فتنہ انکار حدیث

کارتوس خان نے 'غیر اسلامی افکار و نظریات' میں ‏اگست 24, 2007 کو نیا موضوع شروع کیا

موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔
  1. کارتوس خان

    کارتوس خان محسن

    شمولیت:
    ‏جون 2, 2007
    پیغامات:
    933
    بسم اللہ الرحمٰن الرحیم​


    نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم اما بعد
    الحمد ﷲ رب العالمین​

    اسلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ۔۔۔وبعد!۔

    عزیز دوستوں!۔
    اطیعوا اﷲ و اطیعوا الرسول (سورۃ محمد)​

    الا انی اوتیت القرآن و مثلہ معہ
    یاد رکھو مجھے الکتاب قرآن اور اور کے ساتھ اس جیسی ایک اور چیز یعنی (حدیث) دی گئی ہے۔(ابو داود)۔۔۔

    فتنہ انکار حدیث​


    یہ فتنہ آج کا نہیں بلکہ یہ بہت پرانا فتنہ ہے اور آج بھی ایسے لوگ موجود ہیں جن لوگوں نے احادیث کی مخالفت میں مختلف آراء پیش کیں کسی نے کہا ۔

    جو حدیث قرآن کے خلاف ہوگی وہ قبول نہیں کی جائے گی کسی نے کہا حدیث خبرواحد قبول نہیں ہوگی کسی نے کہا جو حدیث امام کے قول کے خلاف ہوگی وہ رد کر دی جائیگی ۔ کسی نے کہا ابو ہریرہ ، انس بن مالک ، سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہم یہ راوی غیر فقیہ ہیں لہٰذا ان کی روایت کردہ احادیث مسترد ہوں گی ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہی ایسے صحابی ہیں جن کی بیان کردہ اکثر احادیث فقہ حنفی کے مسائل کے خلاف ہیں اس لئے ان احادیث سے جان چھڑانے کی یہی واحد صورت رہ گئی تھی کہ ان کو ہی غیر فقیہ کہہ دیا جائے اس طرح حدیث کے خلاف زہریلا پروپیگنڈہ کیاجاتا رہا جن لوگوں نے امام بخاری رحمۃاﷲ علیہ کی کتاب صحیح البخاری (الجامع الصحیح المسند من حدیث رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم و سنۃ و ایامہ ) کا نور بصیرت سے مطالعہ کیا ان پر یہ بات مخفی نہیں کہ جب امام بخاری رحمہ اﷲ نے یہ کتاب لکھنے کا ارادہ کیا تو یہ دونوں سوال ان کے ذہن میں موجود تھے کیونکہ فتنہ انکار حدیث صرف بیسویں صدی کا تحفہ نہیں انکار حدیث کی نوعیت اور دلائل میں فرق ہوسکتا ہے اور ہے مگر بعض حلقوں کی طرف سے حدیث پر نظر کرم امام بخاری رحمہ اﷲ سے پہلی ہی موجود تھی اسی لئے دیگر فقہاء و محدثین کے برعکس امام بخاری رحمہ اﷲ نے سب سے پہلے اس بات کا تعین کیا کہ حدیث کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ کیا یہ بھی دین کا حصہ ہے؟ اورکیا اس کے انکار سے دین کا انکار لازم آتا ہے یاکہ محض تاریخ ہے اگر یہ محض تاریخ ہے یا عقل کے تابع ہے تو پھر اس کےلئے قریہ قریہ اور شہر شہر پھرنے اور جمع کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ اگر یہ دین نہیں ہے تو ایسی خدمت سرانجام دینے کا کیا فائدہ جس کا دین اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔لہٰذا صحیح بخاری میں احادیث جمع کرنے سے قبل امام بخاری رحمہ اﷲ نے ضروری سمجھا کہ پہلے یہ واضح کر دیاجائے کہ حدیث وحی کا حصہ ہے اور اصولی طور پر حدیث کو وحی نہ ماننا کفر ہے امام بخاری رحمہ اﷲ نے کتاب الوحی وحی کا بیان ا س کے بعد باب باندھا ہے کیف کان بداءالوحی رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم۔ اس باب میں بداءکا معنی وحی اور وحی کا معنی دین ہے لہٰذا اس باب کا معنی یہ ہے کہ "دین کی وحی رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم پر کیسے نازل ہوئی تھی"۔

    اس باب کے بعد امام بخاری رحمہ اﷲ نے بتایا کہ ایک وحی دین وہ تھی جو بصورت قرآن نازل ہوتی تھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ وحی مجھ پر ایسے آتی ہے جیسے گھنٹے کی جھنکار ہوتی ہے اور یہ وحی مجھ پر بہت گراں ہوتی ہے اور فرشتے نے جو کہا ہوتا ہے مجھے یاد ہوچکا ہوتا ہے عائشہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب یہ وحی نازل ہوتی تو شدید سردی میں بھی جب فرشتہ واپس جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی پر پسینے کے قطرات ہوتے تھے وحی کی یہ صورت قرآن کے نزول کی ہے یعنی وہ وحی جو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم پر بصورت کتاب نازل ہوئی جسے قرآن مجید کہاجاتا ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ اس قرآن کی صورت میں جو وحی نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی ہے اس کے علاوہ بھی وحی دین آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوتی تھی اورکیا اس وحی کا انکار کفر ہے کہ نہیں امام بخاری رحمہ اﷲ فرماتے ہیں کہ قرآن کے علاوہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی دین نازل ہوتی تھی اور اس کا انکار کفر ہے کیونکہ قرآن نے فرمایا ہے ۔

    اے پیغمبر ! ہم نے تمہاری طرف اسی طرح وحی بھیجی ہے جس طرح ہم نے نوح اور اس کے بعد نبیوں پر بھیجی اور جس طرح ابراہیم علیہ السلام ، اسمعٰیل علیہ السلام ، اسحق علیہ السلام ، اور یعقوب علیہ السلام اور اولاد یعقوب علیہ السلام پر بھیجی او رعیسیٰ علیہ السلام ، ایوب علیہ السلام ، یونس علیہ السلام ، ہارون علیہ السلام ، اور سلیمان علیہ السلام پر بھیجی اور ہم نے داود علیہ السلام کو زبور دی (النساء)

    اسی آیت میں انبیاء کا نام لے کر بتایا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر دین کی وحی اسی طرح نازل ہوئی جیسے ان انبیاء سابقہ پر نازل ہوئی ان انبیاء میں کئی نبی ایسے بھی ہیں جن کو کوئی کتاب نہیں ملی جب کہ وہ دین کے داعی تھی رسول تھے اور اس غیر کتابی وحی دین کا قوم نے انکار کیا تو پوری قوم کافر ہوگئی نوح علیہ السلام نے کہا:

    رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا
    اے میرے رب! زمین پر کافروں میں سے کوئی بسنے والا باقی نہ چھوڑ

    یہ لوگ جن کو نوح علیہ السلام نے کافر کہا اور ان کی تباہی و بربادی کے لئے اپنے رب سے دعا کی کون لوگ تھے؟ وہی جنہوں نے نوح علیہ السلام پر غیر کتابی وحی کے نزول کا انکار کیا اور اﷲ عزو جل نے فرمایا اے پیغمبر ہم نے تم پر اسی طرح وحی نازل کی جس طرح نوح علیہ السلام پر نازل کی اس سے ثابت ہوا کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم پر غیر کتابی وحی دین بھی نازل ہوتی تھی اور اس کا انکار اسی طرح کفر ہے جس طرح قوم نوح نے کفر کیا یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی غیر کتابی وحی نازل ہوتی تھی۔۔۔

    ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ نے کہا ایسا ہوا کہ ایک مرتبہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے اتنے میں ایک گنوار شخص کھڑا ہوا کہنے لگا یا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم اﷲ کی کتاب کے موافق میرا فیصلہ کر دیجئے پھر اس کا حریف کھڑا ہوا کہنے لگا سچ کہتا ہوں یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کتاب اﷲ کے موافق اس کا فیصلہ کر دیجئے اور مجھ کو اجازت دیجئے تو میں مقدمہ کے واقعات بیان کروں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھا بیان کرو وہ کہنے لگا میرا بیٹا اس کے پاس نوکر تھا اس نے اس کی جورو سے زنا کیا لوگوں نے مجھ سے کہا تیرا بیٹا سنگسار کیاجائے گا میں نے سو بکریاں اور ایک لونڈی ا س کو دے کر اپنے بیٹے کو چھڑا لیا پھر جو میں نے عالموں سے مسئلہ پوچھا تو انہوں نے کہا اس کی جورو سنگسار کی جائیگی اور تیرے بیٹے پر سو کوڑے پڑیں گے ایک سال کے لئے جلاوطن ہوگا یہ سن کر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اﷲ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں تم دونوں کافیصلہ اﷲ کی کتاب کے موافق کروں گا بکریاں اور لونڈی تو واپس لے لے اور تیرے بیٹے پر سوکوڑے پڑیں گے ایک سال کے لئے جلاوطن ہوگا اور انیس توایسا کر صبح کو اس کی جورو کے پاس جا کر اس سے پوچھ اگر وہ زنا کا اقرار کر لے تو اس کو سنگسار کر ڈال انیس رضی اﷲ عنہ صبح کو اس عورت کے پاس گئے اس نے زنا کا اقرار کیا انیس رضی اﷲ عنہ نے اسکو سنگسار کر ڈالا۔ (بخاری کتاب اخبار الامار حدیث 2127جلد3)۔۔۔

    غور فرمائیں اﷲ کے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے اﷲ کی کتاب کے موافق فیصلہ کیاکیا یہ وحی نہیں تھی اگر یہ وحی نہیں تھی تو کیا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں کہا میں تم میں کتاب اﷲ کے موافق فیصلہ کروں گا یہ غیر کتابی وحی دین تھی جو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوتی تھی یہ بات قرآن سے ثابت ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کو تورات اس وقت ملی جب آپ بنی اسرائیل کو فرعون مصر سے نجات دلاکر دریائے نیل عبور کر چکے تھے (۱)

    وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَابَ مِن بَعْدِ مَا أَهْلَكْنَا الْقُرُونَ الْأُولَى بَصَائِرَ لِلنَّاسِ وَهُدًى وَرَحْمَةً لَّعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ
    اور بیشک ہم نے اس (صورتِ حال) کے بعد کہ ہم پہلی (نافرمان) قوموں کو ہلاک کر چکے تھے موسٰی (علیہ السلام) کو کتاب عطا کی جو لوگوں کے لئے (خزانہء) بصیرت اور ہدایت و رحمت تھی، تاکہ وہ نصیحت قبول کریں (سورۃ القصص۔۴۳)۔۔۔

    اور فرعون کافر اس وقت ہی قرار دیاگیا جب ابھی تورات نازل نہ ہوئی تھی فرعون اس لئے کافر قرار پایا کہ اس نے موسی علیہ السلام پر جو غیر کتابی وحی نازل ہوتی تھی اسکا انکار کیاتھا اس نے توریت کا انکار نہیں کیا تھا کہ تورات تو اس کے غرق آب ہونے کے بہت بعد ملی موسی علیہ السلام اس وقت نبی تھے جب انہیں کوہِ طور پر اﷲ سے ہم کلام ہونے کا شرف ملا اس وقت نبی تھے جب فرعون کے پاس گئے اس وقت نبی تھے جب بنی اسرائیل کو لے کر دریا عبور کیا حالانکہ تورات موجود نہ تھی یہ وحی دین تھی جو تورات سے قبل بھی موسی علیہ السلام پر نازل ہوتی تھی اﷲ نے فرمایا ہم نے اے پیغمبر تم پر بھی اسی طرح کی وحی نازل کی جس طرح موسی علیہ السلام پر نازل کی تورات موسی علیہ السلام کو ملی وہی صاحب کتاب نبی تھے ہارون علیہ السلام کس وحی کی بناء پر نبی تھے؟۔ شعیب علیہ السلام ، یونس علیہ السلام ، یعقوب علیہ السلام ، اسمعٰیل علیہ السلام اور اسحق علیہ السلام نبی تھے ان کے پاس تو کوئی کتاب نہ تھی پھر ان کی نبوت کسی وحی کی بنیاد پر تھی اور ان کے مخالفین کیوں کافر تھے؟ان سب انبیاءکی طرح رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوئی جو کتاب کی شکل میں بھی ہے اور غیر کتابی صورت میں بھی ہے دونوں پر ایمان لانا ضروری ہے جس طرح عمر رضی اﷲ عنہ فرماتے تھے میں ڈرتاہوں کہیں بہت زمانہ گزر جائے اورلوگ یہ کہنے لگیں کہ ہم کو اﷲ کی کتاب میں رجم کا حکم نہیں ملتا پھر اﷲ نے جو حکم ٹھہرایا ہے اس کوچھوڑ کر گمراہ ہوجائیں دیکھو سن لو جو محض مسلمان ہوکر زنا کرے اور زنا پر گواہ قائم ہوجائیں یا عورت کا حمل ظاہر ہویا زنا کرنیوالا اقرا ر کرے تو اسکو رجم کرینگے سفیان نے کہا مجھے تو یہ حدیث اسی طرح یاد ہے سن لو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے زانی کورجم کیا اور ہم نے بھی آپ کے بعد رجم کیا ۔(بخاری جلد سوم ۔کتاب المحاربین حدیث ۱۷۳۳)۔۔۔

    اس روایت سے معلوم ہوا کہ کسی ایک وحی کا انکار پورے دین کا انکار ہے اور یہ بات کفر ہے جس طرح فرعون اور قوم نوح علیہ السلام غیر کتابی وحی کے انکار کی وجہ سے کافر قرار پائے تھے اس وضاحت کے بعد امام بخاری رحمہ اﷲ نے صحیح بخاری لکھی تاکہ پڑھنے والا اسے محض تاریخ کی کتاب نہ سمجھے بلکہ اسے اپنے دین اسلام کی بنیاد اور اصل سمجھ کر پڑھے اور ان احادیث کی اطاعت کرکے نجات پائے ۔ اسلام میں حدیث کی اہمیت شائع کرنے کی اصل وجہ یہ بھی ہے کہ لوگوں میں اس بات کی وضاحت کی جائے کہ حدیث رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے بغیر دین پر عمل نہیں ہوسکتا اﷲ تعالیٰ ہم سب کو حق بات سمجھنے اورعمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین یارب العالمین )۔۔۔

    کیونکہ توفیق دینے والی ذات تو صرف اللہ ہی کی ہے ۔

    واللہ اعلم باثواب۔
    وسلام۔۔۔
     
  2. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,921
    جزاک اللہ خیًرا-صحیح بات یہ ھے کہ “فتنہ انکار حدیث “ پر اتنا اچھا مضمون آج تک میری نظروں سے نہیں گزرا-
    انکار حدیث ہی کی وجہ ھے کہ آج اُمت مسلمہ میں اختلاف بڑھتا جا رہ ھے۔اس اختلاف کو محمد علیہ السلام سنت بر عمل کر کے ہی دور کیا جا سکتا ھے-
    مزید انتظار رہے گا آپ کی تحریر کا-
     
Loading...
موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں