وطن سے محبت فطری چیز ہے

ابوعکاشہ نے 'متفرقات' میں ‏اگست 15, 2021 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,921
    وطن سے محبت فطری چیز ہے


    عصرحاضرکی خاص اصطلاح ”وطنیت“ اور اس سے منسلک غیر ضروری تقاضوں سے ہٹ کربات کی جائے تو وطن سے محبت کوئی معیوب چیز نہیں ہے نہ اسلام میں اورنہ ہی کسی اور مذہب میں ، بلکہ اپنے وطن اور علاقے سے محبت ایک فطری چیز ہے ، اورہر انسان کا حق ہے ۔
    اللہ کے نبی ﷺ پر جب پہلی وحی آئی اورآپ ﷺ نے اس کا تذکرۃ ورقہ بن نوفل سے کیا تو مختلف روایات کے مطابق ورقہ بن نوفل نے کئی پیشین گوئیاں کیں، لیکن جیسے ہی ورقہ نے یہ کہاکہ :
    ”ليتني أكون حيا إذ يخرجك قومك“ ، ”کاش میں اس وقت زندہ رہوں جب آپ کی قوم آپ کو یہاں سے نکال دے گی“
    تو آپ ﷺ نے کہا:
    ”أو مخرجي هم؟“ ، ”کیا یہ لوگ مجھے یہاں سے نکال دیں گے ؟“ [صحيح البخاري ، رقم 3]
    اس کی تشریح میں امام سہیلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    ”يؤخذ منه شدة مفارقة الوطن على النفس فإنه ﷺ سمع قول ورقة أنهم يؤذونه ويكذبونه فلم يظهر منه انزعاج لذلك فلما ذكر له الإخراج تحركت نفسه لذلك لحب الوطن وإلفه فقال: أو مخرجي هم“
    ”اس سے معلوم ہوتا ہےکہ وطن کی مفارقت دل پربہت گراں گذرتی ہے ، کیونکہ اللہ کے نبی ﷺ نے یہ سب کہتے ہوئے سنا کہ یہ لوگ آپ کو تکلیف دیں گے ، اور جھٹلا دیں گے لیکن ان باتوں پر آپ کو کو ئی گھبراہٹ نہیں ہوئی لیکن جیسے ہی ورقہ نے یہ ذکر کیا کہ یہ لوگ آپ کو یہاں سے نکال دیں گے ، اس پر آپ ﷺ کا دل لرز اٹھا وطن کی محبت اور اس سے الفت کے باعث اور آپ ﷺ نے بے ساختہ کہا : کیا یہ لوگ مجھے یہاں سے نکال دیں گے ؟“ [فتح الباري لابن حجر، ط المعرفة: 12/ 359]
    نیز صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی جو سب سے بڑی قربانی شمار کی گئی ہے وہ ہجرت یعنی ترک وطن کی قربانی ہے ، عہد فاروقی میں جب صحابہ نے اپنے اسلامی سن کی بنیاد ڈالی تو مشورہ ہوا کہ اسے کس نام سے موسوم کیا جائے ، یہ بہت اہم مسئلہ تھا کیونکہ کسی چیز کو سن کے ساتھ جوڑنے کا مطلب یہ ہے کہ اسے ہر سال ، ہر ماہ ، ہر دن اور ہر لمحہ کے لئے یاد گار بنایا جارہا ہے ، اب غور طلب بات یہ تھی نبی ﷺ اور صحابہ کی پوری زندگی میں ایسی کون سی سب سے اہم بات تھی جسے ہمیشہ کے لئے یادگار بنادیا جائے ، بہت ساری باتیں کہیں گئیں لیکن جس چیز پر اتفاق ہوا وہ یہ کہ واقعہ ہجرت سے اسلامی سن کو موسوم کیا جائے۔
    امام بخاري رحمه الله (المتوفى256) نے کہا:
    ”حدثنا عبد الله بن مسلمة، حدثنا عبد العزيز، عن أبيه، عن سهل بن سعد، قال: ما عدوا من مبعث النبي ﷺ ولا من وفاته، ما عدوا إلا من مقدمه المدينة“
    ”سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اسلامی تاریخ کا شمار نہ نبی کریم ﷺ کی نبوت کے سال سے ہوا اور نہ آپ کی وفات کے سال سے بلکہ اس کا شمار مدینہ کی ہجرت کے سال سے ہوا“ [صحيح البخاري، رقم 3934]
    یہ ہجرت کا مقدس اورعظیم الشان عمل جسے اسلامی تاریخ کے ساتھ جڑنے کا شرف ملا ، یہ ترک وطن کی قربانی سے عبارت تھا ، اس سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وطن کی محبت کیا چیز ہوتی ہے اور ایمان وعمل کی چوٹیوں پر پہنچنے کے باوجود بھی وطن سے جدائی کتنی بڑی قربانی ہوتی ہے۔
    یہ بات بھی پیش نظر رکھئیے کہ اسی وطن میں اہل وطن نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ کیا سلوک کیا تھا ، کتنوں کی جائداد پرقبضہ کرلیا ، کتنوں کو دردناک سزائیں دیں اور کتنوں کے اقرباء و اہل وعیال کو جان سے مارڈالا لیکن اہل وطن کی ان مظالم کے باوجود بھی وہ اپنے وطن کی محبت سے دست بردار نہ ہوسکے ۔
    ایک آزاد شخص کو تو جانیں دیں مکہ میں غلامی کی زندگی بسر کرنے والے بلال رضی اللہ عنہ کا حال دیکھیں جنہیں اسلام لانے کے سبب اہل مکہ نے ہولناک سزائیں بھی دیں ، صحیح بخاری کی روایت ہے ، اماں عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں ، بلال رضی اللہ عنہ جب ہجرت کرکے مدینہ آگئے تو وہ بخار میں مبتلا ہوگئے اور بلال رضی اللہ عنہ کے بخار میں جب کچھ تخفیف ہوتی تو زور زور سے روتے اور یہ شعر پڑھتے :
    ”ألا ليت شعري هل أبيتن ليلة ... بواد وحولي إذخر وجليل
    وهل أردن يوما مياه مجنة ... وهل يبدون لي شامة وطفيل“
    ”کاش مجھے یہ معلوم ہو جاتا کہ کبھی میں ایک رات بھی وادی مکہ میں گزار سکوں گا جب کہ میرے اردگرد (خوشبودار گھاس) اذخر اور جلیل ہوں گی ،
    اور کیا ایک دن بھی مجھے ایسا مل سکے گا جب میں مقام مجنہ کے پانی پر جاؤں گا اور کیا شامہ اور طفیل کی پہاڑیوں کو ایک نظر دیکھ سکوں گا“
    اماں عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر میں آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ کو اطلاع دی تو آپ ﷺ نے دعا کی:
    ”اللهم حبب إلينا المدينة كحبنا مكة، أو أشد وصححها وبارك لنا في صاعها ومدها، وانقل حماها فاجعلها بالجحفة“
    ”اے اللہ! مدینہ کی محبت ہمارے دل میں اتنی پیدا کر دے جتنی مکہ کی تھی بلکہ اس سے بھی زیادہ، یہاں کی آب و ہوا کو صحت بخش بنا! ہمارے لیے یہاں کے صاع اور مد (اناج ناپنے کے پیمانے) میں برکت عنایت فرما اور یہاں کے بخار کو مقام جحفہ میں بھیج دے“ [صحيح البخاري، رقم3926]
    ملاحظہ فرمائیے کہ اہل وطن کی ظلم وزیادتی بھی اس کی محبت پر اثر انداز نہیں ہوسکتی، اور ہر شخص کا دل اپنے وطن کی محبت سے شرسار ہوتاہے ، یہ ایک فطری بات ہے ۔
    امام ابن بطال (المتوفى: 449 ) فرماتے ہیں:
    ”وقد جبل الله النفوس على حب الأوطان والحنين إليها، وفعل ذلك عليه السلام، وفيه أكرم الأسوة“
    ”اللہ تعالی نے لوگوں کو وطن کی محبت اور اس کے ساتھ اشتیاق پر پیدا کیا ہے اور آپ ﷺ نے بھی وطن سے محبت کی اس میں بہترین اسوہ ہے“ [شرح صحيح البخارى لابن بطال 4/ 453]

    بشكريه - الشيخ کفایت اللہ سنابلی
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں