واقعۂ حرہ اور اہلِ مدینہ کا بیعتِ یزید کو توڑ دینا : مباحث

باذوق نے 'ماہِ محرم الحرام' میں ‏جنوری 18, 2009 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. Jaamsadams

    Jaamsadams -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏جنوری 12, 2009
    پیغامات:
    52
    ابن حجر العسقلاني​
    شهاب الدين أحمد بن علي بن محمد بن علي بن محمود بن أحمد بن حجر الشافعي العسقلاني ، فلسطيني الأصل و مصري المولد ۔ توفي في أواخر ذي الحجة سنة 852هـ

    ولد المحدث الجليل بمدينة الفسطاط في الثالث والعشرين من شعبان سنة 773هـ ، وهو من عائلة فلسطينية الاصل سكنت مدينة عسقلان و هاجرت إلى مصر قبل ان يولد هناك وكان والده عالماً أديباً ثرياً، وأراد لابنه أن ينشأ نشأة علمية أدبية إلا أنه توفي ولم يزل أحمد طفلاً فكفله أحد أقارب والده زكي الدين الخروبي كبير تجار الكارم بمصر، فرعاه الرعاية الكاملة وأدخله الكُتّاب فظهر نبوغه المبكر فقد أتم حفظ القرآن الكريم وهو ابن خمس سنين ووصف بأنه كان لا يقرأ شيئاً إلا انطبع في ذهنه

    [عدل] مؤلفاته
    له مؤلفات وتصانيف كثيرة زادت على مئة وخمسين مصنفاً في مجموعة من العلوم المهمة وسنذكر بعض ما اشتهر منها وطارت سمعته في الآفاق:

    1- فتح الباري شرح صحيح البخاري (خمسة عشر مجلداً ) ، ومكث ابن حجر في تأليفه عشرين سنة ( ولما أتم التأليف عمل مأدبة ودعا إليها أهل قلعة دمشق وكان يوماً عظيماً ) .

    ويعتبر هذا السفر العظيم أفضل شرح وأعمه نفعاً لصحيح البخاري الذي يعتبر ثاني كتاب بعد كتاب الله ، وتأتي أهمية كتاب ابن حجر من كونه شرحاً لأصح ما ورد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم من حديث وقد تضمن ذلك الشرح ذكر أحاديث أخرى وعلق ابن حجر على أسانيدها وناقشها حتى كان بحق ( ديوان السنة النبوية )، وكذلك لما تضمنه من فقه وأصول ولغة ومناقشة للمذاهب والآراء في شتى المعارف الإسلامية . وقد اشتهر هذا الكتاب في عهد صاحبه حتى قبل أن يتمه وبلغ شهرته أن الملك شاه رخ بن تيمور ملك الشرق بعث بكتاب إلى السلطان برسباي يطلب منه هدايا من جملتها ( فتح الباري ) فجهز له ابن حجر ثلاث مجلدات من أوائله.

    2- الإصابة في تمييز الصحابة وهو كتاب تراجم ترجم فيه ابن حجر للصحابة الكرام فكان من أهم المصادر في معرفة الصحابة.

    3- تهذيب التهذيب ومختصره كتاب تقريب التهذيب.

    4- المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية ، ذكر فيه أحاديث لم يخرجها أصحاب المسانيد الثمانية.

    5- الدراية في تخريج أحاديث الهداية ويعتبر من كتب التخريج البديعة وقد خرج فيه الأحاديث الواردة في كتاب الهداية وهو مرجع فقهي وغير ذلك من المؤلفات الكثيرة.

    6- "إنباء الغمر بأنباء العمر" وهو مؤلف ضخم يقع في حوالي ألف صفحة كبيرة حيث يتبع نظام الحوليات والشهور والأيام في تدوين الحوادث. ثم يتبع حوادث كل سنة بأعيان الوفيات. وقد أفاض في ذكر ما يتعلق بمصر من هذه الحوادث، وهو يتناول الأحداث التي وقعت بين سنة (773 - 850 هـ).

    7- "الدرر الكامنة في أعيان المائة الثامنة" وهو معجم ضمنه تراجم أعيان القرن الثامن الهجري من علماء وملوك وسلاطين وشعراء وغيرهم من مصر ومختلف بلاد الإسلام، ويعتبر هذا الكتاب من أهم مصادر تاريخ مصر الإسلامية في الفترة التي يتناولها، وتبدو نزعته كعالم حديث في ذكر مصادره التي اعتمد عليها في تأليفه.

    8- "رفع الإصر عن قضاة مصر" وهو معجم لقضاة مصر منذ الفتح الإسلامي حتى آخر القرن الثامن الهجري.

    9 ـ نخبة الفكر في مصطلح أهل الأثر و هو في مصطلح الحديث .

    10 ـ بلوغ المرام من أدلة الأحكام.

    11 ـ لسان الميزان.

    12 - تغليق التعليق في وصل معلقات البخاري .

    13 - ديوان ابن حجر

    فتح الباري شرح صحيح البخاري ۔ کتاب العلم ۔ باب حفظ العلم (قال حفظت من رسول الله صلى الله عليه وسلم وعاءين، فاما احدهما فبثثته، واما الاخر فلو بثثته قطع هذا البلعوم‏)
    کی شرح کے ذیل میں دیکھئے ۔ 60 ھجری والا قریشی لونڈے کا تزکرہ
    [EN] - - - - - - - - Automerged Doublepost - - - - - - - -[/EN]
    اب بتادیں یہ 60 ھجری والا قریشی لونڈو کون تھا
     
  2. اھل حدیث

    اھل حدیث -: مشاق :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 6, 2008
    پیغامات:
    370
    لعنت اللہ علی الکاذبین۔۔۔
     
  3. کارتوس خان

    کارتوس خان محسن

    شمولیت:
    ‏جون 2, 2007
    پیغامات:
    933
    بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

    السلام علیکم ورحمہ اللہ وبرکاتہ۔۔۔وبعد!۔
    محترم گرامی قدر معاون دوست یہ ساری معلومات تو آپ نے ہمیں یہاں سے کاپی پیسٹ کر کے دی ہیں۔۔۔ مگر شاید آپ بھول رہے ہیں کے میں نے آپ سے سوالات مادری زبان اردو میں پوچھے تھے مگر آپ کی جانب سے مہیا کی گئی ساری معلومات تو عربی حرفوں پر مشتمل ہے برائے مہربانی اگر طبعیت پر گرانی نہ گزرے تو آپ اس پوری معلومات کو اردو میں ترجمہ کر کے پیش فرمادیں تاکہ میرے ساتھ ساتھ باقی ساتھیوں کو بھی سمجھنے میں آسانی میسر ہو جو عربی لغت سے ناواقف ہیں۔۔۔
    شکریہ۔۔۔

    والسلام علیکم ورحمہ اللہ وبرکاتہ۔۔۔

     
  4. Jaamsadams

    Jaamsadams -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏جنوری 12, 2009
    پیغامات:
    52
    انکل اب کیا آپ کیلئے ٹائپ کرکے بھیجوں۔
    جو آپ کو چاہیے پڑھ لیں دو تو لائیں ہیں ساری، امام ابن حجر العسقلاني کا پورا نام دیا ہوا ہے، سن پیدائش و وصال ہے اور کتابوں کے نام ہیں۔ اب ان ناموں کا کیا ترجمعہ کرکے دوں آپ کو؟

    میں دیکھ رہا تھا کہ کوئی شائد زبان کھولے اور 60 ھجری والے قریشی لونڈے کا نام بتائے لیکن اب تو محرم کا ماہ بھی ختم ہوا، اور یہ خاص سوال تھا اس ماہ کا۔ خیر اب اگلے سال پھر پوچھوں گا۔ اب صفر کے حوالے سے گفتگو ہوگی۔ پھر ربیع الاول بھی تو آنا ہے، انشاءاللہ۔ ویسے ربیع الاول جہاں خاص رحمتوں اور برکتوں کا مہینہ ہے وہاں کچھ بھائی لوگوں کیلئے بہت بھاری ہے۔ یہ شیطان کیلئے بھی بہت بھاری ہے۔ شائد آپ کو یاد ہو کہ ابلیس سب سے زیادہ غمگیں اس ماہ میں ہوا تھا۔ اس کی حدیث مبارکہ آپ کو ربیع الاول میں ہی سناوں گا۔ کارتوس، عکاشہ مکاشہ اور دیگر سب کو ٹائٹ کرنا ہے ،انشاءاللہ۔ آپ سب اور میں اکیلا، یہ ہی اصل مقابلے کا مزہ ہے۔ رحمت العالین کی مبارک نعلین کے صدقے بیڑا پار ہوگا، انشاءاللہ۔ اچھا یہ سوال تو اگلے برس کیلئے ادھار رہا۔ اس ماہ میں ایک مضمون تیار کررہا ہوں "پہلا بدعتی" کچھ کیلئے یہ حیرت کا باعث ہوگا اور کچھ کیلئے خوشگوار حیرت کا۔
     
  5. ابوسفیان

    ابوسفیان -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏جون 30, 2007
    پیغامات:
    623
    السلام علیکم ، محترم Jaamsadams صاحب
    انتظامیہ اردو مجلس کی جانب سے میں آپ کو متنبہ کر رہا ہوں کہ شخصی حملوں سے پرہیز کرتے ہوئے موضوع پر رہ کر گفتگو کریں۔
    آئیندہ سے ذاتی حملوں پر مبنی جملے آپ کے مراسلوں سے بلا اطلاع حذف کر دئے جائیں گے۔
     
  6. علمدار

    علمدار محسن

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 8, 2008
    پیغامات:
    814
    adams صاحب پہلے جا کر بات کرنے کے آداب سیکھیں اور اس کے بعد کوئی بات کیجیے گا۔ جن کی شہادت کو امت کی ہلاکت ثابت کرنے پر تُلے ہوئے پہلے ان کی تعلیمات جانیں اور ان پر عمل کریں۔ بدتمیزی اور چیخنے چلانے سے نہ آپ کی بات میں دم پیدا ہو گا اور نہ یہاں آپ سے کوئی مرعوب ہو گا کیونکہ آپ جیسے یہاں کئی آتے جاتے رہتے ہیں۔
     
  7. دانیال ابیر

    دانیال ابیر محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 10, 2008
    پیغامات:
    8,415
    Adams بڑی حیرانگی ہو رہی ہے اپ کا انداز گفتگو دیکھ کر ۔ ۔ ۔۔ قابل افسوس ہے آپ کا رویہ ۔ ۔ ۔۔

    اللہ رب العزت آپ کو ہدایت عطا فرمائے آمین
     
  8. کارتوس خان

    کارتوس خان محسن

    شمولیت:
    ‏جون 2, 2007
    پیغامات:
    933
    بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
    السلام علیکم ورحمہ اللہ وبرکاتہ۔۔۔وبعد!۔

    محترم Jaamsadams عقل کا اصلی تضاد شروع ہی نقل کے کھوکھلے اُصول کو اپنانے کے بعد سے ہوتا ہے۔۔۔ سب سے پہلے میں آپ کو بحیثیت ہمدرد کے ایک نصیحت کرنا چاہوں گا وہ یہ کے ہر مسلمان پر فرض ہے کے وہ کم از کم دین کا بنیادی علم ضرور حاصل کرے تاکہ اُسے معلوم ہو کے ایک مسلم اور غیر مسلم کے طرز عمل میں کیا فرق ہوتا ہے؟؟؟۔۔۔ اسلام کی سرحدیں کہاں ختم ہوتی ہیں اور کہاں سے شروع ہوتی ہیں۔۔۔ ورنہ جہالت کی وجہ سے بہت سے ایسے کام کر بیٹھے گا جس کا حقیقت میں اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہوگا لیکن وہ اپنے آپ کو مسلمان ہی سمجھتا رہے گا۔۔۔ اگر کوئی بات جو آپ کی ذہنی دسترس یا سمجھ سے باہر ہو اُسے پوچھ لیں تاکے بلاوجہ کی لفاظی آپ کی ساکھ کے ساتھ ساتھ آپ کے علمی معیار کو بھی شکوک و شبہات کی نظر کردے گی۔۔۔ لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ بحیثیت مسلمان اپنے مقام سے آگاہ ہوں اپنے فرائض اور ذمہ داریوں کا ادراک کریں اللہ تعالٰی کی قائم کردہ حدودں سے واقف ہوں اور شعائر اسلامی کے سچے پاسدار ہوں لیکن محترم یہ سب اُس وقت ہی ممکن ہے جب دین کی ضروری باتوں کا علم ہو۔۔۔

    شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ تعالی نے یزيد بن معاویہ کے بارے میں موقف بیان کرتے ہوئے کہا ہے :
    یزيد بن معاویہ بن ابی سفیان کے بارے میں لوگوں کے تین گروہ ہيں : ایک تو حد سے بڑھا ہوا اوردوسرے بالکل ہی نیچے گرا ہوا اورایک گروہ درمیان میں ہے۔۔۔

    افراط اورتفریط سے کام لینے والے دو گروہ ہیں ان میں سے ایک تو کہتا ہے کہ یزید بن معاویہ کافر اورمنافق ہے، اس نے نواسہ رسول حضرت حسین علیہ السلام کو قتل کرکے اپنے بڑوں عتبہ، شیبہ اور ولید بن عتبہ وغیرہ جنہیں جنگ بدر میں علی بن ابی طالب علیہ السلام اور دوسرے صحابہ نے قتل کیا تھا ان کا انتقام اور بدلہ لیا۔۔۔

    اس طرح کی باتیں اہل تشیع کی ہیں جو حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین کو کافر کہتے ہیں تو ان کے ہاں یزید کو کافر قرار دینا تو اس سے بھی زيادہ آسان کام ہے۔۔۔

    اور اس کے مقابلہ میں دوسرا گروہ یہ خیال کرتا ہے کہ وہ ایک نیک اورصالح شخص اورعادل حکمران تھا ، اور وہ ان صحابہ کرام میں سے تھا جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے دور میں پیدا ہوۓ اوراسے اپنے ہاتھوں میں اٹھایا اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے ليے برکت کی دعا فرمائی ، اوربعض اوقات تووہ اسے ابوبکر، عمر رضي اللہ تعالی عنہم سے سے افضل قرار دیتے ہیں ، اور ہو سکتا کہ بعض تو اسے نبی ہی بنا ڈاليں۔۔۔

    تو یہ دونوں گروہ اور ان کےقول صحیح نہیں اورہراس شخص کے ليے اس کا باطل ہونا نظرآتا ہے جسے تھوڑی سی بھی عقل ہے اور وہ تھوڑا بہت تاريخ کو جانتا ہے وہ اسے باطل ہی کہے گا ، تواسی لیے معروف اہل علم جو کہ سنت پرعمل کرنے والے ہیں کسی سے بھی یہ قول مروی نہیں اور نہ ہی کسی کی طرف منسوب ہی کیا جاتا ہے، اوراسی طرح عقل وشعور رکھنے والوں کی طرف بھی یہ قول منسوب نہيں۔۔۔

    اورتیسرا قول یا گروہ یہ ہے کہ :
    یزید مسلمان حکمرانوں میں سے ایک حکمران تھا اس کی برائیاں اور اچھائیاں دونوں ہيں، اور اس کی ولادت بھی عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کی خلافت میں ہوئی ہے، اور وہ کافر نہيں ، لیکن اسباب کی بنا پر حضرت حسین علیہ السلام کے ساتھ جو کچھ ہوا اوروہ شہید ہوۓ ، اس نے اہل حرہ کے ساتھ جو کیا سو کیا ، اوروہ نہ توصحابی تھا اور نہ ہی اللہ تعالی کا ولی ، یہ قول ہی عام اہل علم و عقل اور کا ہے ۔

    لوگ تین فرقوں میں بٹ گۓ ہیں ایک گروہ تو اس پرسب وشتم اور لعنت کرتا اور دوسرا اس سے محبت کا اظہار کرتا ہے اور تیسرا نہ تواس سے محبت اورنہ ہی اس پر سب وشتم کرتا ہے ، حضرت احمد رحمہ اللہ تعالی اوراس کے اصحاب وغیرہ سے یہی منقول ہے ۔

    شیخ احمد بن حنبل رحمہ اللہ تعالی کے بیٹے صالح بن احمد کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے کہا کہ : کچھ لوگ تو یہ کہتے ہیں کہ ہم یزید سے محبت کرتے ہیں ، توانہوں نے جواب دیا کہ اے بیٹے کیا یزید کسی سے بھی جو اللہ تعالی اوریوم آخرت پرایمان لایا ہو سے محبت کرتا ہے !!

    تو میں نے کہا تو پھر آپ اس پر لعنت کیوں نہیں کرتے ؟ توانہوں نےجواب دیا بیٹے تونےاپنے باپ کو کب دیکھا کہ وہ کسی پرلعنت کرتا ہو ۔
    اورابومحمد المقدسی سے جب یزيد کے متعلق پوچھا گیا تو جو کچھ مجھ تک پہنچا ہے کہ نہ تو اسے سب وشتم کیا جاۓ اور نہ ہی اس سے محبت کی جاۓ ، اورکہنے لگے : مجھے یہ بھی پہنچا ہے کہ کہ ہمارے دادا ابوعبداللہ بن تیمیۃ رحمہ اللہ تعالی سے یزيد کےبارے میں سوال کیا گیا توانہوں نے جواب دیا : ہم نہ تو اس میں کچھ کمی کرتےہیں اورنہ ہی زيادتی۔

    لہذا حضرت حسين رضى اللہ تعالى عنہ كى يہ شہادت ان اشياء ميں سے تھى جن كے ساتھ اللہ تعالى نے ان كے مقام و مرتبہ كو اور بلند كرديا اور ان كے درجات ميں اضافہ كيا كيونكہ وہ اور ان كے بھائى حسن رضى اللہ تعالى عنہ جنتى نوجوانوں كے سردار ہيں، اور پھر بلند و بالا مقام و مرتبہ بغير كسى ابتلاء اور آزمائش كے حاصل نہيں ہوتا، جيسا كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا بھى فرمان ہے:

    جب رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے دريافت كيا گيا كہ: سب سے زيادہ كن لوگوں كى آزمائش ہوتى ہے؟ تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:
    " انبياء كى اور پھر صالحين كى پھر سب سے زيادہ بہتر اور اچھے شخص كى اور پھر اس سے كم كى، آدمى كى آزمائش اس كے دين كے مطابق ہوتى ہے، لہذا اگر وہ اپنے دين ميں پختہ اور سخت ہو اس كى آزمائش اور تكليف ميں اضافہ ہوجاتا ہے، اور اگر اس كے دين ميں كمى اور ہلكا پن ہو تو آزمائش بھى كم ہو جاتى ہے، اور ايك مومن شخص پر آزمائش رہتى ہے حتى كہ وہ زمين پر چلتا ہے تو اس كا كوئى گناہ باقى نہيں رہتا" اسے ترمذى وغيرہ نے روايت كيا ہے.

    لہذا حسن اور حسين رضى اللہ تعالى عنہما كو اللہ تعالى كى جانب سے جو كچھ مرتبہ اور منزلت اور درجہ حاصل تھا وہ مل گيا، اور ان دونوں كے ليے وہ آزمائش اور تكليف نہيں آئى جو ان كے سلف اور پہلے لوگوں پر آئى تھى، اس ليے كہ حسن اور حسين رضى اللہ تعالى عنہما تو اسلام كى عزت ميں پيدا ہوئے، اور عزت اكرام ميں پرورش پائى، اور سب مسلمان ان كى عزت و تكريم كرتے تھے، اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى وفات ہوئى تو وہ ابھى سن تميز كو بھى نہيں پہنچے تھے، تو اللہ تعالى كى ان پر يہ نعمت تھى كہ انہيں آزمائش ميں ڈالا جو انہيں ان كے خاندان والوں كے ساتھ ملائے، جيسا كہ ان سے بہتر اور اچھے اور نيك بھى آزمائش ميں پڑے، اس ليے كہ على بن ابى طالب رضى اللہ تعالى عنہ ان دونوں سے بہتر اور افضل تھے، اور انہيں شہادت كى موت آئى اور قتل كرديا گيا.

    اور حسين رضى اللہ تعالى عنہ كى شہادت ايسى تھى جس كى بنا پر فتنوں نے سر اُبھار ليا اور لوگوں كے مابين فتنے پھوٹ پڑے، جس طرح كہ عثمان رضى اللہ تعالى عنہ كا قتل فتنوں كو لانے والے اسباب ميں سے سب سے بڑا سبب تھا، جس نے لوگوں كے مابين فتنے پھيلا ديے، اور اس كى بنا پر ہى امت مسلمہ جدا جدا ہو گئى اور اس ميں قيامت تك تفرقہ پڑ گيا، اسى ليے حديث ميں آيا ہے كہ:

    " تين اشياء سے جو كوئى بھى نجات پا گيا وہ كامياب ہوا اورنجات پا گيا، ميرى موت، اور خليفہ كو صبركى حالت ميں قتل كرنا، اور دجال"

    ( پھر شيخ الاسلام رحمہ اللہ تعالى نے حسن رضى اللہ تعالى عنہ كے عدل وانصاف اور ان كى سيرت كا كچھ حصہ ذكر كيا ہے حتى كہ وہ كہتے ہيں: پھر وہ فوت ہو گئے اور اللہ تعالى كى عزت و تكريم اور اس كى رضامندى كى طرف چلے گئے، اور ان گروہوں نے جنہوں نے حسين رضى اللہ تعالى عنہ كو خطوط لكھے اور ان سے مدد و تعاون كا وعدہ كيا كہ اگر وہ معاملے كو لے كر اٹھ كھڑے ہوں تو وہ سب ان كے ساتھ ہيں، حالانكہ وہ لوگ اس كے اہل نہيں تھے، بلكہ جب حسين رضى اللہ تعالى عنہ نے اپنے چچازاد كو ان كى طرف روانہ كيا تو انہوں نے اس كے ساتھ وعدہ خلافى كى اور معاہدہ كو توڑ ديا اور ان كے خلاف ہو گئے جنہوں نے ان سے مدد كا وعدہ كيا تھا اور كہا تھا كہ ہم آپ كے ساتھ مل كر لڑيں گے، اور اہل رائے اور حسين رضى اللہ تعالى عنہ سے محبت كرنے والوں نے مثلا ابن عباس اور ابن عمر رضى اللہ تعالى عنہما وغيرہ نے انہيں يہ مشورہ ديا كہ وہ ان كے پاس نہ جائيں ليكن انہوں نے ان كا مشورہ قبول نہ كيا، ان كے خيال ميں وہاں جانے ميں كوئى مصلحت نہيں تھى، اور اس كے نتائج بھى بہتر اور اچھے نہيں، اور واقعتا معاملہ بھى ايسا ہى ہوا جيسا انہوں نے كہا تھا، اور يہ اللہ تعالى كى جانب سے مقرر كردہ تھا، لہذا جب حسين رضى اللہ تعالى عنہ نكلے اور انہوں نے ديكھا كہ معاملات تو بدل چكے ہيں، تو انہوں نے ان سے مطالبہ كيا كہ مجھے واپس جانے دو يا پھر كسى سرحد پر جا كر لڑنے دو، يا اپنے چچا زاد يزيد كے پاس ہى جانے دو تو انہوں نے ان سب باتوں سے انكار كرديا اور ان كى بات تسليم نہ كى حتى كہ حسين رضى اللہ تعالى عنہ كو قيدى بنا ليا اور ان سے لڑائى اور جنگ كرنے لگے تو حسين رضى اللہ تعالى عنہ نے بھى ان سے لڑائى كى تو انہوں نے حسين رضى اللہ تعالى عنہ اور ان كے ساتھ كچھ لوگوں كو بھى قتل كرديا يہ ايك مظلوم كى شہادت تھى جس كے ساتھ اللہ تعالى نے انہيں عزت و شرف سے نوازا اور انہيں ان كے طيب اور طاہر اہل بيت كے ساتھ ملا ديا، اور جنہوں نے ان پر ظلم اور زيادتى كى اللہ تعالى نے اس شہادت كے ساتھ انہيں ذليل و رسوا كرديا، اور اس نے لوگوں كے مابين شر اختيار كر ليا، لہذا ايك گروہ ظالم اور جاہل بن گيا، يا تو يہ گروہ ملحد اور منافق ہے يا گمراہ اور راستے سے بھٹك چكا ہے، اور ان سے اور اہل بيت سے اپنى محبت تو ظاہر كرتا ہے اور يوم عاشوراء ميں ماتم اور نوحہ كرتا اور غم ميں مبتلا ہوتا ہے، اور اس دن جاہليت كے كام اور شعار ظاہر كرتے ہوئے منہ اور جسم كو پيٹتا اور كپڑے پھاڑتا اور دور جاہليت كى تعزيت كرتے ہوئے تعزيہ نكالتا ہے، جس كے بارے ميں تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمایا کہ۔۔۔ مصيبت - اگر نئى ہو تو حكم ديا ہے كہ صبر و تحمل اور برداشت سے كام ليا جائے اور انا للہ و انا اليہ راجعون پڑھا جائے اور اجروثواب كى نيت كى جائے جيسا كہ اللہ سبحانہ وتعالى كا ارشاد ہے:

    (اور صبر كرنے والوں كو خوشخبرى دے ديں، جب انہيں كوئى مصيبت اور تكليف پہنچتى ہے تو وہ كہتے ہيں بلا شبہ ہم اللہ تعالى كے ليے ہيں اور اسى كى طرف پلٹنے والے ہيں، يہى ہيں جن پر اللہ تعالى كى نوازشيں اور رحمتيں ہيں، اور يہى ہدايت يافتہ ہيں)

    والسلام علیکم ورحمہ اللہ وبرکاتہ۔۔۔

    مگر Jaamsadams جہاں تک میرا علم اور یاداشت ساتھ دیتی ہے تو شیخ حجر بن عسقلانی نے شرح لکھی تھی فتح الباري شرح صحيح البخاري۔۔۔ لہذا اس پر بات میں ان شاء اللہ آخر میں کروں گا ۔۔۔

    جاری ہے۔۔۔
     
  9. Jaamsadams

    Jaamsadams -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏جنوری 12, 2009
    پیغامات:
    52
    ابنِ تیمیہ 661ھ میں پیدا ہوا اور 728 ھ میں مرا ابنِ تیمیہ وہ شخص تھا جس کو
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    یہاں منتقل کر دیا گیا !!
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں