صدقہ میں بکرا دینے کا حکم

مقبول احمد سلفی نے 'اتباعِ قرآن و سنت' میں ‏فروری 2, 2023 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    871
    صدقہ میں بکرا دینے کا حکم
    مقبول احمد سلفی
    جدہ دعوہ سنٹر، حی السلامہ -سعودی عرب

    اس میں کوئی حرج نہیں ہے کہ کوئی مُسَلّم بکرا غریب و محتاج پر صدقہ کرے یا پھر بکرا/بکری اور کسی قسم کا حلال جانور ذبح کرکے اسے فقراء ومساکین میں تقسیم کرے ۔ اس کے متعدد دلائل ہیں ، چند ایک آپ کے سامنے بیان کرتا ہوں ۔
    پہلے عمومی دلائل پیش کرتا ہوں جن سے معلوم ہوگا کہ کھانے پینے کی کوئی چیز صدقہ کرسکتے ہیں ، جیسے آپ ﷺ کا یہ فرمان دیکھیں :
    إنْ أردتَ أنْ يَلينَ قلبُكَ ، فأطعِمْ المسكينَ ، وامسحْ رأسَ اليتيمِ(صحيح الجامع:1410)
    ترجمہ: اگر تم اپنے دل کو نرم کرنا چاہتے ہو مسکین کو کھانا کھلاؤ اور یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرو۔
    اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مساکین کو کھلانا پلانا اجر کا کام ہے اور یہ دلوں کو نرم کرتاہے ، کھلانے پلانے میں آپ جو چاہیں کھلائیں، اس میں گوشت بھی شامل ہے۔ اسی طرح عمومی دلیل کے تحت یہ حدیث بھی دیکھیں ۔عبد اللہ بن معقل نے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فر ما تے ہو ئے سنا: مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَسْتَتِرَ مِنَ النَّارِ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ فَلْيَفْعَلْ(صحيح مسلم:2347)
    ترجمہ: تم میں سے جو شخص آگ سے محفوظ رہنے کی استطا عت رکھے چا ہے کھجور کے ایک ٹکڑے(صدقہ) کے ذریعہ کیوں نہ ہو وہ ضرور ایسا کرے ۔
    کھجور کا تعلق کھانے سے ہے اور یہاں کہاگیا ہے کہ کھجور کا ایک ٹکڑا کسی کو صدقہ کرکے جہنم سے بچ سکتے ہو تو اس سے بچو۔
    عمومی دلائل کے بعد اب خصوصی دلائل ذکر کرتا ہوں جن میں بطور صدقہ جانور ذبح کرنے اور گوشت کھانے کھلانے کا ذکر ملتاہے ۔
    ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے:
    أنَّهم ذبحوا شاةً فقالَ النَّبيُّ صلَّى اللَّهُ عليْهِ وسلَّمَ ما بقيَ منْها ؟ قلت ما بقيَ منْها إلَّا كتفُها . قالَ : بقيَ كلُّها غيرَ كتفِها(صحيح الترمذي:2470)
    ترجمہ:صحابہ نے ایک بکری ذبح کی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا اس میں سے کچھ باقی ہے؟عائشہ رضی الله عنہا نے کہا: دستی کے سوا اور کچھ نہیں باقی ہے، آپ نے فرمایا: دستی کے سوا سب کچھ باقی ہے۔
    اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ بکری ذبح کرکے اس کا جتنا حصہ فقراء ومساکین میں صدقہ کردیا گیا وہ بہتر اور باقی رہنے والا ہے اور بکری کا جو دستی حصہ صدقہ نہیں کیا جاسکا وہ باقی رہنے والا نہیں ہے ۔ اس سے آپ ﷺ کا اشارہ اللہ کے اس کلام کی طرف ہے :مَا عِندَكُمْ يَنفَدُ ۖ وَمَا عِندَ اللَّهِ بَاقٍ(سورہ النحل:96) ترجمہ: تمہارے پاس جو کچھ ہے سب فانی ہے اور اللہ تعالیٰ کے پاس جو کچھ ہے باقی ہے۔
    اسی طرح ایک دوسری حدیث اس طرح مروی ہے ،حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں:
    انَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بِطَعَامٍ سَأَلَ عَنْهُ، أَهَدِيَّةٌ أَمْ صَدَقَةٌ؟ فَإِنْ قِيلَ صَدَقَةٌ، قَالَ لِأَصْحَابِهِ: كُلُوا، وَلَمْ يَأْكُلْ، وَإِنْ قِيلَ: هَدِيَّةٌ، ضَرَبَ بِيَدِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَكَلَ مَعَهُمْ.(صحیح البخاری:2576)
    ترجمہ:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جب کوئی کھانے کی چیز لائی جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دریافت فرماتے یہ تحفہ ہے یا صدقہ؟ اگر کہا جاتا کہ صدقہ ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب سے فرماتے کہ کھاؤ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود نہ کھاتے اور اگر کہا جاتا کہ تحفہ ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی ہاتھ بڑھاتے اور صحابہ کے ساتھ اسے کھاتے۔
    صدقہ کے گوشت سے متعلق ایک تیسری حدیث بھی ملاحظہ فرمائیں ۔
    انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا:أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَحْمٍ، فَقِيلَ: تُصُدِّقَ عَلَى بَرِيرَةَ، قَالَ: هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ(صحیح البخاری:2577)
    ترجمہ:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک مرتبہ گوشت پیش کیا گیا اور یہ بتایا گیا کہ یہ بریرہ رضی اللہ عنہا کو کسی نے بطور صدقہ کے دیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ان کے لیے یہ صدقہ ہے اور ہمارے لیے (جب ان کے یہاں سے پہنچا تو) ہدیہ ہے۔
    صدقہ کے بکرا سے متعلق ایک چوتھی حدیث بھی دیکھیں ۔
    عن ام عطية، قالت:دخل النبي صلى الله عليه وسلم على عائشة رضي الله عنها، فقال: عندكم شيء؟ قالت: لا، إلا شيء بعثت به ام عطية من الشاة التي بعثت إليها من الصدقة، قال: إنها قد بلغت محلها(صحیح البخاری:2579)
    ترجمہ:ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عائشہ رضی اللہ عنہا کے یہاں تشریف لے گئے اور دریافت فرمایا، کیا کوئی چیز (کھانے کی) تمہارے پاس ہے؟ انہوں نے کہا کہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کے یہاں جو آپ نے صدقہ کی بکری بھیجی تھی، اس کا گوشت انہوں نے بھیجا ہے۔ اس کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ اپنی جگہ پہنچ چکی۔
    دلائل سے یہ بات بالکل واضح ہوگئی کہ صدقہ کے طور پر کھانے پینے کی کوئی چیز خواہ کھجور ہو، گوشت ہو یا بکرا وبکری اور کوئی حلال جانور ہو فقراء ومساکین کو دے سکتے ہیں ، اس میں شرعا کوئی حرج نہیں ہے ۔

    جانور صدقہ کرنےسے متعلق چند مسائل واحکام
    اب یہاں آپ کے سامنے جانور صدقہ کرنے سے متعلق چند مسائل واحکام بھی بیان کردیتا ہوں تاکہ اس باب میں صدقہ کی اصل حقیقت کو سمجھیں اور غیرشرعی امور سے پرہیز کریں ۔

    پہلامسئلہ : یونہی بغیر کسی حاجت وضرورت کےبھی فقراء ومساکین کی امداد کے طور پر جانور ذبح کرکے صدقہ کرسکتے ہیں یا بغیر ذبح کئے مکمل جانور کسی مسکین، یتیم خانہ یا خیراتی اداروں کو محتاجوں کے واسطے دے سکتے ہیں ۔

    دوسرامسئلہ : بسا اوقات گھر میں کوئی بیمارہو تو اس کی شفا یابی کی نیت سے بھی جانور صدقہ کرسکتے ہیں ، نبی ﷺ کا فرمان ہے : دَاوُوا مَرضاكُمْ بِالصَّدقةِ(صحيح الجامع:3358)ترجمہ:صدقہ کے ذریعہ اپنے مریضوں کا علاج کرو۔

    تیسرا مسئلہ : جانور ذبح کرتے وقت نیت اللہ کا تقرب ہو، بیمار کی طرف سے جانورذبح کرتے وقت بھی تقرب الہی مقصد ہو یعنی یہ نیت نہ ہوا کہ جانور ذبح کرنے سے ہی فائدہ ہوجائے گا۔ نہیں ۔ نیت یہ ہو کہ یہ جانور اللہ کی رضا کے لئے ذبح کررہا ہو، اللہ کی توفیق سے فائدہ ہوگا۔

    چوتھا مسئلہ : صدقہ کا اصل مستحق تو فقیر ومحتاج ہے تاہم صدقہ مالدار کو بھی دے سکتے ہیں اس لئے صدقہ کا گوشت کسی مالدار کو بھی دے دیتے ہیں تو کوئی حرج نہیں ہے۔

    پانچواں مسئلہ : جب گھر میں صدقہ کی نیت سے ایک جانور ذبح کیا جائے تو کیا اس میں سے گھر والے کھاسکتے ہیں ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اگر یہ نیت کرکے جانور ذبح کیا جائے کہ اس میں سے گھر والے بھی کھائیں تو بالکل گھر والے بھی اس گوشت سے کھاسکتے ہیں لیکن اگر گھروالوں کی نیت نہ کی گئی ہو تو پورا بکرا صدقہ کردیا جائے ۔

    چھٹامسئلہ : فقراء ومساکین کی پیسوں سے مدد کرنا افضل ہے یا بکرا دینا افضل ہے ؟ اس سلسلے میں ظاہر سی بات ہے کہ پیسوں سے مدد کرنا افضل ہے کیونکہ پیسوں سے مختلف قسم کی ضروریات پوری کی جاسکتی ہے تاہم صدقہ میں گوشت دینے یا جانور دینے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے ، جائز ہے ۔ آپ دیکھتے ہیں کتنے سارے کفارات ہیں جن میں مسکینوں کو کھلانے کا حکم ہے، وہاں نقدی کفایت نہیں کرے گی ، کھلانا ہی ہے تو کھلانے میں بھی اپنی جگہ مصلحت ہے ۔

    جانور ذبح کرنے سے متعلق کچھ باطل اعتقادات
    (1)کچھ لوگ خیال کرتے ہیں کہ بیماری جنات یا گھر پر کسی موذی سایہ کی وجہ سے ہے لہذا جانور ذبح کرتے ہیں اور اس کا خون بہاتے ہیں اس اعتقاد کے ساتھ اس کی وجہ سے جنات یا موذی چیز کاشر دور ہوجائے گا اور تکلیف رفع ہوجائے گی ۔ یہ اعتقاد باطل ہے ۔
    (2)اسی طرح کچھ لوگ حفظ ماتقدم کے طور پر جنات اور موذی چیز کے شر سے بچنے کے لئے گھر میں جانورپالتے ہیں یا جانور اس غرض سے ذبح کرتے ہیں ،یہ اعتقاد بھی باطل ومردود ہے ۔
    (3) ایسے بھی کچھ لوگ پائے جاتے ہیں جو نئے گھر میں داخل ہوتے وقت گھر اور گھر والوں کی سلامتی کے طورپر جانور ذبح کرتے ہیں یا جنات کے شر سے نئے گھر کی حفاظت کے لئے جانور ذبح کرتے ہیں ،یہ سب بے دینی اور شرک کے قبیل سے ہیں ، ہاں اگر کوئی گھر کی نعمت ملنے پر خوشی سے لوگوں کو دعوت دیتا ہے یا جانورذبح کرتا ہے تو اس میں حرج نہیں ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. حافظ عبد الکریم

    حافظ عبد الکریم محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 12, 2016
    پیغامات:
    571
    جزاک اللہ خیرا
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں