ضرور پڑھیں/ لیاری: قادو مکرانی تا رحمان ڈکیت

کنعان نے 'متفرقات' میں ‏اگست 12, 2009 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. کنعان

    کنعان محسن

    شمولیت:
    ‏مئی 18, 2009
    پیغامات:
    2,850
    لیاری: قادو مکرانی تا رحمان ڈکیت


    Tuesday, 11 august, 2009, 18:12 GMT 23:12 PST


    رحمان ڈکیٹ کے جنازے میں سینکڑوں لوگ شریک ہوئے، کیا یہ لیاری کی متھ ہے؟

    لیاری ایک ایسی جادونگری ہے جسے ہر دور کے حکمرانوں نے انسانوں کا چڑیا گھر سمجھا اور اس کے ساتھ ایسا ہی سلوک کیا ہے۔ اس دن مجھے نیویارک میں رہنے والے ایک پروفیسر دوست جن کا تعلق لیاری کراچي سے ہے بتا رہے تھے کہ انہوں نے لیاری اپنی بہن کو فون کیا تھا جو 'سردار عبدالرحمان' کی بہادری اور سخاوت کے قصے بتاتے نہیں تھکتی تھیں۔ وہ مائنڈ کرجاتی تھیں جب ان کے بھائي اس کے 'سردار عبدالرحمان' کو 'رحمان ڈکیت' کہتے تھے۔

    ایک فٹبال کی دھپ دھپ ہے جو دور تک کئي دو پہروں میں میرا پیچھا کرتی رہتی ہے۔ لیاری ہے کہ نہیں بھولتی۔ گزرا ہوا وقت، سات گراری چاقو کی طرح ٹرٹرٹر کر کے کھلتا جاتا ہے۔ سات گراری چاقو جو آٹو میٹک اے کے فورٹی سیون کے پاکستان میں آنے سے بہت پہلے کی بات ہے۔ 'واجہ! ان سے ملو ڑے یہ کراچی سینیماگیٹ کیپر ایسوسئیشن کے سابق صدر ہیں۔ انہوں نے اپنے نامی گرامی اور کراچی کا جدید تر سنیما بنانے والے مالک سیاستداں کو بھی تھپڑ مار دیا تھا'۔ کراچي کی سنیماؤں سے لے کر بلاول ہاؤس اور اب سنا ہے کہ ایوان صدر تک کے دروازوں پر لیاری کے کھلے سینوں والے چاک گریباں پہرہ دیتے رہے ہیں۔

    کبھی کراچي پر ایسے واجوں کا طوطی بولتا تھا۔

    لیکن کل پھر پاکستانی نجی چینلوں اور پرنٹ میڈیا میں لیاری اور اس کی 'افشانی گلی' کے چرچے تھے۔ 'وہی بس گلی جس میں گھر ہے اسی کا۔ وہی بس گلی میرے ماتھے کی ریکھا وہی بس گلی میرے ہاتھ کی لکیر بن گئی ہے' سندھی شاعر امداد حسینی کا شعر بے مہل و موقع مجھے یاد آنے لگا ہے۔ لیاری کی ایک گلی، افریقہ میں نیروبی کے شہر ممباسا کے نام پر 'ممباسا اسٹریٹ' بھی کہلاتی ہے۔

    کراچي کی سنیماؤں سے لے کر بلاول ہاؤس اور اب سنا ہے کہ ایوان صدر تک کے دروازوں پر لیاری کے کھلے سینوں والے چاک گریباں پہرہ دیتے رہے ہیں

    مجھے نہیں معلوم کہ اسی افشانی گلی کے سامنے والی مین سڑک پر جس درویش کا مزار ہے وہاں اب بھی میلے لگتے ہیں کہ نہیں لیکن یہ ا فشانی گلی جو آج رحمان ڈکیت اور اس کی گینگ وار سے بدنام زمانہ بن گئی ہے کبھی واحد بخش بلوچ جیسے جگریلے نوجوان کے حوالے سے مشہور تھی۔ جس نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ علاقے میں منشیات فرو شی کے خلاف تحریک شروع کی تھی اور جس کی پاداش میں اسے ضیاالحق کے مارشل لا کے دنوں میں قتل کیا گیا۔ واحد بخش بلوچ کا ساتھی ناصر داد بلوچ بھی اسی افشانی گلی میں رہتا تھا۔ ناصر داد بلوچ نے اسی افشانی گلی سے منشیات فروشوں کو مقامی لوگوں کے مدد سے بھگا کر نائٹ سکول قائم کیے تھے۔ اور ایسے نائٹ سکول بالکل وہاں ممباسا گلی میں بھی قائم ہوئے تھے جہاں کبھی منشیات فروشوں کے اڈے تھے۔

    نہ جانے ایسا کیوں ہوتا ہے جب جب مارشل لا اور غیر جمہوری حکومتیں آتی ہیں تو لیاری میں ڈرگ مافیا اور گینگ وار شروع کرائي جاتی ہے۔ کوئي مجھے بتا رہا تھا کہ لیاری کی منشیات فروشوں کا سلسلہ پناما کے منشیات فروشوں سے جا ملتا ہے اور پھر لیاری میں رحمان ڈکیت سے 'سردار عبد الرحمان بلوچ' بنائے جاتے ہیں۔ لیاری کے سخی لٹیرے پیدا ہوجاتے ہیں۔ رابن ہڈ نما کردار جن کے لیے لوٹ کر غریب لوگوں میں لوٹ کا مال تقسیم کردینے کے قصے مشہور ہوجاتے ہیں۔

    سندھی کے بہت بڑے افسانہ نگار اور لکھاری امر جلیل نے کچھ روز قبل کہا تھا کہ 'نہ جانے کیوں میں رحمان ملک کی جگہ رحمان ڈکیت کو یاد کرتا ہوں اور رحمان ڈکیت کی جگہ رحمان ملک یاد آجاتا ہے'۔:00026:

    ایوب خان کی آمریت کے دنوں میں لیاری میں شیرل اور دادل (داد محمد، رحمان ڈکیت کے والد) جیسے لوگوں قصے مشہور ہوئے جن پر لیاری میں سیاسی اثر رسوخ رکھنے والے ہارون خاندان کی سرپرستی مشہور تھی۔ یہی شیرل دادل سیاسی مخالفین کے جلسوں میں سانپ چھوڑتے تھے جس سے زبردست دہشت پھیل جاتی تھی۔ لیکن ذوالفقار علی بھٹو نے آ کر لیاری میں ہارونوں کی سیاست کی ایک ہٹی اور دادل شیرل کی دادا گیری کی متھیں توڑ دیں۔ وہ خود سب سے بڑا عوامی شیرل دادل تھا۔ 'میری پارٹی اگر اقتدار میں آئی تو میرے وزیر لیاری کی گلیوں میں جھاڑو دیں گے'۔ ککری گراؤنڈ کے بڑے جلسے میں بھٹو نے کہا تھا۔


    رحمان ڈکیٹ کی موت کا سنتے ہی لوگوں کی بڑی تعداد جمع ہو گئی

    ذوالفقار علی بھٹو کا لیاری سے ایک اور رشتہ ان کے دادا غلام مرتضی بھٹو کا ایک انگریز عورت کو عشق میں بھگاکر لیاری کے علاقے کھڈہ کے غلام محمد کے ہاں پناہ لینا تھا۔ بنیظیر بھٹو نے نہ فقط اپنے پہلے بچے کو لیاری میں جنم دیا بلکہ اس کے ایک پیر کا مزار بھی لیاری میں تھا۔

    آصف زاداری کو لیاری والوں نے جیل سے انتخاب جتوائے تھے ۔ لیکن جب لیاری والوں کو پانی نہیں ملا تو لیاری کے عورتوں نے یوں شکایت کی 'جیل میں تھا وہ! اڑے جیل میں اسے بچہ پیدا کرنے کے لیے وقت تھا پر لیاری والوں کو پانی نہیں دلا سکتا تھا!'

    اس سے قبل جب یحیٰی خان کا دور تھا تو لیاری میں حاجی چارو کے قصے عام ہوئے کہ کس طرح اس نے لانچوں میں انسانی سگلنگ کے ذریعے لوگ دبئي بھیجنے کا گورکھ دھندہ شروع کیا تھا اور پھر لانچ کے ڈوبنے سے کئي لوگ بحیرہ عرب کی لہروں میں موت کا شکار ہوگئے تھے۔ لیاری کے حاجی چارو سے لے کر تربت کے یعقوب گنگ تک انسانی سمگلنگ ایک الگ کہانی ہے۔

    لیاری نے اگر کوئي سکھ دیکھا تو وہ صرف ذوالفقار علی بھٹو کےدور میں دیکھا، جب پاسپورٹ کا حصول آسان ہوا اور لیاری والوں کیلیے خلیج کے ملکوں میں روزگا رکے مواقع کھلے۔ لیاری ہسپتال اور واٹر سکیم شروع ہوئي ، کچي آبادی والوں کو مالکانہ حقوق ملے۔ بھٹو نے لیاری والوں کی محبت بلا مشروط و بے زر خرید لی تھی۔

    ضیاالحق سے لے کر آج تک لیاری والوں کو پی پی پی مخالف ووٹ نہ دینے کی بڑی بے رحمی سے سزا دی جاتی رہی ہے۔ لیاری نہ فقط کبھی الذوالفقار اور اب ڈرگ مافیا والوں کی بھرتی کا مرکز رہی بلکہ خفیہ ایجنسیوں اور جہادیوں نے لیاری کے سیاہ فام نوجونوں کو سوڈان جیسے افریقی ملکوں میں بھی لڑنے کے لیے بھیجا تھا۔ یہ لیاری کی بدقستمی ہے کہ وہ علاقہ جو پاکستان کے ایک چیف جسٹس کا آبائي علاقہ اور دو دفعہ آصف علی زراداری کا حلقہ انتخاب رہا ہو، جہاں فیض احمد فیض جیسے استاد پڑھاتے رہے ہوں اس کی ایسی درگت بنی کہ وہ کراچی یا پاکستان سے زیادہ تباہ حال صومالیہ کا حصہ لگتا ہے۔ لیاری ایکسپریس وے کی نام پر متاثرین ایک اور طرح کے آئی ڈی پیز ہیں لیکن ہر آنے والی حکومت بھی سخی لٹیری ہوتی ہے جو لیاری کے زمینیں لیاری والوں میں نہیں صحافیوں میں بانٹتی ہے۔

    ضیاالحق کے دور میں جب پولیس نے امان اللہ مبارکی جیسے ایرانی نوجوانوں کو تشدد کے بعد لیاری کے جعلی پولیس مقابلے میں ہلاک کیا تو وہ لیاری والوں اور کئي بلوچوں کی نذر میں ہیرو بن گئے۔

    بلکل ایسے ہی جیسے سندہ میں ضیاالحق کے دنوں میں ڈاکو پرو چانڈیو کا کردار ابھر کر آیا تھا۔ پرو چانڈیو جب جعلی پولیس مقابلے میں مارا گيا تو اس کی میت پر سندھیوں نے دو ہزار اجرکیں ڈالی تھیں۔ اسی دن پاکستان کے مایہ ناز قانون داں لیکن ضیاالحق کا قریبی اے کے بروہی کا بھی انتقال ہوا لیکن جب انہیں فوجی قبرستان میں دفن کرنے کے لیے لے جایا جا رہا تھا تو جنازے میں صرف ایک آدھ درجن لوگ تھے۔

    قادر بخش بلوچ اصل میں گجرات کا بلوچ تھا جو انگریز افسر کو قتل کرنے کے بعد ہندو یاتریوں کے قافلے میں جب ہنگلاج کی زیارت کے راستے پر لیاری ندی پر سے گذر رہا تھے تو گرفتار کر لیا گیا اور مقدمہ چلا کر اسے پھانسی دے دی گئي تھی

    ایسا ہی ہیرو قادو مکرانی بھی تھا جس کے لیے دیومالائي داستانوں جیسے کئي طرح کے قصے مشہور ہیں۔ بلوچ تاريخ داں یوسف نسقندی کے مطابق قادر بخش بلوچ اصل میں گجرات کا بلوچ تھا جو انگریز افسر کو قتل کرنے کے بعد ہندو یاتریوں کے قافلے میں جب ہنگلاج کی زیارت کے راستے پر لیاری ندی پر سے گذر رہا تھے تو گرفتار کر لیا گیا اور مقدمہ چلا کر اسے پھانسی دے دی گئي تھی۔ تب سے لے کر وہ بلوچ لوک گیتوں اور لیاری میں ایک ہیرو کے طور پر جانا جاتا ہے۔ اسی قادو مکرانی پر بڑی تھکی اور بوگس فلم 'کلو مکرانی' بنائي گئي تھی۔

    گذشتہ پانچ برسوں میں تین سو لوگ گینگ وار اور جعلی پولیس مقابلوں اور تشدد میں مارے گئے اور دن کے آخر میں ہیرو رحمان ڈکیت عرف سردار عبد الرحمان بلوچ! جسے کبھی نبیل گبول کا کارندہ تو کبھی برہمداغ بلوچ کا فراری بھی بتایا جاتا رہا ہے۔


    http://www.bbc.co.uk/urdu/columns/2009/08/090811_hasan_m_lyari_sen.shtml
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں