کیا یہ بدترین لوگوں کا زمانہ ہے ؟

ابوعکاشہ نے 'مضامين ، كالم ، تجزئیے' میں ‏جنوری 7, 2021 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,897
    ہمارے نوجوان علماء کو پکا یقین ہے کہ جس دور میں ہم موجود ہیں یہ بدترین لوگوں کا دور ہے۔ آج سے سو سال قبل کے لوگ ہمارے دور کے انسان سے بہت بہتر تھے۔ اور ان سے سو سال پیچھے والے ان سے بہتر تھے۔ لھذا پچھلوں نے جو کچھ لکھا ہے وہ صدق کے اعلی معیار پر ہے، اور جھوٹ بس ہمارے دور میں ہی بولا جا رہا ہے۔ اسی ضمن میں یہ بات بھی طے شدہ سمجھ لی جاتی ہے کہ آج کا عالم جتنا بھی بڑا ہوجائے وہ سو سال قبل والے عالم سے علمی صلاحیت میں کمتر ہی ہوگا۔ یعنی یہ سوچنا بھی گناہ ہے کہ مفتی تقی عثمانی یا اس دور کا کوئی بھی اور عالم دیوبند کے دور اول کے علماء سے علم میں فائق بھی ہوسکتا ہے۔
    ایک سادہ سی بات سمجھاتا ہوں۔ ہمارے دور میں دشنام کے لئے سوشل میڈیا میسر ہے تو اس کا یہ مطلب کہاں سے نکل آیا کہ پچھلے دور والوں کا جو میڈیا تھا وہ اس کا استعمال دشنام کے لئے نہیں کر رہے تھے ؟ آغا شورش کاشمیری 1962ء کی تقریر میں کہتے ہیں "میرے مخالفین کی جانب سے میرے گھر کے پتے پر میری بیٹی کے نام غلیظ خط آتے ہیں جو میں اس سے چھپاتا ہوں، یہ مجھے اس انداز سے اذیت دینا چاہتے ہیں" گویا 1962ء میں ڈاک اس مقصد کے لئے استعمال ہورہی تھی جس کے لئے آج سوشل میڈیا استعمال ہورہا ہے۔ اسی طرح مولانا شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ کے گھر میں مدنی گروپ والے جو گندے خطوط پھینکا کرتے تھے وہ تاریخ کا باقاعدہ حصہ ہیں۔ یہ سب بھی چھوڑ دیجئے۔ آپ اپنے دور کے درباری مولوی طاہر اشرفی کا تقابل عباسی یا اموی خلفاء کے دربار میں بیٹھے درباری مولویوں سے کرکے دیکھ لیجئے۔ وہ قرون اولی والا درباری مولوی اپنے عہد کے ائمہ کو بادشاہ کے ذریعے قتل کرانے سے بھی دریغ نہ کرتا تھا۔ جبکہ قید و بند اور کوڑوں کی سزائیں تو عام سی بات تھی جو وہ درباری ملا علمائے حق کو دلوایا کرتے تھے۔ اور آج کے طاہر اشرفی یا طارق جمیل کی کل واردات ایک تقریر اور اس کا معاوضہ ہوتا ہے۔ وہ بندے نہیں مرواتے۔ نہ ہی اپنے مخالف علماء کو قید کروا کر ان پر تشدد کرواتے ہیں۔
    سب سے بڑی بات یہ کہ جنرل مشرف کے مظالم کا اس حجاج بن یوسف کے مظالم سے تقابل کرکے دیکھ لیجئے جس نے تین دن تک عبد اللہ ابن زبیر رضی اللہ تعالی عنہ کی لاش حرم کے دروازے پر لٹکائے رکھی تھی۔ ہمارے دور میں 22 سالہ اسامہ کو 22 گولیاں ماری گئیں تو پوری قوم سراپا احتجاج ہے جبکہ حجاج نے بیچ چوراہے سعید ابن جبیر جیسے بڑے محدث کی گردن مار دی اور کسی کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔ سو یہ بات تو بلا شک و شبہ تسلیم کی جاسکتی ہے کہ معاشرے کا مجموعی رجحان پچھلے زمانوں میں دینی لحاظ سے بہت بہتر تھا۔ لیکن یہ کہ وہ سب دودھ کے دھلے تھے، خیر کے سوا کچھ نہ کرتے تے تھے اور سچ کے سوا کچھ نہ بولتے تھے یہ بات خلاف واقعہ ہے۔ ایسی بے شمار خرابیاں ہیں جو آج موجود ہیں مگر پچھلے ادوار میں نہیں تھیں۔ مگر ایسی بے شمار خوبیاں بھی ہیں جو آج موجود ہیں اور پچھلے ادوار میں نہ تھیں۔ مثلا عالم دین کو اس کے علمی موقف کے سبب قید کرنا، کوڑے مارنا یا جیل میں زہر دیدینا۔ یہ ساری چیزیں آج کے دور میں ممکن نہیں۔ آج اگر کوئی مولوی گرفتار ہوتا ہے تو اپنے علمی موقف کے سبب نہیں بلکہ کسی جرم یا شرپسندی میں مبتلا ہونے کے باعث ہوتا ہے۔
    عمران خان مرا جا رہا ہے کہ کسی طرح مولانا فضل الرحمن کو ان کے سیاسی موقف کے سبب نیب سے اٹھوا لے مگر اس کی ہمت ہی نہیں ہو رہی۔ کیوں ؟ کیونکہ اسے پتہ ہے کہ عوامی ردعمل آئے گا۔ کیا عوامی ردعمل والی یہ سہولت جیل میں فوت ہونے والے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کو میسر تھی ؟ نہیں ! وہ بھولے لوگ تو بادشاہ کو ظل اللہ قرار دے کر مظالم کا کھلا لائسنس پکڑا کر خود "غیر جانبدار" ہوجاتے تھے۔ آج کے دور میں کوئی مائی کا لعل کسی ٹیوشن پڑھانے والے قاری کے ساتھ بھی وہ سلوک کرسکتا ہے جو معتصم نے امام احمد ابن حنبل کے ساتھ سر دربار کوڑے برسا کر کیا تھا ؟ سو نوجوان علماء سے درخواست ہے کہ مطالعے کی عادت ڈالیں اور اپنی سوچ کے زاویے درست خطوط پر استوار فرمائیں۔ اور ہاں ! یہ جو پچھلوں کی کتابوں میں آپ کو کرامتوں کے عجیب عجیب قصے ملتے ہیں ان کے چکر میں پڑنے سے گریز کیجئے۔ اگر حجاج بن یوسف اور معتصم باللہ جیسے سفاکوں کے دور میں کرامتیں ظاہر ہوسکتی تھیں تو آج بھی ظاہر ہوجاتیں۔ قصے کہانیوں کے بجائے علم پر توجہ مرکوز رکھئے۔

    بشکریہ ۔ رعایت اللہ فاروقی ۔
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں