موبائل فون ، سماجیات ، اخلاقیات، کمپنیاں اور صارف !

عائشہ نے 'مضامين ، كالم ، تجزئیے' میں ‏مارچ 13, 2010 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    ٹیکنالوجی کا بے ڈھنگا استعمال کیسے رحمت کو زحمت بنا دیتا ہے ۔اس موضوع پر یہ تحریر بہت کچھ سوچنے پہ مجبور کرتی ہے ۔


    یہ کس قسم کی دہشت گردی ہے....؟ بشری رحمان

    قومی اسمبلی میں، میں نے سوال اٹھایا کہ موبائل ٹیلی فونوں کے بارے میں الیکٹرانک میڈیا پر جو اشتہار بازی چل رہی ہے۔ وہ سماجیات اور اخلاقیات کے دائرے سے باہر نکلتی جا رہی ہے۔ اس پر کوئی قدغن ہے یا نہیں....
    منسٹر کی طرف سے جواب آیا کہ یہ صرف آپ کا مفروضہ ہے ہمیں پبلک کی طرف سے شکایات موصول نہیں ہوتیں۔ اگلے روز بہت سے ہم وطنوں کے مجھے فون آنے لگے کہ ہمیں شکایات ہیں مگر کہاں درج کرائیں۔ منسٹری نے فرمایا کہ پیمرا کے اندر ایک شکایات سیل تشکیل دیا گیا ہے وہاں درج کرائیں۔ جب پیمرا سے رجوع کیا گیا تو اس نے کہا ابھی تک اس سیل میں شامل کرنے کے لئے ناموں کا فیصلہ نہیں ہو سکا.... کہ ارکان کتنے ہوں اور کس کس شعبہ زندگی سے ہوں۔ وغیرہ وغیرہ.... خواتین اس میں شامل ہوں کہ نہیں....

    ہمارے قارئین کے لئے یہ امر باعث دلچسپی ہوگا کہ قومی اسمبلی میں ہمہ وقت میرا صوبہ میرا صوبہ کھیلا جاتا ہے۔ میرا پاکستان کوئی نہیں کہتا۔ جب کوئی کمیٹی کمیشن بورڈ یا ادارہ بنایا جاتا ہے تو ارکان اسمبلی صرف یہ پوچھا کرتے ہیں۔ اس میں میرے صوبے کے کتنے آدمی ڈالے ہیں۔ پنجاب چونکہ آبادی اور وسائل کے لحاظ سے بڑا صوبہ ہے اگر اس کے ارکان کی تعداد زیادہ ہو تو شور مچایا جاتا ہے۔ اس لئے کوئی بھی ادارہ تشکیل دینے سے پہلے سارے صوبوں سے ممبر مانگے جاتے ہیں بلکہ فاٹا والے بھی اٹھ کر پوچھتے ہیں۔ اور پاٹا والے بھی.... اصولاً تو یہ بات ہے بھی درست.... ہر صوبے کے علاوہ فاٹا اور پاٹا کے ارکان بھی ہر کمیٹی میں شامل ہونے چاہئیں۔ ان کی آبادی اور وسائل کے مطابق .... مگر اس تو تو میں میں بعض اوقات بہت ضروری کام بھی التواءمیں پڑے رہتے ہیں جو حکومت دو سال کے طویل عرصے میں اپنے قدم نہ جما سکی ہو۔ جس کی پالیسیاں ہر آن بدلتی رہی ہوں۔ جو آرڈیننس جاری کر کے واپس لے لیتی ہو اور بیان دے کر اس سے مکر جاتی ہو۔ اس حکومت کو تو اپنے ہی لالے پڑے رہتے ہیں۔ اس کی بلا جانے عوام پر کیا گزر رہی ہے اور کیا گزر جائے گی۔

    دوسرے اس حکومت کا ہمیشہ سے وطیرہ رہا ہے کہ جس خرابی کی طرف توجہ دلائی جائے اس کو سابقہ حکومت کے کھاتے میں ڈال کر مطمئن ہو جاتے ہیں۔ اس سے یہ نتیجہ اخذ کرنا چاہئے کہ ہمہ وقت مشرف کی پالیسیوں کو برا بھلا کہنے والی حکومت مشرف کی پالیسیوں ہی کو درست سمجھ رہی ہے۔ نہ ان کے پاس اپنا کوئی وژن ہے اور نہ منصوبہ.... اس لئے حکومت رینگ رینگ کر چل رہی ہے.... دنیا میں کوئی بھی شے جب ایجاد کی جاتی ہے تو وہ انسانوں کی بھلائی کے لئے اور ان کو فائدہ پہنچانے کے لئے ہوتی ہے۔ موبائل فون اکیسویں صدی کی ایسی ہی ایجاد ہے۔ اس نے فاصلے کم کئے۔ پیغام رسانی کو آسان کیا۔ ہسپتالوں میں، جنگوں میں، سفروں میں اپنی افادیت کو اجاگر کیا لیکن جب اس نعمت کا غلط استعمال ہونے لگے تو یہ زحمت بن جاتی ہے....

    اول تو یہ کہ اس غریب ملک میں اتنی زیادہ فون کمپنیوں کو آنے کی اجازت کیوں دی گئی۔ جہاں اسی فیصد عوام تعلیم سے بے بہرہ ہیں۔ پچاس فیصد غربت کی لکیر سے نیچے ہیں اور محنت مزدوری کر کے نان و نفقہ کا بندوبست کرتے ہیں ان کو ٹیلی فون سے زیادہ زندگی کی بنیادی سہولیات کی ضرورت ہے مگر فون کمپنیوں کے دلکش اور دلآویز اشتہاروں نے آج ہرکس و ناکس کی جیب میں موبائل فون پہنچا دیا ہے۔ چلئے یہ کوئی بری بات بھی نہیں۔ ہر فرد کو یہ سہولت حاصل کرنے کا حق ہے لیکن کیا ہر فرد کو اس کے استعمال کے اصولوں کا بھی پتہ ہے....

    جنگل کی آگ کی طرح موبائل فون بستی بستی قریہ قریہ پھیل گئے۔ اوپر سے ہر روز نئی نئی سکیمیں معصوم عوام کو گمراہ کرنے کے لئے نکالی جا رہی ہیں۔ ایس ایم ایس کرنے کا ایک تکلیف دہ سلسلہ ہے۔....
    وہ تمام لوگ جو مذہبی فقرے، بزرگانِ دین کے اقوال اور عبادات کے نسخے وقت بے وقت دوسروں کو بھیجتے رہتے ہیں میں ان سے پوچھتی ہوں اگر وہ خود ان پر عمل کرتے رہتے تو بہت اچھا ہوتا۔ دوسروں کو نیند سے جگا کر یہ کہہ دینا کہ اس قسم کی سو ایس ایم ایس اگر آگے نہ بھیجیں تو آپ کو عذاب ہو گا کہاں کا ثواب ہے۔ غضب خدا کا اب بھکاری بھی ایس ایم ایس کر کے کہتے ہیں کہ ایک سو روپے کا ایزی لوڈ مجھے بھیج دو کیونکہ میرے پاس پیسے نہیں ہیں۔ ہسپتالوں کے مریض اور مختلف قسم کے چندہ مانگنے والے نوکری مانگنے والے رعایت مانگنے والے وقت بے وقت ایسے پیغام بھیجتے رہتے ہیں۔ ان کو اس بات کی تمیز نہیں ہے کہ جس کو ایس ایم ایس کر رہے ہیں وہ کون ہے اور اس وقت قسم عالم میں ہوگا۔

    گھریلو خواتین کی زندگی ویسے تباہ ہو گئی ہے کہ خانصاماں کی جیب میں فون ہے۔ ہانڈی پکاتے وقت بجتا ہے تو وہ ہانڈی چھوڑ کر باتیں کرنے لگتا ہے۔ ڈرائیور کی جیب میں ہے فون بجتا ہے تو وہ سٹیئرنگ سے بے پرواہ ہو کر فون سننے لگتا ہے۔ الغرض چوکیدار، مالی، جمعدار، عورتیں، مرد سارا دن فون منہ سے لگائے ایک دوسرے کو اکھاڑتے پچھاڑتے ہیں۔ اس ایزی لوڈ نے اور بھی مصیبت ڈالی ہوئی ہے کہ ملازم روزانہ سودا سلف میں سو پچاس بچانا اپنی ضرورت سمجھتے ہیں اور پھر مجرمانہ وارداتیں بھی بڑی آسان سے ہونے لگی ہیں۔ مریضوں کو تنگ کیا جانے لگا ہے اور ظلم یہ ہے کہ ہمارے مزدور طبقہ کا یہ سارا پیسہ غیر ملکی کمپنیوں کی جیب میں جا رہا ہے۔ اسی لئے تو دھڑا دھڑ ہر روز نئے سے نئے اور بے ہودہ اشتہارات سامنے آ رہے ہیں۔ جو ایک خاص قسم کے طبقے کے لئے باعثِ کشش ہوتے ہیں.... ہر سہولت کا غلط استعمال اور ہر شے کی زیادتی اس کے زوال کا باعث ہوتی ہے۔ یوں لگتا ہے دنیا میں بس ایک ہی دلکشی ہے اور وہ ہے موبائل فون کا استعمال....

    میرے جیسے لوگ ایسی مسڈ کالوں اور ایس ایم ایس سے بے زار ہو کر ہمہ وقت اپنا فون بند رکھتے ہیں۔ ہمارے ہاں سہولت کو زحمت بنتے کتنی دیر لگتی ہے....؟
    ان کمپنیوں نے پی ٹی سی ایل کو برباد کر کے رکھ دیا ہے۔.... ایک خوبصورت طریقہ کارکردگی تھا وہ ماضی کاحصہ بن گیا۔ جس حکومت کی بھی یہ غلطی تھی ہو گی لیکن موجودہ حکومت کیا کر رہی ہے پیمرا اس کے لئے کوئی قانون سازی کرنے کی مجاز ہے یا نہیں.... لیکن چھوڑئیے....
    حکومتِ وقت کو اس طرف توجہ دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ کہ وہ جوڑ توڑ اور کہہ مکرنیوں کے ایک گنجلک عمل میں اس حد تک ڈوب چکی ہے کہ ملکی معاملات اس کی نہج اور عقل سے دور چلے گئے ہیں۔
     
  2. marhaba

    marhaba ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏فروری 5, 2010
    پیغامات:
    1,667
    اس کا صحیح حل بتائیں۔مہر بانی ہوگی۔
     
  3. ابومصعب

    ابومصعب -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 11, 2009
    پیغامات:
    4,067
    السلام علیکم
    نائیس تحریر ہے، جو کہ حقیقت کی عکاسی کرتی ہے۔
    ویسے بھی موبائل فونز کے حوالے سے مختلف حالات میں ہزاروں تحریریں پڑھنے کو ملتی ہیں‌جس میں‌اسکے منفی اثرات پر بحث کی جاتی ہے۔
    لیکن مندرجہ بالا تحریر میں بعض رئیل ھاپیننگز کو اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
    اب اس قسم کی ٹیکنالوجی پر ہم بات کرنے بیٹھ جائیں تو ہمارے خیر خواہ کہہ اٹھتے ہیں‌کہ "کوئی بھی ٹول خود سے خراب نہیں ہوتا، بلکہ استعمال کرنے والے پر ڈیپند کرتا ہے" اسلئے

    مزید نو کمنٹس۔۔۔۔
     
  4. حرب

    حرب -: مشاق :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 14, 2009
    پیغامات:
    1,082
    ایک ضروری بات جو اکثر لوگ نہیں جانتے وہ یہ کے رحمت للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کے مبعوث ہونے کے بعد اب ابابیلیں نمودار نہیں ہوں گی لہذا اب تو اُمت مسلمہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ ابابیل کا کردار ادا کریں ۔۔۔زیادتی اور کمی کے درمیان اعتدال ایک پوائنٹ ہے مثال کے طور پر اجنبی سے تعلق میں ذیادتی منظورنظربنا دیتا ہے اور زیادہ کمی بد اخلاق اور بےمروت۔۔۔ لہذا تمام برائیاں غلطیاں ہیں جو انسان اپنی خوشی کی تلاش میں کرتا ہے۔۔۔ ابراہم لنکن اپنےذاتی تجربے کی بنا پر یہ کہا تھا کہ جن لوگوں میں کوئی برائی نہیں ہوتی ان میں اچھی خصوصیات بھی بہت کم ہوتی ہیں۔۔۔ ایک چیز جو قدرتی طور پرموجود ہے۔۔۔ اس کا روکنا کیا برائی نہیں؟؟؟۔۔۔

    حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت یعقوب علیہ السلام کے متعلق یہ تصریح ہے کہ آپ نے اپنی اولادوں سے یہ وصیت فرمائی کہ تمہیں اسلام ہی پر موت آئے۔۔۔ پاکستان کے معاشرے میں کتنے والدین ایسے ہیں جو اپنی اولاد کو اس طرح کی نصیحت کرتے ہونگے؟؟؟۔۔۔

    اگر ہمارا رب جھوٹ کو واجب کردیتا تو کیا جھوٹ اچھا ہوتا؟؟؟۔۔۔ اور اگر سچ کو منع کر دیتا تو کیا سچ براہوتا؟؟؟۔۔۔

    اگر اچھائی اور برائی کی بنیاد خالق کا حکم ہے تو اس وقت معاشرے میں موجود تمام برائیوں کی اصل وجہ اپنے رب کے اخکامات کو نا ماننے کی وجہ سے ہے کیونکہ ہم سب الحمداللہ مسلمان مگر کیا وجہ ہے کے ہم نماز بھی پڑھتے ہیں اور کھلی یا چھپی برائیوں سے محفوظ بھی نہیں؟؟؟۔۔۔

    ”ان الصلواة تنھی عن الغحثاء والمنکر
    نماز ہر طرح کی کھلی اور چھپی برائیوں سے روکتی ہے۔۔۔
     
  5. شاہد نذیر

    شاہد نذیر -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏جون 16, 2009
    پیغامات:
    788
    السلام علیکم و رحمتہ اللہ!

    بہن عین کا یہ مضمون بلاشبہ قابل توجہ ہے اللہ انہیں جزائے خیر عطا فرمائے۔ موبائل فون کے نقصانات پر ایک تحریر مجلس مذہب اور نظریات کے اسلامی متفرقات میں بعنوان موبائل کا فتنہ، میں نے بھی پوسٹ کی ہے جوکہ میری پسندیدہ تحریروں میں سے ایک ہے میں نے جب اسے پڑھا تو اس نے میرے دل کو چھو لیا۔ آپ لوگوں سے درخواست ہے کہ اس تحریر کو ضرور پڑھیں۔

     
    Last edited by a moderator: ‏مارچ 14, 2010
  6. شاہد نذیر

    شاہد نذیر -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏جون 16, 2009
    پیغامات:
    788
    میرے بھائی اسطرح کے کفریہ جملوں سے پرہیز کریں اور اللہ رب العالمین کے بارے میں کچھ لکھنے اور بولنے سے پہلے ہزار مرتبہ سوچا کریں۔

    جہالت کی انتہا ہے۔ آپ کو یہ علم کس نے دیا کہ جھوٹ کیا ہے اور سچ کیا؟؟؟ یقینا اللہ رب العالمین نے ورنہ آپکو کیا علم تھا۔
    اگر بالفرض ہمارا رب جھوٹ کو واجب کردیتا تو یقینا جھوٹ ہی اچھا ہوتا کیونکہ اللہ کا حکم ماننا ہی بندے کا کام ہے۔ اللہ کے حکم کا انکار تو شیطان کا کام ہے۔
    اگر اللہ سچ بولنے سے منع فرمادیتے تو سچ وہی بولتا جو اللہ کا نافرمان ہے۔
     
  7. حرب

    حرب -: مشاق :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 14, 2009
    پیغامات:
    1,082
    شاہد نذیر صاحب آپ نے میری جہالت کی نشاندہی اُس کے لئے میں آپ کا بے حد ممنون ہوں۔۔۔ اور اللہ رب العزت سے دُعا ہے کے وہ ہم کو جذبات کے ساتھ ساتھ تھوڑی عقل سلیم بھی عطاء فرمائے آمین ثم آمین۔۔۔
     
  8. شاہد نذیر

    شاہد نذیر -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏جون 16, 2009
    پیغامات:
    788
    میں ان الفاظ کےلئے معذرت خواہ ہوں۔ صرف آپکو سمجھانا مقصود تھا۔ جہالت کے معنی لاعلمی ہے۔ اگر آپ جملہ کو ایسے کر لیں۔ لاعلمی کی انتہا ہے تو شاید آپکو برا نہ لگے۔
     
  9. خادم خلق

    خادم خلق -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 27, 2007
    پیغامات:
    4,946
    جزاکِ اللہ خیرا!
    بہت ہی اچھا مضمون ہے ۔ یقیناً یہ موضوع توجہ کے لائق ہے ۔


    بہت شکریہ شاہد بھائی !
    اگر آپ اپنی پوسٹ کے ساتھ لنک ارسال کرتے تو زیادہ مناسب رہتا ۔ ان شاء اللہ :00026:
    لیجئے میں دیئے دیتا ہوں ۔ موبائل کا فتنہ - URDU MAJLIS FORUM
     
  10. ابومصعب

    ابومصعب -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 11, 2009
    پیغامات:
    4,067
    شاہد بھائی
    انسان کے مزاج کے فتنو‌ں پر آپ ہی کوئی تحریر فرمادیں تو مناسب ہوگا، جسطرح ہم موبائل پر بات کر رہے ہیں ، اسی طرح مزاج بھی انسان کو لے ڈوبتا ہے۔

    بات کر رہے ہیں اللہ اور اسکے رسول کی۔۔

    اپکی سگنیچر میں قران مجید کی آیت۔

    اور آپکی زبان سے دوسرے محفوظ نہیں۔

    با ت کو شائستگی سے پہنچا ئیں بھائی۔

    حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اسوۃ مبارک ایسا تھا کہ کفار بھی آپ پر انگشت نمائی نہیں‌کرپاتے، پھر ہمارے لئے تو آپ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات پاک مشعل راہ ہے۔


    قرآن پاک میں ارشاد ہے جسکا مفہوم ہے"لوگو تمہارے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات کے اندر ایک اچھا نمونہ ہے "


    پھر ہم اصلاح‌کے غرض سے اٹھیں تو پھر تو ہماری زبان انتہائی شیریں‌ہونی چاہیے۔
    ورنہ اصلاح کو جو عمل ہم کر رہے ہیں وہی ہمارے لئے وبال جان نہ بن جائے۔

    حضرت أنس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا آسانی پیدا کرو، سختی پیدانہ کرو، اطمینان دلاؤ اور نفرت نہ دلاؤ۔(بخاری)

    قرآن پاک میں ارشاد ہے:"محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ آپؐ کے ساتھ ہیں وہ کافروں پر سخت مگر آپس میں رحم دل ہیں ۔(الفتح)

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ نے فرمایا:﴿ مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ( کے نقصان ) سے (دوسرے) مسلمان محفوظ رہیں اور مہاجر وہ ہے جو ان کاموں کو چھوڑ دے جن سے اللہ تعالیٰ نے منع کیا ہے ۔(بخاری)

    حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمانوں میں کامل ترین ایمان اس کا ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں اور تم میں سے قابل تعریف وہ ہے جس کا اپنی عورتوں کے ساتھ سلوک اچھا ہو (ترمذی)

    میری آپ سے گذارش ہے کہ مندرجہ بالا قرانی عبارتیں اور احادیث ہمارے لئے مشعل راہ ہیں لیکن شرط یہ ہے کہ ہمارے اندر اسکی طلب ہو۔

    جزاک اللہ خیر۔
     
    Last edited by a moderator: ‏مارچ 14, 2010
  11. محمد زاہد بن فیض

    محمد زاہد بن فیض نوآموز.

    شمولیت:
    ‏جنوری 2, 2010
    پیغامات:
    3,702
    عین باجی آپ نے اچھا مضمون لکھا ہے۔شکریہ
     
  12. ابومصعب

    ابومصعب -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 11, 2009
    پیغامات:
    4,067
    یہ مضمون بشری باجی نے لکھا ہے۔۔۔۔
    :)
     
  13. ابو یاسر

    ابو یاسر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 13, 2009
    پیغامات:
    2,413
    ہمیں بات چیت اور ہر کام میں اعتدال سے کام لینا چاہیے مگر جیسا کے شاہد بھائی بول گئے اور پرخلوص اور حرب بھائی شروع پڑ گئے اس طرح ہر کوئی بس بندوق بھر کے فائرنگ کرنے لگے ایسا بھی نہیں ہونا چاہیے۔
    ایک دوسرے کو سمجھو ، یکساں کوئی بھی نہیں ٹولریٹ کرو، ہمیں ساتھ رہنا ہے۔ حسن ظن رکھیں گے تو بہت سے پریشانیوں سے دور رہیں گے۔
    میں کسی کو کوئی تنبیہ نہیں کر رہا بلکہ میں تو اس قابل بھی نہیں کہ آپ جیسے علم والوں کو سمجھاوں
    میں نے بس اپنا نقطہ نظر بیان کیا ہے۔
    پرخلوص بھائی ۔۔۔۔۔۔۔۔ آااااااااااااال اززز ویل
    اور بحث کو صحیح سمت دکھانے کی درخواست کے ساتھ
    الوداع
     
  14. ابومصعب

    ابومصعب -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 11, 2009
    پیغامات:
    4,067
    جزاک اللہ خیر
    خوبصورت انداز میں رہنمائی کی ہے آپ نے۔
    اللہ آپکو صحت عاجلہ و کاملہ عطا فرمائے ۔ آمین
    :)
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں