُ۔“

    [سورۃ البقرہ، آیت:۲۷۵]

    ’’ان کے اولیاء (جمع ولی یعنی دوست یا مددگار) طاغوت ہیں۔‘‘

    اور طاغوت کی جمع طواغیت آتی ہے۔

    [الجامع لاحکام القرآن از امام قرطبی رحمہ اﷲ:۱۸۳/۳ مطبوع دارالکتب العلمیة]

    نیز امیر المومنین ’’عمر بن خطاب‘‘ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

    ”ان الجبت السحر والطاغوت الشیطان“

    ’’جبت سے مراد جادو اور طاغوت سے مراد شیطان ہے۔‘‘

    [تفسیر ابن کثیر ۴۱۸/۱ طبع دارالسلام ریاض]

    نیز عمر رضی اللہ عنہ کا یہ قول اللہ تعالیٰ کے فرمان ”یُؤْمِنُوْنَ بِالْجِبْتِ وَ الطَّاغُوْتِ“ ’’وہ جبت اور طاغوت پر ایمان لاتے ہیں۔‘‘ کی تفسیر ہے۔ اس قول کو نقل کرنے کے بعد امام ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں :’’طاغوت سے شیطان مراد لینے کا معنی ہے کہ یہ شیطان انتہائی قوی ہے لہٰذا اس سے دور جاہلیت کی ہر برائی مراد ہے مثلاً بتوں کی عبادت، ان سے فیصلے کروانا، ان سے مدد مانگنا۔
    (ازمترجم)

    نیز ’’شیخ عبدالرحمن بن حسن‘‘ آل شیخ کی شرح ’’فتح المجید شرح کتاب التوحید‘‘ صفحہ ۱۹ طبع دار الندوۃ الجدیدۃ میں ہے کہ جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا :

    ’’طاغوت سے مراد وہ کہّان (جمع کاہن) ہیں جن پر شیطان اترتے ہیں۔‘‘ ان دونوں اقوال کو ابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے روایت کیا ہے اور فرمایا کہ طاغوت سے مراد ہر وہ شئے ہے جس کی اللہ کے سوا عبادت کی جائے۔

    میں کہتا ہوں: کہ دراصل طاغوت سے شیطان مراد ہے جیسا کہ امیرالمومنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا اور گمراہی کے سارے امام اس کی شاخیں ہیں مثلاً کاہن، جادوگر، اللہ کے نازل کردہ قانون کے بغیر فیصلے کرنے والے، اور اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے بغیر ان کے پاس فیصلے کے لئے آنے والے لوگ، جن کی اللہ کے سوا عبادت کی جاتی ہو، یا اللہ کی طرف سے کسی دلیل کے بغیر اس کی اتباع کی جاتی ہو، یا اللہ کی نافرمانی میں اس کی اطاعت کی جاتی ہو۔ کیونکہ ’’طاغوت‘‘ طغیان (سرکشی) سے نکلا ہے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ طاغوت کی لغوی اصل طغیان ہے اور یہ اشتقاق کے بغیر ہی طغیان کا معنی دیتا ہے اور طغیان سے سرکشی (حد سے بڑھ جانا) مراد ہے لہٰذا ہر وہ معبود، متبوع یا مطاع جسے بندہ اس کی حقیقت سے زیادہ درجہ دے وہ حقیقی طاغوت ہے۔

    اور اللہ تعالیٰ نے طاغوت کے ساتھ کفر کرنے اور اس کا انکار کرنے کا حکم دیا ہے اور اس کفر و انکار کو ایمان اور توحید کے صحیح ہونے کی شرط قرار دیا ہے جیسا کہ فرمایا:

    فَمَنْ یَّکْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ وَ یُؤْمِنْم بِاﷲِ فَقَدِ اسْتَمْسَکَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰی لَا انْفِصَامَ لَھَا وَ اﷲُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ۔

    ’’پس جو طاغوت کے ساتھ کفر کرے گا اور اللہ پر ایمان لائے گا وہی ہے جس نے ایسے مضبوط کڑے کو پکڑ لیا جو ٹوٹتا نہیں اور اللہ سننے والا جاننے والا ہے۔‘‘

    [سورۃ البقرہ، آیت: ۲۵٦]

    نیز فرمایا:

    اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ یَزْعُمُوْنَ اَنَّھُمْ اٰمَنُوْا بِمَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ وَ مَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّتَحَاکَمُوْآ اِلَی الطَّاغُوْتِ وَ قَدْ اُمِرُوْآ اَنْ یَّکْفُرُوْا بِہٖ وَ یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّضِلَّھُمْ ضَلٰلاًم بَعِیْدًا۔

    ’’کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کا زعم (گمان و خوش فہمی ) ہے کہ وہ آپ کی جانب اور آپ سے پہلے نازل کردہ (وحی، دین، قانون) پر ایمان رکھتے ہیں اور فیصلے کے لئے طاغوت کے پاس جانا چاہتے ہیں جبکہ انہیں حکم دیا گیا ہے کہ اس کے ساتھ کفر کریں اور شیطان انہیں دور کی گمراہی میں لا پھینکنا چاہتا ہے۔‘‘

    [سورۃ النساء، آیت:٦۰]

    نیز اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اپنے بندوں کو طاغوت سے اجتناب کرنے کا حکم دیا ہے، فرمایا:

    وَ لَقَدْ بَعَثْنَا فِیْ کُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اﷲَ وَ اجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ۔

    ’’اور ہم نے ہر امت میں رسول بھیجے کہ تم اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت سے بچو۔‘‘

    [سورۃ النحل، آیت:۳٦]

    نیز فرمایا:

    وَالَّذِیْنَ اجْتَنَبُوا الطَّاغُوْتَ اَنْ یَّعْبُدُوْھَا وَ اَنَابُوْآ اِلَی اﷲِ لَھُمُ الْبُشْرٰی فَبَشِّرْ عِبَادِ،الَّذِیْنَ یَسْتَمِعُوْنَ الْقَوْلَ فَیَتَّبِعُوْنَ اَحْسَنَہٗ اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ ھَدٰ ھُمُ اﷲُ وَاُولٰٓئِکَ ھُمْ اُوْلُوا الْاَلْبَابِ۔

    ’’اور جو لوگ طاغوت کی عبادت سے بچتے ہیں اور اللہ کی طرف رجوع کرتے ہیں ان کے لئے خوشخبری ہے تو آپ میرے بندوں کو خوشخبری دے دیجئے وہ بندے جو بات کو توجہ سے سنتے ہیں پھر اس کے اچھے پہلو پر چلتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ نے ہدایت دی اور یہی لوگ عقل والے ہیں۔‘‘

    [سورۃ الزمر، آیت: ۱۷-۱۸]
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں