"فناء النار" اور شیخ الاسلام ابن تیمیہ

ابوعکاشہ نے 'امام ابنِ تیمیہ' میں ‏اگست 20, 2021 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,921
    "فناء النار" اور شیخ الاسلام ابن تیمیہ

    اجماعِ امت کی مخالفت کا الزام شیخ الاسلام ابن تیمیہ کے خلاف کچھ نیا نہیں، یہ تہمت ان کے خلاف ان کے دشمنوں کی طرف سے شروع ہی سے چلی آرہی ہے اور آج تک انہیں چبائے ہوئے نوالوں کی بار بار تکرار ہو رہی ہے.
    چند روز قبل دار العلوم دیوبند کا ایک فتویٰ میری نگاہ سے گزرا، جس میں ایک سائل نے دار العلوم دیوبند کی فتویٰ کمیٹی سے پوچھا ہے کہ : "علامہ ابن تیمیہ کے مطابق اللہ تعالی ایک دن جہنم ختم کر دیں گے... کیا اس کی یہ بات صحیح ہے".
    دار العلوم دیوبند کے مفتیوں نے اس سوال کا یہ جواب دیا ہے: "مذکورہ عقیدہ ابن تیمیہ کے تفردات میں سے ہے، جو اجماعِ امت کے خلاف ہے".
    دار العلوم دیوبند کا فتویٰ آپ نے ملاحظہ فرمایا، اس سے پہلے بھی شیخ الاسلام ابن تیمیہ کے مخالفین ومعاندین نے اس مسئلہ کو لے کر خوب پروپیگنڈہ کیا ہے ، ان ہی میں سے ایک تقی الدین حصنی شافعی اشعری [ت : 829ھ] بھی ہیں ،انہوں نے ایک جگہ لکھا ہے:
    "واعلم أنه مما انتقد عليه (ابن تيمية) زعمه أن النار تفنى، وأن الله - تعالى - يفنيها، وأنه جعل لها أمدا تنتهي إليه، وتفنى، ويزول عذابها، وهو مطالب أين قال الله وأين قال رسول الله صلى الله عليه وسلم وصح عنه".
    جائزہ :
    پتہ نہیں دار العلوم دیوبند جیسے موقر ادارہ کے "دار الإفتاء" میں کس طرح کے لوگوں کو بیٹھایا گیا ہے، جو بلا تحقیق سوالات کے جوابات لکھتے ہیں!
    چاہیے تو یہ تھا کہ مفتیان کرام ابن تیمیہ کی طرف منسوب اس قول کی تحقیق کرتے ، پھر اس پر نقد وجرح کرتے اور پھر جہنم کی بقا ودوام پر کتاب وسنت سے دلیلیں پیش کرتے، لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا بلکہ ایک جھٹکے سے یہ ثابت کر دیا کہ یہ ابن تیمیہ کے تفردات میں سے ہے جو اجماع امت کے خلاف ہے!
    خیر اب آئیے دیکھتے ہیں کہ کیا واقعی یہ ابن تیمیہ کا قول ہے اور انہوں نے اجماعِ امت کی مخالفت کی ہے؟ یا یہ ان کے دشمنوں کا گھڑا ہوا فسانہ ہے.
    1 - "جہنم بالآخر فنا ہو جائے گی" سرِ سے یہ قول شیخ الاسلام ابن تیمیہ سے ثابت ہی نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ بہت سارے علما و محققین اس قول کا انتساب شیخ الاسلام ابن تیمیہ کی طرف درست نہیں مانتے :
    أ - میرے استاد شیخ عبد العزيز الراجحی - حفظہ اللہ - لکھتے ہیں : "ومن نسب إلى شيخ الإسلام ابن تيمية وابن القيم - رحمهما الله - القول بفناء النار فقط غلط، فكلام شيخ الإسلام صريح في أن النار تبقى.
    وأما ابن القيّم - رحمه الله - :فالأقرب والله أعلم أن له قولان في المسألة وأنه رجع عن أحدهما، ولعله رجع عن القول بفناء النار.
    أما شیخ الاسلام فكلامه صريح في أن النار مثل الجنة دائمتان لا تفنيان.. ".
    ب - مولانا ثناء اللہ امرتسری - رحمۃ اللہ علیہ - نے نواب صديق حسن خاں بھوپالی مرحوم کے حوالے سے لکھا ہے: "... لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ ظاہر نظم قرآنی اور واضح نص سنی اس خلود اہل دارین پر جنت ونار میں دلیل ہے، اور یہی حق ہے، مطابق ادلہ شرعیہ صحیحہ مجمع علیہا کے بلکہ خود شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے ایک سوال کے جواب میں یہ لکھا ہے قد دلت الأدلة على بقاء الجنة والنار وأهلهما بالجملہ جنت ونار، لوح وقلم، عرش وکرسی،حور وقصور کو بوقت نفخ صور کے فنا نہ ہوگی، اس لئے کہ یہ واسطے بقا کے پیدا کئے گئے ہیں، یہ تو ابدالآباد تک بلا انقطاع معہ اہالی وموالی خود باقی وخالد رہیں گے".
    ج - شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے "تلبیس الجهمية" میں ایک جگہ لکھا ہے : "وإن بقاء الجنة والنار بقاء مطلق"
    اس پر علامہ ابن قاسم نے حاشیہ لگاتے ہوئے کہا ہے :"وهذا مع مايأتي يكذب ما افتراه أعداؤه من القول بفناء النار".
    2 - حضرت شیخ الاسلام ابن تیمیہ کی کتابوں میں اس بات کی صراحت موجود ہے کہ جہنم، جنت وعرش وغیرہ کی طرح کبھی بھی ختم نہیں ہوگی، ملاحظہ کیجئے ان کی یہ عبارتیں:
    أ - "مجموع الفتاویٰ" میں ایک جگہ بالکل صراحت کے ساتھ لکھا ہوا ہے: "وقد اتفق سلف الأمة وأئمتها وسائر أهل السنة والجماعة على أن من المخلوقات مالا يعدم، ولايفني بالكلية كالجنة والنار والعرش".
    امام موصوف کی اس صراحت کے بعد بھی اگر کوئی یہ کہے کہ انہوں نے جہنم فنا ہو جائے گی کا فتویٰ دے کر اجماعِ امت کی مخالفت کی ہے سراسر ظلم اور جہالت ہے.
    ب - "منهاج السنة" میں بھی ایک جگہ بالکل واضح الفاظ میں یہ عبارت لکھی ہوئی ہے : "إن نعيم الجنة، وعذاب النار دائمان مع تجدد الحوادث فيهما".
    ج - "بیان تلبيس الجهمية" میں بھی ایک مقام پر صراحت کے ساتھ یہ لکھا ہوا ہے : "وقد أخبر الله تعالى ببقاء الجنة والنار بقاء مطلقاً".
    د - اسی طرح "درء تعارض العقل والنقل" میں بھی ایک جگہ اس کی صراحت موجود ہے : "وقال أهل الإسلام جميعاً :ليس للجنة والنار آخر، وإنهما لاتزالان باقيتين، لايزال أهل الجنة يتنعمون بها وأهل النار في النار يعذبون: ليس لذلك آخر".
    ھ - "مجموع الفتاویٰ" میں درج ذیل آیت کی تفسیر میں لکھا ہے : {وَيَتَجَنَّبُهَا الۡاَشۡقَىۙ الَّذِىۡ يَصۡلَى النَّارَ الۡكُبۡرٰى‌ۚ ثُمَّ لَا يَمُوۡتُ فِيۡهَا وَلَا يَحۡيٰىؕ} [سورة الأعلى]
    قسم الصلي إلى قسمين : صلي خلود وهو صلي مطلق، وصلي مؤقت وهم الذين يدخلون النار ثم يخرجون منها".
    مزید فرمایا :" وتحقيقه :أن الصلي هنا هو الصلي المطلق، وهو المكث فيها والخلود على وجه يصل العذاب إليهم دائما
    فأما من دخل وخرج فإنه نوع من الصلي، ليس هو الصلي المطلق ".
    3 - شیخ الاسلام کے حاسدین وحاقدین نے یہ کہہ کر ان کو بدنام کرنے کی کوشش کی ہے کہ انہوں نے چند دیگر مسائل کی طرح اس مسئلہ میں بھی اجماعِ امت کی مخالفت کی ہے،حالانکہ یہ الزام بالکل بےبنیاد ہے اس لئے کہ:
    أ - شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے دو ٹوک انداز میں لکھا ہے کہ اس مسئلہ (یعنی جنت اور جہنم کی بقا) میں تمام امت کا اتفاق ہے، انہوں نے صراحت کے ساتھ لکھا ہے : "وقد اتفق سلف الأمة، وأئمتها، وسائر أهل السنة والجماعة على أن من المخلوقات ما لا يعدم، ولا يفنى بالكلية كالجنة والنار، والعرش وغير ذلك".
    فهذه حكاية للإجماع، واتفاق من إجماعه حجة، ولا يسوغ مخالفة هذا الاتفاق، یہی وجہ ہے کہ انہوں نے "لامية" میں یہ کہا ہے:
    والنارُ يَصْلاَهَا الشقيُّ بحِكْمَةٍ
    وكذا التقيُّ إلى الجِنَانِ سَيَدْخُلُ
    ب - "مراتب الإجماع" امام ابن حزم [ت:456ھ] کی مشہور تصنیف ہے، شیخ الاسلام نے "نقد مراتب الإجماع" کے نام سے اس کتاب پر نقد کیا ہے، امام ابن حزم ظاہری نے اپنی اس کتاب میں زیر بحث مسئلہ پر اجماع امت نقل کرتے ہوئے کہا ہے : "... وأن النار حق، وأنها دار عذاب أبداً لا تفنى، ولا يفنى أهلها أبداً، بلا نهاية..."-"یعنی یقیناً جہنم برحق ہے اور یہ ایسا عذاب کا ٹھکانہ ہے جو کبھی فنا نہیں ہوگا، اور جہنمی اس میں ہمیشہ رہیں گے، کبھی فنا نہیں ہونگے".
    قابل غور بات یہ ہے کہ شیخ الاسلام نے یہاں امام ابن حزم کے کلام پر نقد نہیں کیا، اگر وہ یہ رائے رکھتے کہ جہنم فنا ہو جائے گی تو ضرور ان کا تعقب کرتے اور ان کے نقلِ اجماع پر مواخذہ کرتے ،لیکن انہوں نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا، جس سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ اس مسئلہ میں حضرت امام موصوف کی وہی رائے ہے جو امام ابن حزم رائے رکھتے تھے یعنی کافروں کے لئے جہنم کا عذاب دائمی ہے.
    4 - شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے اپنی معرکۃ الآراء تصنیف "الفتوى الحمویة الكبرى" میں اہل سنت والجماعت کے عقیدے کی تائید میں ابن خفیف [ت:371ھ] کا طویل کلام نقل کیا ہے، اور اس پر رضا مندی کا اظہار بھی فرمایا ہے، اس میں مذکورہ مسئلہ سے متعلق یہ عبارت بھی ہے : "ونعتقد أن الله خلق الجنة والنار، وأنهما مخلوقتان للبقاء لا للفناء".
    اگر شیخ الاسلام کا عقیدہ اس کے برعکس تھا تو انہوں نے یہ کیوں نقل کیا؟!
    5 - در اصل بعض لوگوں کو شیخ الاسلام کی طرف منسوب کتاب "الرد على القائلين بفناء الجنة والنار" سے مغالطہ لگا ہے، اور انہوں نے اس کتاب کے اسلوب سے یہ سمجھ لیا کہ حضرت العلام جہنم کے فنا کے قائلین میں سے ہیں، حالانکہ کئی وجوہات واسباب کی بنا یہ درست نہیں ہے:
    أ - بعض محققین کے نزدیک اس کتاب کا انتساب شیخ الاسلام ابن تیمیہ کی طرف درست نہیں ہے ، تفصیل کے لئے دیکھئے :
    کشف الأستار لإبطال إدعاء فناء النار المنسوب لابن تيمية وابن القيم از ڈاکٹر علی یمانی.
    اور دعاوى المناوئين لشيخ الإسلام ابن تيمية - عرض ونقد از ڈاکٹر عبد اللہ بن صالح بن عبد العزيز الغصن.
    ب - بالفرض صحت نسبت تسلیم کر بھی لی جائے تو اس میں سوائے فریقین کے دلائل نقل کرنے کے اور کچھ نہیں ہے، اس میں صاحبِ کتاب نے اپنے موقف کا اظہار نہیں کیا ہے.
    شیخ براک نے "شرح العقيدة الطحاویة" میں ایک جگہ لکھتے ہیں : "قد ذكر ابن القيّم أنه سأل شيخ الإسلام ابن تيمية عن مسألة فناء النار ،فقال :هذه مسألة عظيمة كبيرة، ثم ذكر فيها القولين، ولم يذكر عن شيخه أنه ذهب إلى القول بفناء النار خلافا لمن ينسب إليه ذلك".
    ج - اس مسئلہ(یعنی فناء النار) میں امام ابن تیمیہ سے جتنی بھی عبارتیں نقل کی جاتی ہیں سب "الرد على القائلين بفناء الجنة والنار "ہی سے!
    اگر وہ جہنم کے فنا کے قائل تھے تو اس کا ذکر یقیناً ان کی دوسری کتابوں میں بھی ملتا، کیا کوئی ان کی دیگر تصانیف سے ایک آدھ عبارت نقل کرکے دیکھا سکتا ہے.
    د - اگر ہم بالفرض یہ تسلیم کر لیں کہ مذکورہ کتاب یا قول فناء النار کا انتساب شیخ الاسلام ابن تیمیہ کی طرف درست ہے تو ہم ان کی مذکورہ تحریرات ونگارشات کی روشنی میں یہ کہیں گے کہ یہ ایسا قول ہے جس سے انہوں نے رجوع کر لیا ہے، شیخ البانی - رحمہ اللہ - جنہوں نے علامہ امیر صنعانی کی مشہور کتاب "رفع الأستار لإبطال أدلة القائلين بفناء النار" پر مقدمہ لکھا ہے اور اس کی تحقیق بھی کی ہے، شیخ الاسلام ابن تیمیہ کے متعلق لکھتے ہیں : "والظن بمن هو دون ابن تيمية علماً ودينا أن لايخالف سلف الأمة وأئمتها ،ولم لا وهو حامل راية الدعوة إلى اتباعهم والسير على منهجهم والتحذير من مخالفتهم والخروج على سبيلهم، كما لايخفى ذلك على كل من اطلع على شيء من كتبه، وتغذى من طرف علمه".
    6 - شیخ الاسلام ابن تیمیہ اور حافظ ابن قیم فناء النار(جہنم کے ختم ہونے) کے قائل نہیں تھے، اگر دونوں اس کے قائل ہوتے تو ان کے تلامذہ میں سے کوئی نہ کوئی دبے یا کھلے الفاظ میں ان دونوں کی تردید ضرور کی ہوتی، لیکن مجھے ان کے شاگردوں میں سے ایک بھی ایسا نہیں ملا جنہوں نے ان بزرگوں پر اس مسئلہ کو لے کر کلام کیا ہو.
    مشہور محقق وناقد علامہ ذہبی [ت:748ھ] نے جب ابن برہان [ت:456ھ] کی سیرت پر روشنی ڈالی تو ان پر کھل کر نقد کیا(چونکہ وہ فناء النار کا قائل تھا)، امام ذہبی کہتے ہیں :"قلت: "حجته في خروج الكفار هو مفهوم العدد من قوله: {لابِثِينَ فِيهَا أَحْقَاباً} [النبأ: 23] ، ولا يتفق ذلك لعموم قوله: {وَمَا هُمْ بِخَارِجِينَ مِنَ النَّارِ} [البقرة: 167] ولقوله: {خَالِدِينَ فِيهَا أَبَداً} [النساء: 169] إلى غير ذلك....".
    اسی طرح حافظ ابن کثیر [ت:774ھ] نے بھی ابن برهان کی سوانح عمری میں اس مسئلہ کا ذکر کرکے ان پر رد کرتے ہوئے لکھا ہے : "أن القول بهذا يخالف اعتقاد المسلمين".
    اور حافظ ابن رجب الحنبلی [ت:795ھ] نے بھی کہا کہ :"وعذاب الكفار في النار لا يفتر عنهم، ولا ينقطع، ولا يخفف بل هو متواصل أبداً".
    مزید فرمایا :"ولا يزال أهل جهنم في رجاء الفرج إلى أن يذبح الموت، فحينئذ يقع منهم الإياس، وتعظم عليهم الحسرة والحزن".
    وفي مقابل ذلك لم نجد من التلامذة من يذكر قولاً لابن تيمية - رحمه الله - في فناء النار، ولا رداً عليه في أي من كتبهم.
    7 - دار العلوم دیوبند کا فتویٰ آپ نے دیکھا، مفتی صاحب نے یہ لکھا کہ یہ ابن تیمیہ کے تفردات میں سے ہے جو اجماع امت کے خلاف ہے ، لیکن یہی دار العلوم دیوبند کے لوگ صوفی ابن عربی کے خلاف ایک لفظ بولنا اور سننا پسند نہیں کرتے، دور حاضر کے دیوبندیوں کے شیخ الاسلام مولانا مفتی تقی عثمانی صاحب نے تو یہاں تک کہا ہے کہ "ان کا عقیدہ ہر شک وشبہ سے بالا تر ہے" ،مولانا تقی عثمانی ہی نہیں بلکہ تمام اکابر علمائے دیوبند ابن عربی کی عظمت کے قائل ہیں، یہ لوگ ان کو "محی الدین"، "شیخ اکبر" اور "کبریت احمر" جیسے القاب سے نوازتے ہیں! (کئ اہل حدیث علما بھی ابن عربی کے سلسلے میں غلط فہمی کے شکار ہو گئے ہیں).
    بہرحال یہی صوفی ابن عربی اس بات کے قائل ہیں کہ جہنم میں جہمنی عذاب سے لذت حاصل کریں گے، یعنی جہنم جہنمی کے لئے جنت بن جائے گی، ملاحظہ کیجئے ان کی چند عبارتیں :
    أ - ان کے یہ اشعار ملاحظہ کیجئے :
    فلم يبق إلا صادق الوعد وحده
    وبالوعيد الحق عين تَعَايَنُ
    وإن دخلوا دار الشقاء فإنهم
    على لذة فيها نعيم مباين
    "یعنی کوئی بھی باقی نہیں رہے گا مگر صرف صادق الوعد، اور آنکھ اللہ کی وعید دیکھ لے گی، اور اگر لوگ جہنم میں داخل کیے گئے، تو وہ اس میں بھی لذت اور لطف پائیں گے ".
    اور یہ اشعار بھی ملاحظہ کیجئے :
    نعيم جنان الخلد فالأمر واحد
    وبينهما عند التجلي تباين
    يسمى عذابا من عذوبة
    فذاك له كالقشر والقشر صائن
    ب - پھر یہ شخص (یعنی ابن عربی) بعض پہلے کے اہل ضلال سے نقل کرتا ہے کہ: " جو لوگ دوزخ میں داخل کیے جائیں گے ان کے جہنم کی آگ طبیعہ ثانیہ بن جائے گی جن سے وہ لوگ لطف اندوز ہونگے، لہٰذا نہ دوزخ سے خوف زدہ ہونے کی ضرورت ہے، نہ پریشان ہونے کی اور نہ عذاب کوئی چیز ہے، کیونکہ وہ امر مستعذب (لذيذ) ہے ".
    ج - ‏انہوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ :"إن أهل النار تنقلب طبائعهم إلى نارية يتلذّذون بالعَذاب؛ كما يتلذَّذ أهل الجنة بالنعيم".
    دیوبند کے مفتیان صوفی ابن عربی کے بارے میں کیا کہیں گے؟
    صحیح بات یہ ہے کہ ابن عربي بريء من الكفر حتى ولو امتلأت كتبه بالكفر ووحدة الوجود وابن تيمية متهم بالقول بفناء النار حتى ولو لم نجد ذلك في كتبه وحتى ولو امتلأت كتبه بأن الامة أجمعت على أن النار لا تفنى وأن القول بفناء النار قول الجهمية. [منهاج السنة 1 /146].
    8 - بعض علما کہتے ہیں علی سبیل الفرض یہ تسلیم بھی کر لیں کہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے یہ کہا کہ ایک دن جہنم کا عذاب ختم ہو جائے گا تو وہ یہ کہنے میں منفرد نہیں ہیں بلکہ متعدد صحابہ کرام - رضی اللہ عنہم -، تابعین اور سلف صالحین - رحمہم اللہ جمیعا - کی رائے بھی یہی ہے کہ جہنم ابدی اور دائمی ٹھکانہ نہیں ہے بلکہ اسے کبھی نہ کبھی فنا ہونا ہے، کچھ صحابہ کرام کے اقوال دیکھئے:
    أ - فتح الباری وغیرہ میں حضرت عمر فاروق - رضی اللہ عنہ - کا یہ اثر آیا ہے :
    "لو لبث أهل النار في النار عدد رمل عالج لكان لهم يوم يخرجون فيه"- "یعنی اگر جہنمی جہنم میں ریت کے ذروں کے برابر بھی رہ جائیں تب بھی ایک دن ایسا آئے گا جب وہ اس سے نکال لئے جائیں گے".
    علامہ امیر صنعانی اپنی کتاب "رفع الأستار لإبطال أدلة القائلين بفناء النار" میں یہ اثر نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں :
    "يقال : كلام عمر كغيره من الأقوال الدالة على خروج الموحدين من النار، وهو قول عليه جماهير الأئمة منهم ابن تيمية".
    امیر صنعانی - رحمہ اللہ - کی اس وضاحت کے بعد لوگوں کو یہ کہنے سے باز آجانا چاہیے کہ ابن تیمیہ جہنم کے فنا کے قائل تھے!
    ب - حضرت عبداللہ بن مسعود - رضی اللہ عنہ - فرماتے ہیں کہ:
    "ليأتين على جهنم زمان تخفق أبوابها ليس فيها أحد، وذلك بعدما ما يلبثون فيها أحقابا" - "یعنی جہنم پر ایک دن ایسا آئے گا جب اس کے دروازے بند کر دئے جائیں گے اور اس میں کوئی بھی نہیں بچے گا...".
    مولانا ثناء اللہ امرتسری - رحمۃ اللہ علیہ - لکھتے ہیں : "... پہلی آیت یعنی {خالدين فيها مادامت السموات والأرض إلا ماشاء ربك إن ربك فعال لما يريد} سے بعض علما نے سمجھا ہے کہ جہنم کا عذاب ختم ہو جائے گا، صحابہ میں سے اس کے قائل حضرت عبداللہ بن مسعود - رضی اللہ عنہ - ہیں اور متاخرین علما میں شیخ الاسلام ابن تیمیہ اور حافظ ابن قیم رحمہما اللہ اور ان کے اتباع ہیں ".
    ج - حضرت ابوہریرہ - رضی اللہ عنہ - فرماتے ہیں کہ:
    "سيأتي على جهنم يوم لايبقى فيها أحد" - "یعنی ایک دن ایسا آئے گا کہ جہنم میں کوئی بھی نہیں بچے گا" .
    د - یہی رائے حضرت ابن عباس - رضی اللہ عنہما - اور متعدد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کی ہے.
    ھ - تابعین میں امام شعبی، اسحاق بن راہویہ وغیرہ بھی یہی رائے رکھتے ہیں.
    پہلی بات تو یہ ہے کہ میرے علم کے مطابق کسی بھی صحابی سے صحیح سند کے ساتھ یہ ثابت نہیں کہ جہنم فنا ہو جائے گی، اوپر جتنے بھی آثار نقل کئے گئے ہیں ان میں کلام ہے، لہذا وہ قابل حجت نہیں ہیں.
    دوسری بات یہ ہے کہ اگر ان روایات کو صحیح بھی مان لیں تو اسے موحدین کی جہنم پر محمول کریں گے جیسا کہ حافظ ابن حجر عسقلانی اور علامہ امیر صنعانی وغیرہ نے وضاحت کی ہے، واللہ اعلم بالصواب.
    9 - جہنم ہمیشہ باقی رہے گی یا بالآخر ختم ہو جائے گی، اس سلسلے میں مستقل کتابیں لکھیں گئیں ہیں، آپ تفصیل کے لیے درج ذیل کتابیں دیکھ سکتے ہیں :
    أ - الرد على من قال بفناء الجنة والنار لشيخ الإسلام ابن تيمية تحقيق السمهري.
    ب - رفع الأستار لإبطال أدلة القائلين بفناء النار للصنعاني، تحقيق الألباني.
    ج - الاستنفار لمحق القول بفناء النار لسليمان بن عبد الله البهيجي.
    د - توفيق الفريقين على خلود أهل الدارين لمرعي بن يوسف الحنبلي.
    ه - كشف الأستار لإبطال إدعاء فناء النار المنسوب لابن تيمية وابن القيم لعلي اليماني.
    و - دعاوى المناوئين لشيخ الإسلام ابن تيمية لعبد الله الغصن.
    ز - تنبيه المحتار على عدم صحة القول بفناء النار عن الصحابة الأخيار لسليمان بن ناصر العلوان.
    10 - آج سے تقریباً بیس پچیس سال قبل جامعۃ الامام البخاری میں مالدہ کے مشہور عالم دین ومعروف خطیب اور شیخ الحدیث مولانا عبد الوہاب رحمانی مرحوم پڑھاتے تھے ، میں اس وقت مرحلہ متوسطہ کا طالب علم تھا، ایک دن مولانا عصر کی نماز پڑھ کر مسجد سے نکلے، کچھ طلبہ ان کے ساتھ تھے، میں بھی ان کے ہمراہ تھا، مجھے ایک سوال کئی دنوں سے پریشان کر رہا تھا، میں نے مولانا سے ہمت کر کے پوچھ ہی لیا، میں نے کہا سورہ رحمن میں اللہ تعالیٰ نے جہنم کو نعمت کے طور پر ذکر کیا ہے، جیساکہ ارشاد ہے : {هٰذِهٖ جَهَنَّمُ الَّتِىۡ يُكَذِّبُ بِهَا الۡمُجۡرِمُوۡنَ‌ۘ يَطُوۡفُوۡنَ بَيۡنَهَا وَبَيۡنَ حَمِيۡمٍ اٰنٍ‌ۚ فَبِاَىِّ اٰلَاۤءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ} [سورة الرحمن] ، حالانکہ جہنم تو سراسر عذاب ہے!
    میرا سوال سن کر شیخ زیرِ لب مسکرائے، پھر تفصیل سے اس کا تشفی بخش جواب دیا جو میں بھول چکا ہوں ، کاش میں اسے اس وقت لکھ لیا ہوتا!
    لیکن مجھے ان کی یہ بات آج بھی یاد ہے کہ حافظ ابن قیم وغیرہ نے یہ اور ان جیسی آیتوں سے جہنم کے ختم ہونے پر دلیل پکڑا ہے.
    کاش آج شیخ زندہ ہوتے تو میں ان کو علامہ ابن قیم کی یہ عبارت دکھاتا جو "الوابل الصيب" میں ہے :
    "ولما كان الناس على ثلاث طبقات :
    - طيبٌ لا يشوبه خبث .
    - وخبيث لا طيب فيه .
    - وآخرون فيهم خبثٌ وطيب .
    كانت دورهُم ثلاث :
    - دارُ الطيب المحض .
    - ودارُ الخبيث المحض ، وهاتان الداران لا تفنيان.
    - ودار لمن معه خبثٌ وطيب ، وهي الدار التي تفنى ، وهي دار العصاة ، فإنّه لا يبقى في جهنم من عصاة الموحدين أحد ،فإنهم إذا عُذّبوا بقدر جزائهم أُخرجوا من النار فأُدخلوا الجنة ، ولا تبقى إلا دارُ الطيب المحض ودار الخبث المحض".

    تحریر : ابو تقی الدین ضیاء الحق سیف الدین
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں