عبرانی زبان

ابوعکاشہ نے 'معلومات عامہ' میں ‏اپریل 5, 2021 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,921
    عبرانی زبان
    ----------------------------
    عبرانی زبان کو عربی میں العِبرِيَّة اور العِبرانية جبکہ انگریزی میں Hebrew کہتے ہیں۔ اِس کا تعلق زبانوں کے سامی خاندان سے ہے۔ عربی زبان کا تعلق بھی سامی خاندان سے ہے۔ فرق اِن دونوں میں یہ ہے کہ عبرانی شمال مشرق کی زبان تھی جبکہ عربی جزیرہ نمائے عرب کے شمال مغرب میں بولی جاتی تھی۔ یوں عبرانی عربی کی خواہر زبان (Sister language) ہے۔
    عبرانی زبان کا بنیادی تعلق قدیم کنعان(فلسطین) سے ہے۔ اہلِ کنعان جو زبانیں بولتے تھے اُن میں ایک یہی زبان روئے زمین پر باقی ہے۔ سیدنا یعقوب علیہ السلام جن کا لقب اسرائیل تھا، اپنی آل اولاد کے ساتھ کنعان میں رہتے تھے ۔ اُن کی آل اولاد بعد ازاں بنی اسرائیل کہلائی۔ یوں عبرانی زبان بنی اسرائیل کی زبان ہو گئی۔
    دورِ قدیم میں عربوں کے اندر عبرانی زبان کے ماہرین پائے جاتے تھے اور آج بھی خاصی تعداد میں پائے جاتے ہیں۔
    صحیح البخاری کی تیسری روایت میں سیدہ خدیجہ بنت خویلد رضی الله عنها کے چچازاد ورقہ بن نوفل کا ذکر ملتا ہے جو دورِ جاہلیت میں عیسائی ہو گئے تھے اور عبرانی زبان کے ماہر تھے۔
    پرانی زبانوں کی طرح عبرانی زبان کی بھی دو حیثیتیں ہیں، قدیم عبرانی اور جدید عبرانی۔ یہودی بائبل کا قدیم ترین نسخہ عبرانی میں ہے جسے سیدنا عزیر علیہ السلام نے کم و بیش پانچ سو قبلِ مسیح میں لکھوایا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ قدیم عبرانی کو بائبل والی عبرانی (Biblical Hebrew) کہا جاتا ہے۔
    جدید عبرانی زبان قابض اسرائیلی ریاست کی سرکاری، دفتری اور قومی زبان ہے۔ یہ اُن چند مردہ زبانوں میں سے ایک ہے جن کو دورِ جدید میں کامیابی سے زندہ کیا گیا ہے اور ایک مذہب کے مختلف زبانیں بولنے والے افراد یہ زبان فرفر بولنے لگے ہیں جس کے لیے انھوں نے غیر معمولی منصوبہ بندی کی تھی۔
    جدید عبرانی کو قدیم کے مقابلے میں بہت حد تک آسان بنایا گیا ہے جس کے بولنے والے ایک اندازے کے مطابق ایک کروڑ کے لگ بھگ ہیں۔ اِن میں سے بائیس لاکھ کے قریب زبان دان امریکہ میں پائے جاتے ہیں۔
    عبرانی زبان کا رسم الخط بابل اور اس کے گرد و نواح کی قدیم اشوری زبان سے لیا گیا ہے جو کنعانی زبانوں کا عام رسم الخط تھا۔ اِس کے حروفِ تہجی جن کو عبرانی میں الف بیتّ کہتے ہیں، بائیس ہیں۔ وہی جس کو عربی میں الف با کہتے ہیں۔ زیر، زبر، پیش کا الگ نظام ہے جو نِکُود کہلاتا ہے جس میں حرکتیں عام طور پر پڑھی تو جاتی ہیں لیکن لکھی نہیں جاتیں۔ یہ زبان دیگر سامی زبانوں کی طرح دائیں سے بائیں لکھی جاتی ہے۔
    الفاظ میں حروف کی بنیادی شکلیں انگریزی کی طرح برقرار رہتی ہیں، مثلاً بیتّ ב (با) جہاں بھی آئے گی اسی صورت میں آئے گی، عربی، فارسی، اردو کی طرح اس کی شکل مختصر نہیں ہوگی۔ صَرف و نَحْو میں صرف تو عربی کی طرح ہے، یعنی مفرد و جمع اور مؤنث و مذکر کے لیے ایک لفظ مختلف شکلیں بدلتا ہے جیسے ایک لفظ אהבה اَہاوہ (محبت) جب عورت کی طرف سے بولا جائے گا تو اَہاوت کہلائے گا۔ اسی طرح اِشمَخا (تیرا نام) مذکر کے لیے اور اِشمیخ مؤنث کے لیے بولا جاتا ہے۔
    جہاں تک نحو کا تعلق ہے تو عبرانی زبان کی نحو فارسی، اردو کی طرح ہے جس میں معرب نہیں ہوتا اور جملے میں استعمال ہونے والے تمام الفاظ مبنی بر سکون ہوتے ہیں۔ جملے میں فاعل و مفعول کی مخصوص ترتیب بھی ضروری نہیں سمجھی جاتی، جیسے یہ جملہ کہ ابا مسجد گئے، اسے اس طرح بھی بولا جاسکتا ہے:
    مسجد گئے ابا
    گئے مسجد ابا
    ابا گئے مسجد
    مسجد ابا گئے
    جس طرح بھی بول دیں، مطلب ایک ہی رہتا ہے۔ تاہم استفہام عبرانی والے عربی کی طرح کرتے ہیں جیسے عربی میں نام پوچھنے کے لیے مَا اسْمُكَ مذکر کے لیے کہتے ہیں تو عبرانی میں اِس کو یوں بولتے ہیں: مِا شمَخا
    یہی جملہ مؤنث کے لیے عربی میں مَا اسْمُكِ ہے جبکہ عبرانی میں مِا شميخ ہے۔ اسی طرح افعال و اسماء زیادہ تر عربی سے ملتے جلتے ہیں جیسے باپ کو ابا، بھائی کو اَخ، ہاتھ کو ید اور بادشاہ کو مَلیخ کہتے ہیں۔ محبت کے لیے استعمال ہونے والا لفظ اہاوا وہی ہے جسے عربی میں ہَوَی کہتے ہیں۔سلام کو شلوم بولا جاتا ہے۔ بعض دیگر الفاظ کنعانی و سریانی بھی ہیں جیسے مچھلی کو دَگ اور گھر کی چھت کو گَگ کہتے ہیں۔
    الغرض عبرانی ایک دلچسپ زبان ہے اور بالخصوص عربی کے طالبعلم کے لیے اِس کا حصول و مطالعہ فوائد سے خالی نہیں۔

    پیشکش : محترم حافظ قمر حسن
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں