ایمان کی اہمیت اور اصولِ ایمان

اسرار حسین الوھابی نے 'اتباعِ قرآن و سنت' میں ‏مارچ 28, 2021 کو نیا موضوع شروع کیا

Tags:
  1. اسرار حسین الوھابی

    اسرار حسین الوھابی رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مئی 18, 2020
    پیغامات:
    35
    ایمان کی اہمیت اور اصولِ ایمان

    بسم اللہ الرحمن الرحیم


    ایمان اسلام کی بنیاد اور اساس ہے۔ ایمان کی بنیاد پر ہی دین اسلام کی عمارت استوار ہوتی ہے۔ ایمان کی بنیاد جس قدر گہری، مضبوط اور صحیح ہوگی اسی قدر اسلام کی عمارت مضبوط قائم ہوگی۔ جس طرح بنیاد کے بغیر عمارت قائم نہیں رہ سکتی جس طرح درخت کی جڑ کے بغیر درخت قائم نہیں رہ سکتا اسی طرح ایمان کی صحت وسلامتی کے بغیر اسلام قائم نہیں رہ سکتا۔ ایمان ہی اسلام کے عقیدہ توحید اور دیگر تمام عقائد کی بنیاد ہے۔

    ایمان اللہ تعالیٰ کی کامل پہچان ہے جس کا اثبات اور گواہی بندے کا دل، زبان اور عمل دیتے ہیں اور دل، زبان اور باقی تمام اعضاء کے اعمال، ایمان سے مربوط اور اسی کی شرح و بسط ہیں۔

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے جس کے مطابق اسلام کی مثال ایک عمارت کی سی ہے۔ جس کی بنیاد ایمان ہے اور اس عمارت کے ستون نماز، روزہ، حج اور زکوۃ ہیں۔ اور اس کی چھت جہاد فی سبیل اللہ ہے۔

    اسلام اور اعمال صالحہ کی قبولیت کے لیے ایمان بنیادی شرط ہے۔ جس کا ایمان صحیح نہیں ہوگا اس کا اسلام بھی قبول نہیں ہوگا۔


    ارشاد باری تعالیٰ ہے :

    مَنْ عَمِلَ صَلِحًۭا مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌۭ فَلَنُحْيِيَنَّهُۥ حَيَوٰةًۭ طَيِّبَةًۭ ۖ وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَجْرَهُم بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ ‎ (النحل:۹۷)

    جو نیک عمل کرے گا مرد ہو یا عورت اور وہ صاحب ایمان بھی ہو تو ہم اسے(دنیا میں) ضرور ایک پاکیزہ (اور آرام کی) زندگی عطا کریں گے اور (آخرت میں) ان کے اعمال کا نہایت اچھا صلہ دیں گے۔


    اور جس کا ایمان نہیں ہوگا یا صحیح سلامت نہیں ہوگا اس کے بارے میں اللہ کا فرمان ہے:

    وَمَن لَّمْ يُؤْمِنۢ بِٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ فَإِنَّآ أَعْتَدْنَا لِلْكَفِرِينَ سَعِيرًۭا (الفتح: ۱۳)

    اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہیں لایا تو بلاشبہ ہم نے ایسے کافروں کے لیے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے۔


    ایمان کی تعریف

    "التصدیق بالقلب والاقرار باللسان والعمل بالجوارح"

    دل سے تصدیق کرنا، زبان سے اقرار کرنا اور اعضاء سے عمل کرنا۔


    شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

    ایمان قول اور عمل ہے، قول دل (کا اعتقاد) اور زبان (کا اقرار) اور عمل دل، زبان اور اعضائے جسمانی کا، اور یہ کہ ایمان اطاعت سے بڑھتا اور زیادہ ہوتا ہے اور معصیت سے اس میں کمی واقع ہوتی ہے…(اس پر) تمام صحابہ، تابعین، ائمہ سنت وحدیث اور جمہور فقہاء و صوفیہ، امام مالک، امام سفیان ثوری، امام اوزاعی، امام حماد بن زید، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل وغیرہ ایسے امام اور اہل کلام کے محقیقن سب کے سب اس بات پر متفق ہیں کہ ایمان اور دین قول اور عمل ہے۔ صحابہ کرام وغیرہ ایسے سلف کے یہی الفاظ ہیں اگرچہ کسی جگہ ایمان سے عمل کا مغایر (یعنی صرف قول) مراد ہو سکتا ہے لیکن سب کے سب اعمال صالح دین اور ایمان کے معنی میں داخل ہیں۔ قول میں دل (اعتقاد) اور زبان کا قول شامل ہے اور عمل میں دل اور اعضائے جسمانی کے عمل شامل ہیں۔


    (مجموع الفتاوی: ۳-۱۵۱،۱۲-۴۷۱)


    اہلسنت ایمان کے متعلق خوارج اور مرجئہ کے مقابلے میں منہج اعتدال قرآن وسنت اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے راستے پر ہیں۔

    عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

    بنی اسرائیل بہتر فرقوں میں بٹ گئے اور میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی ایک کے سوا سب کے سب جہنمی ہوں گے روای نے پوچھا اے اللہ کے رسول وہ کون لوگ ہوں گے آپ نے فرمایا: میرے اور میرے صحابہ کے طریقے پر چلنے والے ہوں گے۔


    (ترمذی: ۲۵۶۵)


    دین کا ماخذ قرآن، حدیث اور اجماع صحابہ ہے ایمان و عقائد میں صحابہ کرام اور تابعین کے راستے کی پیروی واجب ہے اور فروعی و اجتہادی مسائل کے برعکس اس میں اجتہاد جائز نہیں۔

    امام حافظ ابن عبدالبر رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

    اعتقادات کے معاملے میں اہلسنت والجماعت کے نزدیک اللہ عزوجل کی بابت کوئی بات کی ہی نہیں جاسکتی سوائے اس بات کے جو خود ہی اپنی ذات کے بارے میں بیان کردے، یا رسول ﷺ اس کی بابت بیان کردے، یا جس پر امت نے اجماع کرلیا ہو اللہ کی مثل کوئی چیز ہے ہی نہیں جس کا قیاس یا گہرے غور و خوض کے نتیجے میں ادراک ہونا ممکن ہو۔


    (صحیح جامع بیان العلم وفضله: ۳۷۳)


    ایمان کے ارکان چھ ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ :

    (ایمان یہ ہے کہ) تو اللہ پر ایمان لائے، اس کے فرشتوں پر ایمان لائے اور اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر اور آخرت کے دن پر اور تقدیر پر ایمان لائے اچھی ہو یا بری۔

    (ابوداؤد: ۱۲۷۰)


    اسلام کے بنیادی احکام کا اقرار کرنا بھی ایمان میں شامل ہے۔

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

    بنی الاسلام علی خمس شھادة ان لا اله الا اللّٰہ واقام الصلوة وایتاء الزکوة و صوم رمضان وحج البیت من استطاع الیه سبیلا۔

    (صحیح بخاری: ۸)


    اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے لا الٰه الا اللہ کی شہادت دینا اور نماز قائم کرنا اور زکوۃ ادا کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا اور بیت اللہ کا حج کرنا جو اس کے سفر کی طاقت رکھتا ہو۔

    ایمان اور اسلام کبھی کبھار ہم معنی ہوتے ہیں اور ان میں باطنی اعتقادات اور ظاہری اعمال سب شامل ہوتے ہیں۔ لیکن کبھی کبھار ان میں فرق کیا جاتا ہے چنانچہ اسلام سے مراد صرف ظاہری اقرار ہے۔

    امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

    اللہ تعالیٰ کے ارشاد
    قل لم تومنو ولکن قولواسلمنا (کہہ دیجئے کہ تم ایمان نہیں لائے لیکن یہ کہو کہ اسلام لائے) کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کلمے کے اقرار کا نام ہے اور ایمان اعمال کے کرنے کا نام ہے۔

    (ابوداؤد: ۴۶۸۴)


    کمال ایمان میں اعمال صالحہ بھی داخل ہیں جن کے کرنے سے ایمان بڑھتا ہے اور نافرمانی کرنے سے گھٹتا ہے۔

    حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

    ایمان کے ستر سے کچھ اوپر شعبے ہیں جن میں سب سے افضل شعبہ لا الٰه الا اللہ کہنا ہے اور سب سے ادنی شعبہ ایمان کا یہ ہے کہ راستہ سے ہڈی (رکاوٹ) ہٹائی جائے اور حیا ایمان کا ایک شعبہ ہے ۔

    (ابوداؤد: ۴۶۷۴)


    ایمان کی سب شاخیں برابر نہیں، (مرکب) ایمان کی دو شاخیں ہیں (اصل ایمان اور کمال ایمان) اصل ایمان کی شاخیں چھ ہیں اللہ پر ایمان، کتابوں پر ایمان وغیرہ اوپر حدیث میں اول الذکر شاخ لا الٰه الا اللہ اصل ایمان کی ہے اور باقی الذکر حیا وغیرہ کمال ایمان کی شاخیں ہیں۔

    ایمان کے متعلق یہ اصول قرآن وسنت سے ثابت ہونے اور ان پر اہلسنت کا اجماع ہونے کی وجہ سے یہ قطعی نص کی حیثیت رکھتے ہیں۔

    • پہلا اصول: (مرجئہ کے رد میں)
    ’’اصل ایمان کے منافی کفریہ اعتقاد، قول اور عمل سے ایمان خارج ہو جاتا ہے۔‘‘

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی بندہ کے دل میں ایمان اور کفر جمع نہیں ہو سکتے۔

    (سلسلۃ الصحیحۃ: ۱۰۵۰)


    امام ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

    ایمان کے حصے دو قسموں پر ہیں قولی اور فعلی اس طرح کفر کے حصے دو قسموں پر ہیں قولی اور فعلی… ان دونوں میں سے ایک حصہ زائل ہونے سے ایمان زائل ہو جاتا ہے۔


    (کتاب الصلوۃ)


    اس کے علاوہ کچھ کفریہ اعمال اصل ایمان کے زائل اور ختم ہو جانے کے سبب ہیں چاہے لوگ اعتقاد میں انھیں حرام ہی کیوں نہ خیال کریں۔ مثلاً نواقض الاسلام وغیرہ۔

    • دوسرا اصول: (خوارج کے رد میں)

    ’’کمال ایمان کے منافی عمل اور صغیرہ اور کبیرہ گناہوں سے ایمان گھٹتا اور ناقص ہوتا ہے۔‘‘

    حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں جو لوگ کبیرہ گناہوں کے مرتکب ہوئے میری شفاعت ان کے لئے ہوگی۔

    (ترمذی: ۲۴۳۵)
     
Loading...
Similar Threads
  1. شفقت الرحمن
    جوابات:
    2
    مشاہدات:
    721
  2. شفقت الرحمن
    جوابات:
    1
    مشاہدات:
    898
  3. سیما آفتاب
    جوابات:
    4
    مشاہدات:
    669
  4. فیاض ثاقب
    جوابات:
    1
    مشاہدات:
    643
  5. کنعان
    جوابات:
    1
    مشاہدات:
    510

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں