واقعۂ حرہ اور اہلِ مدینہ کا بیعتِ یزید کو توڑ دینا : مباحث

باذوق نے 'ماہِ محرم الحرام' میں ‏جنوری 18, 2009 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. باذوق

    باذوق -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏جون 10, 2007
    پیغامات:
    5,623
    ہمارے ایک دوست نے سوال کیا ہے کہ ۔۔۔۔
    کیا یہ سچ ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے کربلا سے واپسی کی پیشکش کرتے ہوئے یزید کے ہاتھ میں ہاتھ دینے کی خواہش کی تھی؟
    واقعۂ حرہ کے بعد یزید پر لعن طعن کرتے ہوئے اہل مدینہ نے یزید کی بیعت توڑ دی تھی تو کیا ان میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خاندان کے سارے افراد بھی شامل تھے؟


    سائل کا تقاضا ہے کہ کتب تاریخ ہی کے حوالے سے گفتگو کی جائے۔

    تاریخ کی کتب کے ذریعے ہی اگر بات کرنا ہو تو آئیے ذرا دیکھ لیں کہ حقائق کیا کہتے ہیں:

    -------
    اصل تھریڈ : یہاں
     
    Last edited by a moderator: ‏مارچ 16, 2009
  2. Jaamsadams

    Jaamsadams -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏جنوری 12, 2009
    پیغامات:
    52
    جامع الصحیح البخاری کے کتاب العلم میں امام بخاری حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث شریف میں روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دو طرح کی خبریں اور علم سیکھے۔ ایک قسم اس علم کی ہے جو میں مجمع عام میں ہرکس و ناکس کے سامنے بیان کرتا رہتا ہوں۔ وہ علم احکام شریعت اور احکام طریقت کا ہے۔ دوسرا علم ایسے حقائق و واقعات اور خبریں ہیں کہ اگر وہ لوگوں کے سامنے بیان کردوں تو میری گردن حلق سے کاٹ دی جائے۔ صحیح بخاری کی یہ حدیث کتاب العلم میں ہے۔ اس حدیث صحیح بخاری کی شرح کے ذیل میں امام حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ نے فتح الباری شرح صحیح البخاری میں لکھا ہے کہ وہ علم جو سیدنا ابوہرہرہ رضی اللہ عنہ نے تاجدار کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سیکھا اور جسے عوام الناس کے سامنے بیان کرتے کتراتے اور خواص کے سامنے بیان کرتے تھے اس علم میں سے یہ بھی تھا کہ جب ساٹھ ہجری کا سن قریب آگیا تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے کہ۔
    ’’اے اللہ میں سن ساٹھ ہجری اور تخت سلطنت پر نوعمر لونڈوں کے حکمران بن کر بیٹھنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور سن ساٹھ ہجری کا سورج طلوع ہونے سے پہلے مجھے دنیا سے اٹھالینا‘‘
    ۔
    امام حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں۔
    ’’یزید کے حکومت پر بیٹھنے سے ایک سال پہلے اللہ تعالیٰ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی دعا قبول کی اور انہیں اپنے پاس بلالیا‘‘۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ روایت کرتے ہیں اس علم میں سے ایک یہ بھی تھا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے مسجد نبوی میں مروان بن حکم ( جو کہ یزید کیلئے بیت لینے کیلئے معمورکیا گیا تھا) سے خطاب فرمایا :
    اے مروان! میں نے صادق المصدوق نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے کہ آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ’’قریش کے خاندان میں سے ایک گھرانہ کے نادان، بیوقوف لونڈوں کے ہاتھوں میری امت برباد ہوجائے گی۔‘‘
    گویا حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوری امت کی ہلاکت قرار دیا ہے۔ اس وقت تو مروان نے یہ سن کر کہا کہ ان لونڈوں پر خدا کی لعنت ہو لیکن اسے خبر نہ تھی کہ اس کے ہی خاندان کے لونڈوں کی بات ہورہی ہے۔

    امام حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ قریش کے وہ بیوقوف لونڈے جنہوں نے تاجدار کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دین کو تباہ کیا تھا ان میں سے پہلا لونڈا یزید تھا۔
    حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
    اَلْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ اَھْلِ الْجَنَّۃِ. ( ترمذی، السنن، کتاب المناقب، 5 : 656، رقم، 3768)
    ’’حسن اور حسین رضی اللہ عنہما دونوں (شہزادے) جنتی جوانوں کے سردار ہیں۔‘‘​
    آپ غور کریں اس حدیث کے راوی حضرت ابو سعید خدری، حضرت ابو حذیفہ، حضرت علی المرتضی، حضرت انس بن مالک، حضرت عمر فاروق، حضرت عبداللہ ابن عمر، حضرت عبداللہ ابن مسعود اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہم ہیں۔ یہ وہ صحابہ رضوان اللہ علیہم ہیں جو اہل بیت اطہار رضی اللہ عنہم کی سیادت کا اعلان احادیث روایت کرکے کررہے ہیں۔ حضرت عبداللہ ابن مسعود سے حدیث مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
    مَنْ اَحَبّنِيْ فَلْيُحِبَّ ھَذانِ. ( ابن حبان، الصحيح، 15 : 426، رقم : 6970)
    ’’جو مجھ سے محبت کرتا ہے اس پر لازم ہے کہ وہ حسن و حسین رضی اللہ عنہما سے محبت کرے۔‘‘​
    آپ نے اندازہ کیا کہ آقا علیہ السلام کو اہل بیت اطہار رضی اللہ عنہم سے کتنی محبت ہے۔ قیامت، جنت سب ان (رضی اللہ عنہم) کی ہے۔ جس طرح اہل بیت اطہار رضی اللہ عنہم سے ایک رخ محبت کا ہے اسی طرح دوسرا رخ بغض کا ہے۔ حضرت ابوہریرہ، حضرت عبداللہ ابن مسعود، حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہم روایت کرتے ہیں۔ آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
    مَنْ اَبْغَضَھُمَا فَقَدْ اَبْغَضَنِيْ. ( ترمذی، تہذيب الکمال، 8 : 437)
    ’’جس نے ان دونوں (حسن و حسین رضی اللہ عنہما) سے بغض رکھا، اس نے مجھ سے بغض رکھا۔‘‘​
    تو گویا اہل بیت رضی اللہ عنہم سے بغض رکھنے والے غیر المغضوب علیہم میں شامل ہیں اور جس سے اللہ بغض رکھے گا وہ سیدھا دوزخ میں جائے گا۔ اب امام حسین رضی اللہ عنہ کو اذیت، اس کا عالم کیا ہے۔ حدیث میں ہے یزید بن ابوزیاد اور یحیٰ بن ابوکثیر روایت کرتے ہیں۔
    خَرَجَ النَّبِی صلی اللہ عليہ وآلہ وسلم مِنْ بَيْتٍ عَائشہَ فَمَرَّ عَلَی فَاطِمَہَ فَسَمِعَ حُسَيْنًا يُبْکِيْ رضی اللہ عنہ فَقَالَ اَلَمْ تَعْلَمِيْ اَنَّ بَکَاءَ ہُ يُؤْذِيْنِيْ. ( طبرانی، المعجم الکبير، 3، 116، رقم : 2847)
    ’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے گھر سے نکلے، حضرت سیدہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا (کے گھر کے پاس سے) گزرے تو سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کو روتے ہوئے سنا تو فرمایا : فاطمہ کیا تو نہیں جانتی کہ مجھے اس کا رونا تکلیف دیتا ہے۔‘‘​
     
  3. حیدرآبادی

    حیدرآبادی -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 14, 2007
    پیغامات:
    1,319
    بھائی مجھے معلوم ہے کہ آپ نے یہ تحریر کس شیخ الاسلام کی کتاب سے اٹھائی ہے۔ خیر مجھے اس پر کوئی بحث نہیں کرنی۔ لیکن پاشا بھائی ! کم سے کم حدیث کا ترجمہ ہی صحیح لگانے کا اہتمام تو کر لیتے آپ :00002:
    آپ نے حضرت ابوھریرۃ سے متعلق جو روایتِ بخاری پیش فرمائی ہے ، اس کا اصل عربی متن صرف اتنا ہے: (دیکھئے صحیح بخاری ، کتاب العلم ، باب حفظ العلم ، اس باب کی آخری حدیث)
    [QH]عن ابي هريرة، قال حفظت من رسول الله صلى الله عليه وسلم وعاءين، فاما احدهما فبثثته، واما الاخر فلو بثثته قطع هذا البلعوم‏.‏[/QH]
    اس کا سیدھا سادا ترجمہ کچھ یوں بنتا ہے:
    ابوھریرۃ نے کہا میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے (علم کے) دو تھیلے سیکھے یعنی دو طرح کے علم حاصل کئے ایک کو میں نے (لوگوں میں) پھیلا دیا اور دوسرے کو اگر میں پھیلاؤں تو یہ میرا بلعوم (نرخرا) کاٹ ڈالا جائے۔
    (اردو ترجمہ: مولانا وحید الزماں)

    بھائی Jaamsadams ، آپ کے ترجمہ میں یہ جملہ زائد ہے:
    وہ علم احکام شریعت اور احکام طریقت کا ہے۔
    ذرا آپ بخاری کی اس حدیث کا مکمل عربی متن تو فراہم کیجئے جس کے کسی فقرے کا ایسا اردو ترجمہ بنتا ہو۔
    ورنہ خدا کے لئے اس طرح جھوٹی باتوں کو حدیث کے نام پر آگے بڑھانے سے باز آئیں بھائی۔
     
  4. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,921
    جام صاحب آپ سے گذارش ہے کہ احادیث کا حوالہ دیتے وقت عربی میں احادیث ضرور لکھا کریں ۔۔ کیونکہ اس ترجمے کی وجہ سے بات کہاں سے کہاں نکل جاتی ہے ۔ اور اس کا انداز ہمیں اس کاپی پیسٹ سے بھی ہوا ۔
     
  5. باذوق

    باذوق -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏جون 10, 2007
    پیغامات:
    5,623
    جیسا کہ حیدرآبادی بھائی صاحب نے کہا ، Jaamsadams صاحب نے جو پوسٹ یہاں لگائی ہے وہ درحقیقت ڈاکٹر طاہر القادری کی ایک تحریر سے لیا گیا اقتباس ہے۔ جس کو مکمل طور پر یہاں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے:
    غمِ حسین رضی اللہ عنہ اصل میں غمِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے

    آئیے ذرا اصل حدیث خود دیکھ لیتے ہیں :
    [QH]حدثنا عمرو بن يحيى بن سعيد بن عمرو بن سعيد، قال اخبرني جدي، قال كنت جالسا مع ابي هريرة في مسجد النبي صلى الله عليه وسلم بالمدينة ومعنا مروان قال ابو هريرة سمعت الصادق المصدوق يقول ‏"‏ هلكة امتي على يدى غلمة من قريش ‏"‏‏.‏ فقال مروان لعنة الله عليهم غلمة‏.‏ فقال ابو هريرة لو شئت ان اقول بني فلان وبني فلان لفعلت‏.‏ فكنت اخرج مع جدي الى بني مروان حين ملكوا بالشام، فاذا راهم غلمانا احداثا قال لنا عسى هؤلاء ان يكونوا منهم قلنا انت اعلم‏.[/QH]
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عمرو بن سعید نے کہا کہ میں ابوھریرہ کے پاس مدینہ منورہ میں نبی کریم کی مسجد میں بیٹھا تھا اور ہمارے ساتھ مروان بھی تھا۔
    ابوھریرہ نے کہا کہ :
    [QH]هلكة امتي على يدى غلمة من قريش[/QH]
    میں نے صادق و مصدوق سے سنا ہے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا کہ میری امت کی تباہی قریش کے چند چھوکروں کے ہاتھ سے ہوگی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    [QH]صحيح البخاري , كتاب الفتن , باب قول النبي صلى الله عليه وسلم ‏"‏ هلاك امتي على يدى اغيلمة سفهاء ‏"‏‏, حديث:7145[/QH]

    اس کے بعد ڈاکٹر طاہر قادری صاحب لکھتے ہیں:
    ہمارا دعویٰ ہے کہ یہ قادری صاحب کے (یا ان کے گھوسٹ رائیٹرز کے) اپنے گھڑے ہوئے جملے ہیں۔
    اگر قادری صاحب کے متبعین کو اس بات کا انکار ہے تو دلیل لائیے کہ کس روایت میں ایسے جملے بیان ہوئے ہیں؟ اور دلیل، روایت کے اصل عربی متن سے دیجئے ورنہ قبول فرمائیں کہ جھوٹ گھڑنے میں ڈاکٹر صاحب اور ان کے نام لیواؤں کا کوئی ثانی نہیں !
    ویسے بھی شائد یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب کے اس سارے مضمون میں جگہ جگہ حوالے تو اصل عربی متن سے دئے گئے ہیں ، بس نہیں دئے گئے تو اس حدیث اور حافظ ابن حجر العسقلانی کی تشریح کے۔

    اگر بخاری کی کتاب الفتن والی اس روایت میں درج "[QH]هلكة امتي[/QH]" کے معنوں کو ، ان مطالب میں لیا جائے جیسا کہ ڈاکٹر صاحب نے لیا ہے کہ حضرت حسین کی شہادت کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوری امت کی ہلاکت قرار دیا ہے۔۔۔۔۔ تو پھر اس حدیث کا کیا مطلب نکالا جائے جس میں جبرائیل علیہ السلام ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتا رہے ہیں کہ حضرت حسین (رضی اللہ عنہ) کو آپ کی امت قتل کر دے گی۔

    [QH]عن أنس بن مالك، أن ملك المطر، استأذن ربه أن يأتي النبي صلى الله عليه وسلم فأذن له فقال لأم سلمة املكي علينا الباب لا يدخل علينا أحد قال وجاء الحسين ليدخل فمنعته فوثب فدخل فجعل يقعد على ظهر النبي صلى الله عليه وسلم وعلى منكبه وعلى عاتقه قال فقال الملك للنبي صلى الله عليه وسلم أتحبه قال نعم قال أما إن أمتك ستقتله وإن شئت أريتك المكان الذي يقتل فيه فضرب بيده فجاء بطينة حمراء فأخذتها أم سلمة فصرتها في خمارها قال قال ثابت بلغنا أنها كربلاء‏.[/QH]
    حضرت ام سلمہ (رضی اللہ عنہا) روایت کرتی ہیں کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) رسول کریم کے پاس تھے۔ اس وقت میرے پاس حسین (رضی اللہ عنہ) تھے ، وہ رونے لگے تو میں نے انہیں چھوڑ دیا تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلے گئے۔
    جبرائیل نے پوچھا : [QH]أتحبه[/QH] ؟ (اے محمد ! آپ اس سے محبت کرتے ہیں؟)
    آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا : [QH]نعم[/QH] (ہاں)
    جبرائیل نے کہا : [QH]أما إن أمتك ستقتله[/QH] (آپ کی امت عنقریب اسے قتل کر دے گی)
    ۔۔۔ اگر آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) چاہیں تو میں آپ کو اس سرزمین کی مٹی نہ دکھاؤں جہاں یہ قتل کیا جائے گا۔
    چنانچہ حضرت جبرائیل نے مٹی دکھائی تو وہ اس جگہ کی مٹی تھی جسے کربلا کہا جاتا ہے۔
    [QH]مسند أحمد , المجلد الثالث , تابع مُسْنَدُ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , حديث:13050[/QH]

    یہ بڑی عجیب بات ہے کہ امت ہی قتل کرے گی اور ساری کی ساری امت بھی تباہ ہو جائے گی۔۔۔۔۔ پھر نبی کا ایک فرمان یہ بھی ہے کہ : ہر سو سال بعد اللہ اس امت میں ایک مجدد کو پیدا کرے گا جو دین کا احیاء کرے گا۔
    جب امت نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کے نواسے (رضی اللہ عنہ) کو ہلاک کر کے تباہ ہو ہی چکی ہے تو پھر ہر سو سال بعد ایک نئے مصلح کی آمد کی بشارت کیوں؟؟
    ثابت ہوا کہ ڈاکٹر صاحب یا ان کے گھوسٹ رائیٹرز کو لفاظی کے سہارے بھولے بھالے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو برانگیختہ کرنا تو ضرور آتا ہے لیکن حدیث فہمی نہیں آتی !!

    مزید آگے بڑھ کر حافظ ابن حجر عسقلانی پر جھوٹ باندھتے ہوئے ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں:
    جبکہ آپ فتح الباری کی وہ تحریر اس ربط پر خود دیکھ لیں ، حافظ صاحب کے جملے ہیں:
    [QH]وحمل العلماء الوعاء الذي لم يبثه على الأحاديث التي فيها تبيين أسامي أمراء السوء وأحوالهم وزمنهم، وقد كان أبو هريرة يكني عن بعضه ولا يصرح به خوفا على نفسه منهم، كقوله‏:‏ أعوذ بالله من رأس الستين وإمارة الصبيان يشير إلى خلافة يزيد بن معاوية لأنها كانت سنة ستين من الهجرة‏.‏[/QH]
    [QH]فتح الباري شرح صحيح البخاري , كِتاب الْعِلْمِ , باب حفظ العلم , آخري حديث[/QH]

    مجلس پر کئی ایک اہل علم آتے ہیں جن کو عربی پر خاصا عبور ہے۔ ان سے گذارش ہے کہ حافظ العسقلانی کی تحریر اور ڈاکٹر صاحب کے ترجمہ میں تقابل کر کے ذرا بتائیں کہ ڈاکٹر صاحب نے "بغض معاویہ (رضی اللہ عنہ)" کی آڑ میں کیسی ڈنڈی ماری ہے؟

    آخر میں ہماری ایک عرض مزید سن لیں :
    حضرت حسین رضی اللہ عنہ یا اہل بیت رضی اللہ عنہم کے مناقب میں جتنی بھی صحیح احادیث ملتی ہیں ، ان تمام کی سچائی پر یقیناً ہمارا ایمان ہے۔
    ہم اہل بیت کے ساتھ خیر خواہی کرنے کے منکر نہیں ہیں ۔ ہم مانتے ہیں کہ ان کے ساتھ احسان و سلوک اور ان کا اکرام و احترام ضروری چیز ہے ۔ روئے زمین پر ان سے زیادہ پاک اور صاف ستھرا گھرانا اور نہیں ۔ حسب و نسب میں اور فخر و مباہات میں بلا شک یہ سب سے اعلیٰ ہیں ۔ بالخصوص ان میں سے وہ جو متبع سنت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہوں۔ جیسے کہ اسلاف کی روش تھی یعنی حضرت عباس رضی اللہ عنہ اور آل عباس رضی اللہ عنہ کی اور حضرت علی رضی اللہ عنہ اور آل علی رضی اللہ عنہ کی۔
    رضوان اللہ عنہم اجمعین ۔


    لیکن حبِّ نبوی یا حبِّ اہل بیت کی آڑ میں خودساختہ نظریات کا پروپگنڈا اور تعلیماتِ نبوی سے واضح ردّگردانی کی اجازت کبھی بھی نہیں دی جا سکتی !!
     
  6. Jaamsadams

    Jaamsadams -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏جنوری 12, 2009
    پیغامات:
    52
     
  7. اھل حدیث

    اھل حدیث -: مشاق :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 6, 2008
    پیغامات:
    370
     
  8. رحیق

    رحیق -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    1,592
    جزاک اللہ خیرا باذوق بھائی۔۔کافی معلومات ملی ہیں
     
  9. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,921
    لاڈلے والی بات تو شاید کم ازکم اس فورم پر مناسب نہیں لگتی اور نہ ہی اسلام اس کی اجازت دیتا ہے ۔۔۔ اسلام شخصیت پر ستی سے پاک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اور تعلیمات پر مبنی ہے ۔ ۔۔۔
    اس فورم کے بہت سے تھریڈز میں‌ بار بار یہ وضاحت کی گئی کہ یزید کے معاملے اہل سلف سے لیکر آج تک علماء حق نے اعتدال کا رویہ اختیار کیا ہے۔۔

    اور اگر ہم یزید کے بارے وہ رائے رکھیں‌ جو آپ کی ہے پھر بھی ہم ان کو اللہ کے ہاں مجرم نہیں ٹہرا سکتے ۔۔۔ اور اگر ہم اس کو لاڈلہ بنا ہی لیں بقول آپ کے پھر بھی ہم اس کو جنت نہیں دلو ا سکتے ۔۔۔ اس لیے آپ بھی اپنے اعمال کی فکر کریں تو زیادہ بہتر ہو گا کیونکہ وان لیس لانسان الا معی سعی ۔۔ قیامت والے دن آپ سے یزید کے بارے میں نہیں پوچھا جائے گا ۔۔۔

    مشہور شیعہ مجتہد نور اللہ شوستری اہل کوفہ کے مذہب کے متعلق رقمطراز ہیں!۔
    تشیع اھل کوفہ حاجت باقامت حجت نہ دارد وسنی بودن کوفی الاصل خلاف اصل و محتاج دلیل است۔۔۔

    کوفیوں کا شیعہ ہونا اتنا واضع ہے کہ اس کے لئے کسی دلیل کی ضرورت نہیں اور کوفی الاصل کا سنی ہونا خلاف عقل اور دلیل کا محتاج ہے
    (مجالس المومنین جلد ١ صفحہ ٢٥)۔۔۔
    لمااتی زین العابدین بالنسوۃ من کربلا دوکان مریضا واذا النساء اھل الکوفۃ ینتدین مشققات الجیوب والرجال معھن یبکون فقال زین العابدین بصوت ضیلیل فقد تھکتہ العلۃ ان ھؤلآء یبکون فمن قتلنا غیرھم۔۔۔

    جب سیدنا زین العابدین عورتوں کے ہمراہ کربلا سے تشریف لائے اور وہ بیمار تھے تو اس وقت کوفہ کی عورتیں اور مرد گریباں چاک روپیٹ رہے تھے تو اس وقت سیدنا حضرت زین العابدین کمزور آواز سے فرمانے لگے یہ لوگ رو رہے ہیں حالانکہ ان کے علاوہ ہمیں کسی غیر نے قتل نہیں کیا
    (الاحتجاج صفحہ ١٥٨)۔۔۔
    اس بیان کے ثبوت میں کُتب شیعہ سے مزید بہت سے حوالہ جات دستیاب ہو سکتے ہیں اس سلسلہ میں جلاء العیون کی جلد نمبر ١ کے صفحہ نمبر ٥٩٣ پر سیدہ زینب کے دل سے نکلی ہوئی بدُعا!۔

    اے ماتم کرنے والوں تم قیامت تک ماتم ہی کرتے رہو گے یہی تمہاری سزا ہے۔۔۔

    جناب باقر صاحب نے لکھی ہے جو کہ!

    الآحادیث الماثورۃ عن الآئمۃ مختلفۃ جدا لا یکاد یوجد حدیث الاوفی مقابلتہ ماینا فیہ، ولا ینتفق خبرا لا وباء زائہ مایضادہ، حتی صار ذلک سببا لرجوع بعض الناقصین عن اعتقاد الحق کما صرح بہ شیخ الفائفۃ فی اوائل الھذیب والاستبصار۔۔۔

    ائمہ سے منقول احادیث میں سخت اختلاف ہے ایسی کوئی حدیث نہیں ملے گی جس کے مقابلے میں اس کے مخالف خبر نہ ہو یہاں تک کہ یہ اختلاف بعض ناقص لوگوں کے لئے مذہب سے انحراف کا سبب بن گیا جیسا کہ شیخ الطائفہ نے تہذیب اور استبصار کے شروع میں اس کی تصریح کی ہے
    (اسال الاصول صفحہ ٥١)۔۔۔

    اسی تضاد کا شاخسانہ ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے والے گروہ کے ساتھی اور اپنے چچا سعد بن مسعود کو حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی گرفتاری کی ترغیب دینے والے مختار ثقفی نے واقعہ کربلا کے بعد اس واقعہ کے ذمدار کوفیوں کو ساتھ ملا کر اس تحریک کو باقاعدہ ایک مذہبی شکل دیدی اور کبھی تو نبوت اور کبھی مہدویت کا دعوٰی کیا اس نے سبائی تحریک کو مذہبی شکل دے کر لاکھوں مسلمانوں کو تہہ تیغ کیا اس کے بارے میں مشہور شیعہ عالم نور اللہ شوستری لکھتے ہیں!۔

    مختار بن ابی عبید ثقفی رحمۃ اللہ تعالیٰ علامہ حلی اور از جملہ مقبولان ثمردہ۔۔۔

    مختار بن ابی عبیدثقفی اللہ کی اس پر رحمت وہ علامہ حلی نے اس کو مقبولان بارگاہ الٰہی میں شمار کیا ہے
    (مجالس المومنین صفحہ ١٥)۔۔

    اور آپ کا یہ کہنا کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے کوئی اختلاف نہیں اور نہ ہی شیعہ رافضی سے کوئی تعلق ہے تو پھر آپ یزید کے مسئلے میں کیوں شیعہ کی بات لیتے ہیں ۔۔۔۔۔ اصولی طور پر اگر آپ کا تعلق اہل سنت و الجماعت سے ہے تو پھر ایل سلف نے جو حکم لگایا ہے وہ لینا چاہے نہ کہ شیعہ رافضیوں کا ۔

    ۔
     
  10. کارتوس خان

    کارتوس خان محسن

    شمولیت:
    ‏جون 2, 2007
    پیغامات:
    933
    بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

    السلام علیکم ورحمہ اللہ وبرکاتہ۔۔۔وبعد!۔
    محترم جیمز ایڈمز صاحب۔۔۔ لاڈلا چاہے ہمارا ہو۔۔۔ یا آپ کے مُخالفین کا۔۔۔ لیکن ہے انوکھا لاڈلا۔۔۔ وہ والا نہیں جو کھیلن کو مانگے چاند۔۔۔ بلکہ ایک گروہ کا لاڈ اس لاڈلے سے اس حد تک ہے کہ وہ ہجری سال کے پہلے مہنے کے پورے دس دن اپنے لاڈ کا اظہار اخلاقیات کی تمام حدیں عبور کر کے بڑے جوش وخروش سےکرتے ہیں۔۔۔ اور یہ بات آن دی ریکارڈ ہے بابا جی کے لنگوٹ کے نام سے۔۔۔ اچھا اب ہم بات کرتے ہیں ایک دوسرے گروہ کی جو لاڈ دکھانے میں اپنی مثال آپ ہیں۔۔۔ اور وہ ہیں علماء سلف کی بات کو مان کر اس لاڈلے کے سے منسوب تمام واقعات پر سکوت اختیار کرنے والے۔۔۔

    پھر آپ ذرا اپنا لاڈ بھی ملاحظہ فرمائیں۔۔۔۔
    کیا میں یہ جاننے کی گستاخی کر سکتا ہوں کے جو دعوٰی آپ نے لاڈلے کے حق میں پیش کیا۔۔۔ اُس وقت آپ وہاں موجود تھے جہاں پر یہ قاتل اہل بیت کے ساتھ یہ معاملہ کر رہا تھا۔۔۔یا صرف پکڑ دھکڑ والی معلومات کو بنیاد بنا کر آپ نے ایک لاڈلے پر الزامات کے نوجے گُنگنانا شروع کردیئے؟؟؟۔۔۔ اور اپنی جہالت کے لاڈ میں اندھے ہوکر جو الزام آپ نے لاڈلے کے معاملے میں سکوت اختیار کرنے والوں پر رکھ کر ہاتھ صاف کرنے کی ناپاک کوشش کی ہے کہ!۔

    یار مجھے حیرت ہوتی ہے۔۔۔ دیکھو لاڈلے جس طرح روشنی اندھیروں کو دور کرتی ہے بالکل اسی طرح سے جہالت کو بھی علم سے دور کیا جاسکتا ہے۔۔۔ اور علم کی تشریح یہ ہے کہ جو بات آپ کو معلوم ہے وہ علم میں شمار ہوگی۔۔۔ جیسے غیب جو آپ کو نہیں معلوم۔۔۔ اور اگر اللہ پردہ اُٹھا دے اور آپ کو معلوم ہوجائے تو وہ علم کا حصہ بن گئی لیکن سوال یہ ہے اس بات کا علم رکھتے ہوئے بھی کے غیب کا علم اللہ کے پاس ہے ہمارے ہاں بہت سے ایسے افراد کا جم غفیر موجود ہے جو عامل بابا کے بھیس میں لوگوں کو غیب کی باتیں بتارہے ہیں۔۔۔ اور ہمارے بھولے بھالے لاڈلے لوگ علم ہوتے ہوئے بھی ان کی پیچھے دوڑ رہے ہیں۔۔۔ باقاعدہ ٹی چینلز پر ستاروں کی گردش اور ستارے کیا کہتے ہیں جیسے پروگراموں کا نشر ہونا یہ سب کیا ہے علم ہی تو ہے۔۔۔ لیکن یہاں میں جو سوال آپ سے کرنا چاہوں گا وہ یہ کے کیا یہ علم ایسا ہے جس کو من وعن تسلیم کرلیا جائے؟؟؟۔۔۔ بہت سوچ سمجھ کر جواب دیجئے گا کیونکہ ابھی بُش کا معاملہ میں نے نہیں اُٹھایاکیونکہ پہلے میں ان تمام معاملات کو ایک ایک کر طے کر لوں پھر ہم بات کریں گے انوکھے لاڈلے کی۔۔۔

    والسلام علیکم ورحمہ اللہ وبرکاتہ۔۔۔
     
  11. Jaamsadams

    Jaamsadams -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏جنوری 12, 2009
    پیغامات:
    52
    امام حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے کہ۔

    ’’اے اللہ میں سن ساٹھ ہجری اور تخت سلطنت پر نوعمر لونڈوں کے حکمران بن کر بیٹھنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور سن ساٹھ ہجری کا سورج طلوع ہونے سے پہلے مجھے دنیا سے اٹھالینا‘‘
    ۔
    امام حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں۔
    ’’یزید کے حکومت پر بیٹھنے سے ایک سال پہلے اللہ تعالیٰ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی دعا قبول کی اور انہیں اپنے پاس بلالیا‘‘۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ روایت کرتے ہیں اس علم میں سے ایک یہ بھی تھا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے مسجد نبوی میں مروان بن حکم ( جو کہ یزید کیلئے بیت لینے کیلئے معمورکیا گیا تھا) سے خطاب فرمایا :

    اے مروان! میں نے صادق المصدوق نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے کہ آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ’’قریش کے خاندان میں سے ایک گھرانہ کے نادان، بیوقوف لونڈوں کے ہاتھوں میری امت برباد ہوجائے گی۔‘‘
    گویا حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوری امت کی ہلاکت قرار دیا ہے۔ اس وقت تو مروان نے یہ سن کر کہا کہ ان لونڈوں پر خدا کی لعنت ہو لیکن اسے خبر نہ تھی کہ اس کے ہی خاندان کے لونڈوں کی بات ہورہی ہے۔

    امام حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ قریش کے وہ بیوقوف لونڈے جنہوں نے تاجدار کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دین کو تباہ کیا تھا ان میں سے پہلا لونڈا یزید تھا۔

    احدیث مبارکہ تمھارے سامنے ہیں ابھی تک کوئی بھی آئیں بائیں شائیں کے علاوہ تسلی بخش جواب نھیں دے سکا۔ تم سے بحث بھینس کے آگے بین بجانے کے مترادف۔

    یہ لونڈو جس کے تخت پر بیٹھے سے پناہ مانگی جا رہی ہے اور کون تھا؟
    60 ھجری میں کون لونڈا تخت پر چڑھا؟
    تمھاری یہ مجال کہ امام حسین جیسے قطعی جنتی کے قتل کو تباہی نھیں سمجتے؟
    بھائی بش کے جھنمی ہونے پر تو شک کیا جاسکتا ہے (کیونکہ وہ ابھی مرا نھیں شائد اللہ اسے ایمان اور توبہ کی توفیق دے دے)۔ لیکن یزید پلید تو اپنے انجام کو پہنچ چکا اس کے جھنمی ہنے میں کوئی شک نھیں۔ واللہ
    [EN] - - - - - - - - Automerged Doublepost - - - - - - - -[/EN]
    یہ لونڈو کون تھا آخر؟
    اعوذ باللہ من راس الستين وامارہ الصبيان يشير الى خلافہ يزيد بن معاويہ لآنہا كانت سنہ ستين من الھجرہ‏.
    یہ لعنت کس لونڈو پر ہے یقینا یزید پر
    قال ابو ھريرہ سمعت الصادق المصدوق يقول ‏ ھلكہ امتي على يدى غلمہ من قريش ‏ فقال مروان لعنہ اللہ عليہم غلمہ‏
     
  12. علمدار

    علمدار محسن

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 8, 2008
    پیغامات:
    814
    جیمس ایڈمز صاحب! مختلف فورمز پر زیادہ تر آپ کی تحاریر اسی موضوع کے حوالے سے موجود ہیں جو کہ آپ کی حقیقت سے آگاہ کرنے کے لیے کافی ہیں۔ یزید کے بارے میں ہمارا موقف بالکل واضح ہے کہ ’’یزید ایسے لوگوں میں سے ہے جنہیں نہ توہم برا کہتے اورنہ ہی اس سے محبت کرتےہیں ، اس طرح کے کئ ایک خلیفہ اموی اورعباسی دورحکومت میں پاۓ گۓ ہيں ، اور اسی طرح ارد گرد کے بادشاہ بھی بلکہ کچھ تو ایسے بھی تھے جو يزید سے بد تر تھے ۔ ‘‘
    اس موقف کی مزید تفصیل پڑھنا چاہیے تو اس لنک پر چلے جائیں:
    یزید بن معاویہ کے بارہ میں ہماراموقف

    جتنا زور آپ یزید کا برا انجام ثابت کرنے پر لگا رہے ہیں اتنا زور اگر اپنی اصلاح پر لگائیں تو زیادہ بہتر ہے۔
     
  13. Jaamsadams

    Jaamsadams -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏جنوری 12, 2009
    پیغامات:
    52
    واہ تو اب آپ حدیث نبوی کو تاریخ کا ایک واقعہ کہ کر حقیقت کو گول کر رہے ہو
    بھائی یہ لونڈو کون ہے جس کا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر کیا کے قول اور ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ نے نقل کیا
    قال كنت جالسا مع ابي هريرة في مسجد النبي صلى الله عليه وسلم بالمدينة ومعنا مروان قال ابو هريرة سمعت الصادق المصدوق يقول ‏"‏ هلكة امتي على يدى غلمة من قريش ‏"‏‏.‏ فقال مروان لعنة الله عليهم غلمة‏
    ترجمعہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے مسجد نبوی میں مروان بن حکم ( جو کہ یزید کیلئے بیت لینے کیلئے معمورکیا گیا تھا) سے خطاب فرمایا : اے مروان! میں نے صادق المصدوق نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے کہ آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ’’قریش کے خاندان میں سے ایک گھرانہ کے نادان، بیوقوف لونڈوں کے ہاتھوں میری امت برباد ہوجائے گی۔‘‘

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ساٹھ ھجری سے اللہ کی پناہ کیوں مانگی اس لیئے کہ اللہ کے رسول نے اس فسادی لونڈو کے کرتوت اور حرکتوں کا بتایا تھا۔ کیا تم اللہ کے رسول کے فرمان پر اپنی لنڈوری تاریخ کو فوقیت دیتے ہو۔ تف ہے تم پر۔
    أعوذ بالله من رأس الستين وإمارة الصبيان يشير إلى خلافة يزيد بن معاوية لأنها كانت سنة ستين من الهجرة‏.
    (’’اے اللہ میں سن ساٹھ ہجری اور تخت سلطنت پر نوعمر لونڈوں کے حکمران بن کر بیٹھنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور سن ساٹھ ہجری کا سورج طلوع ہونے سے پہلے مجھے دنیا سے اٹھالینا‘‘)

    اللہ کے رسول نے واضع طور پر بتادیا صھابہ اکرام نے پناہ مانگی اور تم حیران ہو کہ لونڈے کا قصور کیا ہے۔
    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت یہ احادیث قیامت تک یزید کے منہ پر طمانچہ رہیں گیں۔

    یاد رکھو نبی کا قول " 60 ھجری اور قریش کا لونڈو = یزید پلید "
    [EN] - - - - - - - - Automerged Doublepost - - - - - - - -[/EN]
    تاریخ کے مسئلے بعد میں حل کرنا پھلے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قطعی فرمودات۔ یہ بتاو کہ آخر یہ 60 ھجری والا قریشی لونڈو کون تھا بھلا؟؟؟
     
  14. باذوق

    باذوق -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏جون 10, 2007
    پیغامات:
    5,623
    محترم بھائی Jaamsadams
    بالا اقتباس کا جواب میں آپ کو دے چکا ہوں۔ اس کے باوجود آپ ڈاکٹر قادری یا ان کے رائیٹرز کی تحریر کو دوبارہ پیسٹ کرنے سے باز نہیں آئے۔ مجھے نہیں معلوم کہ آپ کو ان سے اس قدر کیوں عقیدت ہے کہ بغیر تحقیق کے ان کے ایک ایک لفظ پر ایمان لاتے ہیں؟؟

    یہ لفاظی اور جھوٹ تو آپ کے محبی ڈاکٹر قادری کی طرف سے ہے کہ انہوں نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کو پوری امت کی ہلاکت قرار دیا۔ اور اس پر طرہ یہ بھی کہ اس جھوٹ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب کر دیا۔ [QH]لَّعْنَةُ اللّهِ عَلَى الْكَاذِبِين[/QH]!
    اپنے مربی محترم سے ذرا جا کر پوچھیں کہ وہ حدیث کہاں ہے جس میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کا ذکر کر کے اسے امت کی ہلاکت قرار دیا ہو ؟؟

    دوسرا جھوٹ آپ کے پیر محترم نے حافظ ابن حجر العسقلانی علیہ الرحمۃ پر یہ کہہ کر لگایا کہ :
    امام حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ قریش کے وہ بیوقوف لونڈے جنہوں نے تاجدار کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دین کو تباہ کیا تھا ان میں سے پہلا لونڈا یزید تھا۔
    آپ کو چاہئے کہ ڈاکٹر صاحب سے ربط کر کے اصل عربی متن مکمل حوالے کے ساتھ یہاں پیش فرمائیں۔

    پرانے مراسلے دہرانا اور فریق مخالف کو "آئیں بائیں شائیں" کرنے کا طعنہ دینا ۔۔۔۔ یہ آپ کی عادت ہو سکتی ہے ، ہماری نہیں !!

    بڑے بھائی ! بات تباہی سمجھنے یا نہ سمجھنے کی نہیں ہے بلکہ بات ہے کسی متعین شخص پر لعنت و ملامت کرنے کی جس کے ایمان و کفر کی حالت سے سوائے اللہ کے کوئی واقف نہیں۔ اس کے علاوہ ۔۔۔
    میں بہت ادب سے عرض کروں گا کہ ذرا کبھی موقع ملے تو اپنے گریبان میں بھی جھانکیں کہ ۔۔۔۔۔۔
    آپ ناسمجھی میں درحقیقت کس کی تقلید کئے جا رہے ہیں ؟؟
    اُس فرقے کی ۔۔۔۔ جو صرف ھجری سال کے ماہِ اول میں یزید پر لعنت بھیجتا رہتا ہے اور صرف شہادتِ حسین (رضی اللہ عنہ) کو امت کی تباہی قرار دیتا ہے ۔۔۔۔ مگر ان تمام تاریخوں پر دم سادھ کر خاموش رہتا ہے جب ۔۔۔۔

    * رسول کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) کے چچا زاد بھائی اور آپ کے داماد اور اہل بیت میں شامل حضرت علی (رضی اللہ عنہ) کو شہید کیا گیا تھا۔۔۔
    * رسول کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) کے حقیقی چچا اور اہل بیت میں شامل اور زبانِ رسالت سے "سید الشہداء" کا لقب پانے والے حضرت حمزہ (رضی اللہ عنہ) کو شہید کیا گیا تھا
    * خلیفۂ سوم ، دامادِ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) ، ذوالنورین حضرت عثمان (رضی اللہ عنہ) کی شہادت ہوئی
    * خلیفۂ دوم ، حضرت عمر فاروق (رضی اللہ عنہ) کی شہادت ہوئی
    * حضرت سمیہ (رضی اللہ عنہا) کی تاریخ شہادت ، جنہوں نے اسلام کی سب سے پہلی شہید کا درجہ پایا

    اور ۔۔۔۔۔۔ تاریخ اسلام شاہد ہے کہ متعدد انبیاء اکرام علیہم السلام ، ظالموں کے ہاتھوں شہید ہو چکے تھے ۔۔۔۔


    کیا یہ تمام واقعات آپ کی نظر میں اتنے ہی حقیر واقعات ہیں ؟؟
    جبکہ ان تمام کا قتل بالخصوص انبیاء کرام علیہم السلام کی شہادت تو حضرت حسین (رضی اللہ عنہ) کے قتل سے زیادہ بڑا گناہ اور امت کے لئے زیادہ بڑی مصیبت تھا !!
    مگر کتنے افسوس کی بات ہے کہ ۔۔۔۔۔
    ایک پروپگنڈا باز قوم ان تمام تاریخی حقائق کو بھلا کر یا چھپا کر محض ایک شخص کے خلاف تبرا بازی پر تلی ہے ۔۔۔۔
    اور سب سے زیادہ دکھ کی بات یہ کہ ۔۔۔۔ خود ہمارے اپنے اہل سنت بھائی بہن اپنی اپنی عقل اور سوچ کے تمام دروازے بند کر کے دانستہ اس پروپگنڈے کا شکار بن رہے ہیں ۔۔۔
    اب ایسی صورت میں سوائے اللہ سے دعا کے ، اور کیا کیا جا سکتا ہے کہ وہ اس سبائی پروپگنڈے کے شکار مسلمانوں کو ہدایت سے نوازے !!
     
  15. Jaamsadams

    Jaamsadams -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏جنوری 12, 2009
    پیغامات:
    52
    شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ تعالی نے یزيد بن معاویہ کے بارہ میں موقف بیان کرتے ہوۓ کہا ہے :

    یزيد بن معاویہ بن ابی سفیان کے بارہ میں لوگوں کے تین گروہ ہيں : ایک توحد سے بڑھا ہوا اوردوسرے بالکل ہی نیچے گرا ہوا اورایک گروہ درمیان میں ہے


    ایک توحد سے بڑھا ہوا ؂ شیعہ (کہ یزید پلید کے بغض میں امیر معاویہ اور دیگر صحابہ اکرام کو معاذ اللہ برا کہتے ہیں)

    ایک گروہ درمیان میں ہے ؂ جو صرف یزید کو پلید کھتے ہیں اور دیگر اصحاب رسول کو بر حق مانتے ہیں۔

    دوسرے بالکل ہی نیچے گرا ہوا ؂ جو یزید پلید کو تحسین امیز نگاہوں سے دیکھتے ہیں اور اس خبیث کیلئے جنت کے متمنی ہیں

    بھائیو معتدل رہو
    جو پلید قصور وار ہے صرف اسے ہی برا کہو
    نا کہ صحابہ اکرام کو
    نہ ہی پلید کو حق کہو
    [EN] - - - - - - - - Automerged Doublepost - - - - - - - -[/EN]
    بھائی باقی سب شہادتیں برحق لیکن، امام حسین کی شھادت تاریخ انسانی کا سب سے بڑا سانحہ ہے۔ اسلیئے کہ اور کسی کیلئے اللہ کے رسول نے یہ نھیں فرمایا کہ
    مَنْ اَحَبّنِيْ فَلْيُحِبَّ ھَذانِ. ( ابن حبان، الصحيح، 15 : 426، رقم : 6970)
    ’’جو مجھ سے محبت کرتا ہے اس پر لازم ہے کہ وہ حسن و حسین رضی اللہ عنہما سے محبت کرے۔‘‘[/
    center]

    مَنْ اَبْغَضَھُمَا فَقَدْ اَبْغَضَنِيْ. ( ترمذی، تہذيب الکمال، 8 : 437)
    ’’جس نے ان دونوں (حسن و حسین رضی اللہ عنہما) سے بغض رکھا، اس نے مجھ سے بغض رکھا۔‘‘
    خَرَجَ النَّبِی صلی اللہ عليہ وآلہ وسلم مِنْ بَيْتٍ عَائشہَ فَمَرَّ عَلَی فَاطِمَہَ فَسَمِعَ حُسَيْنًا يُبْکِيْ رضی اللہ عنہ فَقَالَ اَلَمْ تَعْلَمِيْ اَنَّ بَکَاءَ ہُ يُؤْذِيْنِيْ. ( طبرانی، المعجم الکبير، 3، 116، رقم : 2847)
    ’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے گھر سے نکلے، حضرت سیدہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا (کے گھر کے پاس سے) گزرے تو سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کو روتے ہوئے سنا تو فرمایا : فاطمہ کیا تو نہیں جانتی کہ مجھے اس کا رونا تکلیف دیتا ہے۔‘‘
    [EN] - - - - - - - - Automerged Doublepost - - - - - - - -[/EN]
    آخر یہ 60 ھجری والا قریشی لونڈو کون تھا بھلا؟؟؟

    یہ جواب کوئی نھیں دے رہا۔۔۔۔۔۔۔۔بولو
    [EN] - - - - - - - - Automerged Doublepost - - - - - - - -[/EN]
    واقعی تین گروہ ہیں

    آخر یہ 60 ھجری والا قریشی لونڈو کون تھا بھلا؟؟؟

    یہ جواب کوئی نھیں دے رہا۔۔۔۔۔۔۔۔بولو

    جو یہ جواب دے اس کیلئے "اسامہ" کا انعام​
     
  16. باذوق

    باذوق -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏جون 10, 2007
    پیغامات:
    5,623
    جو الفاظ سرخ الفاظ میں شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ علیہ الرحمة کے حوالے سے بیان کئے گئے ہیں وہ بےشک ان ہی کا قول ہے۔
    لیکن اس قول کی جو تشریح آپ نے کی ہے وہ ذرا محل نظر ہے۔
    کیونکہ شیخ الاسلام نے "درمیانی گروہ" کے متعلق ایسا ہرگز نہیں فرمایا کہ ۔۔۔
    جو صرف یزید کو پلید رکھتے ہیں

    احادیثِ صحیحہ سے واقفیت رکھنے والا کوئی بھی شخص ایسا قطعاً نہیں کہہ سکتا کجا یہ کہ وہ امام ابن تیمیہ ہوں۔ آپ کو ایسی تشریح پر اصرار ہو تو وہ اصل عربی متن پیش فرمائیں جس میں امام ابن تیمیہ نے ایسا کہا ہو کہ درمیانی گروہ یزید کو پلید کہتا ہے۔
    بلکہ امام صاحب سے اور امام ابوحنیفہ سے اور حتیٰ کہ بریلوی حضرات کے امام جناب احمد رضا خان سے ثابت ہے کہ :
    یزید کے معاملے میں انہوں نے خاموشی اختیار کی ہے۔ نہ اچھا کہا ہے اور نہ برا !!

    جب معین شخص پر لعنت کرنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم ہے ہی نہیں تو کوئی امام صاحب کیسے اس طرز عمل کی تائید کر سکتے ہیں؟؟
    فلاں فلاں امام صاحب نے یزید پر لعنت کی ہے یا اس پر لعنت کرنے کی ترغیب دلائی ہے ۔۔۔۔ ایسا کہنا تو ائمہ دین پر بہتان تراشی ہے !!

    بہتر ہے آپ یہ دو تھریڈ پڑھ لیں کہ لعنت و ملامت کے سلسلے میں اسلام کے کیا احکام ہیں ؟؟
    لعنت کرنا - نبی (ص) کی تعلیم نہیں ہے
    معین شخص پر لعنت / گروہ پر لعنت ۔۔۔؟!
     
  17. Jaamsadams

    Jaamsadams -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏جنوری 12, 2009
    پیغامات:
    52
    بش بیچارے پر تو آپ پٹاخ پٹاخ لعنت کرتے ہیں۔ جسکاابھی پتا نھیں کہ کافر مرے گا یا مسلمان ہو جائے گا۔

    یزید جو انجام کو پہنچ گیا اسکی کیوں فکر لگی ہوئی ہے۔

    باقی رہا مجھے یزید کے جنتی یا جھنمی ہونے کی فکر کرنی چاہے یا نھیں لیکن مجھے یہ ضرور پتا کرنا واجب ہے کیونکہ یہ قول رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے اور دین کا حصہ ہے کہ " یہ 60 ھجری والا قریشی لونڈو کون تھا بھلا؟؟؟"
     
  18. کارتوس خان

    کارتوس خان محسن

    شمولیت:
    ‏جون 2, 2007
    پیغامات:
    933
    بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

    السلام علیکم ورحمہ اللہ وبرکاتہ۔۔۔وبعد!۔
    محترم یہ امام حجر عسقلانی کے بارے میں کچھ سوالات ہیں جو میں آپ سے کرنا چاہتا ہوں۔۔۔ سب سے پہلا سوال کے امام محترم کا پورا نام کیا تھا؟؟؟۔۔۔ اِن کی ولادت کہاں ہوئی؟؟؟۔۔۔ اور ساتھ ہی میں یہ بھی جاننے کا متمنی ہوں کے امام محترم کس سن عیسوی کے ساتھ ساتھ ہجری کا سال بھی ضرور بتا دیجئے گا کی ولادت ہیں؟؟؟۔۔۔ اور محترم نے اپنے دورانیائے حیات میں کون کون سے تصانیف لکھیں اور یہ ضرور بتائیے گا کہ جس حدیث کو آپ نے پیش کیا وہ امام محترم نے اپنی حدیث کی کس کتاب میں پیش کی ہے۔۔۔
    والسلام علیکم ورحمہ اللہ وبرکاتہ۔۔۔

     
  19. Jaamsadams

    Jaamsadams -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏جنوری 12, 2009
    پیغامات:
    52
    اچھا تو اگر میں آپ کو یہ سب بتادوں تو کیا آپ مجھے بتادیں گے کہ " یہ 60 ھجری والا قریشی لونڈو کون تھا"
    آپ پھلے وعدہ کرلیں، اور مکرنا نھیں۔
    خدا کی قسم یہ لونڈا آپ سب کے ساتھ میرے گلے میں بھی اٹکا ہوا ہے
     
  20. کارتوس خان

    کارتوس خان محسن

    شمولیت:
    ‏جون 2, 2007
    پیغامات:
    933
    بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

    السلام علیکم ورحمہ اللہ وبرکاتہ۔۔۔وبعد!۔
    قابل احترام معزز معاون رُکن صاحب۔۔۔ آپ بوکھلاہٹ میں عجیب سوال کر بیٹھے ہیں۔۔۔ محترم یہ ساری بحث جو جاری و ساری پھر ایک ایک کر کے سب باری باری تحریریں دھڑا دھڑا پیش کررہے ہیں اُس کی وجہ کیا ہے؟؟؟۔۔۔ کیا ہم یہاں پر یزید (لاڈلے) کا اسلام ثابت کرنے کے لئے بحث کر رہے ہیں؟؟؟۔۔۔ لہذا بات کو گول کرکے مطلب کا ٹُل مارنے کی ضرورت میں نہیں سمجھتا کے دانشمندی ہے۔۔۔ اور خدا کی قسم یقین جانیئے ہماری پوری کوشش ہے جو لونڈا (لاڈلا) آپ سب کے گلے میں اٹکا ہوا ہے اُسے اِس بحث کے ذریعے سے ہم آنے والی اور پیچھے رہ جانے والی پیڑیوں کے لئے جو متنازعہ شخصیت بنا کر پیش کیا جاتا ہے کے صحیح تشخص کو اُجاگر کرسکیں تاکہ پھر فسادی ٹولہ کسی قسم کے فساد کے لئے راہیں ہموار نہ کرسکے۔۔۔ اور اس سازش کو جو کئی سو سال پہلے رچی گئی تھی سب کے سامنے پیش کریں تاکہ وہ سازشی عناصر جو اُس وقت باقی رہ گئے تھے جنہوں نے اُس سازش کو انجام دیا تھا اُن کی آل اولاد موجودہ دور میں مختلف ناموں سے مختلف مکاتب فکر کے پلیٹ فارموں سے بیٹھ کر ماضی میں کی گئی اُس سازش پر پردہ ڈال کر اپنے آباواجداد کے گناہوں پر پردہ ڈال سکیں اور اُمت محمدیہ میں فتنے اور فساد کو ہوا دیتے رہیں۔۔۔ لہذا میری درخواست جو میں پچھلی پوسٹ میں کر چکا ہوں ملاحظہ کیجئے۔۔۔

    پر آپ تسلی بخش جواب عرض فرمائیں گے۔۔۔

    والسلام علیکم ورحمہ اللہ وبرکاتہ۔۔۔
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں