بنت حوا کے مسائل اور ان کا شرعی حل

مقبول احمد سلفی نے 'اتباعِ قرآن و سنت' میں ‏نومبر 19, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    800
    بنت حوا کے مسائل اور ان کا شرعی حل (قسط:۲۰)
    جوابات ازشیخ مقبول احمد سلفی
    داعی اسلامک دعوۃ سنٹرشمالی طائف-مسرہ

    سوال (۱):ایک عورت نے انجانے میں دس دن کا حمل ساقط کیا ہے اب اسے اس عمل پہ افسوس ہورہا ہے اور ڈر رہی ہے کہ قیامت میں بچہ مجھ سے سوال کرے گا کہ میں نے کیوں اس کا قتل کی تھی ، اس عمل کے لئے کیا کفارہ دینا ہوگا؟
    جواب : حمل کا اسقاط انجانے میں نہیں ہوتا، یہ ایک سوچا سمجھا اسکیم ہے ، ایساکرنے والوں کو اللہ بہت سے ڈرنا چاہئے،کیا پتہ یہی ایک غلطی اس کی تباہی کا سبب بن جائے ۔ جس عورت نے ایسا کیا ہے اس نے گناہ کبیرہ کا ارتکاب کیا ہے ، اس پہ قتل کا گناہ تونہیں ہوگا کیونکہ روح چار ماہ بعد پھونکی جاتی ہے اس لئے اس عورت پہ دیت یا کفارہ نہیں ہے پھر بھی بڑا جرم ہونے کی وجہ سے اسے اللہ سے سچے دل سے توبہ کرنا چاہئے ، اللہ بہت معاف کرنے والا ہے اور آئندہ اس جرم سے بالکلیہ بچنا چاہئے ۔
    سوال (۲):کیا ہم نفلی روزوں کی بھی قضا کریں گے اگر کسی وجہ سے توڑنا پڑجائے ؟
    جواب : اگر ہم کوئی نفلی روزہ رکھیں تو اسے پورا کریں اور اس نیت سے کبھی کوئی روزہ نہیں رکھیں کہ دل کیا تو توڑ دیں گے ، اس سے عبادت آپ کی نظر میں ہلکی ہوجائے گی اور شیطان اس راستے سے آپ کو بہکانے کی کوشش کرے گا۔ ہاں اگر آپ نے نفلی روزہ رکھا اور اچانک کوئی عذر پیش آگیا اور کوئی عذر نہ بھی ہو اچانک روزہ توڑنے کا خیال پیداہوگیا تو روزہ توڑ سکتے ہیں ، کوئی حرج نہیں ہے اور نفلی روزہ توڑ دیں تو اس کی قضا کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ یہ فرض روزہ نہیں ہے تاہم قضا کرلیں تو اچھی بات ہے ۔
    سوال (۳):نکاح کے لئے گواہ بنانا ضروری ہے اور اگر ضروری ہے تولڑکے کی طرف سے لڑکی کے والد یا لڑکے کا باپ یا مامو گواہ بن سکتا ہے ؟
    جواب : نکاح صحیح ہونے کے لئے ولی اور دوعادل گواہ ضروری ہے ورنہ نکاح نہیں ہوگا، نبی ﷺ کافرمان ہے :
    لا نكاحَ إلا بوَلِيٍّ،وشاهِدَيْنِ(صحيح الجامع:7558)
    ترجمہ: ولی اور دوگواہ کے بغیرنکاح نہیں ہے ۔
    اپنے سماج میں نکاح نامہ میں لکھا جاتا ہےکہ گواہی کے طورپر لڑکا کی طرف سے فلاں اور لڑکی کی طرف سے فلاں گواہ ہوگا ۔اِس کی طرف سے یا اُس کی طرف سے کہنے اورلکھنےکی ضرورت نہیں ہے ،گواہی کا مقصد اعلان نکاح اوراس کی توثیق ہے ،جو عقد نکاح منعقد کرائے اس کے ذمہ ہے کہ نکاح سے قبل لڑکی کےولی ، اس کے ہونے والے شوہراورنکاح میں گواہی کے طورپردوعادل مسلمان کو حاضر کروائے اور نکاح پڑھادے ۔لڑکی کے ولی گواہ نہیں بن سکتے البتہ لڑکے کا باپ اور دیگر کوئی بھی دوعادل مسلمان گواہ بن سکتے ہیں۔
    سوال (۴):جیساکہ عموما رات میں روٹیاں بنانی ہوتی ہیں اور پھر عشاء کی نماز پڑھنی ہوتی ہے ، اس لئے اس سے متعلق میرا سوال ہے کہ اگر ناخن یا ہاتھ پر آٹا لگا رہ جائے اور ہم وضو کرکے نماز پڑھ لیں اور بعد میں وہ آٹا نظر آئے تو کیا میری نماز نہیں ہوئی ؟
    جواب :ہاں آپ کی نماز ہوجائے گی کیونکہ آٹا لگنے سے وضو میں کوئی خلل نہیں ہوتا ۔ وضو میں خلل ایسی چیز سے ہوتا ہے جس کی وجہ سے پانی جلد پر نہ پہنچ سکے جبکہ ہاتھ پر آٹا لگا ہو تو وضو کرتے وقت پانی اندر سرایت کرسکتا ہے۔ ایسا ممکن ہے کہ آٹا ہاتھ میں یا اعضائے وضو میں لگ کر بالکل سوکھ گیا ہو اور آپ اچھی طرح وضو نہ کریں ، جھٹ پٹ وضو کریں تو اس صورت میں پانی جلد میں سرایت کرنے سے رہ سکتا ہے لہذا احتیاط کی ضرورت ہے۔
    سوال (۵):ولادت سے قبل آنے والا خون کس حکم میں ہے اور اس میں نماز کا کیا حکم ہے ؟
    جواب : اگر ولادت سے دوتین روز قبل دردزہ اور ولادت کے آثارکے ساتھ خون آئے تو یہ نفاس کے حکم میں ہے اس وجہ سے عورت نماز وروزہ ترک کردے گی لیکن ولادت سے زیادہ دن پہلے ہو یا ولادت کی کوئی علامت نہ ہو تو یہ خون فاسد ہوگا ایسی حالت میں عورت کو نمازی جاری رکھنا ہے۔ بسااوقات حاملہ کو حیض کا بھی خون آسکتا ہے لیکن یہ نادرہی ہوتا ہےجیساکہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ اوردیگر اہل علم نے ذکر کیا ہے۔
    سوال (۶):مسجد میں اجتماعی طور پر رقیہ کرنا کیسا ہے جبکہ عورت ومرد سبھی ہوں اور بیٹھنے کا علاحدہ انتظام بھی ہو؟
    جواب :گوکہ بعض علماء نے اجتماعی رقیہ کو جائز قرار دیا ہے مگر درست بات یہ ہے کہ اجتماعی طورپر رقیہ کرنا دین میں نئی ایجاد ہے ، اس کی کوئی اصل موجود نہیں ہے ۔ یہ طریقہ دراصل کم وقت میں زیادہ مال کمانے کی غرض سے ایجاد کیا گیا ہے جیساکہ شیخ صالح فوزان نے ذکر کیا کہ اجتماعی طورپر رقیہ کرنے کی دین میں کوئی اصل نہیں ہے ،یہ بدعت ہے۔ یہ لوگ مال کے حرص میں ایسا کرتے ہیں تاکہ زیادہ لوگوں پر پھونک ماریں اور زیادہ مال کمائیں ۔
    یہاں یہ بات بھی واضح رہے کہ رقیہ سنٹرکھولنا جائز نہیں ہے ، یہ دین میں ایسی گمراہی ہےجس سے سماج میں متعدد قسم کے شروفساد ظاہر ہوتے ہیں اور اجتماعی رقیہ بھی رقیہ سنٹر اور اس کی معیشت سے جڑا ہوا ہے ۔ پیسے کی ہوس میں اجتماعی رقیہ کی نئی نئی شکلیں پیدا ہورہی ہیں ،کوئی مساجد کو ڈھال بنا رہا ہے تو مائیکروفون استعمال کررہاہے ، کوئی ہوامیں تو کوئی موبائل فون میں پھونک مار رہاہے حتی کہ بعض لوگ انٹرنیٹ پہ آن لائن اجتماعی رقیہ کرتے نظر آتے ہیں ، یہ سب گمراہی اور بدعت کے راستے ہیں۔رقیہ کی جائز شکل انفرادی ہے وہ بھی بغیر سنٹر کھولےیعنی انفرادی طورپر ہر کسی کے لئے علاحدہ رقیہ کیا جائے گاحتی کہ اس پر اجرت بھی لی جاسکتی ہے تاہم اس کام کے لئے سنٹرنہیں کھول سکتے ہیں ۔
    سوال (۷):اپنے محرم رشتہ داروں کو بوسہ دینے کا کیا حکم ہے ؟
    جواب :مرد کا اپنی محرمات کو بوسہ لینا جائز ہے بشرطیکہ فتنے کا خوف نہ ہواور بوسہ بھی پیشانی یا سر کا ہی لیا جاسکتا ہے،رخساروں اور ہونٹوں کا نہیں تاہم باپ اپنی بیٹی یابیٹااپنی ماں کے رخسار کا بوسہ لے سکتا ہے ، حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ نے اپنی بیٹی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے رخسار کا بوسہ لیا تھا۔ جب فتنے کا خوف ہو مثلا جوانی یا خوبصورتی وغیرہ سےتو بوسہ لینا جائز نہیں بطور خاص رضاعی اور سسرالی محرمات میں ۔
    سوال (۸):کیا بہو سسر کی اس قسم کی خدمت کرسکتی ہے مثلا بدن دبانا، تیل مالش ، کپڑے کی تبدیلی وغیرہ ؟
    جواب : سسر کی خدمت کی ذمہ داری اس کی اولاد یعنی بیٹا اور بیٹی پر ہے تاہم احسان کے جذبہ کے تحت بہو بھی اپنے سسر کی خدمت کرسکتی ہے ۔ سسر بہو کے لئے محرم ہے اس وجہ سے اس کے پاس آجاسکتی ہے ۔ فتنہ کا خوف نہ ہو تو سسر کی ضروری خدمت مثلا مالش کرنا،بدن دباناا اور کپڑا تبدیل کرنا صحیح ہے اور فتنہ کا خوف ہے تو نہیں صحیح ہے۔
    سوال (9):میں نے یہ ارادہ کی تھی کہ اگر لڑکا ہوا تو اس کا نام عبد اللہ رکھوں گی اورپہلے اولاد لڑکا ہوئی بھی لیکن بچہ اللہ کو پیارا ہوگیا یعنی اس کاانتقال ہوگیا۔ اب اللہ پاک نے پھر اولاد کی نعمت سے نوازا ہے، میں چاہتی ہوں کہ اس کا نام عبداللہ رکھو لیکن کچھ لوگ منع کررہےہیں، اس حال میں کیا جائے ؟
    جواب: اصل میں لوگوں کے منع کرنے کی وجہ یہ غلط فہمی ہے کہ جس نام کا بچہ مرجائے وہی نام دوسرے بچے کا رکھنے سے اس بچے پر بھی اثر پڑتاہے، یہ سراسر جہالت اور ضعیف الاعتقادی ہے۔زندگی اور موت کا مالک اللہ رب العالمین ہے ، وہ جسے چاہتا ہے زندگی دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے موت دیتا ہے ، نام سے زندگی اور موت کا کوئی تعلق نہیں ہے ۔
    آپ بلاتردد اپنے بچے کا نام عبداللہ رکھ سکتی ہیں بلکہ یہ نام رکھیں اور سماج والوں کو تعلیم دیں کہ زندگی اورموت کا مالک اکیلا اللہ ہے ، اس کے حکم کے بغیر کسی کو موت نہیں آسکتی ہے۔
    سوال (۱۰):اسکین کو خوبصورت کرنے کے لئے وائٹنگ انجکشن لگائے جاتے ہیں اس کا کیا حکم ہے ؟
    جواب : آج زمانہ اس قدر ترقی کرچکا ہے کہ بدصورت جسم وچہرہ کو خوبصورت بنا دیا جاتا ہے ، لوگوں کا خصوصاعورتوں کااس جانب کافی رجحان ہوگیا ہے ، اس بارے میں شریعت کا موقف یہ ہے کہ اگر خوبصورتی چندلمحے یا چند ایام کے لئے اختیار کی جاتی ہے مثلا مہندی یا زینت والے کریم وپاؤڈر تو اس کے استعمال میں کوئی حرج نہیں ہےکیونکہ یہ زائل ہونے والی اور عارضی زینت کی چیز ہے لیکن اگر آپریشن یا انجکشن کے ذریعہ مستقل طور پر جسم یا جسم کے کسی عضوچہرہ یا ہاتھ وپیر کی رنگت تبدیل کردی جائےتو یہ جائز نہیں ہے خواہ چند ماہ یا چند سال کے لئے ہی کیوں نہ ہوکیونکہ یہ فطرت کی تبدیلی میں شامل ہے جس سے اللہ اور اس کے رسول نے منع فرمایا ہے ، اللہ کا فرمان ہے:
    وَلَأُضِلَّنَّهُمْ وَلَأُمَنِّيَنَّهُمْ وَلَآمُرَنَّهُمْ فَلَيُبَتِّكُنَّ آذَانَ الْأَنْعَامِ وَلَآمُرَنَّهُمْ فَلَيُغَيِّرُنَّ خَلْقَ اللَّهِ ۚ وَمَن يَتَّخِذِ الشَّيْطَانَ وَلِيًّا مِّن دُونِ اللَّهِ فَقَدْ خَسِرَ خُسْرَانًا مُّبِينًا (النساء:119)
    ترجمہ:اورانہیں راہ سے بہکاتا رہوں گا اور باطل امیدیں دلاتا رہوں گا اور انہیں سکھاؤں گا کہ جانوروں کے کان چیر دیں اور ان سے کہوں گا کہ اللہ تعالٰی کی بنائی ہوئی صورت کو بگاڑ دیں ، سنو! جو شخص اللہ کو چھوڑ کر شیطان کو اپنا رفیق بنائے گا وہ صریح نقصان میں ڈوبے گا ۔
    سیدنا ابو حجیفہ ؓ سے روایت ہے:
    لَعَنَ النبيُّ صَلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ الوَاشِمَةَ والمُسْتَوْشِمَةَ، وآكِلَ الرِّبَا ومُوكِلَهُ، ونَهَى عن ثَمَنِ الكَلْبِ، وكَسْبِ البَغِيِّ، ولَعَنَ المُصَوِّرِينَ(صحيح البخاري:5347)
    ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گودنے والی اور گدوانے والی، سود کھانے والے اور کھلانے والے پر لعنت بھیجی اور آپ نے کتے کی قیمت اور زانیہ کی کمائی کھانے سے منع فرمایا اور تصویر بنانے والوں پر لعنت کی۔
    اس حدیث میں لفظ"الوَاشِمَةَ والمُسْتَوْشِمَةَ" وارد ہے جو وشم سے بنا ہے اور الوشم کہتے ہیں جسم گدوانے کو یعنی جسم میں سوئی چبھوکر اس کی رنگت بدل لینا ۔ یہ گودنا مستقل طورپرانجکشن سے ہو یا آپریشن سے ہو یا کسی الکٹرانک آلے سے ہو تمام اقسام ناجائز ہیں، ایسی حرکت کرنے والی اور کروانےوالی عورتوں پر لعنت بھیجی گئی ہے لہذا مسلمان عورتوں کو اس ملعون کام سے بچنا چاہئے۔
    سوال (۱۱):کیا میں بچوں کو پانی یا شہد پلانے کے لئے چاندی کا برتن استعمال کرسکتی ہوں ؟
    جواب : بچے ہوں یامرد ہو یا عورت ہو کسی کے لئے سونے اور چاندی کے برتن کا استعمال جائز نہیں ہے، نبی ﷺ کا فرمان ہے:
    لا تَشْرَبُوا في آنِيَةِ الذَّهَبِ والفِضَّةِ، ولَا تَلْبَسُوا الحَرِيرَ والدِّيبَاجَ، فإنَّهَا لهمْ في الدُّنْيَا ولَكُمْ في الآخِرَةِ(صحيح البخاري:5633)
    ترجمہ:سونے اور چاندی کے پیالہ میں نہ پیا کرو اور نہ ریشم و دیبا پہنا کرو کیونکہ یہ چیزیں ان کے لیے دینا میں ہیں اور تمہارے لیے آخرت میں ہیں۔
    اسی طرح آپ ﷺ کا فرمان ہے:
    الَّذِي يَشْرَبُ في إناءِ الفِضَّةِ إنَّما يُجَرْجِرُ في بَطْنِهِ نارَ جَهَنَّمَ(صحيح البخاري:5634)
    ترجمہ: جو شخص چاندی کے برتن میں کوئی چیز پیتا ہے تو وہ شخص اپنے پیٹ میں دوزخ کی آگ بھڑکا رہا ہے۔
    اس قدر شدید وعید آجانے کے بعد کیا کوئی مسلمان سونے اور چاندی کے برتن میں کھانا کھا سکتا ہے؟ ہرگز نہیں بلکہ ان تمام برتنوں سے بھی بچے گا جن میں سونا یا چاندی کی ملاوٹ ہو۔
    سوال (۱۲): کیا دسترخوان پر کھانا کھانا سنت ہے ؟
    جواب : نبی ﷺ زمین پر بیٹھ کر اور دسترخوان پر کھانا رکھ کر کھاتے تھے ، انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
    ما عَلِمْتُ النبيَّ صَلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ أكَلَ علَى سُكْرُجَةٍ قَطُّ، ولَا خُبِزَ له مُرَقَّقٌ قَطُّ، ولَا أكَلَ علَى خِوَانٍ قَطُّ قيلَ لِقَتَادَةَ: فَعَلَامَ كَانُوا يَأْكُلُونَ؟ قالَ: علَى السُّفَرِ(صحيح البخاري:5386)
    ترجمہ: میں نہیں جانتا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی تشتری رکھ کر (ایک وقت مختلف قسم کا) کھانا کھایا ہو اور نہ کبھی آپ نے پتلی روٹیاں کھائیں اور نہ کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میز پر کھایا۔ قتادہ سے پوچھا گیا کہ پھر کس چیز پر آپ کھاتے تھے؟ کہا کہ آپ دستر خوان پر کھانا کھایا کرتے تھے۔
    ہمارے لئے بہتر وافضل یہی ہے کہ نبی ﷺ کی اقتدا میں زمین پر بیٹھ کرکھانا چاہیں تاہم کوئی کھانے کے لئے میز کا استعمال کرے تو اس میں بھی حرج نہیں ہے، نبی ﷺ نے تواضع کے طور پر میز پر کھانا ترک کیا تھا۔
    سوال (۱۳):میری آنکھیں نیلی ہیں اور مجھے دوسری خواتین کہتی ہیں نیلی آنکھوں والی بے وفا ہوتی ہیں کیایہ صحیح ہے ؟
    جواب : اس بات کی کوئی حقیقت نہیں ہے، یہ عورتوں کی جہالت وغلط فہمی پر مبنی ہے، اللہ نے جس کو چاہا جیسے بنایا ہے ، بناوٹ کا بے وفائی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ بے وفائی برے کردار سے تعلق رکھتی ہے بناوٹ سے نہیں یعنی عورت بری ہوگی تو وہ بے وفا ہوسکتی ہے لیکن اچھی عورت بے وفا نہیں ہوسکتی چاہے بھلے اس کی آنکھیں نیلی ہوں.
    سوال(۱۴): کیا عورت احرام کی حالت میں بچے کا ڈائپر بدل سکتی ہے اور وائپس جس میں خوشبو ہوتی ہے اس سے صفائی کر سکتی ہے ؟
    جواب : ہاں ، عورت احرام کی حالت میں بچے کا ڈائپربدل سکتی ہے لیکن صفائی کے لئے خوشبوداروائپس کا استعمال نہیں کرسکتی کیونکہ محرم کے لئے خوشبوکا استعمال ممنوع ہے، وائپس میں خوشبو نہ ہو تو کوئی حرج نہیں ہے۔
    سوال (۱۵): میں ایک خاتون ہوں کبھی کبھی نماز کے دوران پیٹ سے آواز آتی ہے کیا اس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے ؟
    جواب : نہیں ، پیٹ سے آواز آنے پر وضو نہیں ٹوٹتا ،نہ ہی اگلی شرمگاہ سے ہوا نکلنے پر وضو ٹوٹتا ہے بلکہ وضو عورت کی پچھلی شرمگاہ(پاخانہ کی جگہ) سے ہوا نکلنے پر ٹوٹتا ہے کیونکہ یہ نجاست کی جگہ ہے ۔ نجاست کی جگہ سےہوا نکلنے پر وضو ٹوٹنے کی حکمت یہ ہے کہ ہوا بھی نجاست کا ایک حصہ ہے ۔
     
  2. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    800
    بنت حوا کے مسائل اور ان کا شرعی حل (قسط-21)

    جواب از مقبول احمد سلفی
    اسلامک دعوۃ سنٹرمسرہ –طائف

    سوال(1): کیا عورت اپنے ہار میں کعبہ کی تصویر لگاسکتی ہے اور ایسا ہار لگاکر حمام جا سکتی ہے ؟
    جواب: کعبہ مسلمانوں کا قبلہ اوربہت ہی مقدس جگہ ہے ،اس کی جانب تھوکنے سے بھی ہمیں منع کیا گیا ہے اور استنجاکے وقت پیٹھ یا چہرہ کرنا بھی منع ہے اس لئے ایسی مقدس چیز کو گلے میں لگاکر عورت حمام نہیں جاسکتی ہےبلکہ اسے اپنے ہار میں کعبہ کی تصویر ہی نہیں لگانی چاہئے تاکہ اللہ کے عظیم گھر کا تقدس نہ پائمال نہ ہو۔یہاں یہ بھی یاد رہے کعبہ کی تصویر سے برکت حاصل کرنا جائز نہیں ہے ۔

    سوال(2): کیا عورت آوازکے ساتھ مختلف قسم کے کھانوں کی ویڈیوزبناکر یوٹیوب پر ڈال سکتی ہے ،اس میں ہاتھ کی بھی تصویر آئے گی مگر اس پردستانہ لگاہوگا،واضح رہے یوٹیوب پرویڈیوزڈالنے کا مقصد کمائی کرنا ہے۔
    جواب: پہلی بات تو یہ ہے کہ عورت کی آوازباعث فتنہ ہے اس لئے عورت کو اپنی آواز کی حفاظت کرنی چاہئے، دوسری بات یہ ہے کہ یوٹیوب پر لاکھوں کی تعداد میں ہر قسم کے کھانوں کی ویڈیوز پہلے سےموجود ہیں بلکہ لمحہ بہ لمحہ مزید لوڈہورہی ہیں ایسے میں یہ کام بلاضرورت اور فضول ہے ، تیسری بات یہ ہے کہ یوٹیوب کے ذریعہ حلال پیسے کمانا بہت مشکل ہے کیونکہ یہاں پر پیسے گوگل کے پرچار سے ملتے ہیں اور یہودی میڈیا کا پرچارجھوٹ، فریب، جوا، سود، موسیقی اور فحش وحرام چیزوں سے پاک ہو ناممکن نہیں ہے۔یوٹیوب کی کمائی پر میرامفصل مضمون ہے اسے پڑھنا مفید ہوگا۔ خلاصہ یہ ہواکہ عورت کا کھانا بنانے کی ویڈیوزبناناایک فضول کام ہے ، اس میں اپنی آوازڈالنا بھی فتنہ کا سبب ہے ، لوگ حسن صوت اورکیفیت پہ تعریفی کمنٹ کریں گے پھر اس کے ذریعہ حلال پیسہ کمانا بھی مشکل ہے اس لئے یہ کام نہ کیا جائے اس سے بہتر ہے قرآن وحدیث کا تحریری اسکرین لگاکر دین کی خدمت کریں ۔

    سوال(3): کیا مسورکی دال میں ستر انبیاء کی برکات شامل ہیں؟
    جواب:نہیں ، ایسی کوئی بات نہیں ہے ۔ طبرانی میں ایک حدیث ہے ،وائلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
    عليكُم بالقَرعِ فإنَّهُ يزيدُ بالدِّماغِ ، عليكُم بالعدَسِ فإنَّهُ قُدِّسَ علَى لسانِ سبعينَ نبيًّا۔
    ترجمہ: کدو کو لازم پکڑو اس لئے کہ یہ دماغ کو بڑھاتا ہے اوردال کو لازم پکڑو کیونکہ اسے ستر انبیاءکی زبان پر لگنے کا شرف حاصل رہا ہے۔
    یہ موضوع اور من گھرنت حدیث ہے ۔ دیکھیں :(السلسلة الضعيفة:510)

    سوال(4): میں نے کبھی ابرو نہیں بنایامگر شادی کے موقع پر بناؤسنگار دیکھاجاتا ہے کیا ہم اس دن ابروبناسکتے ہیں؟
    جواب: اللہ تعالی نے آپ کو شادی کی توفیق دی اوراس موقع پر صحت وتندرستی برقرار رکھی یہ اس کی بڑی توفیق ہے ایسے موقع سے رب کا شکریہ بجالانا چاہئے اور گناہوں کے کام سے بچنا چاہئے ۔ آپ نے کہا کہ میں نے زندگی میں کبھی ابرو نہیں بنائی مگر شادی کے موقع سے لوگوں اور شوہرکے واسطے بناسکتی ہوں تومیں آپ سے کہوں گا کہ یہ بھی آپ پر اللہ کا احسان ہے کہ ابھی تک ابروبناکر گنہگار نہیں ہوئیں جبکہ کتنی خواتین باربار یہ گناہ کرتی ہیں ،آپ آج بھی ابرونہ بناکر اس گناہ سے بچ جائیں ،ہوسکتا ہے یہی چھوٹی نیکی اللہ کو بہت پسند آجائے اوروہ آپ کی ازدواجی زندگی کو سنوار دے ۔ اس موقع پر ایک حدیث سےآپ بھی اور دوسری خواتیں بھی نصیحت حاصل کریں۔ سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إلى النبيِّ صَلَّى اللَّهُ عليه وسلَّمَ، فَقالَتْ: يا رَسولَ اللهِ، إنَّ لي ابْنَةً عُرَيِّسًا أَصَابَتْهَا حَصْبَةٌ فَتَمَرَّقَ شَعْرُهَا أَفَأَصِلُهُ، فَقالَ: لَعَنَ اللَّهُ الوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ. وفي روايةٍ : فَتَمَرَّطَ شَعْرُهَا(صحيح مسلم:5565) ‏‏‏‏
    ترجمہ:ایک عورت آئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اور عرض کیا، یا رسول اللہ! میری بیٹی دلہن ہے اور اس کے چیچک نکلی ہے بال گر گئے ہیں۔ کیا میں جوڑ لگا دوں اس کے بالوں میں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:لعنت کی اللہ نے جوڑ لگانے والی اور لگوانے والی پر۔
    ذرا غورکریں جس دلہن کے سرپہ بال نہ ہو وہ کتنی تکلیف میں ہوگی مگر رسول اللہ ﷺ نے اس تکلیف میں بھی مصنوعی بال لگانے سے منع کیا ، اس لئے آپ ابرو بنانے سے بچیں کیونکہ اللہ کے رسول نے ابرو کے بال بنانے والیوں پر لعنت فرمائی ہے ۔ زینت کے بہت سارے حلال طریقے ہیں انہیں اپنائیں۔

    سوال(5): کیا حیض والی عورت رقیہ کرسکتی ہے یا جو حالت حیض میں ہو اس پر رقیہ کیا جاسکتا ہے ؟
    جواب: ہاں ، حیض والی عورت رقیہ کرسکتی ہے اور جس کو حیض آیا ہو اس عورت پر بھی رقیہ کیا جاسکتا ہے ۔ حالت حیض میں ذکر واذکار کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔

    سوال(6): بانجھ عورت سے شادی کرنا کیسا ہے ؟
    جواب: بانجھ عورت سے شادی کرنے سے رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایاہے ، معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جاءَ رجلٌ إلى النَّبيِّ صلَّى اللَّهُ علَيهِ وسلَّمَ ، فقالَ : إنِّي أصَبتُ امرأةً ذاتَ حسبٍ وجمالٍ ، وإنَّها لا تلِدُ ، أفأتزوَّجُها ، قالَ : لا ثمَّ أتاهُ الثَّانيةَ فنَهاهُ ، ثمَّ أتاهُ الثَّالثةَ ، فقالَ : تزوَّجوا الوَدودَ الولودَ فإنِّي مُكاثرٌ بِكُمُ الأُممَ(صحيح أبي داود:2050)
    ترجمہ:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے عرض کیا: مجھے ایک عورت ملی ہے جو اچھے خاندان والی ہے، خوبصورت ہے لیکن اس سے اولاد نہیں ہوتی تو کیا میں اس سے شادی کر لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، پھر وہ آپ کے پاس دوسری بار آیا تو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو منع فرمایا، پھر تیسری بار آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:خوب محبت کرنے والی اور خوب جننے والی عورت سے شادی کرو، کیونکہ (بروز قیامت) میں تمہاری کثرت کی وجہ سے دوسری امتوں پر فخر کروں گا۔
    اس لئے افضل یہی ہے کہ بچہ پیداکرنے والی عورت سے شادی کی جائے تاکہ جنسی خواہش کی تکمیل اور شرمگاہ کی حفاظت کے ساتھ اولاد کی نعمت بھی میسر ہو تاہم بانجھ سے بھی شادی کی جاسکتی ہے۔

    سوال(7): کیا عورت مونچھ کے بال نکال سکتی ہے ؟
    جواب:اگر عورت کو مونجھ کے بال نکل آئے تو اس کو صاف کر سکتی ہے۔

    سوال(8): کیا عورت ہاتھ اور پیر کی ویکس کراسکتی ہے؟
    جواب: جسم میں بالوں کی تین اقسام بنتی ہیں ایک قسم وہ ہے جس کو زائل کرنے کا حکم ہے مثلا بغل اور زیرناف، دوسری قسم وہ ہے جس کو زائل کرنا منع ہے مثلا ابرو اور داڑھی اور تیسری قسم وہ ہے جس کو زائل کرنے اور نہ کرنے کے متعلق شریعت خاموش ہےاس قسم کے مسائل کے متعلق نبی ﷺ کا یہ حکم ملتا ہے۔ الحلالُ ما أحلَّ اللَّهُ في كتابِهِ والحرامُ ما حرَّمَ اللَّهُ في كتابِهِ وما سَكتَ عنْهُ فَهوَ مِمَّا عفى عنْهُ(صحيح الترمذي:1726)
    ترجمہ: حلال وہ ہے جسے اللہ نے اپنی کتاب میں حلال کردیا، اور حرا م وہ ہے ، جسے اللہ نے اپنی کتاب میں حرام کردیا اورجس چیزکے بارے میں وہ خاموش رہا وہ اس قبیل سے ہے جسے اللہ نے معاف کردیاہے۔
    لہذا جسم کے اس حصے کا بال جس کے متعلق شریعت خاموش ہے مرد وعورت کاٹ سکتے ہیں۔

    سوال(9): چھوٹی بچی کب سے پردہ کرنا شروع کرے گی ؟
    جواب: کوئی بھی لڑکی بلوغت (حیض واحتلام)کے بعد ہی شریعت کا مکلف ہوتی ہے اس لئے پردہ بھی بالغ ہونے کے بعد ہی فرض ہوتا ہے تاہم اسلامی آداب وتربیت کے تحت بچپن سےاپنی بچیوں کو پردہ کرنا سکھانا چاہئے اس سے بچی میں حیا بڑھتی ہے اور آئندہ پردہ کرنے میں آسانی رہتی ہے ۔

    سوال(10): کیا عورت عدت وفات میں بیمار ماں کی زیارت کرسکتی ہے اور بطورخدمت چند دن وہاں ٹھہر سکتی ہے؟
    جواب:عدت وفات میں عورت پر لازم ہے کہ وہ اپنے گھر میں باقی رہے اور گھر سےکہیں باہر بغیر شدید ضرورت کے نہ نکلے ۔ معتدہ اپنی بیماروالدہ کی زیارت کے لئے بھی گھر سے نہیں نکلے گی سوائے اس کے کہ اس کی ماں کی خدمت کرنے والا کوئی نہ ہو تو وہاں جاکر خدمت کرسکتی ہے اور ضرورت ختم ہوتے ہی اپنے گھرلوٹ جائے گی ۔

    سوال(11) کیا میرے لئے بھانجے اور بھتیجے محرم ہیں یا ان سے پردہ کرنا ہے؟
    جواب :سگابھانجہ اور سگا بھتیجا محرم میں داخل ہیں اس لئے ان سے پردہ نہیں ہے۔

    سوال(12): آجکل پھلوں والے حقے پائے جاتے ہیں جن میں نشہ نہیں ہوتا ایسے حقوں کا کیا حکم ہے ؟
    جواب: حقہ حقہ ہی ہوتا ہے ، چاہے پھل اور پھول والا ہو یا کوئی اور؟ اس میں بھی نشہ کی کچھ مقدار ملائی جاتی ہے ، نشہ کچھ بھی نہ ہو تب بھی اس سے خارج ہونے والا دھواں طبی رپورٹ کے مطابق جسم وصحت کے لئے بہت زیادہ نقصان دہ اور طویل المیعاد ہوتاہے بلکہ حقہ کو سگریٹ سے زیادہ ہلاکت خیز مانا جاتاہے۔ اس کی بدبو اپنی جگہ ۔ اسلام نے ہمیں جسم کو نقصان پہنچانے والی چیزوں کو استعمال کرنے سے منع کیا ہے اس لئے حقہ کا استعمال نہ کریں خواہ نشہ آور ہو یا خوشبودار وذائقہ دار۔

    سوال(13): کیا بوڑھی عورت بھی عدت وفات گزارے گی ؟
    جواب : ہاں ، اسلام نے کسی بھی عورت کو عدت وفات سے مستثنی نہیں کیاہے ، ہر قسم کی عورت اپنے شوہر کی وفات پہ چار ماہ اور دس دن عدت گزارے گی جیساکہ اللہ کا فرمان ہے :وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا(البقرة: 234)
    ترجمہ: اور تم میں سے جو لوگ فوت ہوجائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں وہ عورتیں اپنے آپ کو چار مہینے اور دس دن عدت میں رکھیں ۔

    سوال(14): کیا عورت کے لئے بھی کسی سےبیعت لینا ضروری ہے؟
    جواب : چونکہ حنفیوں اور دیوبندیوں کے یہاں مردوں کی طرح عورتوں کی بھی بیعت ہوتی ہے اس لئے عوام کی طرف سے یہ سوال آتا ہے کہ کیا عورتوں کو بھی بیعت لینا ضروری ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اپنے ملکوں میں پیروں اور مرشدوں کے نام پر جو بیعت لی جاتی ہے وہ صوفیوں کا طریقہ ہے اوریہ دین میں نئی ایجاد ہے جسے بدعت کہیں گے ، صوفی پکا بدعتی ہوتا ہے اس کے پاس کبھی جانا ہی نہیں چاہئے۔ قرآن وحدیث میں عوام کے لئے اس طرح کی کسی بیعت کا ثبوت نہیں ہے ،نہ مردوں کے لئےاور نہ ہی عورتوں کے لئے ۔ بیعت صرف مخصوص لوگوں کے لئے ہے وہ بھی اس وقت جب مسلمانوں کا کوئی خلیفہ اور امام موجود ہو جبکہ ہمارے ملکوں میں کوئی خلیفہ اور امام نہیں ہے جمہوری نظام ہے اور مسلمان فرقوں میں بٹے ہوئے ہیں ایسی صورت میں مخصوص لوگوں کے لئے بھی کوئی بیعت نہیں اور عوام کے لئے تو ویسے بھی نہیں ہے۔

    سوال(15): جس عورت کا بچہ مرجائے اس کے لئے کوئی اجر ہے ؟
    جواب: جس عورت کا بچہ مر جائے اور وہ پہلی فرصت میں اللہ سے اجر کی امید کرتے ہوئے صبر کرےتو اس کے لئے اجر وثواب ہے اور صبر کا بدلہ اللہ کے یہاں جنت ہے ، ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    يقولُ اللَّهُ سبحانَه ابنَ آدمَ إن صبرتَ واحتسبتَ عندَ الصَّدمةِ الأولى لم أرضَ لَك ثوابًا دونَ الجنَّةِ(صحيح ابن ماجه:۱۳۰۸)
    ترجمہ:اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے آدمی! اگر تم مصیبت پڑتے ہی صبر کرو، اور ثواب کی نیت رکھو، تو میں جنت سے کم ثواب پر تمہارے لیے راضی نہیں ہوں گا۔
    اسی طرح اولاد کی وفات پر صبر کرنے سے عورتوں کو جنت کی بشارت دی گئی ہے، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
    أنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عليه وَسَلَّمَ، قالَ لِنِسْوَةٍ مِنَ الأنْصَارِ:لا يَمُوتُ لإِحْدَاكُنَّ ثَلَاثَةٌ مِنَ الوَلَدِ فَتَحْتَسِبَهُ، إلَّا دَخَلَتِ الجَنَّةَ فَقالتِ امْرَأَةٌ منهنَّ: أَوِ اثْنَيْنِ يا رَسُولَ اللهِ؟ قالَ: أَوِ اثْنَيْنِ(صحيح مسلم:2632)
    ‏‏‏‏ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کی عورتو ں سے فرمایا:تم میں سے جس کے تین لڑکے مر جائیں اور وہ اللہ کی رضا مندی کے واسطے صبر کرے تو جنت میں جائے گی۔ ایک عورت بولی: یا رسول اللہ! اگر دو بچے مریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:دو ہی سہی۔
    سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
    أَتَتِ امْرَأَةٌ النبيَّ صَلَّى اللَّهُ عليه وَسَلَّمَ بصَبِيٍّ لَهَا، فَقالَتْ: يا نَبِيَّ اللهِ ادْعُ اللَّهَ له، فَلقَدْ دَفَنْتُ ثَلَاثَةً، قالَ: دَفَنْتِ ثَلَاثَةً؟ قالَتْ: نَعَمْ، قالَ: لَقَدِ احْتَظَرْتِ بحِظَارٍ شَدِيدٍ مِنَ النَّارِ(صحيح مسلم:2636)
    ‏‏‏‏ ترجمہ:ایک عورت ایک بچہ لے کر آئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اور عرض کیا: اے اللہ کے نبی، دعا کیجئیے اس کے لیے (عمر دراز ہو نے کی) کیونکہ میں تین بچوں کو دفنا چکی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا:تو نے ایک مضبوط آڑ کر لی جہنم سے۔
    جب کوئی بچہ بلوغت سے پہلے مرجاتا ہے تو وہ جنت میں جاتا ہے کیونکہ اس کی پیدائش فطرت اسلام پہ ہوتی ہے اور وہ اسی فطرت پہ مرجاتا ہے ۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے :النَّبيُّ صلَّى اللَّهُ عليْهِ وسلَّمَ في الجنَّةِ والشَّهيدُ في الجنَّةِ والمولودُ في الجنَّةِ والوئيدُ في الجنَّةِ( صحيح أبي داود: 2521)
    ترجمہ: نبی جنت میں ہوں گے ، شہید جنت میں جائے گا ، چھوٹا بچہ جنت میں جائے گا اور زندہ دفن کیا گیا بچہ جنت میں جائے گا ۔
    اس بچہ کی وفات پہ جب والدین صبر کرتے ہیں تو جنت میں اس کے لئے بیت الحمد کے نام سے ایک گھر بنا دیا جاتا ہے ۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے :
    إذا ماتَ ولَدُ العبدِ قالَ اللَّهُ لملائِكتِهِ قبضتم ولدَ عبدي فيقولونَ نعم فيقولُ قبضتُم ثمرةَ فؤادِهِ فيقولونَ نعم فيقولُ ماذا قالَ عبدي فيقولونَ حمِدَكَ واسترجعَ فيقولُ اللَّهُ ابنوا لعبدي بيتًا في الجنَّةِ وسمُّوهُ بيتَ الحمْدِ(صحيح الترمذي: 1021)
    ترجمہ: جب کسی بندے کا بچہ فوت ہوجاتاہے تو اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے پوچھتاہے: تم نے میرے بندے کے بیٹے کی روح قبض کر لی؟تووہ کہتے ہیں: ہاں، پھر فرماتاہے: تم نے اس کے دل کاپھل لے لیا؟ وہ کہتے ہیں: ہاں۔ تواللہ تعالیٰ پوچھتاہے: میرے بندے نے کیاکہا؟ وہ کہتے ہیں:اس نے تیری حمد بیان کی اور'إنا لله وإنا إليه راجعون ' پڑھاتو اللہ تعالیٰ فرماتاہے: میرے بندے کے لیے جنت میں ایک گھر بنادو اور اس کانام بیت الحمد رکھّو۔
    ان تمام احادیث سے معلوم ہوا کہ فوت ہونے والا نابالغ بچہ جنت میں جائے گا اور اس کی موت پر صبر کرنے والی ماں کو اجر وثواب ملتا ہے اور جنت نصیب ہوتی ہے۔

    سوال(16): شادی کے لئے لڑکی کی تصویر دی جاسکتی ہے؟
    جواب: آج کے زمانے میں شادی کے لئے تصویر دکھانے سے کام نہیں چلتا، نہ تصویر پر بھروسہ ہوتا ہے یعنی بغیر دیکھے شادی نہیں ہوتی ہے اس لئے تصویر دینے کا کوئی فائدہ نہیں ہے ، اگر تصویرکا مطالبہ ہو تو کہیں کہ گھر آکر عورتیں یا وہ لڑکا جس کی شادی مقصود ہو دیکھ لے ۔ مخصوص طور پر تصویر لڑکے کو بھیجی جائے اور دیکھ لینے کے بعد واپس مانگ لی جائے تو کوئی حرج نہیں ہے۔

    سوال(17): جس کھانے کو ہم کھاتے ہیں کیا اس کو سونگھ سکتے ہیں؟
    جواب : ضرورت پڑنے پر کھانے پینے کی چیز کو سونگھنے میں حرج نہیں ہے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع نہیں کیا ہے البتہ کھانے پینے کی چیزوں میں سانس لینے سے منع کیا ہے تو سونگھتے وقت برتن میں ہمیں سانس نہیں لینا ہےاور طبرانی کی معجم کبیر میں ایک حدیث ہے کہ سونگھ کر کھانا جانوروں کا طریقہ ہے وہ حدیث ضعیف ہے ۔ لا تَشُمُّوا الطعامَ ، كما تشُمُّهُ السباعُ(ضعيف الجامع:6236)
    ترجمہ: سونگھ کر کھانا نہ کھاو جس طرح درندے(حیوان) سونگھ کر کھاتے ہیں۔

    سوال(18): پردے میں رہتے ہوئے مصنوعی بال یا مصنوعی پلک لگانا اور ابروبنانا کیسا ہے؟
    جواب: جو چیزفی نفسہ حرام ہو وہ پردے میں کریں یا مجمع عام میں حرام ہی ہوگی، اس لئے کسی عورت کے لئے جائز نہیں کہ وہ پردے میں یا پردے سے باہر مصنوعی بال اور مصنوعی پلک لگائےاور ابرو بنائے۔

    سوال(19): بعض عورتیں رکارڈشدہ رقیہ پانی کو سناکر اسے دم کی نیت سے پیتی ہیں کیا یہ صحیح ہے؟
    جواب: یہ صحیح نہیں ہے ، رقیہ کی اصل زبان سے پڑھنا ہے ، جو عورت دم کرنا چاہتی ہے وہ اپنی زبان سے مسنون اذکار پڑھ کر جسم پر دم کرے اور خود سے رقیہ نہ کرسکتی ہو تو کسی دوسری عورت سے دم کراسکتی ہے یا دوسرے سے دم کیا ہواپانی اور تیل استعمال کرسکتی ہے۔

    سوال(20): خلع کی عدت میں صحیح بات کیا ہے ایک حیض ہے یا تین حیض ؟
    جواب: جن علماء نے خلع کو طلاق مانا ہے ان کے نزدیک خلع کی عدت طلاق کی طرح تین حیض ہے جبکہ خلع کے بارے میں صحیح بات یہ ہے کہ خلع طلاق نہیں ہے بلکہ فسخ نکاح ہے اور خلع کی عدت ایک حیض ہے اس بارے میں صریح حدیث ہے۔ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی الله عنہا کہتی ہیں:
    أنَّها اختلعت على عَهدِ النَّبيِّ صلى الله عليه وسلم فأمرَها النَّبيُّ صلى الله عليه وسلم، أو أمرت أن تعتدَّ بحيضةٍ(صحيح الترمذي:1185)
    ترجمہ:انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں خلع لیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا (یا انہیں حکم دیا گیا) کہ وہ ایک حیض عدت گزاریں۔
    اس لئے خلع کی صحیح عدت ایک حیض ہے ، اگر خلع حالت حیض میں ہوا تو اگلےحیض تک عدت ہوگی اور حالت طہر میں خلع ہوا تو جب بھی پہلا حیض آئے اس کے اختتام تک عدت ہوگی۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  3. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    800
    بنت حوا کے مسائل اور ان کا شرعی حل (قسط:22)
    جوابات از شیخ مقبول احمد سلفی اسلامک دعوۃ سنٹر، مسرہ- طائف​

    سوال (1):جب میں گھر میں نمازپڑھتی ہوں تو کبھی کبھار گھر میں نامحرم آجاتے ہیں تو کیا نماز میں چہرےکاپردہ کرنا ہوگا اس بات کی جانکاری کے ساتھ کہ ہمارے یہاں مشہور ہے کہ نماز میں چہرے کاپردہ نہیں ہے ؟
    جواب : جہاں بھی اجنبی اور نامحرم کا گزرہو وہاں عورتوں کو اپنے چہرے کا پردہ کرنا لازم ہے کیونکہ اللہ تعالی نے نامحرموں سے پردہ کرنے کا حکم دیا ہے اور یہ حکم نمازوغیرنماز ، حج وعمرہ اور سفر وحضر تمام حالات کو شامل ہے ، اللہ کا فرمان ہے : يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلابِيبِهِنَّ[الأحزاب:59]
    ترجمہ: اے نبی! اپنی بیویوں سے اور اپنی صاحبزادیوں سے اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنے اوپر اپنی چادریں لٹکا لیا کریں (جلباب ایسی بڑی چادر کو کہتےہیں جس سے چہرہ سمیت پورا بدن ڈھک جائے) ۔
    اس لئے جب نماز پڑھتے ہوئے گھر میں نامحرم داخل ہوجائے تو آپ اپنا چہرہ ڈھک لیں اور عورتوں میں جو مشہورہے کہ نماز میں چہرے کا پردہ نہیں یہ حنفیوں کی بات ہے جو قرآن وحدیث کے خلاف ہے۔

    سوال(2): میک اپ کی چیزیں فروخت کرنا کیسا ہے ؟
    جواب: میک اپ کی وہ چیزیں بیچنا جائز ہے جن کا استعمال اسلام میں جائز ہے اور وہ چیزیں بیچنا ناجائز ہے جن کا استعمال اسلام میں منع ہے۔ممنوع چیزوں میں عورتوں کے مصنوعی بال، مصنوعی پلکیں ،خنزیر کی چربی والی مصنوعات، کالا خضاب، ملون کونٹکٹ لینس، کافروں کی مشابہت والی چیزیں ا ور ناچنے گانے والی ، فسق وفجوروالی عورتوں کی مخصوص فحش چیزیں وغیرہ ۔

    سوال(3): کیا کسی طوائف یا ناچنے گانے والیوں کا میک اپ کرنا جائز ہے؟
    جواب: اللہ تعالی کا فرمان ہے: وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ(المائدہ:2) ترجمہ: ظلم اور گناہ کے کام پر ایک دوسرے کی مدد نہ کرو۔
    اللہ کے اس فرمان کی روشنی میں معلوم ہوتا ہے کہ کسی مسلم عورت کے لئے جائز نہیں کہ وہ کسی طوائف ، زانیہ، ناچنے گانے والی اور اجنبی مردوں کے سامنے اپنی زینت کا اظہار کرنے والی عورتوں کا میک اپ کرے کیونکہ ایسا کرنا گناہ کے کام پر تعاون ہوگا اور اللہ نے گناہ کے کام پر کسی کی مدد کرنے سے منع کیا ہے ۔

    سوال (4) کیا خلع کے لئےلڑکی کو ولی کی اجازت لینا ضروری ہے؟
    جواب: خلع لینے کے لئے عورت کو اپنے ولی سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ شرعی وجہ کا ہونا کافی ہے یعنی عورت کے لئے اپنے شوہر سے خلع لینا اسی وقت جائز ہوگا جب کوئی معقول وجہ اور شرعی عذر ہوگا ۔بغیر عذر کے جیسے طلاق دینا گناہ ہے اسی طرح بغیرعذرکے خلع لینا بھی گناہ ہے۔

    سوال(5): جدید ٹکنالوجی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اولاد کی جنس طے کرکے یعنی لڑکا یا لڑکی متعین کرکے پیدا کرنا کیساہے؟
    جواب: ٹکنالوجی کی ترقیات میں ایک ترقی یہ بھی ہے کہ جدید ٹکنالوجی کے ذریعہ جسےلڑکا چاہئےاسے لڑکا اور جسے لڑکی چاہئے اسے لڑکی پیداکرنے کا اختیار حاصل ہوگیا ہے۔یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ کوئی مسلمان بذریعہ جدید علاج اپنے لئے متعین جنس اختیار کرسکتا ہے تو اس کا جواب جاننے کے لئے پہلےیہ جاننے کی ضرورت ہے کہ جنس اختیار کرنے کا جدید طریقہ کیا ہے؟ جدید طریقہ یہ ہے کہ مردوعورت کا نطفہ حاصل کرکے عورت کے تولیدی انڈوں کا ملاپ منی کے ان ذرات سے کرایا جاتا ہےجوکہ مطلوبہ جنس کے حصول کے لئے کارآمد ہوتے ہیں پھر تلقیح کا عمل انجام دے کر اسے عورت کے رحم میں ڈال دیا جاتا ہے۔ اس طریقہ تولید میں ایک شرعی خامی تو یہ ہے کہ مرد کو جلق کرنا پڑتا ہے اور دوسری بڑی خامی یہ ہے کہ عورت کو اپنی شرمگاہ کھولنی پڑتی ہے،ظاہرسی بات ہے بغیرشدیدمجبوری کے یہ عمل جائز نہیں ہوگا۔ ساتھ ہی سماجی اعتبار سے بھی اس کے بڑے مفاسد ہیں اس لئے عام حالات میں جنس اختیارکرناجائز نہیں ہے تاہم اشد ضرورت کے تحت کوئی جنس متعین کرنا چاہے تو جواز کا پہلو نکل سکتا ہے مثلا کسی کومتعدد بیٹیاں ہوں ،ایک لڑکا چاہے یا اس کے برعکس،مزید وضاحت کے لئےمیرامضمون" رحم مادر کی پیوندکاری اسلام کی نظر میں" کا مطالعہ کریں ۔ اس مسئلے میں افضل صورت یہ سمجھتا ہوں کہ اولاد کے لئے اللہ سے دعا کرے جس طرح انبیاء نے دعا کی اوربچے کی پیدائش اور اس کی جنس کا معاملہ اللہ کے سپرد کردے کیونکہ اولاد عطاکرنے والا ، اس سےمحروم کرنے والا وہی ہے اور جنس متعین کرنے والا اصلا وہی ہے،فرمان باری تعالی ہے : لِّلَّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ ۚ يَهَبُ لِمَن يَشَاءُ إِنَاثًا وَيَهَبُ لِمَن يَشَاءُ الذُّكُورَأَوْ يُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَإِنَاثًا ۖ وَيَجْعَلُ مَن يَشَاءُ عَقِيمًا ۚ إِنَّهُ عَلِيمٌ قَدِيرٌ (الشوری:49-50)
    ترجمہ : اللہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی کا مالک ہے جو کچھ چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ جسے چاہتا ہے لڑکیاں دیتا ہے، جسے چاہتاہے لڑکے دیتا ہے، جسے چاہتا ہے لڑکے اور لڑکیاں ملا جلا کر دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے بانجھ کردیتا ہے۔ وہ سب کچھ جانتا اور ہر چیز پر قادر ہے۔
    اگرایک بیوی سے اولاد نہ ہو تو دوسری شادی کرے، دوسری سے بھی اولاد نہ ہو تو تیسری شادی کرے اور تیسری سے اولاد نہ ہو تو چوتھی شادی کرے اور اگر چوتھی سے بھی اولاد نہ ہو تو تقدیر کے لکھے پہ صبر کرے اور اللہ کے فیصلے سے راضی ہوجائے۔

    سوال(6): ایسی مہندی لگانے کا کیا حکم ہے جس میں الکوحل بھی شامل ہو؟
    جواب: کوئی حرج نہیں ہے، الکوحل یہاں کھانے اورپینے کےقبیل سے نہیں ہےبلکہ استعمال کے لئے ہے اور یہ ایک قسم کا کیمیکل ہےجو ضرورت کے تحت مختلف قسم کی چیزوں میں استعمال کیا جاتا ہےالبتہ کھانے پینےمیں نشہ آور ہونے کے سبب ناجائز ہوگا۔اوریہ جو بیان کیا جاتا ہے کہ الکوحل نجس ہے تو اس بارے میں جان لینا چاہئے کہ منشیات حکما نجس ہے نہ کہ معنوی طور پرمثل مشرک کے کہ وہ حکما نجس ہے ، اس کو چھونے سے بدن ناپاک نہیں ہوتا۔

    سوال(7): ہمارے یہاں سامان بیچنے والا ،عورتوں کا بال لیکر گھریلو سامان دیتا ہے کیا ہم یہ کام کرسکتے ہیں؟
    جواب: سرسے لیکر پاؤں تک انسانی جسم کا کوئی عضویاحصہ بیچنا جائز نہیں ہے کیونکہ یہ اللہ کی ملکیت ہے اور پھر اللہ نے اسے تکریم بخشی ہےلہذا کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں کہ وہ عورتوں کا بال نقد یا سامان کے عوض بیچے ،ساتھ ہی ان بالوں کوشیطانی مقاصد کے لئے استعمال کرنے کا بھی خدشہ ہے ۔

    سوال(8): کیا باپ کی جائیداد تقسیم کرنے کے لئے ماں کی وفات کا انتظار کرنا ہوگا؟
    جواب: نہیں ، جس کی جائیداد تقسیم کرنی ہے بس اسی کا وفات پانا ضروری ہے ، اس لئے باپ کا انتقال ہوجائے تو ترکہ تقسیم کرنے کے لئے ماں کی وفات کا انتظار نہیں کیا جائے گابلکہ میت کی تدفین کے بعد بلاتاخیر وراثت تقسیم کردی جائے اور بیوی کو بھی حصہ ملے گاکیونکہ اسلام نے شوہر کے مال میں بیوی کا بھی حصہ مقررکیا ہے۔جب ماں کا انتقال ہوجائے تب اس کی نجی جائیداد اس کے وارثین میں تقسیم کی جائے گی ۔

    سوال(9): بعض عورتیں اپنے گھروں میں برتھ ڈےاور دوسرے فنکشز کے لئے کیک بناکر بیچتی ہیں ، کیا یہ تجارت جائز ہے؟
    جواب: گھروں میں کیک بناکر تجارت کرنا جائز ہے لیکن فسق وفجور اور کفرومعصیت والے فنکشنز کے لئے مخصوص طورپرکیک تیار کرنا جائز نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالی نے گناہ کے کاموں پر تعاون کرنے سے منع کیا ہے ۔اسلام میں سالگرہ منانا جائز نہیں ہے اس لئے اس کام کے لئے کیک تیار کرنا جائزنہیں ہوگا البتہ کیک کی عام تجارت یا جائزدعوتوں کے لئے کیک بنانا جائز ہے۔

    سوال(10): کیا بیٹی فوت ہوجانے سے ساس کے لئے داماد نامحرم ہوجاتا ہے؟
    جواب: ساس محرمات ابدیہ میں سے ہے یعنی بیوی فوت ہوجائے یا اسے طلاق دیدے پھر بھی داماد اپنی ساس سے شادی نہیں کرسکتا ہے۔

    سوال(11): ہمارے یہاںسنارسےمستعمل سونا اورچاندی کے لین دین پر تیس فیصد کٹوٹی کی جاتی ہے کیا ایسا کرنا درست ہے؟
    جواب:سونا کا سونے سے اور چاندی کا چاندی سے لین دین پر کمی زیادتی کرنا جائز نہیں ہے اور نہ ہی ادھاروتاخیر سے معاملہ کرنا جائز ہے ۔ اس معاملہ میں یہ تو طے ہے کہ جس سنار کے پاس جائیں گے وہ پرانا سونا اور چاندی کم ریٹ پر لے گاجوکہ اسلامی اعتبار سے ناجائز شکل ہے اس لئے مستعمل زیورات بدلنے سے بہتر ہے کہ اسےبیچ کر اسی پیسے سے نئے زیورات خرید لئے جائیں، یہ شکل جائز ہوگی ۔یاسونے کے زیورات سے چاندی اور چاندی کے زیورات سے سونا خریدلیں یہ شکل بھی جائز ہےکیونکہ یہاں جنس بدل رہا ہے اس لئے قیمت میں کمی بیشی جائز ہےساتھ ہی یہ بھی دھیان رہے کہ معاملہ نقدی اورفوری طے ہو۔

    سوال(12): کیا حالت جنابت و حیض میں قرآن کریم اور دینی کتابوں کی صفائی کرنااور ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا جائز ہے ؟
    جواب:افضل صورت تویہی ہے کہ جو پاک ہووہی قرآن کی صفائی کرے اور ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرے تاہم ضرورت کے وقت حیض والی عورت دستانہ لگاکر قرآن چھوسکتی ہے اور ایک جگہ سے دوسری جگہ اسے منتقل کرسکتی ہے جیساکہ تلاوت کرنا بھی اس کے لئے جائز ہےلیکن جنبی کا معاملہ الگ ہے ، نبی ﷺ حالت جنابت میں تلاوت نہیں فرماتے ، جب اس حالت میں تلاوت ممنوع ہے تو مصحف چھونا بدرجہ اولی ممنوع ہوگا۔ رہا مسئلہ دینی کتابوں کا تو جنبی ہو یا حائضہ ان کی صفائی ستھرائی کر سکتے ہیں۔

    سوال(13): کرائے والی ماں کی کیا حیثیت ہے یعنی کرائے پر کسی عورت کی کوکھ لے کر بچہ پیدا کرنا کیسا ہے؟
    جواب: اس کو انگلش میں سروگیٹ مدرہوڈکہاجاتا ہے اس کا طریقہ یہ ہے کہ میاں بیوی کا نطفہ حاصل کرکے اسے مصنوعی طریقہ سے باآور کرکے کسی دوسری عورت کے رحم میں رکھا جاتا ہے گویا ایک عورت کی کوکھ کرایہ پر ہوتی ہے جبکہ اس کوکھ میں نطفہ میاں بیوی کا ہوتا ہے۔ یہ سراسر حرام ہے۔ بعض علماء نے سروگیسی میں جواز کا ایک پہلو نکالاہے کہ ایک شخص کو دو بیویاں ہوں تو ایک بیوی اور شوہر کا نطفہ دوسری بیوی کےرحم میں اس کی اجازت سے رکھا جاسکتا ہےمثلا بانجھ بیوی کا بیضہ اور شوہر کا نطفہ لیکراولادجننے والی بیوی کے رحم میں رکھا جائے یا اولاد جننے والی بیوی کا بیضہ اور شوہرکا نطفہ لیکر بانجھ بیوی کے رحم میں رکھاجائے ۔ حقیقت میں جواز کافتوی غلط ہے اور کسی کے لئے ایک بیوی کا بیضہ دوسری بیوی کے رحم میں رکھنا جائز نہیں ہے۔اس مسئلہ پہ رابطہ عالم اسلامی کی اسلامک فقہ اکیڈمی کا سیمینا رہوچکاہےجس کا خلاصہ الاسلام سوال وجواب کے فتوی نمبر 23104میں مذکور ہے۔

    سوال(14): دنیا میں جس عورت کی کسی وجہ سے شادی نہ ہوسکے اسے آخرت میں کیا ملے گا؟
    جواب: اس بارے میں اہل علم نے لکھا ہے کہ جنت میں اس کی شادی ایسے مرد سے کردی جائے گی جس سے اس کی آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچے گی۔

    سوال(15): کیا یہ بات صحیح ہے کہ اللہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی روح خود ہی قبض کی؟
    جواب : نہیں ، ایسی کوئی بات کسی نص سے ثابت نہیں ہے ،یہ لوگوں میں غلط مشہور ہے ۔تفسیرروح البیان میں یہ بات بلاسند منقول ہے اس لئےاس کا کوئی اعتبار نہیں ہے ۔

    سوال(16): عورتوں میں سب سے افضل کون ہے؟
    جواب: شیخ ابن باز سے سوال کیا گیا کہ عورتوں میں علی الاطلاق سب سے افضل کون ہے تو شیخ نے جواب دیا کہ پانچ عورتوں کو افضلیت حاصل ہے ، وہ ہیں خدیجہ، عائشہ، فاطمہ بنت محمد،آسیہ اور مریم۔ان پانچوں میں حضرت عائشہ کو افضلیت حاصل ہے کیونکہ نبی ﷺ کا فرمان ہے کہ تمام عورتوں میں عائشہ کی فضیلت ایسے ہی ہے جیسے ثرید کی فضیلت تمام کھانوپر۔

    سوال(17):ایک جگہ میری بیٹی کا رشتہ لگاہے مگر اس میں مسئلہ یہ ہے کہ لڑکا والے نکاح کرکے تین سال تک رخصتی کرنا نہیں چاہتےاوراس بارے میں ایک مولانا نے بتایا کہ نکاح کرکے چھ ماہ تک رخصتی نہ کرنے سے نکاح ٹوٹ جاتا ہے کیا واقعی دین اسلام میں ایسی بات ہے؟
    جواب: آپ اپنی بیٹی کا عقد کرلیں اور تین سال بغیر رخصتی کے اپنے گھر رکھنا چاہیں تو رکھ سکتے ہیں ،اس سے نکاح نہیں ختم ہوگا ۔ صحیح بخاری میں ہے سیدہ عائشہ سے مروی ہے وہ بیان کرتی ہیں : أنَّ النبيَّ صَلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ تَزَوَّجَهَا وهي بنْتُ سِتِّ سِنِينَ، وبَنَى بهَا وهي بنْتُ تِسْعِ سِنِينَ(صحيح البخاري:5134) ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نکاح کیا تو ان کی عمر چھ سال تھی اور جب ان سے صحبت کی تو ان کی عمر نو سال تھی۔
    اس حدیث سے پتہ چلا کہ نبی ﷺ نے سیدہ عائشہ سے نکاح کے تین سال بعد رخصتی کرائی ، یعنی اس کا مطلب یہ ہوا کہ نکاح کرکے رخصتی نہ کرانے سے نکاح نہیں ختم ہوتاچاہےنکاح پہ کئی سال گزرجائے۔

    سوال(18):حیض کی حالت میں اجر کی نیت سے وضو کرنا یا سونے سے پہلے وضوکرکے سونا کیسا ہے؟
    جواب: نبی ﷺ سے کھانے اور سونے سے قبل حالت جنابت میں وضو کرنا ثابت ہے اور اسی طرح بعض اثر سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام حالت جنابت میں وضو کرکے مسجد میں ٹھہرا کرتے تھے ۔ حالت جنابت میں وضو کرنے سے نجاست میں کمی واقع ہوتی ہے جبکہ حیض میں مسلسل خون جاری رہتا ہے اس وجہ سے اس حالت میں وضو کرنے سے نجاست میں خفت کا امکان نہیں ہے بنابریں حیض کی حالت میں وضو کرنا مفید نہیں ہے اور نہ شریعت میں حیض والی کا وضو کرنا ثابت ہے ۔

    سوال(19):پیٹ آپریشن کی وجہ سے باربارہمبستری کرنے سے پیٹ درد کرتا ہے کیا ایسی صورت میں شوہر کا ہاتھ سے منی خارج کرنا جائز ہے جبکہ بیوی نہ بار بار جماع کرنے دے اور نہ ہی دوسری شادی کی اجازت دے ؟
    جواب: اللہ تعالی فرماتا ہے تمہاری بیویاں تمہاری کھیتیاں ہیں اپنی کھیتوں میں جس طرح چاہو آؤ۔ اس آیت کا مطلب ہے کہ بیوی سے ہمبستری کرنے میں کوئی بھی طریقہ استعمال کرسکتے ہیں جس سے بیوی کا پیٹ درد نہ کرےلیکن جلق (خودلذتی/مشت زنی)کرنا جائز نہیں ہے اور دوسری شادی کے لئے پہلی بیوی سے اجازت لینے کی بھی ضرورت نہیں ہے ۔

    سوال(20): کیا بیٹی اپنے باپ کے سر کا بوسہ لے سکتی ہے ؟
    جواب: جس طرح باپ اپنی بیٹی کے سر کا بوسہ لے سکتا ہے اسی طرح بیٹی بھی اپنے باپ کے سر کا بوسہ لے سکتی ہے ، اس میں شرعا کوئی حرج نہیں ہے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  4. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    800
  5. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    800
    بنت حوا کے مسائل اور ان کا شرعی حل (قسط- ۲۳)
    جواب از مقبول احمد سلفی
    اسلامک دعوۃ سنٹر، مسرہ طائف-سعودی عرب

    سوال(1):عورتوں میں یہ خیال عام ہے کہ بیوہ چار ماہ دس دن کسی اجنبی مرد کے سامنے نہیں آسکتی ہے اور نہ اس سے کوئی بات کرسکتی ہے کیا یہ صحیح ہے؟
    جواب: عورتوں کا یہ خیال غلط ہے بلکہ افسوس کی بات یہ ہے کہ پڑھے لکھے مردوں میں بھی یہ بات عام ہے ، اس سے بھی زیادہ افسوسناک بات تو یہ ہے کہ اگر بیوہ نصف عدت پہ کسی اجنبی کو دیکھ لے تو پھر نئے سرےسے عدت گزارنی ہوگی۔ مجھ سے کتنی عورتوں نے سوال کیا ہے کہ کیا میرا شوہر فون پر بیوہ عورت کی تعزیت کرسکتا ہے؟ اس مسئلے کی حقیقت یہ ہے کہ بغیرپردہ کے عورت کبھی بھی اجنبی مرد کے سامنے نہیں آسکتی ہے اور نہ بلا ضرورت اس سے بات کرسکتی ہے لیکن اگر ضرورت پڑے تو پردے کے ساتھ مرد کے سامنے بھی آسکتی ہے اور اس سے ضرورت کے مطابق بات بھی کرسکتی ہےیعنی پردہ اور گفتگو کا وفات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

    سوال(2):گود بھرائی کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟
    جواب: بے بی شاور (حاملہ عورت کی گودبھرائی)دراصل مغربی تہذیب ہےجو ہندی فلموں اور ٹی وی سیریلوں کے ذریعہ مسلم معاشرے میں رواج پاگیا ہے۔حمل کے ساتویں یا آٹھویں ماہ میں گودبھرائی کی تقریب منعقد کی جاتی ہے جس میں عورت ومرد کے اختلاط کے ساتھ ناچ وگانے انجام دئے جاتے ہیں ، تحائف اور پھلوں سے حاملہ کی گود بھری جاتی ہےاور زچہ بچہ کے نام پر خوشی منائی جاتی ہے۔ غرض یہ کہ مختلف علاقوں میں مختلف طرح سے بچے کی آمد پر اس کا خیرمقدم اور حاملہ کی خدمت میں مبارکبادی پیش کی جاتی ہے۔
    قرآن نے حمل کے مرحلے کو تکلیف درتکلیف کا نام دیا ہے یعنی عورت حالت حمل میں بہت تکلیف سے گزر رہی ہوتی ہےخصوصا حمل کے آخری مرحلے میں، اس تکلیف کے باعث اسلام نے عورت کا درجہ اونچا کیا ہے بلکہ زچگی شدید تکلیف کا مرحلہ ہے اس میں عورت کی جان بھی جاسکتی ہے ، اس موت کو شہادت کا مقام ملا ہے۔ ان باتوں کو مدنظر رکھنے سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ حمل کے واسطے سادگی والی خوشی کی تقریب بھی صحیح نہیں اورفحش ومنکرات والی تقریب تو سرے سے جائزہی نہیں ہے، ساتھ ہی اس میں غیراقوام کی مشابہت بھی ہے ۔ آپ خوشی منائیں اور مناسب صورت میں دعوتی تقریب بھی منعقد کریں مگر بچے کی پیدائش کے بعد اس کے ساتویں دن جسے اسلام نے عقیقہ کا نام دیا ہے۔

    سوال(3): جب بیوہ کی دوسری شادی ہوگی اس وقت سابقہ شوہر کی وراثت سے حصہ نہیں لےسکتی ہے؟
    جواب: شوہر کی وفات کے بعد بلاشبہ بیوہ کا اس کے شوہر کی جائداد میں حصہ ہے ، اولاد ہو تو آٹھواں اور اولاد نہ ہو چوتھا۔لہذا میت کی وراثت تقسیم کرنے والوں کو بیوہ کا بھی حصہ نکالنا چاہئے ۔ یہاں یہ واضح رہے کہ بیوہ کی وراثت کا دوسرے نکاح سے کوئی تعلق نہیں ہےیعنی بیوہ دوسرا نکاح کرے تو وراثت نہیں ملے گی اور نکاح نہ کرے تو وراثت ملے گی ،شرعا اس بات کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔

    سوال(4): کیا بعض عورتوں کو نبوت ملی تھی جیسے مریم علیہا السلام ؟
    جواب: بعض علماء (ابوالحسن اشعری، قرطبی اور ابن حزم وغیرہم) نے کہا ہے کہ بعض عورتوں کو نبوت ملی ہے ، ان میں حوا، سارہ، ہاجرہ، ام موسیٰ، آسیہ زوجہ فرعون اور مریم علیہن الصلوٰۃ و السلام کا نام آتا ہے۔یہ علماء ان نصوص سے استدلال کرتے ہیں جن میں ان عورتوں کی بابت وحی، اصطفاء(چن لینا) اور فضیلت کا ذکر ہے جیساکہ ام موسی کے متعلق آیا ہے ۔ وَأَوْحَيْنَآ إِلَىَ أُمّ مُوسَىَ(القصص:7) ترجمہ: ہم نے موسی علیہ السلام کی ماں کو وحی کی ۔
    مریم علیہا السلام کے متعلق آیا ہے ۔يَا مَرْيَمُ إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَاكِ[آل عمران:42)
    ترجمہ: اے مریم! اللہ تعالی نے تجھے چن لیا۔
    نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:كَمَلَ مِنَ الرِّجالِ كَثِيرٌ، ولَمْ يَكْمُلْ مِنَ النِّساءِ إلَّا مَرْيَمُ بنْتُ عِمْرانَ، وآسِيَةُ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ(صحيح البخاري:3769)
    ترجمہ: مردوں میں سے تو بہت سے کامل ہو گزرے ہیں لیکن عورتوں میں مریم بنت عمران اور فرعون کی بیوی آسیہ کے سوا اور کوئی کامل پیدا نہیں ہوئی۔
    یہ اور ان جیسے دیگر نصوص میں کہیں عورتوں کے متعلق نبوت کی صراحت نہیں ، اس وجہ سے ہم ان کی فضیلت دنیا کی خواتین پر تسلیم کرسکتے ہیں مگر نبوت نہیں تسلیم کرسکتے ہیں بلکہ ایک آیت میں صراحت کے ساتھ مذکور ہے کہ نبوت مردوں کو ہی ملی ہے۔ اللہ کا فرمان ہے:
    وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِيْٓ اِلَيْهِمْ مِّنْ اَهْلِ الْقُرٰى(یوسف: 109)
    ترجمہ: ہم نے آپ سے پہلے صرف مردوں کو ہی پیغمبر بنا کر بھیجا تھا جنکی طرف ہم وحی بھیجا کرتے تھے۔

    سوال(5): عورتوں کے لئے اپنے گھنگھرالے بالوں کو سیدھا کرنا یا سیدھے بالوں کو گھنگھرالا بنانا کیسا ہے ؟
    جواب : بسا اوقات بعض عورتوں کے بال طبعی طور پر گھونگھرالے ہوتے ہیں ایسے میں بالوں کو سیدھا کرنا ایک ضرورت ہے اس میں کوئی حرج ہی نہیں ہے البتہ بلاضرورت زینت کے مقصد سے سیدھے بال کو گھونگھرالےبنوانا شوہر کے واسطے ہو تو کوئی حرج نہیں ہے لیکن لوگوں کو مائل کرنےاور غیروں کی مشابہت اختیار کرنے کی وجہ سے ہو تو جائزنہیں ہے ۔(ماخوذ از مسلم خواتین کے سر کے بال کے احکام-مقبول احمد سلفی)

    سوال(6): کیا اندھے مرد سے بھی پردہ کیا جائے گا؟
    جواب: اندھے سے پردہ نہیں ہے کیونکہ پردہ کرنے کا مقصداجنبی مردوں کی نظر سے بچنا ہے جیساکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
    إنَّما جُعِلَ الِاسْتِئْذَانُ مِن أجْلِ البَصَرِ(صحيح البخاري:6241)
    ترجمہ: اجازت مانگنا تو ہے ہی اس لیے کہ (اندر کی کوئی ذاتی چیز)نہ دیکھی جائے۔
    اوراس بات پر صریح دلیل بھی موجودہے کہ اندھے سے پردہ نہیں ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ بنت قیس سے جب اس کے شوہر نے اسے طلاق دی تو فرمایا:اعْتَدِّي عِنْدَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ، فإنَّه رَجُلٌ أَعْمَى تَضَعِينَ ثِيَابَكِ(صحيح مسلم:1480)
    ترجمہ؛ تم ابن ام مکتوم کے گھر عدت پوری کرو اس لیےکہ وہ ایک اندھے آدمی ہیں وہاں تم اپنے کپڑے اتار سکتی ہو۔
    ابو داود(4112)، ترمذي(2778)، اور مسند احمد (26579) وغیرہ کی حدیث جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم ام سلمہ اور میمونہ رضی اللہ عنہما سے فرماتے ہیں کہ تم دونوں ابن ام مکتوم سے پردہ کرو۔ یہ حدیث ضعیف ہے۔ دیکھیں :ضعيف أبي داود : 4112

    سوال(7): تاخیر سے مہر کی ادائیگی کے وقت ، موجودہ زمانے کے حساب سے مہر دینا ہوگا یا پہلے والا ہی دینا ہے؟
    جواب :پہلی بات تو یہ ہے کہ کسی کے لئے مناسب نہیں ہے کہ وہ مہر کی ادائیگی میں بلاوجہ تاخیر کرے تاہم مجبوری ہو تو وسعت ملتے ہی ادا کردے اور مہر کی ادائیگی تاخیر کی صورت میں بھی اتنا ہی ادا کیاجائے گا جتنا نکاح کے وقت طے کیا گیا تھا۔

    سوال(8): عورت کا ٹخنے سے اوپر شلوار پہننے کا کیا حکم ہے؟
    جواب: عہد رسول میں خواتین ایسے کپڑے پہنتی تھیں جو زمین سے گھسٹتے مگر آج کل کی خواتین فیشن کے چکر میں عریاں لباس لگارہی ہیں ، ٹخنے سے اوپر شلوار کا پہننا بھی ننگے پن میں شامل ہوگا کیونکہ یہ شرعی لباس کی مخالف اور فتنے کا سبب ہے۔ عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ کی ایک ام ولد سے روایت ہے کہ میں نے ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا سے کہا:
    إنِّي امرأةٌ أطيلُ ذَيلي وأمشي في المكانِ القذرِ ؟ فقالت : قالَ رسولُ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ عليهِ وسلَّمَ يطَهرُه ما بعدَه(صحيح الترمذي:143)
    ترجمہ: میں لمبا دامن رکھنے والی عورت ہوں اور میرا گندی جگہوں پر بھی چلنا ہوتا ہے، (تو میں کیا کروں؟) انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا ہے:اس کے بعد کی (پاک) زمین اسے پاک کر دیتی ہے۔
    اسی طرح عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں:
    رخَّصَ رسولُ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ علَيهِ وسلَّمَ لأمَّهاتِ المؤمنينَ في الذَّيلِ شبرًا ، ثمَّ استَزدنَهُ ، فزادَهُنَّ شبرًا ، فَكُنَّ يُرسلنَ إلينا فنذرعُ لَهُنَّ ذراعًا(صحيح أبي داود:4119)
    ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امہات المؤمنین (رضی اللہ عنہن) کو ایک بالشت دامن لٹکانے کی رخصت دی، تو انہوں نے اس سے زیادہ کی خواہش ظاہر کی تو آپ نے انہیں مزید ایک بالشت کی رخصت دے دی چنانچہ امہات المؤمنین ہمارے پاس کپڑے بھیجتیں تو ہم انہیں ایک ہاتھ ناپ دیا کرتے تھے۔
    آج کی مسلمان عورتیں ذرا ان احادیث پہ غور کریں کہ عہد رسول کی خواتین کا لباس کیسا تھا اور پردہ سے کس قدر محبت تھی ؟ جب رسول اللہ نے ایک بالشت دامن لٹکانے کی اجازت دی تو عورتوں نے اس سے زیادہ کی خواہش ظاہرکیں اور آج کل کی خواتین کی خواہش فاحشہ عورتوں کی نقالی کرنا ہے ۔

    سوال(9): ایک عورت کی حالت حمل میں طلاق ہوئی ، اس عورت سے بچہ ساقط کروالیا، اب اس کی عدت کیا ہوگی؟
    جواب: اس میں دیکھنا یہ ہے کہ بچے کے اعضا ء مثلا ناک ،کان، آنکھ ، سرظاہر ہوئے یا نہیں ؟ عموما چار ماہ بعد اعضاء ظاہر ہوجاتے ہیں ، اگر اعضاء ظاہر ہوگئے تو جاری ہونے والا خون نفاس کے حکم میں ہےاور بچے کے لئے غسل، تکفین ،جنازہ اور تدفین ہے اور طلاق کی عدت ختم ہوچکی ہے لیکن اگر اعضاء ظاہر نہیں ہوئے تو پھر طلاق کی عدت تین حیض گزارنی ہے ۔

    سوال(10): کیا دلہن شادی کے روز دو تین وقت کی نماز ایک ساتھ ادا کرسکتی ہے کیونکہ وقت پر پڑھنا مشکل ہے؟
    جواب: اللہ کا فرمان ہے:اِنَّ الصَّلَاةَ کَانَتْ عَلَی الْمُوٴمِنِیْنَ کِتَاباً مَّوْقُوْتاً (النساء: ۱۰۳)بے شک نماز اہلِ ایمان پرمقررہ وقتوں میں فرض ہے۔اس فرمان کی روشنی میں ہرنماز کو اپنے اپنے وقت پہ ادا کرنا ضروری ہے اورشریعت میں ایسی کوئی دلیل نہیں ہے کہ نکاح کی وجہ سے کئی نمازوں کو ایک ساتھ جمع کرکے پڑھی جائے۔ جنگ سے زیادہ مشکل کا وقت کون سا ہوسکتا ہے ، حالت جنگ میں بھی امکانی حد تک وقت پر ہی نماز ادا کرنی ہے۔اس لئے دلہن کو چاہئے کہ وقت پر ہر نماز پڑھے اور ایسا کوئی تکلف والا کام نہ کرے جس سے نماز چھوڑنی پڑے ۔

    سوال(11): کیا مسلم لڑکی بھاگ کر غیرمسلم سے شادی کرنے سے مرتد ہوجاتی ہے؟
    جواب: غیروں کے ساتھ بھاگنے اور شادی کرنے کے مختلف اسباب ہوسکتے ہیں مثلا بہکاوا، عشق ومحبت اور جبر واکراہ وغیرہ۔جہالت وجبر کی حالت میں کفر کرنے پر مرتد کا حکم نہیں لگے گا لیکن برضا ورغبت کفریہ دین قبول کرنے یا پسند کرنے کا علم ہوجائے تو یقینا وہ اسلام سے خارج اور مرتد مانی جائے گی۔ایسی کسی لڑکی سے بات ہوسکے تو ہم حکمت سے اسلام کی حقانیت بتائیں اور توبہ کراکر اسلام میں داخل کرانے کی کوشش کریں۔

    سوال(12): اجنبی مرد سے عورت کا رقیہ کروانا کیسا ہے ؟
    جواب: اس میں کوئی حرج نہیں ہے تاہم شرعی حدود کا خیال رکھنا ضروری ہے، معالج کے ساتھ خلوت نہ ہویعنی مریضہ کے ساتھ کوئی اور بھی ہو اور معالج عورت کا بدن چھو کر علاج نہ کرے بلکہ پڑھ کر بغیر چھوئے جسم پردم کرے یا کھانے وپینے والی چیز میں دم کرکے دے۔اسی طرح ایسے مردوں کے پاس بھی نہ جائے جو شرکیہ وبدعیہ دم کرتے ہوں۔

    سوال(13): والد ووالدہ کے چچا اور ماموسے پردہ کیا جائے کہ نہیں ؟
    جواب: والد ووالدہ کے چچا اور مامو عورت کے محارم ہیں لہذا ان سے پردہ نہیں کیا جائے گا۔

    سوال(14): سونے کا ہار قسط پر ملتاہے، ہم نے جو قیمت ایک بار متعین کرلی اب وہی جمع کرنی ہے خواہ سونے کی قیمت گرتی اور بڑھتی ہی کیوں نہ رہے۔کیا اس طرح کا ہار خریدا جاسکتا ہے؟
    جواب: سونے کی خرید وفروخت میں اسلام کا ایک ضابطہ یہ بھی ہے کہ سونا ادھار نہیں خریدا جائے گا بلکہ مکمل قیمت دے کر فورا سونے پر قبضہ حاصل کیا جائے گااس لئے قسطوں پہ بکنے والے ہار خریدنا جائز نہیں ہے کیونکہ یہاں یکبارگی مکمل قیمت ادا نہیں کی جارہی ہے۔

    سوال(15): شادی کے وقت ولی راضی نہیں تھامگر چند دنوں بعد وہ راضی ہوگیا ،کیا نکاح دوبارہ کرنا پڑے گا؟
    جواب: نہیں ، وہی نکاح کافی ہے۔

    سوال(16): جوائنٹ فیملی میں شوہر کے انتقال کے بعد بہو کو کچھ بھی نہیں ملتا ایسا کیوں ہے ؟
    جواب: اولا جوائنٹ فیملی اسلام کا حصہ نہیں ہے بلکہ ہمارا بنایا ہوا نظام ہے ، اس نظام میں جہاں متعدد خرابیاں ہیں وہی وراثت کے معاملے میں بیحد خرابی ہے۔ جہاں تک شوہر کے انتقال پر بہو کو کچھ نہ ملنے کا معاملہ ہے وہ جوائنٹ فیملی کی خرابی کی وجہ سے ہے ۔ یہ بات صحیح ہے کہ اگر بیٹا باپ کی زندگی میں وفات پاجائے تو وہ بات کی وراثت میں حقدار نہیں ہوگا لیکن اگر بیٹا جوائنت فیملی سے الگ ہوتا تو ضرور اس کے پاس کچھ نہ کچھ جائیداد ہوتی جو بیوی اور بچوں کو بھی ملتی مگر جوائنٹ فیملی میں ایک بیٹے کی کمائی پر سارے بیٹوں کا حق ہوتا ہے، یہ شرعا غلط ہے، اس لئے جوائنٹ فیملی کی مروجہ شکل کو ختم کرنا چاہئے۔

    سوال(17): مشترکہ خاندانی نظام میں پردے کا اہتمام ناممکن ہوتا ہے ایسی صورت میں شوہراگر استطاعت رکھتا ہو تو الگ گھر کا مطالبہ کرنا شریعت کے خلاف ہے؟
    جواب: عورت کو اگر مشترکہ فیملی کے تحت دین پر عمل کرنے میں دشواری ہو تو الگ جگہ یا الگ گھر کے مطالبے میں کوئی حرج نہیں ہےبلکہ شوہر پربیوی رہائش اور نان ونفقہ کا انتظام کرنا واجب ہے ۔جوائنٹ فیملی والا گھر باپ کی زندگی میں کسی بیٹے کا نہیں ہے اس لئے عورت اگرالگ گھر کامطالبہ کرتی ہے اس حال میں کہ شوہر الگ گھر لے بھی سکتا ہے توشوہر کوحسب استطاعت بیوی کا مطالبہ پورا کرنا چاہئے۔

    سوال(18): کیا وضو میں کان کا مسح ضروری ہے جبکہ عورتوں کے کان میں بالی لگی ہوتی ہے؟
    جواب: وضو میں کان کا مسح بعض کے نزدیک مستحب ہے مگر صحیح بات یہ ہے کہ واجب ہے کیونکہ یہ سر کا حصہ ہے، شیخ ابن باز اسی کے قائل ہیں۔
    سنن نسائی میں رسول اللہ کی بابت منقول ہے:ثمَّ مسحَ برأسِه وأذنيهِ باطنِهما بالسَّبَّاحتينِ وظاهرِهما بإبهاميهِ(صحيح النسائي:102)
    ترجمہ: پھر آپ نے اپنے سر اور اپنے دونوں کانوں کے اندرونی حصہ کا شہادت کی انگلی سے اور ان دونوں کے بیرونی حصہ کا انگوٹھے سے مسح کیا۔
    کان کا مسح کرتے وقت کان کی بالی اتارنے کی ضرورت نہیں ہے ، شہادت کی دونوں اگلیوں سے اندرون کان اور انگوٹھے سے کان کے باہری حصے پر مسح کرلیں۔

    سوال(19): ایک عورت نے اپنے شوہر سے متعدد دنوں تک فون پر خلع کا مطالبہ کیا ، شوہر نے چند دن بعد مطالبہ قبول کرتے ہوئے واٹس ایپ پہ خلع کی رضامندی کا پیغام بھیج دیا کیا یہ خلع ہوگیا، واضح رہے کہ جس وقت شوہرنے خلع کی رضامند ی کا پیغام بھیجا عین اس وقت عورت نے مطالبہ نہیں کیا تھا نہ ہی شوہر نے اس وقت مطالبہ کی جانکاری لی تھی گویا مطالبہ اور شوہر کی رضامندی میں کئی گھنٹے کا فرق ہے؟
    جواب : یہ خلع واقع نہیں ہوا کیونکہ عین خلع کی رضامندی کے وقت بیوی کی طرف سے خلع کا مطالبہ یا رضامندی موجود نہیں ہے ۔ خلع صحیح ہونے کے لئے بیک وقت میاں بیوی دونوں کی طرف سے رضامندی کا پایا جانا ضروری ہے جوکہ یہاں مفقود ہے۔

    سوال(20): کپڑے کو دھوتے ہوئے اسے پاک کرنے کا کیا طریقہ ہے؟
    جواب:اسلام میں نظافت کی بڑی اہمیت ہے ، اس لئے بدن ، کپڑا اور جگہ صاف ستھرا رکھنے کا حکم دیا ہے ۔ کپڑا اصلا پاک ہوتا ہے ، اکثر و بیشتر آدمی کپڑا میلا ہونے کی وجہ سے دھلتا ہے نہ کہ ناپاک ہونے کی وجہ سے ۔
    اگر کوئی محض میل کچیل کی وجہ سے دھو رہا ہے تو صابن وغیرہ سے اسے صاف کرکے اور پانی سے صابن کے اثرات زائل کرلے،کافی ہے ۔
    اوراگر کپڑا ناپاک ہونے کی وجہ سے دھل رہا ہے تو جس جگہ گندگی لگی ہے اسے پہلے صاف کرلے۔ گندگی والی جگہ جتنے پانی سے صاف ہو صاف کرے تاآنکہ بدبو اور اثرات زائل ہوجائیں۔ اس میں ایک بار دو بار کی کوئی تعیین نہیں ہے ، یہ صفائی پہ منحصر ہے ۔ پھر بقیہ کپڑا دھلے ۔
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں