اشھدان محمد رسول اللہ پر انگوٹھے چومنے کی بدعت

کارتوس خان نے 'غیر اسلامی افکار و نظریات' میں ‏اگست 17, 2007 کو نیا موضوع شروع کیا

موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔
  1. کارتوس خان

    کارتوس خان محسن

    شمولیت:
    ‏جون 2, 2007
    پیغامات:
    933
    بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

    اسلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ۔۔۔وبعد!۔
    اکثر مشاہدے میں یہ بات آئی ہے کہ جب مؤزن اشھدان محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) تو اس کو سُن کر اپنے دونوں انگوٹھے یا کلمے کی انگلی چوم کر آنکھو سے لگانا مستحب ہے (جاء الحق صفحہ ٣٩٤ جلد ١)۔۔۔

    الغرض ہمارا مشاہدہ اور مفتی صاحب کا اقرار اس بات کا روشن ثبوت ہے کہ مبتدعین اذان سن کر جواب اذان دینے کی بجائے کلمہ شہادت پر انگوٹھوں کو چوما کرتے ہیں اور یہ ایک ایسی بدعت سیئہ ہے جو کہ سنت خبرالانام کے مخالف ہے کیونکہ مسنون طریقہ تو یہ ہے کہ اذان کا جواب دیا جائے یعنی جس طرح مؤذن کلمات اذان کہتا ہے سننے والا بھی انہی کلمات کو دھرائے۔۔۔۔

    جیسا کہ احادیث صحیحہ اس پر گواہ ہیں چنانچہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ!۔۔۔

    انہ سمع النبی صلی اللہ علیہ وسلم یقول اذا سمعتم المؤذن فقولوا مثل ما یقول ثم صلوا علی فانہ من صلی علی صلوۃ صلی اللہ علیہ بھا عشرا الحدیث

    یعنی میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ فرمارہے تھے کہ جب مؤذن سے اذان سنو تو اسی کی مثل تم بھی کلمات اذان کہو پھر مجھ پر دردھ بھیجا اللہ تعالٰی اس پر دس رحمتیں بھیجے گا
    (الحدیث صحیح مسلم صفحہ ١٦٦ جلد ١، ابوداود صفحہ ٧٧ جلد ١)۔۔۔

    حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب مؤذن اللہ اکبر اللہ اکبر کہے تو تم میں سے ہر ایک بھی، اللہ اکبر اللہ اکبر کہے جب مؤذن اشھدان لا الہ الا اللہ کہتے تو وہ بھی یہی کہے پھر جب مؤذن اشھدان محمد رسول اللہ کہے تو وہ بھی یہی کہے جب مؤذن حی علی الصلوۃ کہے تو سننے والا لاحول ولاقوۃ الا باللہ کہے جب مؤذن حی علی الفلاح کہے تو سننے والا لاحول ولا قوۃ الا باللہ کہے جب مؤذن اللہ اکبر اللہ اکبر کہے تو وہ بھی ان کلمات کو دھرائے اور جب مؤذن لا الہ الا اللہ کہے تو وہ بھی اسی طرح کہے آخر میں فرمایا کہ!۔۔۔

    قلبہ دخل الجنۃ!۔ یعنی جس نے دل میں سے ان کلمات کو کہا اسکے لئے جنت میں داخلہ ہے (صحیح مسلم صفحہ ١٦٧ جلد ١، ابوداود صفحہ ٧٨ جلد ١)۔۔۔

    اذان کا جواب دینے کی احادیث متعدد صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سے مروی ہیں مثلا ابی رافع رضی اللہ عنہ ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ، ام حبیبہ رضی اللہ عنہ، عبدالل بن ربیعۃ رضی اللہ عنہ، عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ، معاذ بن انس رضی اللہ عنہ، معاویہ رضی اللہ عنہ دیکھئے ترمذی مع تحفہ صفحہ ١٨٣ جلد ١ والتلخیص الجبیر صفحہ ٢١١ جلد ا، والتمھید صفحہ ١٣٤ جلد ١٠، واروء الغلیل صفحہ ٢٥٨ جلد ١ و بہیقی صفحہ ٤٠٩ جلد١۔۔۔

    ان احادیث صحیحہ سے معلوم ہوا کہ اذان سننے والے پر اس کا جواب دینا واجب ہے لیکن مبتدعین اس مسنون طریقہ کو ترک کر کے اور اشھدان محمد رسول اللہ کہنے کی بجائے بقول بریلوی حضرات مرحبا بحبیبی قرۃ عینی محمد بن عبداللہ، کو کہتے ہوئے اپنے انگوٹھے چومتے ہیں (جاء الحق صفحہ ٣٩٦ جلد ١)۔۔۔۔

    حالانکہ اس کے ثبوت میں ان کے پاس کوئی وزنی ثبوت تو کچا کوئی حسن درجہ کی روایت بھی نہیں ہے اس سلسلہ میں جو بھی بیان کیا جاتا ہے اس کی حیثیت زیب داستان سے بڑھکر نہیں ہے مولوی احمد رضا خان نے لکھا ہے کہ!۔

    بعض جہال بدمست یا نیم ملاشہوت پرست یا جھوٹے صوفی بادبدست کہ احادیث صحاح مرفوع محکمہ کے مقابل بعض ضعیف قصے یا محتمل واقعے متشابہ پیش کرتے ہیں انہیں اتنی عقل بھی نہیں یا قصدا بے عقل بنتے ہیں کہ صحیح کے سامنے ضعیف، متعین کے آگے محتمل، محکم کے حضور متشابہ واجب الترک ہے (احکام شریعت صفحہ ٦٢ وفتاویٰ رضویہ صفحہ ١٩٩ جلد ١٠ حصہ اول واللفظہ لہ)۔۔۔

    یہی کچھ ہم یہاں عرض کرنا چاہتے ہیں کہ اذان کا جواب دینے کی احادیث صحیحہ ہیں اور متعدد صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سے مروی ہیں جبکہ اس کے برعکس کلمہ شہادت کے وقت اشہد ان محمد رسول اللہ کہنے کی بجائے مرحبا بحبیبی قرۃ عینی محمد بن عبداللہ کہہ کر انگوٹھوں کو چومنے کی روایات من گھڑت اور وضعی ہیں جن کی حیثیت قصے و کہاوتوں سے زیادہ نہیں ہے لیکن افسوس کہ مبتدعین کے بانی نےاپنے قائم کیئے ہوئے اصول و ضابطے سے انحراف کرتے ہوئے انگوٹھے چومنے کے جواز پر مشتمل کتابیں لکھیں ہیں جن میں سے معروف، منیر العینین، ہے جو فتاوٰی رضویہ کی دوسری جلد میں شامل اشاعت ہے جس میں انہوں نے دو تین صفحات اصل موضوع پر لکھنے (مفتی صاحب کی پیش کردہ من گھڑت روایات) کے بعد ادھر ادھر کی بےکار بھرتی کر کے فتح حاصل کرنے کی سعی لا حاصل کی ہے حالانکہ ان کا یہ حق تھا کہ اذان کے جواب کی روایات کے بالمقابل صحیح مرفوع احادیث پیش کر کے محدثین کرام سے ان کی تصحیح نقل کرتے چونکہ یہ کام علمی تھا اور سند مولوی احمد رضا خان کو ملی نہ تھی اس لئے انہوں نے خلط مبحث کرتے ہوئے مسئلہ کو الجھاؤ میں ضرور ڈالا لیکن اپنے عمل کی کوئی صحیح السند حدیث تو کجا کوئی حسن درجہ کی بھی پیش نہ کر سکتے تو خان صاحب خود اپنے اصول کی رو سے جاہل ثابت ہوگئے۔۔۔

    انگوٹھے چومنے کا ثبوت
    اس عنوان کے تحت حضرت مفتی صاحب نے متعدد کتب فقہ اور تفاسیر کی عبارات تقل کی ہیں جن کا خلاصہ کلام یہ ہے کہ مسند فردوس الاخبار میں حدیث آتی ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ایک مؤذن سے کلمہ اشھدان محمد رسول اللہ سن کر اپنی شھادت والی انگلی کو چوم کر اپنی آنکھوں کو لگایا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص میرے اس پیارے کی طرح کرے اس کیلئے میری شفاعت واجب ہوگئی۔۔۔

    دوسری روایت حضرت خضر علیہ السلام کے حوالے سے بیان کی جاتی ہے کہ آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ جس نے مؤذن کو یہ کہتے ہونے سنا اشھدان محمد رسول اللہ تو کہے مرحبا بحبیبی وقرۃ عینی محمد بن عبداللہ پھر اپنے انگوٹھوں کو چومے اور اپنی آنکھوں سے لگائے تو اس کی آنکھیں کبھی نہ دکھیں گی اس پر مفتی صاحب نے مقاصد حسنہ وغیرہ کتب کے حوالے بھی نقل کئے ہیں (دین الحق صفحہ ٣٩٤ تا ٣٩٧ جلد ١)۔۔۔

    جواب!۔
    مفتی صاحب اور ان کے گرد مولوی احمد رضا خان اور دیگر بدعت پسدن حضرات نے اس کی دلیل پر جس قدر حوالے نقل فرمائے ہیں ان تمام کا خلاصہ مطلب یہ کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی حدیث فردوس الاخبار میں آتی ہے مسند فردوس آج سے تقریبا دس سال قبل کی شائع ہوچکی ہے اور بفضلہ تعالٰی ہماری لائبریری میں موجود ہے جس کی ایک ایک سطر کو راقم نے گہری نظر سے پڑھا ہے مگر اس میں مبتدعین کی پیش کردو روایت سرے سے موجود ہی نہیں یہی وجہ تھی کہ رقم الحروف نے دین الحق صفحہ ٧٣ جلد ١ میں چیلنج دیا تھا کہ اس کی سند ثابت کرنے والے کو راقم پانچ ہزار روپیہ انعام دے گا مگر مبتدعین نے اس پر دم نہیں مارا اب بھی اللہ تعالٰی کے فضل وکرم کے ساتھ ہم پوری دنیا کے منکرین سنت اور عاشقیں بدعات کو کھلا چیلنج دیتے ہیں کہ اس کی صحیح سند ثابت کردو تو ہم اس کو سنت تسلیم کرنے کو تیار ہیں اور انشاء اللہ جماعتی سطح پر اس پر عمل کریں گے مگر یاد رہے کہ پوری دنیا کے رضاخانی اس کا ثبوت نہیں دے سکتے۔۔۔

    غالبا انہیں چیزروں کو ملحوظ رکھ کر ہی علامہ سیوطی نے کہا ہے کہ!۔
    والاحادیث التی رویت فی تقبیل الانامل وجعلھا علی العینین عند سماع اسمہ صلی اللہ علیہ وسلم عن الموذن فی کلمۃ الشھادۃ کلھا موضوعات

    یعنی وہ احادیث جن میں مؤذن سے کلمہ شہادت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام سننے کے وقت انگلیاں چومنے اور آنکھوں پر رکھنے کا ذکر ہے سب کی سب من گھڑت اور جعلی ہیں تیسرا المقال بحوالہ فتاوٰی نذیریہ صفحہ ٢٤٨ جلد ١)۔۔۔

    علامہ ابو اسحاق بن عبدالجبار کابلی نے شرح رسالہ عبدالسلام لاہوری میں لکھا ہے کہ!۔
    قد تکلموا فی احادیث وضع الابھا مین علی العینین فلم یصح شئی منھا بروایۃ ضعیفۃ ایضا صریح بعضھم بوضع کلھا

    یعنی محدثین کرام نے انگوٹھوں کا آنکھوں پر رکھنے کی روایات پر کلام کیا ہے اور ان میں سے کوئی روایت سند ضعیف سے بھی ثابت نہیں ہوئی اور بعض محدثین نے اسی وجہ سے ان کے من گھڑت ہونے کی صراحت کی ہے( بحوالہ ایضا صفحہ ٢٤٧ جلد١)۔۔۔

    امام ابو الحسن عبدالغافر فارسی شارح صحیح مسلم فرماتے ہیں کہ!۔
    والرویات فی ھذا الباب کثیرۃ لااصل لھا بسند ضعیف ایضا وقال ابو نعیم الاصفہانی ماروی فی ذلک کلہ موضوع

    یعنی انگوٹھے چوم کر آنکھوں پر انگوٹھے رکھنے کی روایات گو کثرت سے بیان کی جاتی ہیں مگر ان سے کوئی بھی ضعیف سند سے بھی ثابت نہیں امام ابو نعیم اصفہانی نے کہا کہ یہ تمام کی تمام من گھڑت اور جعلی ہیں (اقوال الاکاذیب بحوالہ فتاوٰی نذیریہ صفحہ ٢٤٧ جلد ١)۔۔۔

    علامہ سخاوی، ملا علی قاری، علامہ طاہر حنفی، عجلونی وغیرہ نے اس روایت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا لم یصھ یعنی اس کا صحیح ہونا ثابت نہیں اس کا جواب تحریر کرتے ہوئے مولوی احمد رضا خان کی تقلید میں مفتی صاحب فرماتے ہیں کہ ہم یصح، سے ضعیف ثابت نہیں ہوتا اور ضعیف فضائل میں معتبر ہیں(دین حق صفحہ ٤٠٠۔٤٠١ جلد ١)۔۔۔

    حالانکہ یہ روایت ضعیف ہی نہیں بلکہ جعلی ومن گھڑت ہے اور کوئی دنیا میں بریلوی مائی کا لال اس کی سند صحیح توکجا مسند فردوس سے اس کا وجود ہی ثابت نہیں کرسکتا جب یہ سرے سے ہے ہی من گھڑت تو فضائل میں ضعیف کے معتبر ہونے کا اصول کون سنتا ہے بالخصوص جب یہ اصؤل ہی سرے سے غلط ہے رہی حضرت خضر علیہ السلام کی طرف سے منسوب روایت کا معاملہ تو گزارش ہے کہ اس بارے میں ملاعلی قاری حنفی فرماتے ہیں کہ!۔

    بسند فیہ مجاھیل مع انقطاعہ
    اس کی سند منقطع ہے اور کئی راوی درمیان میں مجہول ہیں (موضوعات کبیر صفحہ ١٠٨ طبع میر محمد کتب خانہ کراچی)۔۔۔

    عیسائیوں کے گھر سے
    بریلوی علماء فرماتے ہیں کہ حضرت صدرالافاضل مولانا مرشدی استاذی مولانا الحاج سید نعیم الدین صاحب قبلہ مرادآبادی دام طلھم فرماتے ہیں کہ ولایت سے انجیل کا ایک بہت پرانا نسخہ برآمد ہوا جس کا نام انجیل برنباس ہے آجکل وہ عام طور شایع ہے اور ہر زبان میں اس کے ترجمے کئے گئے ہیں اس کے اکثر احکام اسلامی سے ملتے جلتے ہیں اس میں لکھا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام نے روح القدس (نور مصطفوی) کے دیکھنے کی تمنا کی تو وہ نور ان کے انگوٹھے کے ناخنوں میں چمکایا گیا انہوں نے فرط محبت سے ان ناخنوں کو چوما اور آنکھوں سے لگایا(دین حق صفحہ ٣٩٨ جلد ١)۔۔۔

    الجواب!۔
    بات کو آگے لے جانے سے قبل بہتر معلوم ہوتا کہ انجیل برنباس کی اصل عبارت قارئین کرام کو ھدیہ کی جائے پس آدم نے بمنت یہ کہا کہ اے پروردگار یہ تحریر مجھے میرے ہاتھ کی انگلیوں کے ناخن پر عطاء فرما۔۔۔

    تب اللہ تعالٰی نے پہلے انسان کو یہ تحریر اس کے دونوں انگوٹھوں پر عطاء کی داہنے ہاتھ کے انگوٹھے کے ناخن پر یہ عبارت لا الہ الا اللہ اور بائیں ہاتھ کے انگوٹھے کے ناخن پر یہ عبارت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تب پہلے انسان نے ان کلمات کو پدری محبت کے ساتھ بوسہ دیا اور اپنی دونوں آنکھوں سے ملا اور کہا مبارک ہے وہ دن جس میں کہ تو دنیا کی طرف آئے گا انجیل برنباس فصل ٣٩ آیت ٢٣ تا ٢٧ صفحہ ١٠٦)۔۔۔

    یہ ہے جناب وہ عبارت جس کی طرف حضرات علماء بریلویہ نے روایتی طور پر اشارہ کیا ہے لیکن اس میں چند وجوہات سے کلام ہے جس کی تفصیل حسب ذیل ہے۔۔۔

    اولا!۔
    مفتی صاحب کے بیان اور اصل عبارت میں اختلاف ہے

    ثانیا!۔
    حضرت آدم علیہ السلام نے انگوٹھوں کو پدری محبت کی وجہ سے بوسہ دیا جبکہ مبتدعین پدری محبت سے نہیں بلکہ حضور علیہ السلام کی محبت کی وجہ سے چومتے ہیں ہمارے شیخ فرماتے ہیں نیز آدم علیہ السلام نے اس تحریر کو چوما تھا جس میں لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ لکھا تھا جب کہ مبتدین حضرات کے ہاتھوں پر تحریر نہیں ہوتی وہ صرف اسم مبارک سنتے ہی انگوٹھے چومنے ہیں پھر حضرت آدم نے اذان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام سن کر انگوٹھا نہیں چوما تھا جب کہ مبتدعین اذان میں اسم مبارک سن کر انگوٹھے چومتے ہیں (یحیٰی گوندلوی)۔۔۔

    ثانیا!۔
    انجیل برنباس بھی دیگر اناجیل کی طرح لفظوی و معنوی تحریفات کا شکار ہے جس کی ضروری تفصیل انجیل برنباس کے مقدمہ میں خلیل سعادت نے بڑی تفصیل سے بیان فرمائی ہے۔۔۔

    رابعا!۔
    انجیل کے اس اقتباس سے استدلال دراصل اس کی صحت کی تصدیق کرنا ہے جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل کتاب کی خبر کی تصدیق کرنے سے منع فرمایا ہے۔۔۔

    چنانچہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ!۔
    قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لا تصدقوا اھل الکتاب ولاتکذبوھم
    یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اہل کتاب کی بات کی نہ تصدیق کرو اور نہ ہی تکذیب کرو (بخاری صفحہ ١١٢٥ جلد٣ وبہیقی صفحہ ١٦٣ جلد ١٠)۔۔۔

    لہذا مبتدعین کا انجیل برنباس کے قول کی تصدیق کر کے مخالف کو حجت باور کرانا فرمان نبوی کی مخالفت ہے الغرض انجیل برنباس کا اقتباس تب معتبر ہے جب اللہ تعالٰی اور اس کے رسول برحق حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم سے تصدیق شدہ ہو یعنی قرآن و حدیث میں اس واقعہ کی صحت ثابت ہو لیکن ہم پورے جزم و یقین کے ساتھ یہ دعوٰی کرتے ہیں کہ اللہ تعالٰی نے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی قطعا تصدیق نہیں کی اور پوری دنیا کے مبتدعین سر توڑ کوشش کرنے کے باوجود اس پر کوئی دلیل قائم نہیں کرسکتے قیامت تک مہلت ہے تجربہ کردیکھئے۔۔۔

    خامسا!۔
    انجیل برنباس میں کئی ایسی چیزیں بھی موجود ہیں جو اس کی صحت کو ساقظ الاعتبار قرار دیتی ہیں اور انبیاء کرام کی تعلیم کے منافی ہیں ۔۔۔

    ایک من گھڑت!۔
    حضرات بریلویہ نے تفسیر روح البیان کے حوالے سے بیان کیا ہے کہ انسان کے ناخن دراصل جنتی لباس ہے جو حضرت آدم علیہ السلام کے پورے جسم پر نہایت خوبصورت اور نرم تھا جب ان پر عباب الٰہی ہوا وہ کپڑا اتار لیا گیا مگر انگلیوں کے پوروں پر بطور یادگار باقی رکھا گیا دین حق صفحہ ٤٠٣ جلد ١)۔۔۔

    حالانکہ یہ روایت محض جھوٹ کا پلندہ اور سینہ گزٹ ہے کسی معتبر دلیل شرعی سے اس کا ثبوت نہیں دیا جاسکتا الغرض انگوٹھے چومنے کی جس قدر روایات اور محل استدلال کی عبارات ہیں وہ تمام کی تمام من گھڑت ہیں جن کی حیثیت افسانے سے زیادہ نہیں ہے۔۔۔

    علماء بریلویہ کا اعتراف
    دین میں کسی چیز کے اثبات حنفیہ نے ادلہ اربعہ کا اصول بنایا تھا کہ دین کے مسائل قرآن، حدیث، اجماع اور قیاس شرعی سے ثابت ہونگے گو ہمارے نزدیک اصل قرآن و حدیث ہی ہے کیونکہ قرآن حدیث کے خلاف اجماع ہوسکتا ہے نہ ہی قیاس۔۔۔

    الغرض قرآن و حدیث سے دلائل شرعیہ کا اثبات کرنے میں فریقین متفق ہیں اس ضابطہ پر بھی محقق علماء کا اتفاق ہے کہ ضعیف و موضوع اور من گھڑت واقعہ کو نبیاد بنا کر کسی شرعی مسئلہ کا اثبات کرنا درست نہیں ہے اور یہ کہ کسی ضعیف روایت سے کوئی دینی مسئلہ ثابت نہ ہوگا بریلوی مکتب فکر کا بانی مولوی احمد رضا خان لکھتا ہے کہ!۔

    مذکورہ حدیث کو زید نے بالجزم رسول خدا کا ارشاد بتایا یہ سخت بیبا کی وجرات ہے وہ حدیث صحیح نہیں اس کی سند کا مدار ابو صالح باذام پر ہے باذام کو آئمہ فن نے ضعیف بتایا ہے تقریب امام ابن حجر عسقلانی میں ہے کہ!۔

    باذام بالذال المعجمۃ ویقال اخرہ نون ابو صالح مولٰی ام ھانی ضعیف مدلس
    یہیں سے ظاہر ہوا کہ یہ حدیث قابل احتجاج نہیں (فتاوٰی رضویہ صفحہ ١٥٧ جلد ٤)۔۔۔

    مزید کہتا ہے کہ اگر سند کا سلسلہ نہ ہوتا تو جو شخص چاہتا دین میں اپنی مرضی کی بات کرتا پھرتا (احکام شریعت صفحہ ١٣٣ حصہ اول مسئلہ ٥٨)۔۔۔

    رضا خانی فرقہ کا مناظرہ اعظم مولوی محمد عمراچھروی لکھتا ہے۔
    اس کی سند میں بہت ضعف ہے چنانچہ اس سند کے رواۃ سے عبداللہ بن صالح راوی ہیں ان کے متعلق لکھا گیا ہے کہ بہت غلط رواتیں بیان کرتا تھا اہلحدیث بننے کا دعوٰی کرنے والو ایسی کچی بات احناف کے سامنے پھر زبان پر نہ لانا (مقیاس حنفیت صفحہ ٢٤٧)۔۔۔

    مولوی غلام رسول سعیدی حنفی بریلوی شیخ الحدیث جامعہ نعمیہ کراچی، شرح صحیح مسلم میں لکھتے ہیں کہ یہ غیر مستند روایت ہے اور اسکی سند مذکور نہیں ہے شیخ دھلوی نے اس کو معارج البنوۃ میں نقل کیا ہے اور اس میں رطب ویابس موجود ہے یہ حوالہ ہم پر حجت نہیں ہے (شرح صحیح مسلم صفحہ ٥١٨ جلد ١)۔۔۔۔

    مزید فرماتے ہیں یہ واقعہ بنو سلمہ کے بعض بوڑھوں سے مروی ہے جن کا نام نہیں بیان کیا گیا ہے یہ مجھول روایت ہے اور مجہول روایت حجت نہیں ہوتی (شرح صحیح مسلم صفحہ ٥١١ جلد ١)۔۔۔

    ان عبارات سے یہ بات کھل کر سامنے آگئی ہے کہ ضعیف روایت سے استدلال کرنا درست نہیں اور بلاسند حدیث حجت نہیں ہے کیونکہ اگر سند نہ ہوتی تو ہر شخص جو جی میں آتا کہتا پھرتا اور اپنی بات اور نظریہ کو حدیث کر کے پیش کرتا۔۔۔

    عزیز دوستوں!۔
    جب آپ نے یہ اصولی بات بخوبی سمجھ لی ہے کہ بلا سند حدیث معتبر اور قابل استدلال نہیں ہوتی تو اب سنئے کہ انگوٹھے چومنے کی جس قدر روایات بیان کی جاتی ہیں وہ تمام کی تمام من گھڑت بلاسند اور مجہول لوگوں سے مروی ہیں ان میں سے ایک بھی صحیح نہیں جو قابل استدلال ہو۔۔۔

    مبتدعین کا بنیادی استدلال ہی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے مروی روایت پر ہے مگر ہمارا دعوٰٰی ہے کہ یہ ان کی طرف جھوٹی منسوب کی گئی ہے اس کا واضع ثبوت یہ ہے کہ کسی مستند جدیث کی کتاب میں نہیں ہے ہاں بعض متاخرین نے بغیر سند کے ذکر کیا ہے لیکن یہ ان کا وہم ہے اور وہام کو دین میں داخل کرنا کم عقلی ہی نہیں بدترین جہالت ہے دوسری روایت جو حضرت خضر علیہ السلام کی طرف منسوب کر کے بیان کی جاتی ہے اس بارے میں خود متاخرین نے اس کی سند میں مجہول راویوں کے علاوہ انقطاع کو تسلیم کیا ہے۔۔۔

    الغرض یہ من گھڑت ہونے کی وجہ سے باطل و مردود ہیں جو کہ ہم پر حجت نہیں ہے۔۔۔۔

    وسلام۔۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. chaudry

    chaudry محسن

    شمولیت:
    ‏اگست 6, 2007
    پیغامات:
    1,372
    جناب
    ایک عرض کرنا چاہوں گا
    میں نے ایک جگہ پر پڑھا تھا لیکن اب سہی طرح یاد نہی ۔
    انگوٹھا صرف اس وقت چوما جاتا ہے جب موذن “ اشھدنا محمد رسول اللہ “ پڑھتا ہے۔ یہ بات حضرت ابوبکر صدیق سے ثابت ہے۔ جب یاد آیا تو آپ کو بتاؤ گا۔ ہم پوری اذان انگوٹھے چومنے میں‌نہی لگاتے۔
    اور ویسے بھی اس طرح‌کی پوسٹ نہی ہونی چاہیے یہ ایک مذہبی مسئلہ ہے ۔ اور خدا بہتر جانتا ہے۔
     
  3. جاء الحق

    جاء الحق -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏جون 28, 2007
    پیغامات:
    90
    السلام علیکم

    جناب chaudry صاحب

    اسلام نام ہے صرف قرآن اور صحیح احادیث کا.. صحابہ کا کوئی عمل دین میں اس وقت تک حجت کی حثیت اختیار نہیں کرتا جب تک صحابہ کرام رضوان اللہ علیہ اجمعین کا اس پر اجماع نہ ہو جائے..
    حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے یہ کام کیا اور کتنے صحابہ نے یہ کام کیا کسی ایک صحیح حدیث (بمع حوالہ جات ثابت کریں ..

    اور اللہ ہی ہمیں ہدایت دینے والا ہے.
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  4. chaudry

    chaudry محسن

    شمولیت:
    ‏اگست 6, 2007
    پیغامات:
    1,372
    حضرت ابوبکر رسول اللہ کے جگری یار تھے
    اگر انہیں‌کوئی عتراض نہی تو مجھے بھی نہی ۔ چاہے آپ یا اور کسی کو ہو۔ویسے بھی ایک فرقہ ہی جنت میں‌جائے گا۔ مجھے فخر ہے کہ میں‌ سنی فرقے سے ہوں
     
  5. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,323
    بے شک چوہدری بھئی۔۔۔ لیکن آپ ذرا ثابت تو کریں نہ۔۔۔ الحمدللہ کہ آپ سنی ہیں۔ لیکن کوئی دلیل پیش کریں کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ نے یہ عمل کیا ہے۔۔۔ جزاک اللہ خیر
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  6. رحیق

    رحیق -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    1,592
    اسلام علیکم و رحمۃ وبرکۃ
    جزاک اللہ خیرا
     
  7. chaudry

    chaudry محسن

    شمولیت:
    ‏اگست 6, 2007
    پیغامات:
    1,372
    سلام علیکم
    بات دراصل یہ ہے کہ میں‌کوئی عالم نہی ہوں۔ کہ آپ کو دلائل دے سکوں۔ آپ اپنے فرقے پر پکے ہیں کیوں؟آپ کہتے ہیں‌کہ انہوں نے ایسا نہی کیا کیوں کہ آپ کے فرقہ کی کتاب میں ایسا نہی لکھا۔ اور نہ ہی مولانا حضرات نہ آپ کو بتایا۔ اس لیے آپ کو اس پر یقین ہے۔ اب ہماری کتاب میں‌ایسا لکھا ہے ۔ ہمیں‌اس پر پورا یقین ہے۔۔مجھے نبی پاک کی کئی بار زیارت ہوئی۔ میں کوئی بھی بات ایسے ہی نہی کرتا۔
    ویسے بھی ہم انگوٹھے چومتے وقت کوئی غیر شرعی بات نہی کہتے
    بلکہ یہ کہتے ہیں “ اردو ترجمعہ “ آپ ہمارے لیے آنکھوں کی ٹھندک ہیں “ اگر آپ کی نظر میں‌انگوٹھے چومنے کا ثواب نہی تو اس کا کوئی گناہ بھی نہی ۔اور یہ کوئی بدعت نہی جیسا کہ کسی دوست نے اس موضوع پر لکھا ہے۔
    میں بہت جلد آپ کو دلیل بھی لا کر دوں گا۔ لیکن آپ کہاں اس پر یقین کریں گے۔ آپ تو کہ ہی دیں گے کہ ہہ سہی نہی ۔
    میں‌نے خد ایک جگہ پر پڑھا تھا
    “ نبی پاک نے فرمایا؛ جو میرے دوست کی اس سنت کو پورا کرے گا کل قیامت کہ دن میں اس کو دامن سے پکڑ کر جنت میں‌لے کر جاؤں گا“
    آپ تو اس پر بھی یقین کریں گے اور دلیل مانگیں گے۔
    کیوں کہ آپ اھل سنت فرقہ سے نہی ہیں۔ ویسے بھی ہم لوگوں کو یہ عمل کرنے پر مجبور نہی کرتے
    شکریہ
     
  8. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,323
    بھائی یہ کیا بات ہے۔۔ آپ کی کتاب اور ہماری کتاب۔۔۔ قرآن و حدیث پر ہم عمل کرتے ہیں اور سنی آپ کہلاتے ہیں۔۔۔ پھر کہتے ہیں کہ آپ اھل سنت فرقہ سے نہی ہیں۔ ویسے پیر عبدالقادر جیلانی نے احناف کو اھل سنت سے خارج کیا ہے۔۔ آپ کو اگر یقین نہیں آتا تو غنیۃ الطالبین پڑھیں۔۔۔ ابھی آپ کو اپنی فقہ کا نہیں پتہ اگر چل گیا تو پھر خود کو آپ کبھی حنفی نہیں کہیں گے۔۔ میں آپ کو نمونے دکھا سکتا ہوں۔۔
    بھائی اہل سنت کیلئے کیا حنفی، قادری، رضوی ، چشتی، سہروردی، بریلوی، دیوبندی ، نورانی۔ یہ سب کچھ بننا لازمی ہے۔۔ اب آپ ہی بتائیے۔۔ کیا کون سے سنی ہیں۔ ان مذکورہ فرقوں میں سے ایک ضرور ہوں گے۔۔ اسی کو فرقہ پرستی کہتے ہیں۔۔
     
  9. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,921
    اعجاز بھائی آپ نے صحیح کہا ھے-
    ویسے پیر عبدالقادر جیلانی نے احناف کو اھل سنت سے خارج کیا ہے۔۔ آپ کو اگر یقین نہیں آتا تو غنیۃ الطالبین پڑھیں
    آپ غنیۃ الطالبین سے یہ اقتباس لا سکیں تو مہربانی ھو گی-
     
  10. ابن عمر

    ابن عمر رحمہ اللہ بانی اردو مجلس فورم

    شمولیت:
    ‏نومبر 16, 2006
    پیغامات:
    13,354
Loading...
موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں