اس دنیا میں "فری" کچھ بھی نہیں ہے

اجمل نے 'مثالی معاشرہ' میں ‏اپریل 9, 2022 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. اجمل

    اجمل محسن

    شمولیت:
    ‏فروری 10, 2014
    پیغامات:
    590
    مغربی اقوام یہ جانتی ہیں
    کہ
    ’’ اس دنیا میں "فری" کچھ بھی نہیں ہے‘‘ ۔ ۔ ۔"Nothing is Free in This World"

    اور وہ اس بات کو سمجھتی اوراس پر عمل بھی کرتی ہیں۔
    مغرب میں لوگ فی گھنٹہ کے حساب سے کام کرتے ہیں۔
    دفتری اوقات میں وہ اپنا کوئی پرئیویٹ کام نہیں کر سکتے ہیں۔
    جتنا وقت وہ کام کرتے ہیں اتنا ہی وقت کی انہیں ادائیگی کی جاتی ہے۔
    اس معاملے میں وہ سب ایماندار ہیں اور ایمانداری سے کام کرتے ہیں۔
    وہ وقت کی اہمیت اور قیمت کو سمجھتے ہیں، اس لئے وقت ضائع نہیں کرتے۔
    وہ وقت کو تو وہ اس دنیا کی سب سے قیمتی چیز، سب سے قیمتی کرنسی سمجھتےہیں۔
    لیکن افسوس کہ ہم مسلمان جنہیں دن میں پانچ وقت وقت پر نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے،
    وقت کی کوئی اہمیت نہیں سمجھتے، وقت کی کوئی قدر نہیں کرتے، وقت کوئی قیمت نہیں سمجھتے۔
    اس دنیا میں "فری" کچھ بھی نہیں ہے ۔ ۔ ۔ یہ بات اصل میں اسلام کی اہم تعلیمات میں سے ہے۔
    لیکن ہم نے اسے بھلا دیا اور کافروں نے اسے اپنا لیا جس طرح ہماری بہت سی دوسری اچھائیاں انہوں نے اپنا لی ہے۔
    تو میں کہہ رہا تھا کہ
    ’’اس دنیا میں "فری" کچھ بھی نہیں ہے‘‘۔ ۔ ۔
    دنیا میں جو بھی ہمارے پاس ہے اور دنیا کی جس چیز سے بھی ہم مستفید ہوتے ہیں وہ سب پم پر ہمارے رب کے نعمتیں ہیں۔
    ان میں چیونکہ زیادہ تر نعمتیں جیسے ہوا، پانی، سورج، چاند، ستارے، روشنی، اندھیرا، سانس کا آناجانا، رگوں خون کا ہمیں بغیر محسوس ہوئے دوڑنا، غذا کا بغیر کسی مشقت کے پیٹ میں ہضم ہوجانا وغیرہ وغیرہ ہمیں ’’فری‘‘ میں ملی ہوئی ہے لیکن اصل میں ان میں کوئی چیز بھی ’’فری‘‘ نہیں ہے۔
    کیونکہ ہم مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہے کہ کل قیامت کے دن ہم سے ہر نعمت کے بارے پوچھا جائے گا اور ہمیں ہر نعمت کا حساب دینا ہوگا تو جس چیز کا حساب دینا ہو وہ ’’فری‘‘ کیسے ہو گیا؟
    اگر صرف اس ایک بات کو ہم مسلمان سمجھ لیتے تو ہماری دنیا و آخرت بن جاتی، مسلم ملک و معاشرے سے ساری برائیاں اور سارے کرپشن ختم ہوجاتے۔
    کافر تو صرف مادی چیزوں کے بارے میں سمجھتا ہے کہ ’’فری‘‘ نہیں۔ لیکن ہم مسلمانوں کیلئے یہ تو بڑا گمبھیر معاملہ ہے، یہاں تو جسمانی، ذہنی، روحانی کوئی بھی چیز ’’فری‘‘ نہیں، یہاں تک کہ ہمارے دلوں میں آتے جاتے خیالات بھی ’’فری‘‘ نہیں، ہماری سوچ بھی ’’فری‘‘ نہیں۔
    اس لئے ہمیں اپنی سوچ کو کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے، ہمیں مثبت سوچ اپنانے کی ضرورت ہے۔ ہمارے دلوں میں منفی سوچ کا یلغار تو ہوگا کیونکہ ”شیطان انسان کے بدن میں ایسے پھرتا ہے جیسے خون پھرتا ہے“۔ (صحيح مسلم، حدیث نمبر: 5678، ترقیم فوادعبدالباقی: 2174)
    اور یہ شیطان ہی ہے جو ہمارے دلوں میں وسوسے ڈالتا ہے جس سے ہمارے اندر منفی سوچ پیدا ہوتی ہے۔ لیکن منفی سوچ اس وقت تک نقصان دہ نہیں جب تک ہم اسے زبان پر نہیں لاتے یا اس پر عمل نہیں کرتے کیونکہ
    ہمارے پیارے نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ: ”اللہ تعالیٰ نے میری امت کے دلوں میں پیدا ہونے والے وسوسوں کو معاف کر دیا ہے جب تک وہ انہیں عمل میں یا زبان پر نہ لائیں“۔ (صحيح البخاري، حدیث نمبر: 2528)
    اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
    وَإِمَّا يَنزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطَانِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللَّـهِ ۖ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ (36) سورة فصلت
    ’’اور اگر شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ آئے تو اللہ کی پناه مانگ لیا کرو یقیناً وه بہت ہی سننے والا اور جاننے والاہے‘‘ (36) سورة فصلت

    لہذا جوں ہی دل میں کوئی شیطانی وسوسہ اور منفی سوچ پیدا ہو تو اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگئے یعنی ’’ أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّیطَانِ الرَّجِیم‘‘ پڑھئے اور اپنی سوچ کو مثبت بنائیے۔

    قاعدہ: منفی سوچ کو ختم کرنے کیلئے ’’ اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگئے‘‘ اور مثبت سوچ اپنائیے۔

    ’’ أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّیطَانِ الرَّجِیم‘‘
    ’’پناہ مانگتا ہوں میں اللہ کی، شیطان مردود سے‘‘

    تحریر: محمد اجمل خان۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں