شیخ محمد بن صالح العثيمين _ زہد و ورع کی عظیم مثال

ابوعکاشہ نے 'سیرتِ اسلامی' میں ‏اکتوبر، 15, 2022 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,954
    "شیخ محمد بن صالح العثيمين رحمہ اللہ ۔۔۔ زہد و ورع کی عظیم مثال"

    شیخ محمد بن صالح العثيمين رحمہ اللہ (المتوفی : ١٤٢١ھ) کی ساری زندگی زہد و ورع سے عبارت تھی، اس سلسلے میں شیخ کے کئی ایک واقعات ملتے ہیں، ذیل میں شیخ رحمہ اللہ کی زندگی کے اس پہلو سے متعلقہ چند مثالیں درج ہیں :

    ⇚ شیخ رحمہ اللہ جب جامعہ ہوتے تو وہاں کے متعلقہ امور کے لیے بوقتِ ضرورت اپنے قلم (pen) میں سیاہی وہیں سے بھر لیتے، پھر جب گھر جانا ہوتا تو بقیہ سیاہی واپس نکال کر وہیں اسے خالی کر دیتے اور فرماتے کہ یہ سیاہی جامعہ اور اس سے متعلقہ امور کے لیے ہے میرا اس پر ذاتی کوئی حق نہیں ۔

    ⇚ آپ جب اپنی امامت یا تدریس سے چھٹی کرتے تو ان چھٹیوں کا حساب لگا کر اپنی تنخواہ سے اتنی رقم کی کٹوتی کروا دیتے، چاہے جتنی بھی کم چھٹی ہوتی اس کی تنخواہ وصول نہیں کرتے تھے۔

    ⇚ اگر کبھی کلاس میں آنے میں تاخیر ہو جاتی تو اساتذہ کے حاضری رجسٹر میں بیان کر دیتے اور اس کے سامنے یہ بھی لکھتے کہ بلاعذر تاخیر ہوئی ہے۔

    ⇚ اگر کبھی یونیورسٹی کے کاموں کے لئے کہیں غیر حاضری ہو جاتی یا فتوی کمیٹی کے اجلاس میں دورانِ ہفتہ جانا پڑتا تو جو تنخواہ ان کاموں کی ملتی اسے کاٹ کر عمید (ڈین) یا مدیر (چانسلر) کے حوالے کر دیتے ۔

    ⇚ جب امریکہ علاج کی غرض سے گئے تو واپسی پر کلیہ الشریعہ کے ڈین عیادت کے لیے مسجد میں ملے، لوگوں کا رش لگا ہوا تھا، بیماری نے نڈھال کر رکھا تھا اس حالت میں بھی شیخ رحمہ اللہ عمید سے پوچھنا نہیں بھولے کہ میں تو اتنے دن چھٹیوں پر تھا تو میری تنخواہ کیوں آ رہی ہے؟ اس پر عمید نے تسلی دی کہ ملازمین کو بیماری کی چھٹیوں کا حق ہوتا ہے ۔

    ⇚ آپ رحمہ اللہ فتوی دینے میں بڑی احتیاط و تسلی سے کام لیتے جب کبھی کوئی مسئلہ سمجھ نہ آتا تو سائل سے فرماتے کہ انتظار کریں میں اس مسئلے پر کچھ غور کروں گا۔

    ⇚ ایک دفعہ فرمانے لگے : جب آپ میری نسبت سے کوئی عجیب بات سنیں تو مجھ سے رابطہ کریں، اگر میں غلط ہوا تو اللہ تعالی آپ کے ذریعے میری راہ نمائی کر دیں گے اور ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ میری بات نقل ہی غلط طرح سے ہوئی ہو تو میں وضاحت کر دوں گا اور ہو سکتا ہے میری بات صحیح ہو تو اس صورت میں اس کا درست ہونا بیان کر دوں گا ۔

    ⇚آپ رحمہ اللہ فتوی دینے سے بہت ڈرتے اور فرمایا کرتے تھے اگر علم چھپانے کا جرم نہ ہوتا اور اللہ کی پکڑ کا ڈر نہ ہوتا تو میں کسی کو بھی فتوی نہ دیتا۔

    ⇚ المعہد العلمی کے سابقہ عمید بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ مجھے ضرورت تھی تو میں نے شیخ ابن العثيمين رحمہ اللہ سے قرض لیا، انہیں بتایا کہ مجھے ریاض جانا ہے، اس لیے پیسوں کی ضرورت ہے ۔ آپ فرمانے لگے میں نے بھی ریاض جانا ہے کیا آپ مجھے ساتھ لے چلیں گے؟ میں نے شیخ کو ساتھ لے لیا جب ہم وہاں پہنچے تو شیخ نے مجھے اس سفر کا کرایہ دینے پر اصرار شروع کر دیا، جب میں نے پوری شدت سے انکار کیا تو شیخ فرمانے لگے کہ اگر آپ نے مجھ سے قرض نہ لیا ہوتا تو خیر تھی، لیکن اب مجھے ڈر ہے کہ کہیں یہ ایسا قرض نہ بن جائے کہ جو منافع دے رہا ہے۔ (اور قرض پر منافع سود ہوتا ہے۔)

    ⇚ آپ نے جامعہ میں ایک دفعہ اپنے طلباء سے کہا : جسے محسوس ہو کہ میں نے پیپرز چیک کرتے وقت اس پر کسی چیز میں ظلم کیا ہے تو وہ مجھے بتائے، ایک طالب علم آدھے نمبر کے لیے آپ کے پاس آیا تو آپ نے اس کا وہ نمبر بڑھا دیا ۔ (ال‍ثمین من أخبار الشیخ ابن عثیمین : ٥٠ - ٥٣)

    ⇚ سعودی بادشاہ شاہ خالد رحمہ اللہ نے آپ کو ایک عمارت تحفے میں دی تو آپ نے اسے طالب علموں کے لیے وقف کر دیا اور ان کے لیے اس میں دیگر بہت سی سہولیات کا بھی انتظام کر دیا ۔ (الثمین: ٢٢)

    ⇚ شیخ رحمہ اللہ ساٹھ سال تک مٹی و گارے سے بنے گھر میں مقیم رہے، مختلف سعودی بادشاہ؛ شاہ خالد، شاہ فہد اور شاہ عبد اللہ رحمہم اللہ آپ سے اسی گھر میں ملنے آیا کرتے، آخر عمر میں شیخ رحمہ اللہ کو بہت زیادہ مجبور کیا گیا تو آپ ایک متوسط گھر میں منتقل ہو گئے ۔

    ⇚ سن ١٤٠١ھ میں جب سعودی بادشاہ شاہ خالد آپ کے مٹی کے گھر میں آئے تو آپ کو پیشکش کی ہے کہ میں آپ کے لیے نیا گھر بنانا چاہتا ہوں، شیخ نے اچھے طریقے سے معذرت کر لی پھر فرمایا کہ ہم دونوں مل کر ایک گھر بناتے ہیں ۔ جب شاہ خالد نے پوچھا کون سا گھر بنانا ہے تو شیخ نے فرمایا کہ مسجد عنیزہ کو تجدید کی ضرورت ہے تو بادشاہ نے اپنے خرچے پر اسے بنانے کا حکم دیا، آج عنیزہ میں "جامع ابن عثیمین" کے نام سے وہی مسجد ہے ۔

    ⇚ جب سن ١٤٠٧ھ میں شاہ فہد قصیم آئے، بادشاہ کی گاڑی شیخ ابن العثيمين رحمہ اللہ کے گھر کی طرف روانہ ہوئی، گاڑی سے اترتے ہی شاہ فہد حیران رہ گئے کہ شیخ رحمہ اللہ مٹی کے گھر میں رہتے ہیں ۔ جب شاہ فہد آپ کے گھر داخل ہوئے اور خستہ حال چھتوں کو دیکھا، اور پھر زمین پر ہی شیخ رحمہ اللہ کے ساتھ بیٹھے تو عرض کی : اے ابو عبد اللہ! آپ کو لازمی طور پر میری طرف سے تحفہ قبول کرنا پڑے گا.... میں آپ کے لیے گھر بنوانا چاہتا ہوں ۔ شیخ فرمانے لگے : اللہ تعالی آپ کو جزائے خیر دے لیکن میں اس گھر میں بڑا خوش ہوں، آپ کی طرف سے تحفہ موصول ہو گیا، میری معذرت قبول کریں۔ شاہ فہد نے بہت زیادہ اصرار کیا تو شیخ رحمہ اللہ نے فرمایا : آپ کی میرے گھر میں تشریف آوری ہی بہت بڑی عزت افزائی ہے ۔ شاہ رحمہ اللہ کو اندازہ ہو گیا کہ شیخ رحمہ اللہ زاہد ہیں تو انہوں نے آپ کا عذر قبول کر لیا ۔

    ⇚ ایک رئیس نے شیخ رحمہ اللہ کو نئی گاڑی ہدیہ کی تو شیخ نے اس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اسے لینے سے معذرت کر لی اور فرمایا کہ مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے، میری پرانی گاڑی ہی کافی ہے ۔ (الثمین : ٥٥ - ٥٧)

    ⇚ مفتی دیار سعودیہ شیخ محمد بن ابراہیم آل شیخ رحمہ اللہ نے آپ کو منصب قضاء کی پراصرار پیشکش کی بلکہ احساء کے محکمہ شرعیہ کا رئیس متعین بھی کر دیا تو شیخ رحمہ اللہ نے اس سے معذرت کر لی اور بالآخر بار بار کے انکار پر آپ کو اس عہدے سے ہٹا دیا گیا ۔ (الثمین : ٥٦)

    (حافظ محمد طاھر ؛ جامع الشیخ ابن العثيمين، عنیزہ، القصیم ١٩ ربیع الاول ١٤٤٤ھ)
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں