اقبال کے اشعار اور توحید

شاہد نذیر نے 'نقد و نظر' میں ‏فروری 20, 2010 کو نیا موضوع شروع کیا

موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔
  1. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    حو شخص عبدالخالق كے ہجے عبدل خالق لکھتا ہو اس سے شعر كے معانى ومطالب پر گفتگو ميرے ليے تو ممكن نہیں ۔ معلومات كا يہ عالم كہ جس پر تنقيد كى جا رہی ہے اس كا شعر تك درست نہیں لکھا ؟ تنقيد سے پہلے علم ضرورى ہے ۔

    جتنى دلچسپی اور محنت آپ حضرات اوروں كو مشرك بنانے ميں صرف كرتے ہیں اس سے نصف محنت ميں رب كى اس دنيا ميں توحيد كا بول بالا ہو سکتا ہے ۔

    آپ سے گزارش ہے صرف اس سوال كا جواب ديں كہ اقبال كے یہ "شركيہ" اشعار مولانا ابو الكلام آزاد رح كے رسالہ الہلال ميں چھپتے تھے ۔۔۔ شكوہ جواب شكوہ كى تائيد ميں مضمون " جواب شكوہ كا اقبال" الہلال ميں چھپا ۔مولانا داود غزنوى رح، مولانا غلام رسول مہر رح ،مولانا سيد سلمان ندوى رح اس "مشرك" اقبال كے ساتھ خط وكتابت كرتے ميل جول رکھتے اس كى وفات پر تعزيتى مضامين لکھتے اسلام كا سپاہی بتاتے رہے ۔ افسوس یہ سب اقبال كى سازش سے بے خبر رہے ۔ يہاں تك کہ آپ حضرات نے اس كے شرك كا انكشاف كيا ۔سبحان اللہ ۔
     
  2. اہل الحدیث

    اہل الحدیث -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 24, 2009
    پیغامات:
    5,050
    عین بہن ابھی یہ اقبال کے ذہنی ارتقا اور ان کی شاعری کی اصل روح سمجھنے سے قاصر ہیں۔ میرا خیال ہے کہ ہمیں مجلس پر ایک سیکشن اقبالیات شروع کرنا چاہیے جہاں یہ احباب اشعار لکھیں اور پھر ان کی مذہبی اور ادبی تشریح کی جا سکے۔
     
  3. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    جب كہ ميرا خيال ہے کہ کچھ لوگ ابھی اپنے دين کو بھی نہیں سمجھتے اور ابھی اردو سيكھنے كى بھی ضرورت ہے ! ہمارے لوگوں كا علمى معيار يہی رہا تو ہمیں اردو حروف تہجی سے شروع كرنا پڑے گا ۔۔۔
    شعر كى تشريح ، اللہ معاف كرے ۔ ۔۔
    يہاں ايك كاش والے شعر پہ بحث ہوتے ہوتے رہ گئی تھی جب كہ حضرت حسان بن ثابت رضى اللہ عنہ كے ايك مرثیے كے ہر دوسرے شعر ميں كاش آيا ہے ۔ پتہ نہیں مطالعہ كيے بغیر اس طرح بات كو فتوے نہ کہیں تو کیا کہیں ؟
     
  4. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    جب اقبال فوت ہوئے تو جاويد اقبال كى عمر بارہ تيرہ برس تھی اور منيرہ کی سات آٹھ برس ۔ تربيت كب ہوتی ؟ باقى باتوں كا حوالہ ذكر فرما ديں ۔
     
  5. طالب علم

    طالب علم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2007
    پیغامات:
    960
    اقبال رح کے شعر

    کوئی اندازہ کر سکتا ہے اس کے زور بازو کا
    نگاہ مرد مومن سےبدل جاتی ہیں تقدیریں

    سے بعض لوگ فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ اقبال جیسا الہامی شاعر کہہ رہا ہے کہ نگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں تو پھر باقی بات کیا رہ جاتی ہے اور پھر مثالیں دیتے ہیں کہ فلاں صوفی بزرگ کی صحبت کا اثر ہوا، نگاہ پڑھتے ہی دل کی حالت بدل گئی، مرد کامل کی نظروں میں بلا کی تاثیر تھی،

    اقبال رح کے اس شعر پر سید توصیف الرحمٰن الراشدی حفظہ اللہ نے تنقید کی ہے کہ

    گر نگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں
    تو مجاہد میداں میں کیوں لے کر جاتے ہیں شمشیریں؟


    یہ تھریڈ ملاحظہ فرمائیے "نگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں"

    اگر نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی نگاہ سے ، درخواست سے بھی چچا کی قلبی حالت نہیں بدلتی تو پیروں، بابوں، فقیروں میں اتنی طاقت کہاں؟؟؟

    میں اقبال رح کے ہر شعر کے خلاف نہیں ہوں لیکن اقبال اس بات کا خود اعتراف کر چکے ہیں کہ وہ ایک زمانہ میں وحدت الوجود اور وحدت الشہود کے قائل رہے ہیں۔ ظاہر سی بات ہے اس دور میں ان کے اشعار میں بھی ان نظریات کا اثر جھلکے گا۔

    اگر اقبال کا یہ شعر صیح ہے تو وہ زبان زد عام شعر بھی صیح ماننا پڑھ گا کہ

    نگاہ ولی میں وہ تاثیر دیکھی
    بدلتی زمانے کی تقدیر دیکی


    اقبال ایک گرانقدر شاعر تھے مگر توحید پر no compromise ہونا چاہیے۔
     
    Last edited by a moderator: ‏جولائی 1, 2010
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  6. اہل الحدیث

    اہل الحدیث -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 24, 2009
    پیغامات:
    5,050
    یہی اقبال کے ذہنی ارتقا کی ایک مثال ہے۔
     
  7. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    تو غلطی فائدہ اٹھانے والوں كى ہوئی نہ كہ شعر كى
     
  8. عبدل

    عبدل -: مشاق :-

    شمولیت:
    ‏جون 29, 2010
    پیغامات:
    320
    پتہ نہیں لوگ علامہ اقبال کو دیندار بنانے پر کیوں تلے ھوے ھیںاس کا تو چھرہ ھی اسلامی نہ تھا اور پیر پرست تھا اس کا پیر شیر ربانی تھا-
     
  9. محمد ارسلان

    محمد ارسلان -: Banned :-

    شمولیت:
    ‏جنوری 2, 2010
    پیغامات:
    10,398

    چلیں ہم سمجھنے سے قاصر ہیں آپ سمجھا دیں بھائی سلمان۔




    یہی بات ہم کہہ کہہ کر تھک گئے ہیں بھائی جان کہ توحید پر کوئی compromise نہیں ہونا چاہئیے

    لیکن یہاں اقبال کی شاعری جو کہ توحید کے خلاف ہے اس کو صحیح ثابت کرنے پر تلے ہیں

    ہم یہ نہیں کہتے کہ اس نے ہر بات غلط کی ابھی اس کی اور باتوں کا مجھے تو علم نہیں البتہ جتنے ابھی تک اقبال کے شعر زیر بحث آ چکے ہیں

    وہ تمام تو غلط ہیں۔

    لیکن کوئی غلط ماننے کو تیار نہیں۔

    پچھلے صفحات میں چلیں جائیں بھائی شاہد نزیر نے اتنے دلائل سے بات کی ہے مگر پھر بھی کچھ اثر نہیں

    کیونکہ شاہد نزیر بھائی نے دلائل ہی ایسے دئے ہیں جب ان سے جواب نہ بن پڑا تو یہ ایسے کہنے لگ گئے اور بس یہ کہہ کر خاموشی اختیار کر لی کہ تم لوگ شاعری کو نہیں سمجھ سکتے۔

    آپ لوگ سمجھ دیں آپ لوگوں کو تو سمجھ آتی ہے

    آپ ہمیں ایسے طریقے سے سمجھا دیں کہ شعر بھی درست رہے اور قرآن و حدیث سے بھی نہ ٹکرائے

    لیکن نہیں کیونکہ یہ شعر قرآن و حدیث کی تعلیمات کے خلاف ہیں اس لئے صحیح نہیں‌ ہو سکتے۔

    اللہ تعالیٰ ہم سب کو قرآن و حدیث پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔
     
  10. اہل الحدیث

    اہل الحدیث -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 24, 2009
    پیغامات:
    5,050
    ارسلان بھائی!!!!

    اگر آپ اقبال کے اشعار کی روشنی میں اقبال کا جائزہ لیں تو آپ کو پتا چلے گا کہ اقبال شاعری کے رجحان کی بنا پر مختلف ادوار سے سے گزرے ہیں۔
    کہیں وطنیت کی بات ہے تو کہیں ملت کی۔
    کہیں تصوف کی ھمایت میں اشعار ہیں تو کہیں ولولہ جہاد نظر آتا ہے۔
    کہیں پیرِ رومی کا تذکرہ ہے تو کہیں طارق بن زیاد کی بات ہے۔

    ہم اپنی زندگی میں مختلف ادوار سے گزرتے ہیں۔
    آپ کی زندگی بھی اس سے مختلف نہیں ہے۔
    اب آپ کی سابقہ باتوں کو لے کر چیونگم کی طرح کھینچنا اور پھر اس میں سے مختلف پہلو نکالنا ٹھیک نہیں۔
    ہاں جہاں تک ممکن ہو سکے تاویل کی کوشش ضرور کرنی چاہیے، حسنِ ظن کی بنا پر۔
     
  11. محمد ارسلان

    محمد ارسلان -: Banned :-

    شمولیت:
    ‏جنوری 2, 2010
    پیغامات:
    10,398
    یہاں پر جو اقبال کے اشعار بیان کئے گئے اور ان کو غلط ثابت کیا گیا اس کے بارے میں کیا خیال ہے بھائی سلمان۔
     
  12. اہل الحدیث

    اہل الحدیث -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 24, 2009
    پیغامات:
    5,050
    ہم دو مثالیں لیتے ہیں۔
    1-نگاہِ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں۔
    ان الفاظ کو اگر آپ ظاہری طور پر سیاق و سباق کے بغیر دیکھیں تو پھر وہ مطلب نکل سکتا ہے جو آپ نے لکھا ہے لیکن اقبال یہاں مومن کی عظمت اور شان کی بات کر رہے ہیں اور اس کی بنیاد پر قوموں کا عروج و زوال بیان کر رہے ہیں۔
    واقعی اگر ایک قوم میں مومن موجود ہوں تو وہ اہل کفر پر غالب آئیں گے۔ اقبال بھی یہی کہنا چاہتے ہیں اور قرآن میں سورۃ الانفال میں بھی کم و بیش یہی مضمون بیان کیا گیا ہے۔
    میرے نزدیک یہاں نگاہ مرد مومن سے کافروں کے اسلام لانے کی بات نہیں بلکہ قوموں کی اجتماعی تقدیر بدلنے کی بات ہے۔ غلامی کے اندھیروں سے آزادی اور فتح کے نور کی طرف۔
    2- جہاں تک قاری کے قرآن نظر آنے کی بات ہے تو اس کی کیا دلیل دیں گے کہ اماں عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں فرمایا کہ ان کا اخلاق قرآن تھا۔
    اور ہمیں روزانہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں اپنے خلق کو قرآن بنانے کی تلقین کی جاتی ہے۔
    لہذا قاری کو صرف قرآت تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اس پر عمل کرتے ہوئے اور اس کو اپنا شعار بناتے ہوئے قرآن کی عملی تصویر خود کو بنا کر دکھانا چاہیے۔
    امید ہے یہ مختصر سی تشریح سمجھ آ گئی ہو گی۔
     
  13. محمد ارسلان

    محمد ارسلان -: Banned :-

    شمولیت:
    ‏جنوری 2, 2010
    پیغامات:
    10,398
    حدیث مباکہ کا مفہوم تو یہ ہے کہ تقدیر دعا سے بدلتی ہے اور اس شعر میں بیان کیا جا رہا ہے کہ نگاہ مرد مومن سے۔

    اور آپ اس کو جہاد کی طرف لے کر جا رہیں ہیں لیکن اس شعر میں مجھے تو کہیں پر بھی یہ جہاد کے بارے میں نظر نہیں آ رہا۔
     
  14. اہل الحدیث

    اہل الحدیث -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 24, 2009
    پیغامات:
    5,050
    غلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں نہ تدبیریں
    جو ہو ذوق یقین پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں
    کوئی اندازہ کر سکتا ہے اس کے زورِ بازو کا
    نگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں

    یہاں مرد مومن کے زورِبازو کا تذکرہ اور اس سے پہلے غلامی اور آزادی کا تذکرہ کس چیز پر دلالت کرتا ہے۔
    آپ وہ پاگل زید حامد والی تعبیر اس شعر کی نہ کریں۔
     
  15. dani

    dani نوآموز.

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 16, 2009
    پیغامات:
    4,329
    :00039:
     
  16. جاسم منیر

    جاسم منیر Web Master

    شمولیت:
    ‏ستمبر 17, 2009
    پیغامات:
    4,636
    السلام علیکم
    کافی عرصے سے اس تھریڈ کا مشاہدہ کر رہا تھا، لیکن کچھ کہنے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی ۔ آج کچھ کہنے کی جسارت کر رہا ہوں۔۔۔
    شاہد بھائی نے علامہ اقبال کے اس شعر سے اعتراض شروع کیا:
    خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
    خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
    عین باجی، رفی بھائی ، پرخلوص بھائی اور اہل الحدیث بھائی نے بھی اس پر خیالات کا اظہار کیا، تو میں بھی اسی ضمن میں کچھ کہنا چاہتا ہوں۔

    صحیح بخاری حدیث نمبر : 6549
    حدثنا معاذ بن أسد، أخبرنا عبد الله، أخبرنا مالك بن أنس، عن زيد بن أسلم، عن عطاء بن يسار، عن أبي سعيد الخدري، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إن الله يقول لأهل الجنة يا أهل الجنة‏.‏ يقولون لبيك ربنا وسعديك‏.‏ فيقول هل رضيتم فيقولون وما لنا لا نرضى وقد أعطيتنا ما لم تعط أحدا من خلقك‏.‏ فيقول أنا أعطيكم أفضل من ذلك‏.‏ قالوا يا رب وأى شىء أفضل من ذلك فيقول أحل عليكم رضواني فلا أسخط عليكم بعده أبدا ‏"‏‏.‏
    ہم سے معاذ بن اسد نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبردی، کہا ہم کو امام مالک بن انس نے خبردی، انہیں زید بن اسلم نے، انہیں عطاء بن یسار نے اور ان سے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اہل جنت سے فرمائے گا کہ اے جنت والو! جنتی جواب دیں گے ہم حاضر ہیں اے ہمارے پروردگار! تیری سعادت حاصل کرنے کے لیے۔ اللہ تعالیٰ پوچھے گا کیا اب تم لوگ خوش ہوئے؟ وہ کہیںگے اب بھی بھلا ہم راضی نہ ہوں گے کیوں کہ اب تو تو نے ہمیں وہ سب کچھ دے دیا جو اپنی مخلوق کے کسی آدمی کو نہیں دیا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں تمہیں اس سے بھی بہتر چیز دوں گا۔ جنتی کہیں گے اے رب! اس سے بہتر اور کیا چیز ہوگی؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اب میں تمہارے لیے اپنی رضا مندی کو ہمیشہ کے لیے دائمی کردوں گا یعنی اس کے بعد کبھی تم پر ناراض نہیں ہوں گا۔

    صحیح مسلم حدیث 1960: سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بیشک اللہ عزوجل جنتی لوگوں سے فرمائے گا کہ اے جنتیو ! پس وہ کہیں گے کہ اے رب ! ہم خدمت میں حاضر ہیں اور سب بھلائی تیرے ہاتھوں میں ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ کیا تم راضی ہوئے؟ وہ کہیں گے کہ ہم کیسے راضی نہ ہوں گے، ہمیں تو نے وہ دیا کہ اتنا اپنی مخلوق میں سے کسی کو نہیں دیا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ کیا میں تمہیں اس سے بھی کوئی عمدہ چیز دوں؟ وہ عرض کریں گے کہ اے رب ! اس سے عمدہ کون سی چیز ہے؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں نے تم پر اپنی رضامندی اتار دی اور اب میں اس کے بعد کبھی تم پر غصہ نہ ہوں گا۔

    کیا یہ شعر اوپر بیان کی گئی حدیث پر پورا نہیں اترتا؟اگر جواب ہاں میں ہے تو اگر یہ شعر کہتے وقت علامہ اقبال کے ذہن میں یہی حدیث مبارکہ تھی، تو جو بحث ہم نے اس شعر کو صوفیانہ شعر، یا شرک سے بھرا ہو شعر کہنے میں‌کر دی ، اس کا کیا مطلب؟ اگر میں‌ غلط ہوں تو پلیز اصلاح کیجیے گا۔۔ جب ہم یہ مانتے ہیں‌ کہ علامہ اقبال کی شاعری میں توحید اور جہاد کی جھلک نظر آتی ہے تو کم از کم میں تو یہ ماننے کے لیے تیار نہیں ہوں‌ کہ ایسا شخص صوفی ہو سکتا ہے، یا اپنی شاعری سے لوگوں کو شرک کی دعوت دے سکتا ہے۔۔
     
    Last edited by a moderator: ‏جولائی 3, 2010
  17. شاہد نذیر

    شاہد نذیر -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏جون 16, 2009
    پیغامات:
    788
    بسمہ اللہ الرحمنٰ الرحیم


    علامہ اقبال کا پیر و مرشد ایک گمراہ اور بددین شخص تھا


    السلام علیکم ورحمتہ اللہ!

    عبدل بھائی نے پوسٹ نمبر 108 پرشیر ربانی کو اقبال کا پیر بتایا ہے لیکن اسکا کوئی حوالہ یا دلیل پیش نہیں کی۔ میں نے بھی بالآخر اقبال کا ایک روحانی پیر تلاش کر ہی لیالیکن دلیل کے ساتھ جس کی تفصیل یہ ہے کہ اقبال کے فارسی کلام میں ایک مثنوی ہے، جسے مثنوی اقبال کہا جاتا ہے۔ اس میں علامہ صاحب فرماتے ہیں:

    پیر رومی مرشد ضمیر
    کاروان عشق و مستی را امیر​

    ترجمہ: پیر رومی ضمیر کا مرشد ہے، وہ عشق و مستی کے کاروان کا امیر ہے۔

    جس بدبخت صوفی شخص کو اقبال یہاں پیر و مرشد قرار دے رہے ہیں یعنی مولانا رومی یہ ترکی میں سرکاری اور عوامی سطح پر بہت بڑا صوفی بزرگ ہے جس کی تصنیف مثنوی مولوی معنوی کو گمراہ صوفیوں نے فارسی میں قرآن قرار دیا ہے۔
    اس مختصر تفصیل سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں مولانا رومی جیسے گمراہ اور گمراہ گر کو پیر و مرشد قرار دینے والے علامہ اقبال کی زہنی سطح کس درجہ کی تھی اور وہ کس قسم کے صوفیانہ عقائد رکھتے تھے۔کیونکہ ایک صحیح العقیدہ شخص کے لئے تو مولانا رومی کو پیر و مرشد قرار دینا تو بہت دور کی بات ہے اس شخص کو مسلمان سمجھنا بھی محل نظر ہے۔

    مزید عرض ہے کہ علامہ اقبال کا ایک صوفی تھے جس کے دلائل سابقہ صفحات پر بھی موجود ہیں اور وہ مزارا ت پر بھی حاضری دیتے تھے دیکھئے پوسٹ نمبر 32 اور اقبال کواس بات کی تمیز بھی نہیں تھی کہ اللہ رب العالمین سے کیسے مخاطب ہواجاتا ہے۔شکوہ اس کا ثبوت ہے۔ لہذا ثابت ہوا کہ علامہ اقبال کے اشعار کو صوفی مذہب کے عقائد اور افکار کے بغیر سمجھنے کی کوشش کرنا جہالت ہے۔ زیر بحث اشعار کا وہی معنیٰ معتبر ہیں جسے میں نے ارسلان بھائی نے اور عبدل بھائی نے بیان کیا ہے کیونکہ اس کی تائید اقبال کے مذہبی رجحان سے بھی ہوتی ہے۔ اس کے برعکس ہمارے نقطہ نظر سے مخالفت رکھنے والے اقبال کے اشعار کی بھونڈی تاویلات کر رہے ہیں اور اپنے دامن میں کوئی واضح دلیل بھی نہیں رکھتے۔ بلکہ اس طرح کی مضحکہ خیز باتوں ہی سے میدان مارنا چاہتے ہیں کہ فلاں شخص ہجے صحیح نہیں لکھتا ، انہیں اشعار کا زوق نہیں اوریہ لوگ اقبال کی شاعری کو سمجھنے سے قاصر ہیں وغیر ہ وغیرہ
    والسلام
     
    Last edited by a moderator: ‏جولائی 3, 2010
  18. محمد ارسلان

    محمد ارسلان -: Banned :-

    شمولیت:
    ‏جنوری 2, 2010
    پیغامات:
    10,398

    بسم اللہ الرحمن الرحیم​

    السلام و علیکم ورحمۃ اللہ وبرکتہ

    قابل احترام جاسم منیر بھائی۔

    آپ نے جو حدیث پیش کی ہے ہم صدق دل سے اللہ کے رسول صلی اللہ و علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان مبارک پر ایمان رکھتے ہیں۔

    لیکن شعر اور اس حدیث مبارکہ کا آپس میں نسبت کچھ سمجھ نہیں آئی۔

    میرا آپ سے ایک سوال ہے جاسم بھائی۔

    اللہ کی رحمت کے علاوہ تو کوئی بھی جنت میں داخل نہیں ہو سکتا۔

    وہ کون سا مقام ہے جہاں اللہ تعالیٰ بندے سے پوچھے کہ بتا تیری رضا کیا ہے؟
     
  19. محمد ارسلان

    محمد ارسلان -: Banned :-

    شمولیت:
    ‏جنوری 2, 2010
    پیغامات:
    10,398
    آپ سمجھا دیں کیسے پورا اترتا ہے
    بھائی آپ کے پاس کیا دلیل ہے کہ یہ شعر کہتے وقت علامہ اقبال کے ذہن میں یہ حدیث مبارکہ تھی۔
    بھائی جان شعر کو دلیل کے ساتھ غلط ثابت کیا گیا ہے آپ پیچھے بھائی شاہد نزیر کے دئے ہوئے دلائل پڑھیں۔
    ضرور آپ بھی دلیل دیں تاکہ ہم میں کوئی کمی کوتاہی ہو تو ہم بھی اپنی اصلاح کر سکیں شکریہ

    ہاں بھائی میں بھی بغیر تحقیق کئے پہلے یہ ہی تسلیم کرتا تھا کہ علامہ اقبال کی شاعری میں توحید کی جھلک نظر آتی ہے بلہکہ یہ کہتا تھا کہ علامہ اقبال جیسا کوئی شاعر ہی نہیں پیدا ہوا لیکن جب سے بھائی شاہد نزیر کے دئے ہوئے دلائل پڑھے ہیں تب سے میں اقبال کی شاعری کے معاملے مین بہت محتاظ ہوں۔

    آپ کے ماننے یا ماننے سے کیا ہوتا ہے بھائی آپ کوئی دلیل پیش کریں۔پیچھلے صفحات میں بھائی شاہد نزیر نے دلائل کے ساتھ ثابت کیا ہے۔

    آپ یہ ثابت کر دیں دلیل کے ساتھ کہ علامہ اقبال کی شاعری مین شرک کا عنصر نہیں پایا جاتا۔
    اگر آپ کی باتوں میں وزن ہوا اور آپ کی دلیل پرفیکٹ ہوئی تو ہم مان لیں گے۔
     
  20. جاسم منیر

    جاسم منیر Web Master

    شمولیت:
    ‏ستمبر 17, 2009
    پیغامات:
    4,636
    ارسلان بھائی آپ نے بالکل ٹھیک کہا کہ اللہ کی رحمت کے علاوہ تو کوئی بھی جنت میں‌ داخل نہیں ہو سکتا، باقی رہا کہ شعر اور حدیث کی نسبت، تو یہ وہی نسبت ہے جو درج ذیل شعر اور سورۃ الرعد کی اس آیت کی ہے

    إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوۡمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُواْ مَا بِأَنفُسِہِمۡ‌ۗ

    خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
    نہ ہو خیال جس کو آپ اپنی حالت کے بدلنے کا.

    اگر شاعر نے حدیث کا مفہوم شعر کی شکل میں کہہ دیا تو کیا غلط بات ہے۔
    باقی جس مقام کی آپ بات کر رہے ہیں تو میرا تو ایمان ہے اس چیز پر کہ وہ مقام دنیا میں لوگوں کے لیے تو نہیں‌ ہو سکتا، ہاں آخرت میں ضرور ہو گا ان شاءاللہ، جیسا کہ حدیث کے الفاظ ہیں،
    "1) کیا میں تمھیں اس سے بھی کوئی عمدہ چیز دوں؟ 2) اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ کیا تم راضی ہوئے؟"
    یہ سوال اللہ تعالی جنت میں انسانوں سے ہی کریں گے نا؟
    صحیح مسلم کی حدیث میں نے یہاں سے لی اور صحیح بخاری یہاں سے

    اگر حدیث کے الفاظ میں‌ کوئی ردوبدل ہے تو کوئی صاحب علم اس میں میری اصلاح کر دیں۔۔
     
Loading...
موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں