کیا پاکستان کے حالات خراب کرنے میں انڈیا کی خفیہ ایجنسی را کا کوئی ہاتھ ہے ؟؟؟

طالب علم نے 'مضامين ، كالم ، تجزئیے' میں ‏اگست 27, 2008 کو نیا موضوع شروع کیا

موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔
  1. طالب علم

    طالب علم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2007
    پیغامات:
    960
    السلام علیکم!

    قانون کی نظر میں صرف جرم کرنے والا مجرم نہیں ہوتا بلکہ جرم پر اکسانے والا بھی مجرم ہوتا ہے۔ اور بقول شخصے ’’جس قوم میں غدار پیدا ہوتے ہیں اس کے مظبوط قلعے بھی ریت کے گھروندے ثابت ہوتے ہیں"۔
    چانکیہ کا سیاسی فلسفہ جو اہم اصول وضع کرتا ہے وہ ہے "محبت اور جنگ کی طرح جاسوسی کے کھیل میں بھی سب کچھ جائز ہے"
    لہذا وہ جاسوسی مہموں کے لئے عیاری ، مکر و فریب، حکمت و چالاکی، دھوکہ دہی، حق تلفی، عورتوں کا استعمال ، منشیات، مہلک ہتھیاروں اور زہر کے استعمال کو بالکل جائز قرار دیتا ہے ۔
    غداروں کو بھانپنا، ان کو پروان چڑھانا اور ان کو کھل کھیلنے دینا یہ بھارت کی خفیہ انٹیلی جنس ایجنسی را کا سب سے محبوب مشغلہ ہے۔ آئیے ایک کالم پڑھتے ہیں

    بحوالہ روزنامہ خبریں، اشاعت، 27 اگست 2008

    [​IMG]




    - - -- جاری ہے ۔۔۔ ۔۔ ۔ ۔۔۔ ۔۔۔
     
  2. طالب علم

    طالب علم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2007
    پیغامات:
    960
    تامل باغیوں کے ہاتھوں خودکش حملے میں مارے جانے والے انڈیا کے سابق وزیراعظم راجیوگاندھی کے بیٹے اور اندرا گاندھی کے پوتے راہول کا کہنا تھا: ’گاندھی خاندان جو بھی کام کرنے کا سوچتا ہے۔ اسے پورا کرکے آگے بڑھتا ہے۔ چاہے وہ ہندوستان کی آزادی ہو، یا پاکستانی کو توڑنے کا کام یا پھر ہندوستان کو اکیسوی صدی میں لے جانے کا کام۔ ہم پیچھے نہیں ہٹتے‘۔
    بحوالہ بی بی سی


    ---- جاری ہے ۔۔۔ ۔ ۔۔ ۔۔ ۔
     
    Last edited by a moderator: ‏اگست 27, 2008
  3. طالب علم

    طالب علم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2007
    پیغامات:
    960

    بشکریہ کتاب: خفیہ ایجنسیوں کی دہشت گردی
    مصنف: طارق اسماعیل ساگر
    جملہ حقوق محفوظ: طاہر سنز لاہور

    موساعد، سی آئی اے، کے جی بی اور را پر لکھی گئی ایک کتاب سے چند اقتباسات ملا حظہ ہوں
    ---
    صفحہ نمبر 413
    نفسیاتی حملے:
    'را' نے پاکستانی عوام کو ذہنی پراگندگی کا شکار کرنے کے لئے بڑے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کئے ہیں۔ 'را' کی طرف سے عموما اس نوعیت کا پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے
    پاکستان کا قیام ، دو قومی نظریہ اور 'بھارت کی تقسیم' کو الٹے سیدھے دلائل اور موثر پراپیگینڈہ کے ذریعے غلط ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور خصوصا 1971 عیسوی میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد یہ تھیوری سامنے لائی گئی کہ اسلام کا رشتہ کوئی رشتہ نہیں۔ اگر یہ کوئی مظبوط حوالہ ہوتا تو اسلام کے نام پر حاصل کردہ ملک کے دو حصے کیوں ہوتے ؟
    اسی طرح را کی طرف سے تکرار سے یہ بات دہرائی اور پاکستان میں پھیلائی جاتی ہے کہ اگر ہندوستان متحد رہتا تو مہاجر ہو کر پاکستان میں زندگی بسر کرنے والے موجودہ حالات سے بدرجہا بہتر زندگی گذار رہے ہوتے اور اس تقسیم نے سرحد کے آر پار رہنے والے لاکھوں خاندانوں کے مصائب میں اضافہ کیا ہے
    - - - -
    صفحہ 414

    'را' نے نفسیاتی محاذ پر بڑی کامیاب جنگ لڑی ہے اور آج پاکستان میں بدقسمتی سے زبان، رنگ و نسل، مذہبی اور سیاسی نظریات کی بنیاد پر بے شمار جماعتیں اور گروہ معرض وجود میں آگئے ہیں۔
    ۔۔۔۔ ۔۔ ۔
    اس طرح بھارتی لیڈرشپ کے اس پرانے خواب کو جسے "اکھنڈ بھارت" کہا جاتا ہے، پورا کرنے کا سامان خود بخود پیدا ہو جائے گا

    صفحہ 436
    'را' نے پراپیگینڈہ کے محاذ پر نئی نئی تکنیک ایجاد کیں ہیں اور ایک کامیاب حربہ یہ اپنایا ہے کہ 'را' کی طرف سے بعض اسلامی ممالک اور سینٹرل ایشائی نو آزاد ریاستوں می یہ تاثر پھیلای جارہا ہے کہ ان کے ہاں پائی جانے والی بنیاد پرستی (fundamentalism) کے سوتے دراصل پاکستان میں پھوٹتے ہیں




    ---------- جاری ہے -----------
     
  4. طالب علم

    طالب علم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2007
    پیغامات:
    960
    صفحہ 436، 437

    تخریب کاری، دہشت گردی اور باغیانہ سرگرمیاں

    کچھ میدانوں میں 'را' اپنے فن میں 'کمال فن' کی دعویدار ہے خصوصا ہمسایہ ممالک میں توڑ پھوڑ کی سرگرمیاں (تخریب کاری) اس کا خاص میدان ہے اور اس حوالے سے اس نے پاکستان اور سری لنکا میں خصوصا بڑے بڑے ”کارنامے' سرانجام دئیے ہیں۔ پاکستان میں 'را' کو ہمیشہ تخریبی عناصر کی تلاش رہی ہے اور کسی بھی حوالے سے تخریبی خیالات اور رکھنے والے گروہوں اور جماعتوں کو 'را' کی پشت پناہی حاصل رہی ہے۔ حکومت مخالف عناصر کو 'را' ،'باخبر' اور 'بے خبر' رکھ کر دونوں طرح استعمال کرتی ہے
    کچھ پاکستانی دانشور اور سیاست دان 'را' کے اکثر مہمان رہے ہیں ان لوگوں کو مختلف تقاریب کے بہانے بھارت بلا کر ان کے اللے تللے پورے کئے جاتے ہیں اور 'را' کے مقاصد کی بجا آوری کے لئے تیار کیا جاتا ہے۔ یہ حقیقت کتنی ہی تلخ سہی ، لیکن اس سے انکار ممکن نہیں کہ پاکستانی میڈیا میں 'را' کے باقاعدہ ایجنٹ موجود ہیں جو اپنے ماسٹر ز کی فراہم کردہ لائنوں پر اس مظبوط میڈیم کے ذریعے پاکستانیوں کی اعصاب شکستگی میں لگے رہتے ہیں۔
    ایک مرحلے پر 'را' اپنے ان زرخرید دانشوروں اور صحافیوں کو اپنے پروردہ سیاست دانوں سے متعارف کروا دیتی ہے اور انہیں یہ حکم دیا جاتا ہے کہ وہ ان کے خیالات اور بیانات کی خوب تشہیر کریں۔
    پاکستان میں علیحدگی پسند لیڈروں عبدالغفار خان اور ان کے کچھ ساتھی صوبہ سرحد سے سندھ سے جی ایم سید اور ان کے کچھ ساتھیوں کو 'را' کی مکمل معاونت اور پشت پناہی حاصل رہی ہے۔ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ جی۔ ایم۔سید، عبدالغفار خان اور ان کے ساتھی اپنے دورہ بھارت میں پاکستان کے خلاف کیسی کیسی ہرزہ سرائی کرتے رہے ہیں۔
    جی ایم سید کی رسوائے زمانہ کتاب "پاکستان ٹوٹ جائے گا" را نے راجھستان سے شائع کروا کر پاکستان اور دنیا کے دیگر ممالک میں تقسیم کی تھی۔ اس پراجیکٹ پر 'را' نے زر کثیر صرف کیا اور اس کو پھیلانے پر بھی خاصا بجٹ صرف ہوا تھا۔۔
    ۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔
    بین الاقوامی سطح پر 'را' نے مختلف ممالک میں سندھ اور مہاجر، پختون،بلوچی، سرائیکی پراپیگینڈہ محاذ بنا رکھے ہیں جن کے "آفس بیرئیر" دکھاولے کے لئے ملک دشمن اور بھگوڑے پاکستانیوں کو ہی دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے رکھا جاتا ہے لیکن ان کی طنابیں کسی اور کے ہاتھ میں ہوتی ہیں ۔ ان نام نہاد تنظیموں اور اداروں کی طرف سے پراپیگینڈہ زہریلا لٹریچر، فلمیں اور ہیومن رائٹس رپورٹس شائع کر کے دنیا بھر میں تقسیم کی جاتی ہیں۔ بھارتی پریس، دور درشن، زی ٹی وی، ایل ٹی وی، بھارتی فلمیں اور تمام ایسے بھارت کے ریڈیو سٹیشن جن کی نشریات پاکستان میں سنی جاتی ہیں، پاکستانی عوام کے ذہنوں کو حکومت اور ملکی سالمیت کے خلاف سرگرم کرنے کے لئے تسلسل سے مذموم پراپیگینڈہ کرتے آرہے ہیں
    اس سلسے میں آل انڈیا ریڈیو کی مثال پیش کی جاتی ہے جس کے بیشتر پروگرام براہ راست 'را' کے ہیڈ کوارٹر لودھی روڈ نیو دہلی کی دوسری منزل پر موجود جدید آلات سے لیس ایک ریکارڈنگ روم میں تیار کئےجاتے ہیں۔ آل انڈیا ریڈیو کے ساٹھ فیصد سے زیادہ ملازمین 'را' کے ایجنٹ ہیں۔ ان کے بیشتر پروڈیوسرز کے نام جعلی ہوتے ہیں اور ہندو ہوتے ہوئے بھی پاکستانی عوام کو دھوکا دینے کے لئے مسلمانوں والے نام پکارتے ہیں


    ------ جاری ہے ۔۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔۔ ۔ ۔۔ ۔
     
  5. طالب علم

    طالب علم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2007
    پیغامات:
    960
    بحوالہ کتاب: خفیہ ایجنسیوں کی دہشت گردی،
    سال اشاعت: اپریل 2005
    صفحہ 438

    بھارتی نشر و اشاعت کو پاکستان میں کیسے استعمال کیا گیا
    1965 اور 1971 کی لڑائیوں مین اور اس کے بعدبھی جب کبھی 'را' کو ضرورت محسوس ہوتی ہے پاکستان میں موجود اپنے ایجنٹوں کو خفیہ پیٍغامات اور احکامات آل انڈیا ریڈیو کے پروگراموں سے 'کوڈ' کی صورت میں جاری کرتے ہیں۔ 80 عیسوی کے عشرے میں سندھ کے سرحدی علاقوں میں ڈاکووءں کے بھیس میں سرگرم 'را' کے ایجنٹوں کو آل انڈیا ریڈیوں کی رات کی نشریات سے 'پیغامات دئیے جاتے تھے۔
    ۔۔۔ ۔۔ ۔
    ۔ ۔۔۔۔
    بھارتی ریڈیو سٹیشن سے خصوصا سندھیوں اور مہاجروں میں بددلی اور ملک دشمنی کے بیج بوئے جاتے ہیں۔ انہیں یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ وہ پاکستان میں دوسرے درجے کے شہری ہیں اور ان کے ساتھ بے پناہ مظالم ڈھائے جارہے ہیں۔
    بدقسمتی سے 'را' کو اس سلسلہ میں دانستہ یا نا دانستہ کچھ عاقبت نااندیش پاکستانی صحافیوں کی مدد بھی حاصل ہو جاتی ہے۔ جن کے ملکی اخبارات میں لکھے گئے کالموں اور مضامیں کو 'را' بطور حوالہ اپنی نشریات میں دھراتی ہے۔ سیاسی دشمنی میں اندھے ہو کر کچھ کالم نگار'را' کی کٹھ پتلیاں بن چکے ہیں۔صفحہ 439

    'را کا ایک بہت بڑا اشاعتی مرکز بمبئی میں ہے جہاں سے لٹریچر شائع کرکے سندھ، صوبہ سرحد اور آزاد کشمیر تک غیر قانونی طریقہ سے پہنچایا اور تقسیم کیا جاتا ہے

    گذشتہ تین چار سال سے 'را' کی طرف سے جو پراپیگینڈہ مہم پاکستان اور بین الاقوامی دنیا میں چلائی جا رہی ہے اس کے بنیادی مقاصد مندرجہ ذیل دکھائی دیتے ہیں:
    1) مہاجروں کو علیحدہ آزاد ریاست کے قیام کے لئے اکسانا
    2) سندھیوں کو سندھو دیش بنانے کے لئے تیار کرنا
    3) عام پاکستانی اور بین الاقوامی دنیا کو یہ تاثر دینا کہ لاء اینڈ آرڈر کی تباہ کن صورت حال کی وجہ سے سندھ میں کوئی بھی ذریعہ سفر محفوظ نہیں رہا
    4) ۔۔۔ پاکستان اور آزادکشمیر کے عوام کو یہ تاثر دینا کہ کشمیری پاکستان سے الحاق نہیں چاہتے
    5) یہ تاثر پیدا کرنا کہ 'سرائیکی تحریک' نے جنوبی پنجاب میں زور پکڑا ہے اور سرائیکی عوام بھارت کے ساتھ الحاق کرکے الگے ملک بنانے کے لئے کوشاں ہیں
    6ٌ) یہ پراپیگینڈہ کیا جارہا ہے کہ گلگت اور چترال مین بھی بغاوت کی سی کیفیت پیدا ہو چکی ہے
    7ٌ) پاکستانی اقلیتوں پر جھوٹے مظالم کا تسلسل سے پرچار کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں جہاں شیعہ سنی تضادات کو ہوا دی جاتی ہے وہاں خصوصا قادیانیوں کو بھی مظلوم بنا کر پیش کیا جارہا ہے اور یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ وہ ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں، انہیں اپنی مذہبی رسومات ادا کرنے سے بزور روکا جا رہا ہے
    8ٌ) یہ پراپیگینڈہ کیا جا رہا ہے کہ پاکستانی حکومت کے مظالم سے تنگ آ کر سندھ کی ہندو آبادی بھارت کی طرف بھاگ رہی ہے
    9) سندھ کے قدرتی وسائل کو سندھ کی بجائے دوسرے صوبوں کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔

     
    Last edited by a moderator: ‏اگست 27, 2008
  6. طالب علم

    طالب علم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2007
    پیغامات:
    960
    صفحہ: 445
    دہشت گردی:
    -- - -
    - - - ----
    ان میں سے آٹھ کیمپ جو بطور خاص پاکستان میں دہشت گردی اور تخریب کاری کو بڑھاوا دینے کے لئے قائم کئے گئے ہیں ، راجھستان میں گنگا نگر، جے پور، اودہم پور، کشن گڑھ، بارمیر، جیسلمیر اور چندی گڑھ میں قائم ہیں۔ ان کیمپوں سے تیار ہونے والے دہشت گردوں کو یا تو براہ راست حکومت مخالف انتہا پسند نظریات رکھنے والی پارٹیوں میں داخل کر دیا جاتا ہے یا ڈاکووءں کے ساتھ منسلک کر دیا جات ہے یا پھر اغواکاری کی خصوصی تربیت دے کر ان کے ذریعے اہم شخصیات کو اغوا کروا کر دہشت گردی او خوف وہراس پھیلایا جاتا ہے۔
    ایک محتاط اندازے کے مطابق ان 8 کیمپوں کے تربیت یافتہ دہشت گردوں ے گزشتہ 3 سال میں 150 سے زیادہ تخریب کاروائیوں مین ایک ہزار سے زیادہ بے گناہوں کی جان لی ہے۔

    پاکستان او بھارت میں آج کل محبت کی پینگیں بڑھائی جارہی ہے اور ہماری سمت سے کچھ زیادہ ہی جوش و خروش کا مظاہرہ کیا جارہا ہے۔ عین ان حالات میں جبکہ ہماری حکومت "موسٹ فیورٹ نیشن" کا درجہ دینے کے لئے منصوبہ بندی کر رہی تھی پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسیوں کو اس بات کے ثبوت مل گئے کہ بلوچستان میں حالیہ گڑبڑ کے پس پردہ افغانستان میں موجود 'را' کا sub office اہم کردار اادا کر رہا ہے، کروڑوں روپے بلوچستان میں تقسیم کیے گئے اور شرپسندوں کی نگرانی، ہدایات اور انسانی رہنمائی کے لئے پاکستان کے دونوں ہمسایہ ممالک میں RAW کے کمانڈ سینٹر قائم ہوئے


    یہ اقتباسات پیش کرنے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ آپ کو بتایا جائے کہ یہ دنیا بہت complicated ہو گئی ہے اور اکثر اوقات جو سامنے ہو رہا ہوتا ہے وہ اصل میں نہیں ہورہا ہوتا اور پیچھے کچھ اورکہانی چل رہی ہوتی ہے۔

    اللہ سے دعا ہے کہ تمام دنیا کے کلمہ لوگوں کی حفاظت فرمائے اور انہیں صیح معنوں میں مسلمان بنائے اور مومنانہ فہم و فراست سے نوازے۔ آمین!
     
  7. مون لائیٹ آفریدی

    مون لائیٹ آفریدی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏ستمبر 22, 2007
    پیغامات:
    4,799
    شکریہ جناب ۔ کافی بہترین حقائق ہیں ۔
    آمین ۔ثم آمین ۔
    بیت اللہ محسود کے بارے میں ایک بات کا اضافہ کرتا چلو۔ میرے ایک دوست جو کہ باڑہ خیبر ایجنسی میں موجودہ رہائش رکھتے ہیں ، بتایا کہ جو مجاہدین یہاں پر " خیبر ایجنسی کے ایک تنظیم " امر بالمعروف ونہی عن المنکر " کے ساتھ ہیں ، ان میں سے ایک مجاہد جو بیت اللہ محسود کا چچا زاد بھائی ہے ، نے میرے دوست کو یہ حقیقت بتایا کہ میں ثبوت کے ساتھ اور قسم کھاکر کہتا ہوں کہ " بیت اللہ محسود" " امریکہ " اور " را" کے لیے کام کرتا ہے ۔

    یاد رہے کہ بیت اللہ اور اس کے طالبان کا اس " مذکورہ " تنظیم سے شدید اختلافات ہیں اور اس تنظیم پر بھی خود کش حملہ کیا ہے ۔
     
  8. اھل السنۃ

    اھل السنۃ -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏جون 24, 2008
    پیغامات:
    295
    پچھلے دنوں بھارتی وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان کا استحکام ہمارے حق میں ہے کیوں کہ وہ جانتا ہے کہ جہادی پاکستان پر بس نہیں کریں گے۔ ان کے پیش نظر وہ احادیث ہیں جن میں مجاہدین کا سند اور ہند کے حکمرانوں کو بیڑیاں پہنانے کا زکر ہے۔
    وہ جہادی تنظیمیں جو ایجنسیوں کے تحت کام کرتی تھیں ان کی کاروائیاں تو بھارت پاکستان پر دبائو ڈال کر رکوادیا کراتا تھا۔ مگر یہ اللہ کے تحت مجاہدین اس کے لئے وبال جان ہیں جس کا ثبوت بھارت میں ہونے والے حالیہ دھماکے ہیں۔ ان میں انتہا پسند ہندئووں کی بڑی تعداد ہلاک ہوئی جس پر ان کی تنظیمیں سیخ پا بھی ہوئیں۔
    پرویز کے جانے پر بھارت کا دکھ سب کے سامنے ہے۔ جو اپنے آپ کو علی الاعلان امریکہ کا حواری کہتا رہا اسے حق پر ثابت کیا جا رہا ہے جب کہ مجاہدین جن کے بارے کفار کئی قسم کے پروپیگینڈے ایک ساتھ پیرالل طریقہ سے چلا رہے ہیں۔ ایک طرف انہیں انسانیت کا دشمن ثابت کیا جاتا ہے تو دوسری طرف انہیں اپنا ساتھی ثابت کرنا چاہتے ہیں تا کہ انہیں تنہا کیا جا سکے۔
    ایک مسلمان یہ کیوں بھول جاتا ہے کہ کتاب اللہ کا فیصلہ ہے:
    "جب تمہارے پاس کوئی فاسق کسی خبر کے ساتھ آئے تو اس کی تحقیق کر لو کہیں ایسا نہ ہو تم کسی قوم کو انجانے میں کوئی نقصان پہنچا بیٹھو"
    (الحجرات)
    مگر ہم جانے انجانے میں اپنے مخلص مسلمان بھائیوں کا نقصان کرتے رہتے ہیں کسی کو کافر ایجنٹ کہنا در اصل اس پر کفر کا فتوٰی لگانا ہے۔ جب کہ اگر وہ کافر نہ ہوا تو حدیثِ سیدی صلی اللہ علیہ و سلم کے مظابق یہ فتوٰی آپ پر لوٹ آئے گا۔
    ہم اللہ کے نظام کی کوشش کرنے والے مخلص مجاہدین کے بارے میں ایسا گمان نہیں رکھتے خا ص طور پر کفار کے پروپیگیندے سے متا ثر ہو کر ہر گز نہیں!
    ہاں البتہ امریکہ نے کچھ نام نہاد علماء کو "تربیت" کے لئے بلایا تھا جو آج ہماری صفوں میں شامل ہو کر مجاہدین کے خلاف کام کر رہے ہیں مثلاََ یوسف قرضاوی جس نے یہ فتوٰی دیا کہ ایک مسلمان اپنی نوکری بچانے کے لئے امریکی فوج کے ساتھ عراق محاذ پر لڑ سکتا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ان جہاد مخالف سکالرز میں نام نہاد سلفیوں کی بڑی تعداد ہے۔
    شافع محشر صلی نے کیا خوب پیشن گوئی کی تھی کہ:
    "اسلام ابتدا ء میں بھی اجنبی تھا اور اسی طرح آخری دور میں پھر اجنبی ہو جائے گا۔ مبارک ہیں وہ اجنبی لوگ۔"
     
  9. اھل السنۃ

    اھل السنۃ -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏جون 24, 2008
    پیغامات:
    295
    امر بالمعروف سے اختلاف کی وجہ ان کی افغانستان کے مجاہدین سے غداریاں ہیں کبھی دوسرا موءقف بھی جان لینا چاہیئے۔
     
  10. طالب علم

    طالب علم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2007
    پیغامات:
    960

    یہ باتیں لوگوں پر سالوں بعد جا کر کھلیں گی مگر اس وقت شاید بہت دیر ہو چکی ہو ۔ ۔ ۔ ۔
     
  11. arifkarim

    arifkarim محسن

    شمولیت:
    ‏جولائی 17, 2007
    پیغامات:
    256
    دوسروں پر الزام لگانے کا کوئی فائدہ نہیں، پہلے اپنی اصلاح کی ضرورت ہے۔ جب عوام مضبوط ہوگی تو کسی بیرونی طاقت کو انتشار پھیلانے کا موقع نہیں ملے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
  12. ابو وقاص

    ابو وقاص -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏جون 13, 2008
    پیغامات:
    382
    اسلام علیکم و رحمت اللہ
    سلفی بھائي آپ نے جو کچھ لکھا ہے سارا درست تو نہیں کہ سکتا
    کیونکہ ہم سارا الزام را کو بھی نہیں دے سکتے
    اس میں ہماری ایجنسیاں بھی ملوث ہیں اور حکمران بھی چھوٹے صوبوں میں نفرت پھیلانے میں پیش پیش رہے ہیں۔
    ضیاءالحق مرحوم کےدور میں مردم شماری ہوئی تھی اس کے نتائج ماننے سے انکار کیا گیا کیونکہ اس میں صوبہ پنجاب آبادی کے حساب سے پہلے سے دوسرے نمبر پر آرہا تھا۔ آپ کو معلوم ہوگا کہ افغانستان کی جنگ کے بعد ،افغانستان، برما، بنگلادیش، ہندستان(مہاجروں کے رشتےدار)سے بہت زیادہ لوگ آکر پاکستان اور خاص طور پر کراچی میں آباد ہوئے اور یہ سلسلہ ابھی تک رکا نہیں اب ظاھر ہے اتنے سالوں سے یہ سلسلہ جاری ہے تو آبادی بھی بڑھے گي ،اس لئے اس دن کے بعد مردم شماری کا باب ہی بند کر دیا گیا ،
    اپنے بنیادی حق ماگنے پر اگر آپ کو آپ کے ہم وطن ہی غدار کہیں تو میں آپ سے پوچھتا ہوں آپ کہاں دیکھیں گے،
    کسی پارٹی کا نعرہ بلند کرنے پر اگر آپ کی فوج آپکو گولیوں سے چھلنی کردے اور اتنے کوڑے مارے کہ آپ ساری عمر باپ بننے سے محروم ہوجائیں تو آپ کے پا‎س کیا راستہ رہ جاتا ہے۔
    یہ تو چند باتیں بیان کی ہیں ایسی سینکڑوں باتیں ہیں ،بھائی پاکستان بننے سے ہی پاکستان کے خلاف سازشیں شروع ہوگئی تھیں
    یہ تو اللہ رب العزت کا خاص کرم ہے ورنہ ہم نے تو خود اپنے ہاتوں سے اپنے وطن کو تباہ کرنے کی کوئی کسر نہیں چھوڑی۔اب اللہ تعالی سے ہی اچھی امید ہے کہ اسکو اسلام کا قلعہ بنائے۔ آمین۔
     
  13. ابو وقاص

    ابو وقاص -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏جون 13, 2008
    پیغامات:
    382
    عارف بھائی میں آپ کی بات سے 100 فیصد اتفاق کرتا ہوں۔
    ہمارے صدر سے لے کر چپڑاسی تک سب ہی پاکستان کو دیمک کی طرح کھا رہے ہیں۔ سب سے پہلے ہمیں اپنے آپ کو درست کرنا ہوگا۔
     
  14. طالب علم

    طالب علم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2007
    پیغامات:
    960
    ’یہ بھارت اور اسرائیل کا کام ہے‘
    علی سلمان

    بی بی سی اردو ڈاٹ کام ، لاہور



    ’بین الاقوامی شدت پسند گروپ بھی پاکستان میں پرتشدد کارروائیوں کے لیے ملوث ہیں‘
    صوبہ پنجاب کے وزیرِ قانون رانا ثناءاللہ خان کا کہنا ہے کہ بھارت اور اس کی خفیہ ایجنسی را اور دوسری غیر ملکی طاقتیں پاکستان میں ہونے والے پرتشدد واقعات میں ملوث ہیں۔

    انہوں نے یہ بات لاہور کی مون مارکیٹ میں ہونے والے دو دھماکوں میں تیس افراد کی ہلاکت کے بعد ہسپتال میں زخمیوں کی عیادت سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

    رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ لاہور میں اس سے پہلے پولیس ٹریننگ سینٹر اور ایف آئی اے کی بلڈنگ میں ہونے والے دھماکوں کے بعد پکڑے جانے والے ملزموں سے تفتیش سے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ ان کا تعلق جنوبی وزیرستان ،سوات اور مالاکنڈ کے ان شدت پسندوں سے ہے جو فوج سے لڑرہے ہیں اور ایسے شواہد ملے ہیں جن سے یہ پتہ چلا ہے کہ انہیں غیر ملکی خفیہ ایجنسیوں کی مدد حاصل ہے۔

    انہوں نےکہا کہ ملزموں سے ایسا اسلحہ برآمد ہوا اور ایسے شواہد ملے ہیں جن کی بنیاد پر غیر ملکی طاقتوں کے ملوث ہونے کو خارج از امکان نہیں کہا جا سکتا۔

    رانا ثناء اللہ نے ان واقعات میں ملوث ہونے کے حوالے سے بھارت کے علاوہ اسرائیل اور افغانستان کے نام بھی لیے اور کہا کہ بعض دوسرے بین الاقوامی شدت پسند گروپ بھی پاکستان میں پرتشدد کارروائیوں کے لیے ملوث ہیں۔

    رانا ثنا اللہ کے علاوہ صوبائی وزیر جیل خانہ جات چودھری عبدالغفور کا کہنا تھا کہ بھارت پاکستان میں دہشت گردی کروا رہا ہے اور پاکستان میں شدت پسندوں سے انڈین اسلحہ برآمد ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’بھارت کو اب اپنی یہ حرکتیں بند کرنا ہوں گی ورنہ اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے‘۔

    انہوں نے کہا کہ جس طرح پہلے واقعات میں ہندوستان کے ملوث ہونے کے شواہد ملے ہیں انہیں یقین ہے کہ حالیہ دھماکہ میں بھی بھارت ہی ملوث ہوگا۔

    خیال رہے کہ پاکستان کے وزیر داخلہ رحمان ملک پہلے ہی یہ کہہ چکے ہیں کہ بلوچستان اور وزیرستان میں بھارت کے ملوث ہونے کے شواہد موجود ہیں اور یہ شواہد بھارت کے حوالے کیے جا رہے ہیں۔ بھارتی حکام ایسے الزامات کی تردید کرتے ہیں۔
     
Loading...
موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں