حدیث بھی کتاب اللہ ہے..

جاء الحق نے 'حدیث - شریعت کا دوسرا اہم ستون' میں ‏اگست 29, 2007 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. جاء الحق

    جاء الحق -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏جون 28, 2007
    پیغامات:
    90
    بسم اللہ الرحمن الرحیم​

    السلام علیکم

    اللہ تعالٰی قرآن مجید سورۃ توبہ سورۃ نمبر 9 آیات نمبر 36 میں اشاد فرماتے ہیں

    اِنَّ عِدَّۃَ الشُّھُوْ رِ عِنْدَ اللّٰہِ اثْنَا عَشَرَ شَھْرًا فِیْ کِتٰبِ اللّٰہِ یَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰ تِ وَ الْاَ رْضَ مَنْھَآ اَرْ بَعَۃُ حُرُمُ ط ذٰ لِکَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ لا فَلَا تَظْلِمُوْ ا فِیْھِنَّ اَنْفُسَکُمْ وَ
    َ قَا تِلُوا ا لْمُشْرِ کِیْنَ کَاً فَّۃً کَمَا یُقَا تِلُوْ نَکُمْ کَآ فَّۃً ط وَاعْلَمُوْآ اَنَّ اللّٰہَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ ہ
    مہینوں کی گنتی اللہ کے نزدیک کتاب اللہ میں بارہ کی ہے ،اسی دن سے جب سے آسمان وزمین کو پیدا کیا ہے ان میں سے چار حرمت و ادب کے ہیں یہی درست دین ہے تم ان مہینوں میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو اور تم تمام مشرکوں سے جہاد کرو جیسے کہ وہ تم سب سے لڑتے ہیں اور جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ متقیوں کے ساتھ ہے۔
    اب اگرکتاب اللہ سے مراد صرف قرآن ہے تو ان مہینوں کی گنتی قرآن میں ہونی چاہے اور کہیں نہیں لیکن جب ہم قرآن کا مطالعہ کرتے ہیں تو پتہ چلتا ہے یہ گنتی تو قرآن میں کہیں موجود ہی نہیں ہے سورۃ فاتحہ سے لے کر سورۃ الناس تک یہ گنتی موجود نہیں جبکہ اللہ کہتا ہے کتاب اللہ میں موجود ہے یہ آیات ثابت کرتی ہے کہ حدیث بھی کتاب اللہ ہے کیونکہ یہ گنتی احادث میں موجود ہے جس کو اللہ نے خود کتاب اللہ کہا.
    اور اللہ ہی ہمیں ہدایت دینے والا ہے
     
  2. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,919
    بہت خوب- کافی اچھی تحریریں دیکھنے کو مل رہی ہیں آپ کی طرف سے- جاری رکھیں-
     
  3. مون لائیٹ آفریدی

    مون لائیٹ آفریدی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏ستمبر 22, 2007
    پیغامات:
    4,799
    جزاک اللہ ...........
    بہت خوب ..........
    بے شک کہ حدیث بھی کتاب اللہ ہے .
     
  4. رفیق طاھر

    رفیق طاھر علمی نگران

    رکن انتظامیہ

    ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,938
    انا للہ وانا اليہ راجعون!!!!
    كيا يہ مذكورہ آيت سورہ توبہ كي , كتاب اللہ ميں نہيں؟؟؟!!!!
    ا
    اگر ہے اور يقينا ہے تو پھر گنتي تو كتاب اللہ ميں ذكر ہو جكي ہے
    باقي رہےاسماء تو اللہ نے اسماء نہ تو كتاب اللہ مين ذكر كيے اور نہ ہي دعوى كيا

    ميرے محترم بھائي وہ الفاظ استعمال كرو جو اسلاف نے كيے كہ :
    حديث بھي وحي اللہ اور ذكر اللہ ہے
    نہ كہ حديث كتاب اللہ ہے
    ياد ركھو حديث كتاب اللہ نہيں بلكہ كتاب اللہ كا غير ہے
    البتہ وحي اور حجت ضرور ہے
    ـــــــــــ
    كہيں كسي منكر حديث كے سامنے يہ كتاب اللہ ہونے والا موقف نہ پيش كر دينا وگرنہ پشيماني ہوگي
    ــــــــ
    بارك اللہ فيك وجزاك خيرا وزودك علما نافعا ورزقا طيبا وعملا متقبلا
     
  5. عام آدمی

    عام آدمی -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 5, 2012
    پیغامات:
    1
    انا للہ وانا اليہ راجعون!!!!
    تمام احادیث وحی بھی نہپیں ہو سکتی۔ اس لئے کہ حدیث آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب رہنے والوں کی زبانی رپورٹ ہے۔ غیر نبی کی رپورٹ کہاں سے وحی ہوگئ؟؟
     
  6. جانی ملک

    جانی ملک -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏مئی 27, 2012
    پیغامات:
    14
    ياد ركھو حديث كتاب اللہ نہيں بلكہ كتاب اللہ كا غير ہے
    البتہ وحي اور حجت ضرور ہے

    شیخ پھر اس حدیث کا کیا مطلب ہوا۔۔۔کیا حدیث کو بھی کتاب اللہ نہیں کہ سکتے۔۔۔

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، میں تمہارا فیصلہ کتاب اللہ ہی سے کروں گا۔ باندی اور بکریاں تو تمہیں واپس لوٹا دی جاتی ہیں، البتہ تمہارے لڑکے کو سو کوڑے لگائے جائیں گے اور ایک سال کے لیے ملک بدر کیا جائے گا اور انیس تم (یہ قبیلہ اسلم کے صحابی تھے) اس عورت کے گھر جاؤ اور اسے رجم کر دو (اگر وہ زنا کا اقرار کر لے) چنانچہ انیس گئے، اور (چونکہ اس نے بھی زنا کا اقرار کر لیا تھا اس لیے) اسے رجم کر دیا۔صحیح البخاری 2695
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں