''عید'' یا ''و عید''

شفقت الرحمن نے 'ماہِ شوال' میں ‏ستمبر 27, 2008 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. شفقت الرحمن

    شفقت الرحمن ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جون 27, 2008
    پیغامات:
    753
    السلام علیکم ورحمة اللہ و برکاتہ

    محترم قارئین کرام! عنوان سے سے آپکو عجیب محسوس ہوا ہو گا لیکن یہ ایک حقیقت ہے جس سے ہمارے ''عیدی مسلمان '' بھائی یا ''رمضانی مسلمان '' بھائی خصوصی طور پر اور بقیہ عمومی طور پر ناواقف ہیں اور اسی کی طرف میں آپ لوگوں کی توجہ مبذول کرنا کر چاہوں گا اللہ تعالیٰ مجھے ، آپکو اور ہم سب کو عمل کی توفیق دے (آمین)
    ''عید '' کا لفظ عربی زبان سے ہماری اردو زبان میں خوشی کے دن کے معنی میں آیا ہے اگرچہ عربی زبان میں بھی اسکا وہی معنی مراد لیا جاتا ہے جو اردو میں ہے لیکن عربی میں اسکا اصل معنی بار بار آنے کا ہے تو لفظی معنی سے مناسبت یہ ہے کہ یہ دن ہر سال بار بار آتا ہے اس لئے اسکو ''عید '' کہا جاتا ہے جبکہ ''وعید''کے لفظ کے متعلق بھی یہی بات کہ اصل میں عربی کا لفظ ہے اور اردو میں اپنے اصلی معنی کے ساتھ منتقل ہوا۔
    اپنے اس مضمون کی تفصیل میں جانے سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے فرمان کو بیان کرتاچلوں تاکہ اپنی بات ''عید'' یا ''و عید'' کو ثابت کر سکوں ۔
    آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان ہے کہ :
    (رغم أنف رجل دخل علیہ رمضان ثم انسلخ قبل أن یغفر لہ)
    ترجمہ: ایسے آدمی کی ناک خاک آلود ہو جس کی زندگی میں رمضان آیا اور چلا گیا لیکن اسکی مغفرت نہ ہوئی (جامع ترمذی کتاب الدعوات باب قول رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رغم أنف رجل )
    آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے اس فرمان کو سامنے رکھتے ہوئے میں نے اپنے اس مضمون کا عنوان قائم کیا ہے اور اس میں کتنے واضح انداز میں موجود ہے کہ آنے والی عید کس کیلئے ''عید ''ہے اور کس کیلئے ''وعید''ہے
    اسی طرح کسی عربی شاعر نے بہت اچھے انداز میں ہماری عیدوں پر تبصرہ کیا ہے :
    لیس العید لمن لبس الجدید، نما العید لمن طاعتہ تزید
    لیس العید لمن تجمل باللباس والمرکوب، نما العید لمن غفرت لہ الذنوب
    لیس العید لمن حاز الدرہم والدینار نما العید لمن أطاع العزیز الغفار
    ترجمہ: نئے کپڑے پہننے والوں کی عید نہیں ہے بلکہ عید اس شخص کی جو اللہ کا پکا سچا مطیع ہوگیا
    بہترین اور خوبصورت لباس زیب تن کرنے والوں کی عید نہیں ہے بلکہ عید اس شخص کی ہے جسکے گناہ بخش دیے گئے
    عید کے دن ''عید ی'' اکٹھی کرنے والوں کی عید نہیں ہے بلکہ عید اس شخص کی ہے جو کہ العزیز اور الغفار کی اطاعت کرتا ہے
    بھائیو!!ہم ذرا اپنی عیدوں پر غور کریں کیا ہماری عیدیں ''مسلمانوں ''و الی عید یں ہیںکہیں ہم پر عید کے دن اقبال کا وہ شعر تو صادق نہیں کہ:
    وضع میں تم ہو نصاری ، تو تمدن میں ہنود یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کر شرمائیں یہود
    دیکھ لیجئے! چاند رات کو ہی پورے رمضان ہی کی تمام کسریں نکلا دی جاتیں ہیں اور اگر کسی دیندار نے کچھ کہنے کی جسارت کربھی لی تو جواب فوراً مل جاتا ہے کہ ''مُلاّ جی!! آج شیطانوں کو اللہ نے چھوڑ دیا ہے یہ اسی کا اثر ہے''
    طبع آزاد پہ قید رمضان بھاری ہے تمہیں کہدو یہی آئین وفاداری ہے
    چاند رات میں کیا کچھ نہیں ہوتا گھر ، بازار ، اور تمام جگہوں میں رونقیں ہی رونقیں ہوتی ہیں صرف ایک جگہ ایسی ہوتی جو رونق سے خالی اور وہ ایسی جگہ ہے جسکوہم نے رمضان کی ابتداء میںایسے بھر دیا تھا کہ باہر گلی میں اور راستوں میں بھی تل دھرنے کی جگہ نہ تھی اور روزانہ ہم اس جگہ کو افطاری کے و قت ایسے بھر دیتے تھے کہ ایسا سماں ہوتا گویا کہ کوئی شادی حال ہے، اور وہ ہے اللہ کا گھر ''مسجد''۔
    لوگوں نے چاند دیکھا مغرب کی نماز کے بعداس وقت مسجد میں خوب گہما گہمی تھی ادھر اگر کوئی اپنے رشتہ داورں کو اعتکاف اٹھانے کیلئے آرہا ہے تو کوئی اعتکاف والوں کیلئے پھولوں کے ہار لیکر انکے گلوں میں پہنا رہا ہے کوئی امام صاحب کو ہدیے دے رہا ہے اور کوئی حافظ صاحب کی خاطر تواضع میں مصروف ہے لیکن اسی دن کی عشاء کی نماز میں ایک امام صاحب ،مؤذن اور دو چار علاقے کے بزرگ ہی مسجد میں نظرآئے اور علامہ اقبال کا پھر مجھے یاد آیا
    مسجدیں مرثیہ خواں ہیں نمازی نہ رہے یعنی وہ صاحبِ اوصاف حجازی نہ رہے
    بازاروں میں علیحدہ اور خصوصی طور پر خواتین کیلئے شاپنگ سنٹر بنائے جاتے ہیں لیکن جوان اسٹالوں پر ''چھوکرے '' تعینات ہوتے ہیں الامان و الحفیظ بیان کرنے کی چنداں ضرورت نہیں جس صنف کو ان سے واسطہ پڑتا ہے انکو خوب علم ہے۔
    نیز ہمارے بہت سے ''عیدی مسلمان'' بھائی عید گاہ تک ہی نماز و غیر ہ کا اہتمام کرتے ہیں ، جبکہ بعض تو وہ بھی ِِِ۔۔۔۔۔!!
    اور اس مشہور مقولے کا مصداق بنتے ہیں:
    ''آٹھ کے نا کھاٹ کے اور نا تین سو ساٹھ کے''
    یعنی ہر آٹھویں دن جمعہ نہیں پڑھتے اور اگر کو ئی مر جائے تو اسکے جنازے پر بھی نہیں جاتے اور تو اور عید کی نماز جو تین سو ساٹھ دن بعد آتی ہے اسکی بھی توفیق نہیں ہوتی۔
    حالانکہ اللہ تعالی نے ہمیں حکم دیا کہ:
    یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ ادْخُلُواْ فِیْ السِّلْمِ کَآفَّةً وَلاَ تَتَّبِعُواْ خُطُوَاتِ الشَّیْْطَانِ ِنَّہُ لَکُمْ عَدُوّ مُّبِیْن
    ترجمہ: اے ایمان کا دعوی کرنے والو!! اسلام میں پورے کے پورے داخل ہو جاؤ اور شیطان کے قدموں کی پیروی مت کرو کیونکہ وہ تمہارا کھلم کھلاّ دشمن ہے (البقرة : ٢٠٨)
    مجھے ایسی کوئی آیت یا حدیث نہیں ملی جس میں صرف یہ کہا گیا ہو کہ صرف رمضانی یا عیدی مسلمان بنو اگر کوئی اس قسم کی دلیل نہیں ہے تو ہمیں اپنے ایمان کی فکر کرنی چاہیے کیونکہ ایک نماز کے چھوڑنے سے انسان کے کافر ہونیکا خدشہ ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :
    بین العبد و بین الکفر ترک الصلاۃ
    ترجمہ: آدمی اور کفر کے درمیان فرق نماز کا ہے (صحیح مسلم کتاب الایمان حدیث نمبر: ٢٤٤)
    یعنی اگر نماز ادا کرتاہے تو مسلمان ہے اور اگر وہ نماز چھوڑتا ہے وہ کافر ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان ہماری سامنے ہے اللہ تعالیٰ ہمارے روزں کو قبول فرما کر ہمارے گناہوں کو معاف فرمائے اور ہمار ی عیدوں کو حقیقی عید بنائے اور ہمیں حقیقی مسلمان بنائے آمین یا رب العالمین
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 7
  2. sjk

    sjk -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏ستمبر 8, 2007
    پیغامات:
    1,754
    وعلیکم السلام و رحمتہ اللہ برکاتہ
    جزاک اللہ خیرا ابن مبارک بھائی
     
  3. دانیال ابیر

    دانیال ابیر محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 10, 2008
    پیغامات:
    8,415
    جزاک اللہ جناب
     
  4. Abu Abdullah

    Abu Abdullah -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 7, 2007
    پیغامات:
    934
    جزاک اللہ خیرا بھائی
     
  5. asim10

    asim10 -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏جنوری 3, 2009
    پیغامات:
    187
    بھت اچھی تحریر​
     
  6. dani

    dani نوآموز.

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 16, 2009
    پیغامات:
    4,329
    اللہ اکبر جزاک اللہ خیرا شیخ بہت ہی زبردست تحریر
     
  7. بنت واحد

    بنت واحد محسن

    شمولیت:
    ‏نومبر 25, 2008
    پیغامات:
    11,962
    ہممم بہت خوب
     
  8. عاکف سعید

    عاکف سعید محسن

    شمولیت:
    ‏مئی 16, 2010
    پیغامات:
    181
    وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

    جزاک اللہ خیرا
     
  9. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,484
    آمین۔۔جزاکم اللہ خیرا۔
     
  10. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,950
    وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
    جزاکم اللہ خیرا و بارک فیکم ۔
     
  11. جاسم منیر

    جاسم منیر Web Master

    شمولیت:
    ‏ستمبر 17, 2009
    پیغامات:
    4,636
    جزاکم اللہ خیرا۔
    ماشاءاللہ بہت ہی عمدہ تحریر ہے۔
    آمین یا رب العالمین۔
     
  12. ابن حسیم

    ابن حسیم ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 1, 2010
    پیغامات:
    891
    جزاکم اللہ خیرا وبارک فیہ. ووفق لنا التوفیق.
     
  13. نصر اللہ

    نصر اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2011
    پیغامات:
    1,845
    ما شا اللہ اللہ اپ کے علم و عمل میں برکت دیں یہ ایک ایسا مسلہ ہے جس سے ہمار ا پڑھا لکھا طبقہ بھی نا واقف ہے۔۔جزاک اللہ۔
     
  14. نصر اللہ

    نصر اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2011
    پیغامات:
    1,845
    گگگ
     
  15. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,751
    وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

    جزاک اللہ خیرا
     
  16. dani

    dani نوآموز.

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 16, 2009
    پیغامات:
    4,329
    مسجدیں مرثیہ خواں ہیں نمازی نہ رہے
     
  17. ام ثوبان

    ام ثوبان رحمہا اللہ

    شمولیت:
    ‏فروری 14, 2012
    پیغامات:
    6,690
    وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

    جزاک اللہ خیرا
     
  18. عطاءالرحمن منگلوری

    عطاءالرحمن منگلوری -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 9, 2012
    پیغامات:
    1,489
    جزاک اللہ۔
    فکر انگیز اور مبنی برحقیقت تحریر ہے۔
     
  19. اُم تیمیہ

    اُم تیمیہ -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏مئی 12, 2013
    پیغامات:
    2,723
    آمین
     
  20. شفقت الرحمن

    شفقت الرحمن ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جون 27, 2008
    پیغامات:
    753
    تمام احباب کا شکریہ
    اللہ تعالی ہم سب کو عمل کی توفیق دے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں