قلب کالہو جب سے ڈھل رہا ہے آنکھوں میں

جاسم منیر نے 'کلامِ سُخن وَر' میں ‏جون 26, 2014 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. جاسم منیر

    جاسم منیر Web Master

    شمولیت:
    ‏ستمبر 17, 2009
    پیغامات:
    4,636
    قلب کالہو جب سے ڈھل رہا ہے آنکھوں میں
    آئنے کاہرمنظرجل رہا ہے آنکھوں میں
    جاگنے کی کوشش میں خواب دیکھنے والا
    جانے کتنی مدت سے چل رہا ہے آنکھوں میں
    بغض، دشمنی، نفرت، رنجش اور اندیشہ
    اب تو اس طرح کا پھل پھل رہا ہے آنکھوں میں
    روشنی سی پھیلی ہے جسم و جان کی سرحد پر
    یاد کا دیاشاید جل رہاہے آنکھوں میں
    پڑ رہی ہے ٹھنڈک سی آنسوؤں کے بہنے سے
    برف کا کوئی ٹکڑا گل رہا ہے آنکھوں میں
    وہ سراب کے دلکش منظروں سے گھبرا کر
    ریت پھر سمندر ک مل رہا ہے آنکھوں میں
    اب سہیل تم بھی تو اس سے پوچھ کر دیکھو
    کیوں چراغ نفرت کا جل رہا ہے آنکھوں میں
    شاعر: سہیل غازی پوری
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. اہل الحدیث

    اہل الحدیث -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 24, 2009
    پیغامات:
    5,050
    جزاک اللہ
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں