اقسامِ محبت

اسرار حسین الوھابی نے 'مَجلِسُ طُلابِ العِلمِ' میں ‏فروری 3, 2021 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. اسرار حسین الوھابی

    اسرار حسین الوھابی رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مئی 18, 2020
    پیغامات:
    32
    اقسامِ محبت

    تحریر: ایچ ایف ذیشان (حافظ ہدایت اللہ فارس)

    بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

    محبت کی دو قسمیں ہیں :

    (1) مشترک محبت
    (2) خاص محبت


    (1) مشترک محبت کی پھر تین قسمیں ہیں:

    ١- طبعی محبت، جیسا کہ بھوکے کو کھانے سے اور پیاسے کو پانی سے محبت ہوتی ہے۔ اس قسم کی محبت کسی تعظیم کو مستلزم نہیں۔

    ٢- دوسری شفقت ورحمت کی محبت، جیسے باپ کو بیٹے سے محبت ہوتی ہے، یہ محبت بھی مستلزم تعظیم نہیں۔

    ٣- تیسری انسیت والفت کی محبت، جیسا کہ ان لوگوں کی محبت جو کسی صنعت یا تجارت وغیرہ میں مشترک ہوتے ہیں یا جیسے بھائی کو بھائی سے محبت ہوتی ہے۔

    مشترک محبت کی یہ تینوں اقسام مخلوق میں پائی جاتی ہیں، اور ان کا مخلوق میں پایا جانا اللہ تعالی کی محبت میں شرک نہیں کہلائے گا۔ اسی لیے رسولﷺ مٹھاس اور شہد سے محبت کیا کرتے تھے۔

    (صحیح بخاری، کتاب الطلاق: ٥٢٦٨)

    اور اپنی بیویوں سے بھی محبت کرتے تھے اور بیویوں میں سے سب سے زیادہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے محبت کیا کرتے تھے۔ اپنے صحابہ سے بہت زیادہ محبت کرتے، اور ان میں سب سے زیادہ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے محبت کیا کرتے تھے۔

    (صحیح بخاری، کتاب فضائل الصحابہ: ٣٦٦٢، ٢٣٨٤)

    2- خاص محبت سے مراد وہ محبت ہے جو اللہ تعالی کے علاوہ کسی کے لیے جائز نہیں، چنانچہ اگر کسی شخص نے محبتِ خاصہ کا حق اللہ تعالی کے سوا کسی اور کو دیا تو یہ شرک ہوگا، جسے اللہ معاف نہیں فرماتا۔ اس خاص محبت سے مراد محبتِ عبودیت ہے جو اس کے سامنے ذلت، عاجزی، تعظیم، کمالِ اطاعت اور اسے ہر ایک پر تقدیم وترجیح دینے کو مستلزم ہے۔

    اس محبت کا غیر اللہ کے ساتھ تعلق جوڑنا قطعی ناجائز ہے، چنانچہ مشرکین کے اسباب شرک میں سے ایک انتہائی نمایاں سبب یہ تھا کہ انہوں نے اللہ تعالی اور اپنے معبودانِ باطلہ کے درمیان ایک جیسی محبت پیدا کی ہوئی تھی۔

    اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

    وَمِنَ ٱلنَّاسِ مَن یَتَّخِذُ مِن دُونِ ٱللَّهِ أَندَادࣰا یُحِبُّونَهُمۡ كَحُبِّ ٱللَّهِۖ....

    ماخوذ از: توحيد إله العالمين ص: ٤١٢
     
    • مفید مفید x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں