حدیث بھی وحی ہے

جاء الحق نے 'غیر اسلامی افکار و نظریات' میں ‏اگست 28, 2007 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. جاء الحق

    جاء الحق -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏جون 28, 2007
    پیغامات:
    90
    حدیث بھی وحی ہے​


    بسم اللہ الرحمن الرحیم ​



    السلام علیکم

    منکرین حدیث کہتے ہیں کہ اللہ کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پہ قرآن کہ علاوہ وحی نہیں آتی تھی ہم یہاں وہ چند آیات پیش کر رہے ہیں کہ قرآن کے علاوہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی آتی تھی۔


    دلیل ۱) اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب آپ مومنین سے کہہ رہے تھے کہ کیا تمہارے لئے یہ کافی نہیں کہ تمہارا رب تمہارے لئے آسمان سے تیں ہزار فرشتے نازل فرما کر تمہاری مدد فرمائے (العمران: ۱۲۴)

    آیت کا انداز بتا رہا ہے کہ اس آیت کے نازل ہینے سے پہلے ہی رسول اللہ صلی علیہ وسلم نے بطور تسلی صحابہ کو تین ہزار فرشتوں کی امداد کی خبر دی تھی۔ کیونکہ یہ کبر قرآن مجید میں کہیں نہیں ہے لہذا ثابت ہوا کہ قرآن کے علاوہ بھی وحی آئی تھی جس کی بنیاد پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خوشخبری دی تھی۔

    دلیل نمبر ۲) اور (اے رسول) جس قبلہ کی طرف آپ پہلے منہ کرتے تھے اس کو ہم نے کسی اور مقصد کے لئے مقرر کیا تھا سوائے اس کے کہ ہم یہ دیکھ لیں کہ کون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرتا ہے اور کون الٹے پاوں (کفرکی طرف)
    واپس ہوجاتا ہے۔(بقرۃ:ٍ۱۴۳)

    یہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ بیت المقدس کی طرف منہ کر کہ نماز کا حکم اللہ نے دیا تھا لیکن وہ حکم قرآن میں موجود نہیں۔

    دلیل ۳) اے ایمان والوں جب جمعہ کے دن نماز اذان دی جائے تو جلدی سے اللہ کے ذکر کی طرف آو اور خریدوفروخت چھوڑدو یہ ہی تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم سمجھو ۔
    یہ آیات کب نازل ہوئی اس کا ذکر بھی قرآن مجید میں اس طرح آتا ہے۔ (جمعۃ : ۹)

    اور جب ان لوگوں نے تجارت یا تماشا دیکھ تو اس طرف چلے گئے اور آپ کو کھڑا چھوڑ گئے آپ کہہ دیجئے کہ جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ لہو اور تجارت سے بہتر ہے اور اللہ بہتر رزق دینے والا ہے۔ (جمعۃ :۱۱)

    گویا یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب جمعہ کی نماز کے وقت بعض لوگ تجارت کے لئے چلے گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد میں کھڑا ہوا چھوڑ گئے۔
    آیت زیر بحث سے ثابت ہوا کہ نماز جمعہ کے لئے اذان دی جاتی تھی، جمعہ کے دن کوئی خاص نماز تھی جس میں لوگ جمع ہوا کرتے تھے ان دونوں باتوں کا قرآن میں کہیں حکم نہیں دیا گیا تھا۔ لہزا یہ دونوں کام کسی ایسے حکم کی تعمیل میں ہو ریے تھے جو قرآن میں آئی تو اللہ تو اللہ تعالی نے ان آیات کے زریعے تبنیہ کر دی۔ پس ثابت ہوا کہ وہ حکم بذریعہ حدیث ملا تھا۔ حدیث وحی ہے۔
    آیت بالا میں حدیث کے خلاف عمل کرنے پر تنبیہ نازل ہوئی اس سے حدیث کے احکام کی اہمیت آشکار ہے

    دلیل نمر ۴:
    نماز کی حفاظت کرو اور خاص طور پر بیچ کی نماز کی اور اللہ تعالٰی کے سامنے ادب سے کھڑے رہو۔ پھر اگر تمہیں دشمن کا خوف ہو (چلتے پھرتے) پیدل بھی اور سواری پر بھی نماز ادا کر سکتے ہو لیکن جب امن ہوجائے تو بھر اللہ کو اسی طرح یاد کرو جس طرح تمہیں اللہ نے سکھیا ہے جس کو تم نہیں جانتے تھے(بقرۃ ۲۳۸۔۲۳۹)

    آیت بالا سے معلوم ہوا کہ حالت امن میں کوئی خاص طریقہ ہے جس طریقہ سے نماز ادا کی جاتی ہے اور یہی وہ طریقہ ہے جس کے متعلق ارشاد ہے کہ "اللہ نے تمہیں سکھایا" پورا قرآن مجید پڑھ جایئے نماز آپ کو نہیں ملے کا طریقہ نہیں ملے گا۔ لہذا اللہ نے کسی اور زریعہ سے اللہ نے یاد کرنے کا طریقہ بتایا۔اور یہی وہ ذریعہ ہے جس کو حدیث کہا جاتا ہے۔ لہزا حدیث بھی منزل من اللہ ہے۔

    دلیل نمبر۵:
    (جنگ بنو نضیر میں) جو درخت تم نے کاٹے یا جو درخت اپنی جڑوں پر کھڑے چھوڑ دئے گئے وہ اللہ کے حکم سے تھا۔ (حشر ۵)
    پورے قرآن میں یہ حکم کہیں نہیں کہ فلاں درخت کاٹے جایئں اور فلاں چھوڑ دئے جائیں لہذا ثابت ہوا کہ کسی اور ذریعہ سے االلہ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ حکم دیا تھا یعنی قرآن مجید کے علاوہ بھی وحی آیا کرتی تھی ۔

    دلیل ۶:
    اور ان تین آدمیوں کی طرف بھی اللہ نے توجہ فرمائی جن کا معاملہ ملتوی کیا گیاتھا یہاں تک کہ جب زمین باوجود کشادگی کہ ان پر تنگ ہو گئی اور ان کی جانیں ان پر وبال بن گئیں اور انہوں نے یقین کر لیا کہ اللہ کے غضب سے بچنے کا سوائے اللہ کے اور ٹھانا نہیں تو اللہ ان پر متوجہ ہوا تاکہ وہ توبہ کریں بےشک اللہ توبہ کو قبول کرنے والا رحم کرنے والا ہے۔(توبہ ۔ ۱۱۸)

    یہ تین آدمی کون تھے؟ ان کا کیا قصور تھا؟ اللہ نے ان پر غصہ کا اظہار کس آیت میں کیاتھا؟ قرآن مجید ان تمام باتوں سے خاموش ہے ظاہر ہے کہ توبہ قبول کرنے سے پہلے غیظ و غضب کا اظہار کیا گیا ہو گا۔ تاریخ بتاتی ہے پچاس دن تک ان کا مکمل بائکاٹ کیا گیا سلام و کلام بند کر دیا گیا حتی کہ بیویوں کو بھی علیحدہ ہو جانے لا حکم ملا یہ سب کچھ کس کے حکم سے تھا؟ ظاہر کہ اسی کے حکم سے مقاطعہ بھی کیا گیا ہوگا لیکن وہ حکم قرآن میں کہیں نہیں لہزا ثابت ہوا کہ قرآن مجید کے علاوہ بھی وحی آیا کرتی تھی۔

    دلیل ۷:
    اور جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کسی بیوی سے راز کی بات کہی پھر جب اس بیوی نے راز کو ظاہر کردیا اور اللہ نے نبی کو مطلع کر دیا تو بنی صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض باتوں کو جتادیا اور بعض سے چشم پوشی کی پھر بج نبی نے اس بیوی کو یہ بات بتائی تو اس نے پوچھا آپ کو کس نے بتایا (کہ میں نے راز کو ظاہر کردیا) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ مجھے علیم و خبیر نے بتایا۔
    (تحریم۔۳)

    وہ راز کیا تھا؟ کونسی بیوی تھی؟ قرآن مجید خاموش ہے قرآن سے اتنا معلوم ہوتا ہے کہ کسی بیوی کو آپ نے منع کر دیا تھا کہ راز کو ظاہر نہ کریں لیکن انہوں نے ظاہر کردیا اللہ تعالٰی نے نبی کو افشائے راز کی اطلاع دی ۔ لیکن کس طرح دی یہ چیز قرآن مجید میں نہیں ہے۔ظاہر کہ قرآن مجید کے علاوہ کسی اور وحی کے ذریع مطلع کیا گیا۔ پس ثابت ہوا کہ قرآن مجید کے علاوہ بھی سلسلہ وحی جاری رہا کرتا تھا پھر قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ بیوی نے ازارہ تعجب پوچھا کہ آپ کو کس نے بتایا کہ میں نے راز کو ظاہر کر دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ "العلیم الخبیر" نے ان الفاظ سے بالبداہت ثابت ہوا کہ اللہ تعالٰے نے آپ کو مطلع کیا تھا ۔ اب بھی اگر کوئی کہے کہ کسی "العلیم الخبیر" انسان نے خبر دی تھی جیسا کہ منکرین حدیث کا کہنا ہے اور "فلما اظہرہ اللہ علیہ" میں بھی اللہ سے مراد کوئی انسان ہے تو ہم سوائے اس کہ اور کیا کہہ سکتے ہیں کہ اللہ ہی ان کو ہدایت دینے والا ہے۔ منکرین حدیث کا مفروضہ منصب نبوت کے قطعا منافی ہے جب اطلاع دینے والا اللہ ہو، جس کو اطلاع دی جارہی ہو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہو تو اس کے اور کیا کہا جاسکتا ہے کہ اللہ تعالٰی نے بذریعہ وحی اپنے نبی کو بتایا تھا اور وہ وحی قرآن مجید کے علاوہ تھی اگر یہ تسلیم نہیں تو پھر یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ جو کچھ بھی اللہ نے اس کو اپنی طرف منسوب کر لیا ایسی صورت میں معاذ اللہ تعالٰی نہ وحی رہے گی نہ نبوت۔ قصہ ختم۔

    دلیل ۸:کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو سرگوشی سے منع کیا گیا تھا (لیکن یہ لوگ باز نہیں آئے اور) پھر وہی کام کر رہے ہیں جس سے ان کو منع کیا گیا تھا۔(مجادلۃ۔۸)

    اس آیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ آیت کے نزول سے پہلے مسلیمن کو سرگوشی سے منع گیا تھا لیکن ممانعت کا وہ کام حکم قرآن مجید میں کہیں نہیں لہزا ثابت ہوا کہ قرآن مجید کے علاوہ بھی وحی آتی ہے

    ویسے تو ایسی بے شمار آیات ہیں لیکن ہم اس پر اتفاق کرتے ہیں۔۔
    اور اللہ ہی ہمیں ہدایت دینے والا ہے۔

    وسلام۔۔
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں