شرک اکبر کی تین بنیادی قسمیں

اسرار حسین الوھابی نے 'اتباعِ قرآن و سنت' میں ‏نومبر 27, 2020 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. اسرار حسین الوھابی

    اسرار حسین الوھابی رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مئی 18, 2020
    پیغامات:
    34
    شرک اکبر کی تین بنیادی قسمیں

    تعلموا أمر دينكم

    بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

    شرک اکبر کی تین بنیادی قسمیں ہیں :

    شرک اکبر کی پہلی قسم:

    (١) ربوبیت میں شرک کرنا: یعنی کہ اللہ کی بادشاہت؛ نظام چلانے؛ اسکے پیدا کرنے؛ اسکے خود مختار رزق دینے میں جو (صرف اللہ سبحانہ وتعالی کے لئے لائق ہے) کسی غیر کا حصہ مقرر کرنا ؛ اور یہ شرک کبھی قول کے ذریعہ ہوتا ہے کبھی فعل کے ذریعہ اور کبھی اعتقاد کے ذریعہ ہوتا ہے۔

    ربوبیت میں شرک کی صورتیں :
    • نصاری کا شرک جو یہ کہتے ہیں کہ اللہ تین میں سے تیسرا ہے اور مجوسیوں کا شرک جو اس بات کے قائل ہیں کہ خیر کے حوادث (واقعات) منسوب ہیں نور کی طرف اور یہ انکے نزدیک الا له الـمحمود (ایسا الہ جسکی تعریف کی جاتی ہے) ہے اور یہ شر کے حوادث کو ظلمہ (اندھیرے) کی طرف منسوب کرتے ہیں۔
    • کہانت اور علم نجوم : یعنی یہ عقیدہ رکھنا کہ اللہ تبارک وتعالی کے علاوہ بھی کوئی ہے جو غیب کا علم رکھتا ہے اور وہ لوگ بھی اسی شرک کے مرتکب ہیں جو لوگ پیروی کرتے ہیں(ان تحریروں کی) جو اس نام سے آتی ہیں ( آج کے دن آپ کے ستارے ؛ آپ اور آپ کے ستارے وغیرہ وغیرہ)۔
    • بہت سے غالی صوفی؛ روافض؛ قبروں کے پجاریوں کا شرک جو یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ مُردوں کی روحیں موت کے بعد تصرف کا اختیار رکھتی ہیں؛ وہ حاجات پوری کرتی ہیں؛ اور تکلیفیں دور کرتی ہیں؛ اور وہ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ انکے بعض مشائخ کائنات میں تصرف کا اختیار رکھتے ہیں اور جو بندہ ان سے فریاد کرے اگرچہ ان کے سامنے موجود نہ ہو وہ فریاد رسی کرتے ہیں۔
    • وہ لوگ جو دستور اور وضعی قوانین بناتے ہیں اور لوگوں پر لازم کرتے ہیں کہ وہ اس کی طرف فیصلے لے کر آئیں (یہ بھی ربوبیت میں شرک کی صورت ہے) پس ایسے لوگ اس فرعون کی طرح ہیں جس نے یہ دعوی کیا تھا کہ أنا ربكم الأعلي (میں تمہارا بلند وبرتر رب ہوں)۔
    شرک اکبر کی دوسری قسم:

    (٢) اسماء وصفات میں شرک کرنا: اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالی کا کوئی ہم مثل بنانا اس کے اسماء وصفات میں سے کسی اسم یاصفت میں؛ یا اللہ تعالی کے لئے مخلوق کی صفات میں سے کوئی صفت بیان کی جائے؛ اور یہ شرک کبھی قولا ہوتا ہے؛ کبھی فعلاً اور کبھی اعتقادا ً۔

    پس چنانچہ جو شخص اللہ کے علاوہ کسی کو اسکے ناموں میں سے کسی نام سے موسوم کرتا ہے یا اسے اللہ کی صفات خاصہ میں سے کسی صفت سے متصف کرتا ہے تو ایسا شخص اسکے اسماء وصفات میں شرک کا ارتکاب کرتا ہے۔ اسی طرح جو شخص اللہ کے لئے مخلوق کی صفات میں سے کوئی صفت بیان کرتا ہے تو وہ بھی اللہ کی صفات میں شرک کا ارتکاب کرتا ہے۔

    اسماء وصفات میں شرک کی صورتیں درج ذیل ہیں:
    • بعض روافض اور بعض غالی صوفیوں کا یہ عقیدہ رکھنا کہ بعض زندہ اور مردہ لوگ ہر جگہ اور ہر وقت انکی دعاؤں کو سنتے ہیں۔
    • علم غیب کا دعوی کرنا یا یہ عقیدہ رکھنا کہ اللہ کے علاوہ بھی کوئی غیب جانتا ہے ؛ پس ہر وہ شے، جسکے بارے مخلوق کو باخبر نہ کیا گیا ہو اور حواس خمسہ میں سے کسی کے ذریعہ اسکا ادراک نہ ہوسکتا ہو وہ علم غیب ہوتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

      قُلْ لَّا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ الْغَيْبَ اِلَّا اللّٰهُ١ؕ وَ مَا يَشْعُرُوْنَ اَيَّانَ يُبْعَثُوْنَ [سورة النمل:٦٥]

      ”کہہ دیجئے کہ آسمان والوں میں سے زمین والوں میں سے سوائے اللہ کے کوئی غیب نہیں جانتا، انہیں تو یہ بھی نہیں معلوم کہ کب اٹھا کھڑے کیے جائیں گے؟“
      پس چنانچہ جو شخص یہ دعوی کرے کہ مخلوق میں سے کوئی غیب کا علم رکھتا ہے وہ اس شرک اکبر میں پڑچکا ہے جو دین سے خارج کردیتا ہے ۔
    غیر اللہ کے لئے علم غیب کا دعوی کرکے شرک کرنے کی مثالیں درج ذیل ہیں:

    (ألف) یہ عقیدہ رکھنا کہ بعض اولیاء اور صالحین غیب کا علم رکھتے ہیں؛ اور یہ عقیدہ روافض اور صوفیاء کے ہاں پایا جاتا ہے؛ یہی وجہ ہے کہ آپ انہیں دیکھیں گے کہ وہ انبیاء اور مردوں سے فریاد کرتے ہیں؛ اور یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ انہیں انکے حالات کا علم ہے اور انکی باتوں کو سنتے ہیں؛ یہ تمام باتیں شرک اکبر میں سے ہیں جو دین سے خارج کردیتا ہے۔


    (ب) الكهانة: کاہن وہ شخص ہے جو علم غیب کا دعوی کرے؛ اور اسکے مثل اور اسکے قریب قریب درج ذیل لوگ بھی ہیں:
    ”العراف“ (نجومی ستارے دیکھ کر لوگوں کے احوال بتانے والا )
    ”الرمال“ (علم رمل جاننے والا)
    ”السحرة“ ( جادو گر ) اور
    ”الکھان“ ( غیب کا دعویدار)

    پس چنانچہ جو شخص یہ دعوی کرے کہ وہ بغیر کسی خبر دینے والے کے وہ اپنے سے غائب چیزوں کا علم رکھتا ہے؛ یا وہ یہ دعوی کرتا ہے کہ کوئی واقعہ ہونے سے پہلے اسے پتا ہوتا ہے، ایسا شخص شرک اکبر کا مرتکب ہے خواہ وہ یہ دعوی کرے کہ اسے یہ علم کنکریوں کے ذریعہ حاصل ہوا ہے یا ہاتھوں کی لکیروں کو پڑھ کر حاصل ہوا ہے یا پھر پیالیوں میں دیکھنے سے یا اسکے علاوہ کسی اور ذریعہ سے۔

    بہر صورت یہ شرک ہے؛ نبی کا ارشاد ہے:

    من أتى كاهنا أو عرافا فصدقه يقول فقد كفر بما أنزل على محمد ﷺ [رواه احمد والحاكم]

    ”جو شخص کسی کاہن یا نجومی کے پاس آیا اور اس کی بات کو سچا مانا اس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل شدہ شریعت کے ساتھ کفر کیا۔“

    شرک اکبر کی تیسری قسم:

    (٣) الوہیت میں شرک کرنا: یعنی کوئی عبادت اللہ سبحانہ وتعالی کے علاوہ کسی کے لئے انجام دینا یا یہ عقیدہ رکھنا کہ اللہ کے علاوہ بھی کوئی عبادت کا حق رکھتا ہے۔ یہ شرک بھی کبھی قولاً ہوتا ہے، کبھی فعلاً اور کبھی اعتقاداً۔

    قولاً کی مثال جیسے دعاء کرنا؛ نذر ماننا؛ اللہ تبارک وتعالی کے علاوہ کسی سے فریاد کرنا۔

    فعلاً کی مثال جیسے سجدہ کرنا ؛ غیر اللہ کے لئے ذبح کرنا؛ قبروں کا طواف کرنا؛ جو شخص یہ کام کرتا ہے وہ شرک اکبر میں واقع ہوچکا ہے۔ اگرچہ وہ اس بات کا اظہار کرے کہ وہ مسلمین میں سے ہے۔

    اعتقاداً کی مثال جیسے خوف؛ شرکیہ محبت؛ اللہ تبارک وتعالی کے سوا کسی پر توکل کرنا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں