حدیث قسطنطنیہ ؟؟؟

Jaamsadams نے 'ماہِ محرم الحرام' میں ‏جنوری 12, 2009 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. Jaamsadams

    Jaamsadams -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏جنوری 12, 2009
    پیغامات:
    52
    یزید کے بارے مین ایک مغالطہ یہ ہے کہ اس نے قسطنطنیہ پر حملہ کرنے والے لشکر میں شمولیت کی اور وہ شاید جنت کی بشارت کا حقدار ہے۔ صحیح بخاری کی حدیث میں بلادِ روم یعنی قیصر کے شہر (مدینۃ قیصر) پر حملہ آور پہلے لشکر کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بشارت دی تھی:

    اول جیش من امتی یغزون مدینۃ قیصر مغفور لھم[1]
    "میری امت کا وہ پہلا لشکر جو قیصر کے شہر پر حملہ کرے گا اللہ نے اس لشکر کی مغفرت کردی"

    تاریخ اسلام کی مستند اور مقبول ترین کتب جن میں البدایھ والنھایھ، الكامل في التاريخ، تاریخ ابنِ خلدون، تاريخ بغداد اور تاريخ دمشق وغیرہ میں منقول یے کہ بلاد روم، قیصر کے شہر (مدینۃ قیصر) پر پہلا حملہ 42ھ میں ہوا اور دوسرا حملہ 43ھ ھوا اور اسلامی لشکر قسطنطنیہ پر حملہ آور ہوا۔ الغرض اسکے بعد یکے بعد دیگرے بلادِ روم، قیصر کے شہر (مدینۃ قیصر) پر مزید حملے کئے گئے اور بالاآخر ساتواں لشکر جو کہ 49ھ میں امیر معاویہ کے دور خلافت میں، روانہ کیا گیا۔ پہلے یزید نے اس لشکر میں شامل ہونے سے انکار کیا اور لشکر کو پیش آنے والی مشکلات کی خبریں آنے پر خوشی کا اظہار کیا اور قطعہ کہا جو کہ تاریخ کی کتب میں منقول ہے۔ جب امیر معاویہ کو اُس کی اس حرکت کا علم ہوا تو آپ نے یزید کو لشکر کی روانگی کے بعد بطور سزا 50ھ میں بھجوایا۔ (حوالہ: امام ابن کثیر کی البدایھ والنھایھ، ابن الااثير کی الكامل في التاريخ، ابن خلدون کی تاریخ ابنِ خلدون، الخطيب البغدادي کی تاريخ بغداد اور ابن عساكر کی تاريخ دمشق وغیرہ)

    پس حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں لفظ "اول جیش" یزید کو اس بشارت میں شامل کرنے میں مانع ہے۔ یزید کی شمولیت بترتیب ساتویں لشکر میں ہوئی جبکہ پہلا لشکر کم و بیش آٹھہ سال قبل حملہ آور ہوچکا تھا۔ اسی طرح دوسرا لشکر سات برس قبل مدینۃ قیصر کی طرف غزوہ کیلئے روانہ ہوا اور قسطنطنیہ پر بھی حملہ آور ہوا۔ یہاں یہ ملحوظ رہے کے ،ذکورہ حدیث صرف قسطنطنیہ کے لئے مخصوص نہیں بلکہ اس میں مدینۃ قیصر یعنی پورے بلاد روم کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اس لحاظ سے پھلا لشکر جو 42ھ میں حملہ آور ہوا وہ ہی اس بشارت کا مستوجب ہے۔ یہ حدیث کتب حدیث بشمول صحیح بخاری لفظ مدینۃ قیصر کے ساتھہ آئی ہے اور کسی بھی جگہ مذکورہ حدیث لفظ قسطنطنیہ کے ساتھہ وارد نہیں ہوئی۔

    بعد ازاں یزید اسلامی تعلیمات کے خلاف اقتدار پر قابض ہوا اور امام حسین علیہ سلام سمیت دیگر اہلبیت اور آپ کے رفقھا کو شھید کرنے کا مرتکب ہوا۔ یزید نے سانحہ کربلا بپا کیا جو کہ اسلامی تاریخ کا سب سے بڑا واقعہ اور یزید کے اقتدار پر بہت بڑا داغ ہے۔ بعد ازاں وہ مدینہ اور مکہ پر حملے کا مرتکب ہوا اور واقعہ حرہ کے دوراں اپنی افواج کے ذریعے اُن مقدس مقامات کی بے حرمتی کی اور ہزارہا افراد کو قتل کیا جن میں بہت سے صحابہ اکرام بھی شامل تھے۔ (حوالہ:البدایہ والنھایہ، الكامل في التاريخ، تاریخ ابنِ خلدون ، تاريخ بغداد اور تاريخ دمشق وغیرہ)

    اسکے علاوہ معاصریں نے یزید کو اعلانیہ گناہِ کبیرہ کے ارتکاب (زنا، شراب نوشی، ترکِ نماز وغیرہ) اورعامۃ الناس کو اسکی طرف مائل کرنے کی وجہ سے اسے فاسق و فاجر قرار دیا۔ جیسا کہ امام ابن کثیر نقل کرتے ہیں۔

    ذکروا عن يزيد ما کان يقع منہ من القبائح في شربۃ الخمر وما يتبع ذلک من الفواحش التي من اکبرھا ترک الصلوۃ عن وقتھا بسبب السکر فاجتمعوا علي خلعہ فخلعوہ. عند المنبر النبوي (البدايہ و النہايہ، 6:234) ترجمہ: یزید کے کردار میں جو برائیاں تھیں ان کے بارے میں بیان کیا جاتا ہے کہ وہ شراب پیتا تھا، فواحش کی اتباع کرتا تھا اور نشے میں غرق ہونے کی وجہ سے وقت پر نماز نہ پڑھتا تھا۔ اسی وجہ سے اہل مدینہ نے اس کی بیعت سے انکار پر اتفاق کر لیا اور منبر نبوی کے قریب اس کی بیعت توڑ دی۔
     
    Last edited by a moderator: ‏جنوری 13, 2009
  2. Jaamsadams

    Jaamsadams -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏جنوری 12, 2009
    پیغامات:
    52
    میں نیا لکھاری ہوں اور یہ میرا پھلا مضمون ہے- لگتا ہے شائد آتے ہی میں نے بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈال دیا ہے۔ براہ کرم آپ چاہے کسی بھی مکتبہ فکر سے منسلک ہوں مجھے اپنی آراء سے ضرور نوازیں، بہت نوازش ہوگی۔
     
  3. ابوسفیان

    ابوسفیان -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏جون 30, 2007
    پیغامات:
    623
    محترم Jaamsadams ،
    اردو مجلس پر خوش آمدید کہتے ہوئے میں آپ کو مجلس کے ایک اہم قانون کے متعلق یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ایک ہی جیسے مواد پر مشتمل مراسلہ ایک سے زائد تھریڈ میں ارسال نہیں کیا جا سکتا۔
    آپ نے ایک جیسا مواد تقریباَ 6 تھریڈز میں پوسٹ کیا تھا۔ 5 تھریڈز میں سے آپ کا مراسلہ حذف کر دیا گیا ہے۔
    امید ہے کہ آئیندہ سے خیال رکھیں گے ، شکریہ۔
     
  4. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,323
    بھائی پہلے تو اردو مجلس پر خوش آمدید
    بھائی یزید کے بارے میں شیعوں کی طرح لعن طعن کرنا کم از کم اہل سنت و الجماعت کا منھج نہیں‌۔
    ہمارے لئے یہی بہتر ہے کہ ہم یزید کا معاملہ اللہ پر چھوڑ دیں کیوں کہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے اور وہ کسی پر ذرہ برابر ظلم نہیں کرتا۔
    امت مسلمہ کو اللہ نے امہ وسطہ یعنی معتدل امت قرآن میں‌مخاطب کیا ہے۔ اگر بالفرض ہم یزید کو پرہیز گار کہیں تو کیا ہمارے کہنے سے وہ پرہیزگار ہوگا اگر وہ اللہ کے نزدیک فاسق ہو۔ اور اگربالفرض اللہ نے یزید کی توبہ قبول کی ہو تو پھر ہمارے کافر یا فاسق کہنے سے کیا اللہ کی رحمت کو چھینا جاسکتا ہے۔
    البتہ حسین رضہ اللہ عنہ کی شہادت میں کسی کو شک نہیں بلکہ وہ جنتی ہیں-
    کیا ہی خوب ہوتا اگر ہم اللہ کے کاموں میں دخل اندازی چھوڑدیں کیوں کہ اللہ جسے عذاب دیتا ہے وہ بھی عین انصاف ہے اور جسے معاف کرتا ہے وہ بھی عین انصاف لہذا ہمیں چاہیے کہ اپنی آخرت کی فکر کریں اور اپنی قبر کی تیاری کریں ۔
    قیامت والے دن ہم سے یہ نہیں‌پوچھا جائے گا کہ تم نے یزید کو کافر کیوں نہیں کہا یا یزید کو مومن کیوں نہیں مانا بلکہ ہم سے ہمارے اعمال کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ہمیں چاہیے کہ ہم قبر کے سوالوں کیلئے تیاری شروع کریں اپنے رب کا توحید جان کر / اسلامی تعلیمات سیکھ کر اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی اتباع کرکے۔
     
  5. Abu Abdullah

    Abu Abdullah -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 7, 2007
    پیغامات:
    934
    السلام علیکم اعجاز بھائی،

    جزاک اللہ خیرا

    بہت عمدہ تحریر پیش کی ہے۔
     
  6. باذوق

    باذوق -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏جون 10, 2007
    پیغامات:
    5,623
    ویسے تو فوت شدہ شخصیات کے اعمال پر گفتگو کرنا وقت کا ضیاع ہے۔ اس ضمن میں اعجاز بھائی نے بالکل درست مشورہ دیا ہے کہ :
    ہم اللہ کے کاموں میں دخل اندازی چھوڑدیں کیوں کہ اللہ جسے عذاب دیتا ہے وہ بھی عین انصاف ہے اور جسے معاف کرتا ہے وہ بھی عین انصاف لہذا ہمیں چاہیے کہ اپنی آخرت کی فکر کریں اور اپنی قبر کی تیاری کریں ۔

    دوسری اہم بات یہ کہ آپ نے یزید کے کردار پر درج بالا سارے حوالے امام ابن کثیر کی تاریخ کی کتاب "البدائیہ و النہائیہ" سے دئے ہیں۔ کتبِ تواریخ اور کتبِ احادیث میں واضح فرق ہے برادر۔
    اہل سنت مورخین (مثلاً ابن کثیر ، ابن اثیر ، ابن عساکر ، طبری ، ابن سعد وغیرہ) کی ذاتی ثقاہت اس بات کو ثابت نہیں کرتی کہ تاریخ کے نام پر جو کچھ انہوں نے اپنی اپنی کتبِ تواریخ میں رقم فرمایا ہے وہ تمام کا تمام اسی طرح سچ و حق ہے جس طرح کہ صحیح احادیث !
    امام ابن کثیر کی "البدائیہ و النھائیہ" جیسی مشہور تاریخ اسلام کی کتاب میں بھی کئی متضاد واقعات موجود ہیں۔ جس کی تفصیل یہاں دیکھی جا سکتی ہے۔

    جب تک تاریخی روایات کی اسنادی حیثیت اور اس حیثیت پر محدثین و محققین کا کوئی اجماعی فیصلہ سامنے نہ ہو ، کوئی بھی فرد اپنی پسند کا کوئی انفرادی آخری فیصلہ صادر نہیں کر سکتا۔
    کتب تواریخ میں اگر یزید کی مذمت موجود ہے تو تحسین بھی بیان کی گئی ہے جس کی تفصیل آپ یہاں پڑھ سکتے ہیں۔
    یزید کی بیعت اور پھر اس کے توڑے جانے کا واقعہ صحیح بخاری میں بھی بیان ہوا ہے۔ ذیل میں بخاری کی وہ حدیث ملاحظہ فرمائیں :
    [QH]حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا حماد بن زيد، عن أيوب، عن نافع، قال لما خلع أهل المدينة يزيد بن معاوية جمع ابن عمر حشمه وولده فقال إني سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول ‏"‏ ينصب لكل غادر لواء يوم القيامة ‏"‏‏.‏ وإنا قد بايعنا هذا الرجل على بيع الله ورسوله، وإني لا أعلم غدرا أعظم من أن يبايع رجل على بيع الله ورسوله، ثم ينصب له القتال، وإني لا أعلم أحدا منكم خلعه، ولا بايع في هذا الأمر، إلا كانت الفيصل بيني وبينه‏.[/QH]
    حضرت نافع رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب اہل مدینہ نے یزید بن معاویہ کی بیعت سے انکار کیا تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے خادموں اور لڑکوں کو جمع کیا اور کہا کہ : میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
    قیامت کے دن ہر بدعہدی (عذر) کرنے والے کے لیے ایک جھنڈا (علامتی نشان) نصب کر دیا جائے گا ۔ ہم نے اس شخص (یزید بن معاویہ) کی بیعت اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر کی ہے ، میری نظر میں اس سے زیادہ بدعہدی اور کوئی نہیں کہ کسی شخص سے اللہ اور اس کے رسول کے نام پر بیعت کی جائے اور پھر اس سے جنگ کی جائے ۔
    اور دیکھو مدینہ والو ! تم میں سے جو کوئی یزید کی بیعت کو توڑے اور دوسرے کسی سے بیعت کرے تو مجھ میں اور اس میں کوئی تعلق نہیں رہا ، میں اس سے الگ ہوں۔
    صحيح بخاري , كتاب الفتن , باب : اذا قال عند قوم شيئا ثم خرج فقال بخلافه , حدیث : 7196

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمانِ مبارک (قیامت کے دن ہر بدعہدی کرنے والے کے لیے ایک جھنڈا نصب کر دیا جائے گا) کی سب سے زیادہ بہتر تشریح اور پھر اس پر عمل کون کر دکھا سکتا ہے؟؟ کیا خود صحابہ کرام نہیں؟
    تو جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق ایک جلیل القدر صحابی تنبیہ کر رہے ہیں تو اہلِ مدینہ کا عمل کس قدر حجت قرار پا سکے گا؟؟
     
  7. asim10

    asim10 -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏جنوری 3, 2009
    پیغامات:
    187
    ااسلام علیکم
    ایک عرصے تک تو میں یزید کا بہت بڑا حامی رہا لیکن اب میں اس موضوع پر معتدل رویہ اختیار کر چکا ہوں ،اور اللہ سے دعا ہے کہ مجھ صحیح راہ دیکھا دے۔
    جام بھائی نے تحریر تو لکھ دی ہے مگر مجھے یہ دیکھ کر افسوس ہواکہ آپ نے بھی وہی طریقہ اختیار کیا جو مخالفین یزید اختیار کرتے ہیں
    یعنی آپ نے تحریر تو لکھی ہے مگر صرف الزامات ہی لگائے ہیں،کسی بھی بات کا کو ئی معقول ریفرنس نہیں دیا۔صرف کتابوں کے نام لکھنے پر اکتفا کیا۔جو میں سمجھتا ہوں‌کہ کسی کو قائل کرنے کا یا اپنا موقف بیان کرنے کا کوئی معقول طریقہ نہیں۔
    اسی طریقے کو استعمال کرتے ہوئے کوئی بھی کسی کے حق میں‌کچھ بھی لکھ سکتا ہے۔
    اور رہی بات کہ یہ باتیں مختلف کتب تاریخ میں تو بھائی اگر آپ نے ان کتابوں‌کو خود کھول کر دیکھا ہوتا تو آپ کو پتہ چلتا کہ انھی کتب میں یزید کے حق میں بھی بھت سا مواد ہے۔
    دوسری بات جو میں نے محسوس کی کہ یہ آپ کی کوئی ذاتی تحقیق نہیں‌صرف سن سنا کر آپ نے یھاں ایک تھریڈ کھول دیا۔
    آپ نے جتنی بھی باتیں لکھی ہیں‌سب وہی ہیں‌جو آج تک ہم سنتے آئے ہیں اگر کوئی نئی بات ہوتی تو میں باقاعدہ حوالہ جات کے ساتھ جواب بھی دیتا۔
    آپ سے درخواست ہے کہ پہلے تو اپنے الزامات کے حوالہ جات بھی لکھیں،اور اسکے بعد دونوں‌طرف کا نقطہ نظر دیکھ کر فیصلہ کریں




     
  8. زاہد محمود

    زاہد محمود -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏ستمبر 5, 2007
    پیغامات:
    179
    اسلامُ علیکم! شکریہ بہت
     
  9. فراخ

    فراخ -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 21, 2009
    پیغامات:
    1
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ
    اوپر لکھے گیے مقالمہ جات پڑھ کر پہلی مرتبہ کچھ لکھنے کی جسارت کر رہا ہوں ۔ اللہ عزول حق لکھنے کی سعادت بخشے ۔
    وہ بحث جس کا مقصود عقاید کی اصلاح اور اعمال کی درستگی ہو ۔ وہ کارخیر ہے ۔ علاوہ ازیں بحث برائے بحث سے اللہ عزوجل نے منع فریا ہے۔اور جو دلیل قرآن و حدیث کے عین مطابق ہو اسے مان لینا چاہیے ۔ خواہ وہ ہمارے فرقہ کے اقابرین کے اقوال سے ٹکراتی ہو۔کہ ہم ایمان اللہ عزوجل و رسول ﷺ پر رکھنے کے پابند ہیں ۔ میرا گمان ہے کہ اگر ہم اچھی باتوں کو لے لیں اور غلط باتوں کو اپنے مکتب فکر اور فرقہ کو بالائے طاق رکھتے ہوئے چھوڑ دیں تو شاید ہم سب کی سوچ ایک ہو جائے۔
    یزید کے متعلق بحث ہو رہی تھی ۔ کیا وہ جنتی ہے؟ ۔۔۔۔۔۔۔کیا اسے امیر المومنین کہا جاسکتاہے؟ ۔۔۔۔۔۔ کیاوہ اس حق میں تھا کہ امام حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کردیا جائے؟ ۔۔۔۔۔کیا یہ سب کچھ یزید کی لاعلمی میں رونما ہوا؟ ۔۔۔۔ یہ ایسے سوالات ہیں جن کے تاریخ سے متضاد جوابات ملتے ہیں ؟ ۔۔۔۔۔ ۔ کسی کو کافر کہنے کے فضائل تو کبھی سننے میں نہیں آئے ۔۔۔لیکن اگر شواہد شرعی نا ہوں اور کفر کا فتوٰی ٰ لگا دیا جائے تو اس کی وعید ضرور کانوں سے سنی ہے ۔۔۔۔۔ جس نے کفر کیا اس نے اللہ عزول کی دشمنی لی ۔۔۔ اس سے وہ ذات خوب نپٹنا جانتی ہے۔۔۔۔۔اور اس کا فیصلہ بروز قیامت روز روشن کی طرح سب کے سامنے عیاں ہو جائے گا۔۔۔۔۔
    لیکن ۔۔۔۔۔ امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت پر تو کسی کو شک نہیں ۔۔۔۔وہ جنتی نوجوانوں کے سردار ہونگے اس میں بھی کسی کو کوئی شک نہیں ۔
    ان کے بارے ہمارے نبی ﷺ نے فرمایا حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں ۔ اور امام حسین رضی اللہ عنہ حق پر تھے اسمیں بھی کسی کو کوئی اعتراض نہیں۔اور امام حسین رضی اللہ عنہ کو ان کے خاندان کو ظلم اور جفا سے قتل کرنے والے غلط لوگ تھے ۔ ۔۔۔ ۔ اگر وہ توبہ کیے بغیر مرے ہونگے۔وہ دنیا میں بھی اپنے انجام کو پہنچے اور آخرت میں بھی ان کا انجام برا ہی ہوگا-واللہ اعلم ورسولہ اعلم
    اور۔۔۔
    امام حسین رضی اللہ عنہ کو کوفہ والوں نے خطوط لکھ کر دین میں خرافات کی شکایت کرتے ہوئے بلوایا تھا۔
    اس وقت موجود صحابہ کرام سے مشورہ کے بعد پہلے اپنے نمائندہ حضرت مسلم بن عقیل کو بھیجا ۔جنہوں نے حالات سے باخبر کرتے ہوئے امام حسین رضی اللہ عنہ کو کوفہ تشریف لانے کے لیے قاصد روانہ کیا۔
    اس قاصد کی روانگی کے بعد حالات بگڑ گیے اور حضرت مسلم بن عقیل کو ان کے بچوں سمیت شہید کردیا گیا ۔
    حضرت مسلم بن عقیل نے آخری خواہشات پوچھنے پر قاتلوں سے کہا تھا۔کہ میں قاصد روانہ کرچکا ہوں ۔ اور اب کے حالات کے مطابق امام حسین رضی اللہ عنہ کو میرا پیغام بجھوا دیں کہ وہ تشریف نہ لائیں ۔ لیکن انہوں نے اس پر عمل نہ کیا۔ ان کے ارادے درست ہوتے تو قاصد روانہ کر دیتے ۔

    یہ سب اس لیے لکھ رہا ہوں کہ جو یزید کو کچھ کہنے نہیں دیتے ۔اگر وہ اسی پر التفا کریں کہ اسکا معاملہ اللہ عزوجل کے ساتھ ہے تو اہل حق بھی خاموش رہیں ۔
    لیکن بات صرف اتنی نہیں ہے ۔وہ یوں کہتے ہیں کہ یزید امیرالمؤمنین تھا اور معاذاللہ امام حسین نے اسکی بغاوت کی ۔
    امام عالی مقام تو دین کی خرافات درست کرنے نکلے تھے ۔ اگر جھگڑا کرنا ، لڑائی لڑنا مقصود ہوتا تو بیبیوں کو ساتھ کیوں لیتے ۔اور شیر خوار بچوں کی جگہ بہادر جوان ساتھ لیتے۔
    یزید کے حامی غلط تھے یا یزید اسکا تو اللہ عزوجل بہتر جانتا ہے۔ لیکن اس پر ہمارا ایمان ہونا ضروری ہے۔کہ امام عالی مقام حق پر تھے ۔ نا صرف جنتی بلکہ جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں ۔ یہ احادیث سے ثابت ہے ۔ تاریخ سے نہیں۔
    فراخ فیصل آباد
     
  10. بشیراحمد

    بشیراحمد ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اپریل 1, 2009
    پیغامات:
    1,568
    میں پہلی پوسٹ میں بیان کردہ مواد کو صحیح سمجھتا ہوں میرے پاس اس کی صوابیدگی پر بہت زیادہ مدلل مواد موجود ہے لیکن کچھ اہم اسباب کی وجہ شیئر کرنے کے حق میں نہیں ہوں
    اعجاز بھائی نے لکھا ہے
    بھائی یزید کے بارے میں شیعوں کی طرح لعن طعن کرنا کم از کم اہل سنت و الجماعت کا منھج نہیں‌۔
    ہمارے لئے یہی بہتر ہے کہ ہم یزید کا معاملہ اللہ پر چھوڑ دیں کیوں کہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے اور وہ کسی پر ذرہ برابر ظلم نہیں کرتا۔
    امت مسلمہ کو اللہ نے امہ وسطہ یعنی معتدل امت قرآن میں‌مخاطب کیا ہے۔ اگر بالفرض ہم یزید کو پرہیز گار کہیں تو کیا ہمارے کہنے سے وہ پرہیزگار ہوگا اگر وہ اللہ کے نزدیک فاسق ہو۔ اور اگربالفرض اللہ نے یزید کی توبہ قبول کی ہو تو پھر ہمارے کافر یا فاسق کہنے سے کیا اللہ کی رحمت کو چھینا جاسکتا ہے۔


    بھائی میں آپ کی بات سے متفق ہوں لیکن اھل سنت کو موقف یہ ہے کہ افراط و تفریط سے بچتے ہوئے مستند علمی حقائق کو بیان کیا جائے

    باذوق بھائی نے لکھا ہے
    ویسے تو فوت شدہ شخصیات کے اعمال پر گفتگو کرنا وقت کا ضیاع ہے۔ اس ضمن میں اعجاز بھائی نے بالکل درست مشورہ دیا ہے کہ :
    ہم اللہ کے کاموں میں دخل اندازی چھوڑدیں کیوں کہ اللہ جسے عذاب دیتا ہے وہ بھی عین انصاف ہے اور جسے معاف کرتا ہے وہ بھی عین انصاف لہذا ہمیں چاہیے کہ اپنی آخرت کی فکر کریں اور اپنی قبر کی تیاری کریں ۔


    آپ نے بالکل بجافرمایا ہے لیکن میں آپ کے معتدل مسلک میں تھوڑا اضافہ کردوں

    ولكن دل على أنه لا غيبة لفاسق قد أظهر المعصية ما ثبت عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه مُرَّ عليه بجنازة فأثنى عليها الحاضرون شراً ، فقال صلى الله عليه وسلم : (وجبت) ومُرَّ عليه بأخرى فأثنوا عليها خيراً ، فقال صلى الله عليه وسلم : (وجبت) فسألوه صلى الله عليه وسلم عن معنى قوله وجبت ؟ فقال : (هذه أثنيتم عليها شراً فوجبت لها النار ، وهذه أثنيتم عليها خيراً فوجبت له الجنة ، أنتم شهداء الله في أرضه ) ولم ينكر عليهم ثناءهم على الجنازة شراً التي علموا فسق صاحبها ، فدل ذلك على أن من أظهر الشر لا غيبة له .
    وبالله التوفيق ، وصلى الله على نبينا محمد وآله وصحبه وسلم" انتهى .
    اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والإفتاء .
    الشيخ عبد العزيز بن عبد الله بن باز ... الشيخ عبد العزيز آل الشيخ ... الشيخ عبد الله بن غديان ... الشيخ صالح الفوزان ... الشيخ بكر أبو زيد .
    "فتاوى اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والإفتاء" (26/19) .


     
    Last edited by a moderator: ‏دسمبر 22, 2009
  11. bheram

    bheram رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏دسمبر 18, 2009
    پیغامات:
    261
    السلام علیکم اعجاز بھائی،

    جزاک اللہ خیرا

    بہت عمدہ تحریر پیش کی ہے۔
     
  12. bheram

    bheram رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏دسمبر 18, 2009
    پیغامات:
    261
    یا اللہ میں حضرت امام حسین رضی الّلہ تعالیٰ عنہ سے محبت رکھتا ھوں میری محبت کو قبول فرما آمین
     
  13. انجینئر عبدالواجد

    انجینئر عبدالواجد -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏اگست 3, 2010
    پیغامات:
    220
    بہت ہی پیارا، مدلل، اور جامع جواب مرحمت فرمایا آپ نے
    ماشاءاللہ
     
  14. زبدالرحمن

    زبدالرحمن -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏جون 27, 2010
    پیغامات:
    161
    جزاک اللہ صیح فرمایا
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں