اقبال کے اشعار اور توحید

شاہد نذیر نے 'نقد و نظر' میں ‏فروری 20, 2010 کو نیا موضوع شروع کیا

موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔
  1. شاہد نذیر

    شاہد نذیر -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏جون 16, 2009
    پیغامات:
    788

    اقبال کی شاعری میں توحید سے ناواقفیت کا بھی بہت بڑا عنصر پایا جاتا ہے۔
    اقبال کا ایک مشہور شعر ملاحظہ ہو

    خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے خدا بندے سے خود پوچھے کہ بتا تیری رضا کیا ہے۔

    اقبال یہاں شاید یہ کہنا چاہتے ہیں کہ رضاعت اور عبادت سے انسان اس مقام پر بھی پہنچ سکتا ہے جہاں اللہ اپنے اس خاص بندے کے بارے میں کوئی فیصلہ کرنے سے پہلے خود اپنے بندے سے اسکی مرضی پوچھے گا۔ نعوذباللہ من ذالک

    اس سے بڑھ کر توحید سے جہالت کی مثال کیا ہوگی!!! اس شعر سے ایک تو یہ بات ثابت ہوئی کہ اقبال قرآن اور حدیث والی توحید سے ناواقف تھے اور دوسری بات یہ ثابت ہوئی کہ وہ ایک صوفی تھے کیونکہ ایسے عقیدے صوفیوں کے علاوہ کوئی نہیں رکھتا۔

    مذکورہ شعر کے برعکس قرآن اور حدیث کے نصوص سے یہ ثابت ہے کہ اللہ رب العالمین نے مخلوق کو پیداکرنے سے پانچ سو سال قبل ہی انکی تقدیر لکھ دی تھی اور ایک دوسری حدیث کا مفہوم ہے کہ تقدیر کی سیاہی خشک ہو چکی ہے اور ہر انسان کا فیصلہ ہوچکا ہے کہ وہ جہنم میں جائے گا یہ جنت میں۔

    جب اللہ نے مخلوق کی تقدیر اس وقت لکھی جب اسے پیدا بھی نہیں فرمایا تھا تو اس سے تقدیر کے بارے میں اسکی رضا پوچھنے کا کیا مطلب ہے ؟؟؟؟

    انسانوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھکر اللہ رب العالمین کے نزدیک کسی کا مقام نہیں۔ اگر ہم فرض کریں کہ اقبال اپنے اس شعر میں خودی کی بلندی کے جس مقام کا زکر کر رہے ہیں اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم فائز تھے تو برائے مہربانی کوئی صاحب ہمیں وہ حدیث یا قرآن کی آیت سنائے جس میں اللہ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تقدیر لکھنے سے پہلے اپنے نبی کی رضا دریافت کی ہو۔

    اسکے علاوہ بھی اقبال کے کئی اشعار ایسے ہیں جو توحید کی دھجیان بکھیرتے ہیں۔
     
  2. منہج سلف

    منہج سلف --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏اگست 9, 2007
    پیغامات:
    5,047
    السلام علیکم۔ بھائی مجھے تو شعر شاعری سے کوئی لگاؤ نہیں
    آپ ہی علامہ اقبال رحمۃ اللہ کے وہ شعر یہاں پیش کریں جو توحید کے خلاف ہوں۔
    ہمارے علم میں اضافہ ہوگا ان شاءاللہ
     
  3. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,397
    سورة القارعة میں ہے: ﴿فاما من ثقلت موازینہ فہو فی عیشة راضیة)

    خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
    خدا بندے سے خود پوچھے کہ بتا تیری رضا کیا ہے۔


    میرے خیال میں تو یہ شعر اسی آیت کی تفسیر بیان کرتا ہے۔
     
  4. محمد ارسلان

    محمد ارسلان -: Banned :-

    شمولیت:
    ‏جنوری 2, 2010
    پیغامات:
    10,398

    آپ نے حق بات لیکھی ہے بھائی جان

    واقعی اقبال کے کئی شعر اللہ کی کتاب سے ٹکراتے ہیں
     
  5. محمد ارسلان

    محمد ارسلان -: Banned :-

    شمولیت:
    ‏جنوری 2, 2010
    پیغامات:
    10,398

    اس بھائی نے بلکل ٹھیک کہا ہے واقعی آپ اور بھی شعر کا بتایں تاکہ ہمارے علم میں اضافہ ہو۔
     
  6. محمد ارسلان

    محمد ارسلان -: Banned :-

    شمولیت:
    ‏جنوری 2, 2010
    پیغامات:
    10,398
    آپ سے گزارش ہے رفی بھائی

    کہ آپ زرا تفصیل سے بتاہیں۔
     
  7. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    السلام علیکم بھائی شاہد نذیر ۔
    اگر آپ وضاحت سے اپنا نکتہ نظر اقبال کے اشعار سے مثالوں سمیت پیش کرسکیں تو یقینا ہم سب کی معلومات میں اضافہ ہو گا ۔
     
  8. محمد زاہد بن فیض

    محمد زاہد بن فیض نوآموز.

    شمولیت:
    ‏جنوری 2, 2010
    پیغامات:
    3,702
    اور علامہ اقبال کا یہ شعر بھی عجیب و غریب ہے کہ

    اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد
    نعوز با اللہ کیا کربلا سے پہلے اسلام مردہ حالت میں تھا۔؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
    یا یہ بات ہو سکتی ہھے کہ ہمیں‌ اس کا مطلب سمجھ میں‌نہ آیا ہو لیکن اگر کسی بھائی یا بہن کو اس کی انفارمیشن ہو تو ضرور بتا ئیں۔۔شکریہ
     
  9. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,397
    علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ کو سمجھنا تو ہر ایک کے بس کی بات نہیں البتہ انہیں اپنانا بہت آسان ہے یہی وجہ ہے کہ اس عظیم اسلامی شاعر کو ہر مکتبہء فکر، ہر فرقہ اپنے نکتہ نظر سے دیکھتا ہے۔ لیکن کیا یہ حقیقت نہیں کہ پاکستان صرف اور صرف اقبال کے خوابوں کی تعبیر ہے وہی اقبال جس نے "سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا" کہا تھا، اور جس کو لے کر آج بھی اہلِ ہندوستاں اقبال کو اپنا قومی شاعر تسلیم کرتے ہیں۔ رہی بات پاکستان کی تو یہاں تو بچہ سکول جاتا ہے تو اس کا تعارف "لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری" کے ذریعے اقبال سے ہوتا ہے، مگر جب بچے کو اقبال کے بارے میں نصابی کتب میں بتایا جاتا ہے تو پہلا جملہ کچھ یوں ہوتا ہے "وہ ایک عظیم صوفی منش انسان تھے"۔ یہ تاثر ہر ایک کے ذہن میں رچ بس جاتا ہے کہ شاید علامہ اقبال کی شاعری بھی بلھے شاہ، غلام فرید، جامی وغیرہ کی طرز پر صوفی ازم کا پرچار کرتی ہوگی، لیکن اقبال کے قول و عمل کے سنجیدگی سے مشاہدہ کرنے پر یہ تاثر زائل ہو جاتا ہے اور اس کی جگہ ایک راسخ موحد کی شکل میں وہ شاعر نظر آتا ہے جس کی شاعری نے حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے بعد مسلمانوں کے اندر نئی روح نیا جذبہ اور نیا ولولہ پیدا کر دیا۔ اس عظیم شاعر کو سمجھنے کے لیے صرف ایک لفظ خودی پر دھیان دینے کی ضرورت ہے جو کہ مذکورہ شعر میں بھی موجود ہے :

    خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
    خدا بندے سے خود پوچھے ، بتا تیری رضا کیا ہے

    مگر خودی کیا ہے اس کی تعریف خود اقبال فرماتے ہیں:


    خودی کا سر نہاں لا الہ الا اللہ
    خودی ہے تیغ فساں لا الہ الا اللہ

    یہ دور اپنے براھیم کی تلاش میں ہے
    صنم کدہ ہے جہاں لا الہ الا اللہ

    اگر چہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں
    مجھے ہے حکم اذاں لا الہ الا اللہ

    یہ نغمہ فصل گل و لا لہ کا نہیں پابند
    بہار ہو کہ خزاں لا الہ الا اللہ

    کیا ہے تو نے متاع غرور کا سودا
    فریب سو دو زیاں لا الہ الا اللہ


    بہ الفاظِ دیگر خودی معراج ہے اس مقام کی جہاں اللہ کی طرف ایک ہاتھ بڑھانے سے وہ دو ہاتھ بڑھاتا ہے، اگر ایک قدم اٹھاؤ تو دس قدم اٹھاتا ہے، اگر چل کر جاؤ تو وہ دوڑ کر آتا ہے۔ میرے خیال میں تو شاید ایک مومن کی رضا یہی ہوتی ہے کہ اس کا مشکل کشاء خود اس کی حاجت روائی کو آئے۔ مگر خودی کو گروی رکھ کر وسیلوں کی تلاش میں بھٹکتے لوگوں کو اس کی سمجھ نہیں آسکتی۔

    ایک اچھے مبلغ کی خوبی یہی ہوتی ہے کہ ہر سننے والا یہی سمجھتا ہے کہ شاید اسے ہی مخاطب کیا جا رہا ہے اور یہی خوبی اقبال کے ہاں بھی ہے جو انہیں متنازعہ بنا دیتی ہے مگر کھلے دل اور روشن دماغ سے اگر اس کا احاطہ کیا جائے تو سمجھنے والا سمجھ لیتا ہے کہ مخاطب کون ہے اور مدعا کیا ہے۔
     
  10. ابومصعب

    ابومصعب -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 11, 2009
    پیغامات:
    4,067
    السلام علیکم
    میں یہاں‌آپکی بات سے اتفاق نہیں‌کرونگا۔
    علامہ اقبال کی شاعری ادب کا حصہ ہے، اور جب بات شعر میں کہی جاتی ہے اسکے ظاہری الفاظ کو لیکر کبھی بھی اسکو کوئی بھی معنیٰ نہیں‌پہنایا جاسکتا ہے۔

    "پاسبان ملگئے کعبہ کو صنم خانے سے"

    اس شعر کو سمجھے بنا اگر "سمھیں" تب اسکے بھی ایسے ہی معنیٰ‌نکل سکتے ہیں‌جیسے ہم یہاں
    "خودی کو کر بلند اتنا کے شعر سے نکالنا چاہتے ہیں۔

    "یہ بات کسی کو نہیں‌معلوم کہ مومن
    قاری نظرآتا ہے حقیقت میں‌ہے قرآن"

    یہاں‌بھی ہم کہیں‌سے کہیں‌نکل سکتے ہیں کہ "کسی کو نہیں معلوم کا کیا مطلب ہے" وغیرہ وغیرہ۔

    علامہ اقبال ایک انسان تھے فرشتہ نہیں۔
    ان سے غلطیوں‌کا صدور ممکن ہے، وہ بشر ہی‌ تھے۔
    لیکن عام طور پر ان پر جہالت کا الزام نہیں‌لگتا۔
    لیکن الگ الگ انداز اور نظریائے فکر ہوسکتے ہیں۔

    خاص طور پر جب ہم ادب پر بات کر رہے ہیں تو معنی و مفہوم کچھ اور ہی ہوتے ہیں‌بعض اوقات۔۔۔۔۔

    جزاک اللہ‌خیر
     
    Last edited by a moderator: ‏فروری 21, 2010
  11. منہج سلف

    منہج سلف --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏اگست 9, 2007
    پیغامات:
    5,047
    السلام علیکم
    کچھ سال پہلے باذوق بھائی نے ایک اور فورم پر اس شعر سے متعلق بحث کی تھی۔ اب اس کا لنک تو یاد نہیں ، آپ باذوق بھائی کے بلاگ پر یہاں پڑھیں۔ معلومات میں اضافہ ہوگا ان شاءاللہ
    اسلام زندہ ہوتا ہے کربلا کے بعد ۔۔۔؟
     
  12. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,921
    اس کا کیا ثبوت ہے کہ یہ شعر مولانا محمد علی جوہر کا ہے ۔ کیا کوئی حوالہ مل سکتا ہے ؟
     
  13. کنعان

    کنعان محسن

    شمولیت:
    ‏مئی 18, 2009
    پیغامات:
    2,850
    ویسے یہ شعر علامہ اقبال کا نہیں ہے ۔ بلکہ مولانا محمد علی جوہر کا ہے ۔



    قتل حسین اصل میں مرگِ یزید ہے
    اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

    اس شعر سے متعلق ڈاکٹر محمد یوسف نگرامی کا ایک اقتباس پڑھ لیں ؛

    ( بحوالہ : الشیعہ فی المیزان ۔ اُردو ترجمہ : ڈاکٹر محمد یوسف نگرامی ، صفحہ نمبر 30 تا 38 ۔ مطبوعہ : دہلی 1989


    -------
     
  14. شاہد نذیر

    شاہد نذیر -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏جون 16, 2009
    پیغامات:
    788
    السلام علیکم ورحمتہ اللہ

    رفی بھائی بہت شکریہ کہ آپ نے تفصیلاً اپنے نقطہ نظر کو واضح کیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ شاعر کی شاعری کو سمجھنا اور بالکل وہی مفہوم بیان کرنا جوکہ شعر لکھتے وقت شاعر کے پیش نظر تھا ، بہت ہی مشکل کام ہے۔لیکن اس کی کوئی خاص ضرورت بھی نہیں ہے کیونکہ ہم اقبال کے شعر کے ظاہر پر بات کررہے ہیں اور اس واضح مفہوم پر اعترا ض کر رہے ہیں جو شعر پڑھتے ہوئے ہر قاری کے زہن میں پیدا ہوتاہے۔ ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ اقبال کس قسم کے عقیدہ کے مالک تھے لیکن یہ سچ ہے کہ انکے کئی اشعار عقیدہ توحید کے خلاف ہیں۔

    آپ نے متنازعہ شعر کے دفاع میں خودی کے معنی بیان کرنے کی کوشش کی ہے اسکی تشریح بھی اقبال ہی کے دیگر اشعارسے کی ہے اور خودی کے معنی اقبال نے لاالہ اللہ بیان کئے ہیں۔ لیکن رفی بھائی یہ بات یاد رہے کہ میرا اعتراض ہر گز لفظ خودی پر نہیں تھا بلکہ اصل اعتراض اشعار کے ان جملوں پر تھا جن میں اللہ رب العالمین جوکہ ہر عیب اور نقص سے پاک ہے کی طرف نقص اور عیب منسوب کیا گیا ہے۔ کیا بندے کا ایک ایسے مقام پر پہنچ جاناجہاں نعوذباللہ ، اللہ کو بھی اسکی تقدیر کیلئے اس کی رضا کی ضرورت درپیش ہو چاہے اس بندے سے محبت میں ہی کیوں نہ سہی۔ کیا اللہ کی طرف عیب منسوب کرنا نہیں ؟؟؟! کیا اقبال کے اس شعر کا اس کے علاوہ بھی کوئی مفہوم بنتا ہے کہ خودی کے مقام پر اللہ بندے کی رضا کا محتاج ہوجاتاہے ۔ نعوذباللہ من ذالک

    رفی بھائی آپ سے درخواست ہے کہ اس متنازعہ شعر سے جو مفہوم آپکو سمجھ میں آتا ہے وہ بیان کریں۔ شعر میں موجود کسی ایک لفظ کی تشریح مت کیجئے گابلکہ پورے شعر کا مفہوم بیان کیجئے گا۔

    اقبال کو موحد شاعر کہنا ظلم ہے اور وہ بھی اس صورت میں کے انکی شاعری میں کئی ایک متنازعہ اشعار میں موجود ہیں۔ انشاء اللہ ایک یادو دن میں ، میں اقبال کے ایک اور نئے شعر کے ساتھ حاضر خدمت ہونگا جس کی زد ، براہ راست عقیدہ توحید پر پڑتی ہے اور اسکے بعد فیصلہ آپ پر چھوڑوں گا کہ کیا اسکے بعد بھی اقبال ایک موحد شاعر تھا۔

    یہاں میں یہ بھی واضح کردوں کے اقبال کے اشعار کو ہر فرقہ اسلئے اپنے اپنے نقطہ نظر سے دیکھتا ہے کہ اقبال کی شاعری حق اور باطل دونوں طرح کے نظریات پر مشتمل ہے۔ اس میں سے جس فرقہ کو جو پسند آتا ہے وہ لے لیتا ہے۔ جسکی ایک مثال میں پیش کرچکا ہوں اور دوسری مثال کیلئے انتظار کیجئے۔ والسلام

     
    Last edited by a moderator: ‏فروری 23, 2010
  15. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,397

    و علیکم السلام!

    بھائی اسی تھریڈ کی پوسٹ نمبر 3 میں‌ اس شعر کے متعلق اپنا نکتہ نظر بتا چکا ہوں، کہ خودی یعنی لا الہ اللہ کو اپنا لیا جائے تو یقیناً میزان کا پلڑا بھاری ہو جائے گا۔ اور پھر جس کا میزان بھاری ہو گا اس سے اللہ کا وعدہ ہے کہ اپنی رضا کے مطابق وہ ابدی زندگی گذاریں گے۔
     
  16. شاہد نذیر

    شاہد نذیر -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏جون 16, 2009
    پیغامات:
    788
    وعلیکم السلام و رحمتہ اللہ!

    رفی بھائی آپکااقبا ل کے شعر سے متعلق یہ نقطہ نظر صرف ایک لفظ خودی پر مشتمل ہے۔ جبکہ یہ شعر محض ایک لفظ پر نہیں بلکہ دو جملوں پر مشتمل ہے۔ پھر صرف ایک لفظ کو لے کر پورے شعر کا مطلب و مفہوم بیان کرنا کیسے درست ہوسکتاہے؟؟؟!!!

    اور اس شعر میں خودی یعنی لا الہ اللہ کو اپنانے کی نہیں بلکہ خودی کو اس قدر بلند کرنے کی بات ہورہی ہے کہ جہاں بندے کی تقدیر خود اسکے ہاتھ میں آجائے کیونکہ جب اللہ رب العالمین بندے کی ہر تقدیر سے پہلے خود اس بند ے کی رضا جانے گا تو بندہ اپنی تقدیر کا مالک خود ہوگا۔ کیا یہ مفہوم اسلامی تعلیمات اور عقیدہ توحید کے خلاف نہیں؟؟؟!!!


     
  17. شاہد نذیر

    شاہد نذیر -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏جون 16, 2009
    پیغامات:
    788

    السلام علیکم ورحمتہ اللہ!

    پر خلوص بھائی اگر آپ میری پوسٹ پڑھیں تو میں نے شعر کے ظاہری الفاظ پراعتراض نہیں کیا بلکہ اس شعر کا مفہوم بیان کیا ہے۔ اگر میں محض ظاہری الفاظ پر جاتا تو پہلا اعتراض اس شعرپر یہ کرتا کہ لفظ خودی غلط ہے کیونکہ اردو یا فارسی میں ایسا کوئی لفظ ہی موجود نہیں بلکہ یہ اصطلاح اقبال کی زاتی ہے جس میں میرے خیال سے وہ خودی سے مراد انسان کی زات لیتے ہیں کیونکہ شعر کے مفہوم سے یہی سمجھ میں آتا ہے لیکن اگر خودی سے مراد لا الہ اللہ لیا جائے جیساکہ رفی بھائی نے بیان کیا ہے۔ تو اس شعر کا مطلب ہی سمجھ میں نہیں آئے گا۔دیکھئے

    لا الہ اللہ کو کر بلند اتناکہ ہر تقدیر سے پہلے
    خدا بندے سے خود پوچھے کہ بتا تیری رضا کیا ہے


    کیا اب آپ ہمیں بتائیں گے کہ اس شعر میں اقبا ل کیا کہنا چاہ رہے ہیں؟! اور لا الہ اللہ کو کیسے بلند کیا جاتا ہے کہ بندہ اس مقام پر فائز ہوجائے جہاں اللہ اسکی تقدیر کے معاملہ میں اسکی رضا دریافت کرے؟؟

    جب شعراء کی شاعری کی تشریح بیان کی جاتی ہے تو انکے ظاہری الفاظ کو لے کر انکا مفہوم بیان کیا جاتا ہے۔ اور یہی کچھ میں نے بھی کیا۔ تو اس میں ایسا کیا غلط ہے جس میں آپ مجھ سے متفق نہیں ہیں؟!

    میرا بھی آپ سے وہی سوال ہے جو میں نے محترم رفی بھائی سے کیا تھا کہ آپ مجھے اس شعر کا مفہوم سمجھا دیں کہ اس میں شاعر کیا کہنا چاہ رہا ہے۔ اور کوئی ایسی مثال بھی بیان فرمادیں کہ کسی تشریح کرنے والے نے کسی شاعر کے شعر کی ایسی تشریح کی ہو جو کہ اس کے ظاہر الفاظ کے مفہوم کے بالکل مختلف ہو۔ اس سلسلے میں آپ نے جن دو اشعار کا حوالہ دیا ہے۔ یعنی

    ۱۔ پاسبان مل گئے کعبہ کو صنم خانے سے

    اس کے ظاہر الفاظ سے ایک ہی مفہوم واضح سمجھ میں آتا ہے کہ کوئی دشمن یا مخالف بھی آپکی ہمایت کر سکتا ہے یا کل تک جو مسلمانوں کا دشمن تھا آج وہ کافر مسلمانوں کا دوست یا مددگار ہے۔ یا کل تک کا بت پرست آج مسلمانوں کے کعبہ کا پاسبان ہے۔ یاکل کا اسلام سے ناآشنا شخص آج مسلمان ہوکر اسلام کا ہمائتی اور مددگار ہے۔یا اسی سے ملتے جلتے دوسرے مفہومات۔
    کیا کوئی شخص اس شعر کا یہ مفہوم بھی لے سکتا ہے کہ بت پرست کعبہ کو ڈھانے کے درپے ہے؟؟؟!!!

    ۲۔ قاری نظر آتا ہے حقیقت میں ہے قرآن

    اس شعر کے بھی ظاہری الفاظ سے یہی مفہوم زہن میں آتا ہے کہ مومن صرف قرآن کی تلاوت نہیں کرتا بلکہ قرآن کی مکمل تعلیمات پربھی عمل کرتاہے۔ جیسا کہ ایک صحابی نے رسول اللہ ﷺ کے اخلاق کے بارے میں سوال کیا تو عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کیا تم نے قرآن نہیں پڑھا؟

    میں نہیں سمجھتا کہ اس شعر کے ظاہری الفاظ کی وجہ سے واقعتا کوئی مسلمان یہ سمجھے کہ اقبال تلاوت کرنے والے مسلمان کو خود حقیقتاً قرآن قرار دے رہے ہیں۔ اور اسی طرح میں نے اس شعر(خودی کو کر بلند اتنا ) کے وہی معنی بیان کئے ہیں جو کہ اس شعر کے ظاہر الفاظ سے ثابت ہوتے ہیں۔
    والسلام

     
  18. ابومصعب

    ابومصعب -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 11, 2009
    پیغامات:
    4,067
    بہر حال جو بھی ہے۔
    تنقید و تبصرہ ہر کسی کا جائیز حق ہے لیکن اس میں انصاف سے کام لیا جاسکتا ہے۔
    مطلب یہ نہیں‌ہے کہ "علامہ اقبال کوئی فرشتہ رہے ہونگے"
    بلکہ علامہ اقبال کی شاعری عام طور پر ایسی نہیں‌ہے کہ ان کے الفاظ سے ہم ایسے نتائج اخذ کریں‌جس پر انکے موحد ہونے پر شبہ ہو۔
    ہاں‌ڈیفرنٹ انڈرسٹانگ ہوسکتی ہے۔
    اور اپنے اپنے سوچنے کے الگ الگ ڈھنگ بھی۔۔۔
    البتہ واقعی ایسی کوئی بھی بات وہ چاہے "علامہ اقبال" کی ہو یا کسی بھی بڑے سے بڑے "طرم خان " کی۔۔۔اگر اسلامی تعلیمات کے منافی باتیں‌ہو اور "واقعی ہوں" تو وہ قابل مزمت ہیں۔

    جزاک اللہ خیر۔
    وما توفیقی الا باللہ۔
     
  19. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    اقبال کو گمراہ ، حق و باطل کی کھچڑی وغیرہ کہنے سے پہلے یہ بتائیے کس نے کلیات اقبال کا مکمل مطالعہ کر رکھا ہے ؟ فارسی اور اردو دونوں کلام ۔۔۔ اور خطبات اقبال بنام ری کنسٹرکشن آف ریلیجس تھاٹ ۔
    اور اقبال کے معاصرین و ہم نشینوں کی کتنی کتابیں پڑھ رکھی ہیں ؟ مولانا سید سلیمان ندوی اور مولانا عبد الغفار حسن رحمھم اللہ کی اقبال کے متعلق تحریروں کی باری تو بہت بعد میں آتی ہے ۔
    اوریہ بھی یاد رکھیے کہ اگر کوئی وہ نہ ہوا جو آپ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تو پھر اپنی آخرت کی فکر کیجیے ۔
     
  20. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    رافضیت کی ہمارے شعر و ادب پر یلغار اتنی سخت تھی کہ مولانا محمد علی جوہر جیسے مردِ مومن بھی رافضیت کے رنگ میں یہ شعر کہہ گئے ۔
    قتل حسین اصل میں مرگِ یزید ہے
    اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد
    ۔(بحوالہ : الشیعہ فی المیزان ۔ اُردو ترجمہ : ڈاکٹر محمد یوسف نگرامی ، صفحہ نمبر 30 تا 38 ۔ مطبوعہ : دہلی 1989 )۔
    ===
    حوالہ دیکھیے : ذوق والوں کے نام ، ۔۔۔۔ اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد ؟
     
Loading...
موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں