سن تو سہی ــــــ اقتباس

عفراء نے 'نقد و نظر' میں ‏اگست 14, 2013 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عفراء

    عفراء webmaster

    شمولیت:
    ‏ستمبر 30, 2012
    پیغامات:
    3,918
    شہاب صاحب توجہ فرماتے تو ملک و قوم بہت سی بلاؤں سے محفوظ ہو جاتے

    ابھی ہم اشفاق احمد کی کتاب "ذکر شہاب" کا طلسمی فضا سے باہر نہیں نکلے تھے کہ ان کی بیگم بانو قدسیہ نے بھی قدرت اللہ شہاب کے بارے میں "مرد ابریشم" کے نام سے ایک کتاب لکھ کر شائع کرا دی ہے، جسے پڑھ کر ہم ایک خواب آور فضا میں پہنچ گئے ہیں۔ "خواب آور " اس لیے کہ بانو قدسیہ نے شہاب مرحوم کو صرف حقائق ہی کے حوالے سے نہیں دیکھا بلکہ خوابوں کے ذریعے بھی پہچاننے کی کوشش کی ہے۔ بانو قدسیہ کاایک خواب ملاحظہ کیجیے:
    "ایک پہاڑی علاقے میں ایک کشادہ سڑک ہے جس پر کار چل رہی ہےاور اس میں شہاب بھائی، میں اور خان
    صاحب (اشفاق احمد) سوار ہیں۔۔۔ ایک ایسے مقام ر جہاں نشیب میں ایک خوبصورت گاؤں اور پشت کی جانب ایک آبشار ہے ، کار رک جاتی ہے۔۔۔۔ شہاب بھائی بولے ، "اس آبشار کو دیکھا اشفاق! اس کا پانی چادر کی طرح گر رہا ہے اور شیشے کی طرح شفاف ہے۔ اس پر چل کر اوپر جانا ہو گا"۔۔ کچھ یہ لمحے گزرے ہوں گے کہ نظر آیا شہاب بھائی آبشار پر اوپر کی طرف چڑھ رہے ہیں۔۔۔۔ وہ بڑے اطمینان سے اوپر کی طرف چلتے جارہے ہیں۔ انہیں جاتے دیکھ کر مجھے کچھ گھبراہٹ ہوئی۔ میں نے خان صاحب کو گھسیٹا اور ہم دونوں بھاگم بھاگ آبشار تک پہنچے۔ شہاب بھائی واپس لوٹے اور بولے، "اشفاق وقت بہت تنگ ہے آؤ چلیں۔"
    "لیکن شہاب بھائی ہم تو پانی پر چلنا نہیں جانتے۔" میں نے کہا۔
    "پانی پر چلنا نہیں پڑتا ۔ جتنی تیزی سے یہ نیچے گرتا ہے، اسی رفتار سے آپ کو اوپر دھکیلتا ہے۔" شہاب بھائی مسکرائے اور دونوں ہاتھ لجاجت سے آگے بڑھا کرکر بولے، "تم دونوں کو کچھ نہیں کرنا پڑے گا، بس مضبوطی سے میرے ہاتھ پکڑ لو، پانی ہمیں خود بخود اوپر پہنچادے گا۔" ہم دونوں نے ان کا ایک ایک ہاتھ بڑی مضبوط گرفت سے پکڑ لیا اور پھر محسوس ہوا، جیسے نیوٹن کا اصول کار فرما ہے۔ جس تیزی سے آبشار گر رہی تھی، اسی سرعت سے درمیان میں شہاب بھائی، دائیں بائیں خان اور میں آبشار پر اوپر اٹھتے جارہے تھے۔"
    قطع نظر اس سے کہ عالم بیداری میں کرتب دکھانے کی عادت پڑ جائے، تو خواب بھی بازی گرانہ آتے ہیں، اگر بانو قدسیہ نہ بھی بتاتیں کہ مذکورہ واقعہ ایک خواب ہے، تو کوئی وجہ نہ تھی کہ ہم اسے سچا واقعہ نہ سمجھتے۔ کیونکہ بانو قدسیہ نے زیر نظر کتاب میں جتنے سچے واقعات لکھے ہیں، وہ بیداری کے عالم میں نہیں، غنودگی کی حالت میں ہی لکھے جاسکتے ہیں۔
    اس کتاب کا مرکزی اور بنیادی خیال یہ ہے کہ قدرت اللہ شہاب کا تعلق بظاہر تو اسی عالم آب و گل سے تھا، لیکن بباطن وہ کسی اور دنیا کے باشندے تھے۔ جب وہ۔۔۔۔
    " کسی کے خیر خواہ ہوجاتے، کسی پر اپنی نظر کی ردا ڈال دیتے، اس کے لیے خیر خواہی کا جذبہ محسوس کرتے، تو پھر ان خواہش سے ہی احکام جاری ہوتے۔ کام بننے لگتے۔ حالات سدھرنے لگتے۔ وہ چاہے انشاء جی ہوں، خان صاحب (اشفاق احمد) کا گھرانا ہو، مفتی جی کے گھر والے ہوں۔۔۔ سب کی گاڑیاں اپنے پٹرول سے چلنے لگتیں۔" (ص 38)
    یہی بات بانو قدسیہ نے ایک دوسرے انداز میں یوں لکھی ہے:
    "مفتی جی، اشفاق احمد ، انشاء جی اور جانے کون کون سے گھر ایسے تھے ، جدھر انہوں نے توجہ دی اور رزق ، خوشی ، اولاد ، محبت اور جانے کیا کیا برکتوں سے ان گھروں کو یوں بھرا کہ دروازے بند کرنے مشکل ہوگئے۔" (ص114)
    اب تک تو یہی سنا تھا کہ رزق اور اولاد وغیرہ سے خدا نوازتا ہے، اب معلوم ہوا کہ خدا کے "برگزیدہ" بندے بھی یہ کام کر سکتے ہیں۔
    شہاب صاحب کی توجہ کے کچھ اور مثبت نتائج بھی نکلتے تھے۔ مثلا:
    "آپی آپ نوکری کے پروانے آجاتے۔ گودیوں میں بیٹے پوتے آجاتے۔۔۔۔ اچانک پرائز بونڈز کا انعام نکل آتا چوری کا سامان چور گھر چھوڑ جاتے" (ص 38)
    یہ تو عالم انسانیت پر شہاب صاحب کے احسانات تھے۔ عالم نباتات پر بھی جب ان کی نگاہ مائل بہ کرم ہوتی تو۔۔۔۔
    "بانجھ درخت پھل لانے لگتے۔ بیلیں ہری ہو جاتیں خشک ان ڈور پلانٹس میں نئے سرے سے پتیاں نکل آتیں۔
    انگوروں کی بیل می پھل زیادہ آتا۔ میگنولیا کے کو پھول بے تحاشہ لگنے لگتے۔۔۔ لان کے خشک حصوں میں خود بخود سبزہ پھیلنے لگتا۔" (ص38)
    افسوس کہ اتنی زبردست روحانی قوت رکھنے والے شہاب صاحب کی نگاہ توجہ اشفاق احمد اور ممتاز مفتی کے گھرانوں ، انگوروں کی بیلوں اور بانجھ درختوں سے آگے نہ بڑھی۔ کاش وہ ملک اور قوم کی طرف توجہ فرماتے تو ہم بہت سی بلاؤں سے محفوظ ہو جاتے۔ بار بار مارشل لاء نہ لگتا۔ 1971ء کی جنگ میں ہمیں شکست نہ ہوتی۔ ملک دو حصوں میں تقسیم نہ ہوتا۔
    شہاب صاحب صرف اہل لوگوں ہی کو نہیں نوازتے تھے، نااہلوں کی سرپرستی بھی فرماتے تھے۔ ممتاز مفتی کے صاحبزادے ، عکسی مفتی ، نے ایک مرتبہ بانو قدسیہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا تھا: قدسی تمہیں معلوم ہے Shahab Sahib is a power, اس کی ایک میگنیٹک فیلڈ ہے اس فیلڈ میں جو بھی داخل ہوتا ہے، اس پر کچھ وارداتیں ہونے لگتی ہیں۔ مثلا یہ کہ میں اپنی جاب کو deserve نہیں کرتا، لیکن چونکہ میں شہاب کے مقناطیسی دائرے میں ہوں، کوئی مجھ سے نوکری نہیں لے سکتا ۔"
    اس پر بانو قدسیہ نے اس نوجوان کو سمجھایا:
    "اب تم اس قدر خوش بھی نہ ہو جاؤ عکسی۔ جمعہ جمعہ آٹھ دن کی پیدائش ، کچی نوکری اور وہ بھی نیم سرکاری ۔ کل بلاسٹ کر دیں تو تمہیں پتہ بھی نہ چلے۔"
    عکسی نے اس کا یہ جواب دیا، "جب تک شہاب نہ چاہے ، مجھے کوئی بلاسٹ نہیں کر سکتا۔" (ص40)
    ممتاز مفتی کو شہاب صاحب سے "عقیدت" تو والہانہ تھی ہی ، عکسی مفتی اس سلسلے میں اپنے باپ سے بھی آگے بڑھ گیا ہے۔ یہ شاید ایسے موقعوں پر کہا جاتا ہے:

    اگر پدرنتواند پسر تمام کند

    زیر نظر کتاب میں بانو قدسیہ نے اپنے شوہر ، اپنے تینوں بیٹوں ، بہوؤں ممتاز مفتی ، عکسی مفتی کے اور خود اپنے حوالے سے شہاب صاحب کی شخصیت کے مافوق الفطرت پہلوؤں پر روشنی ڈالی ہے، اور نہایت تفصیل سے بتایا ہے کہ شہاب صاحب کا کس سے کیسا تعلق تھا۔ جوش عقیدت میں بعضجگہ ایسا بھی ہوا ہے کہ شہاب صاحب پس منظر میں چلے جاتے ہیں اور مذکورہ افراد اس طرح نمایاں ہو جاتے ہیں ، جیسے یہ کتاب انہیں کے روحانی درجات کی بلندی کے مناظر دکھانے کے لیے لکھی گئی ہے۔ مثلا عکسی مفتی کے بارے میں غیر ضروری اور غیر دلچسپ تفصیلات سے قاری اکتا جاتا ہے ۔ خصوصا اس کی دوسری شادی کا واقعہ کوئی قومی و ملی اہمیت کا واقعہ تو نہیں تھا جو بانو قدسیہ اس کے بیان میں اپنا اور قاری کا وقت ضائع کرتیں۔
    مصنفہ نے کتاب نے اپنے اور ممتاز مفتی کے گھر کے ہر فرد کی تصویر شامل کی ہے۔ بچوں کی شادیوں کی تصویریں بھی ہیں۔ اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ کتاب دراصل ایک فیملی البم ہے جو شہاب صاحب کی خدمت میں نذرانہء عقدت کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
    شہاب صاحب کے انتقال کے بعد ان کے عقیدت مندوں میں بحث چل رہی ہے کہ ان کا جانشین کون ہے؟ ممتاز مفتی یا اشفاق احمد۔ یہ دونوں بزرگ شہاب صاحب کے بے حد قریب تھے اور دونوں نے ایک دوسرے سے بڑھ کر شہاب صاحب کی خدمت کی ہے۔ اس لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ کون جانشینی کے اعزاز کا مستحق ہے۔ یہ خوشی کی بات ہے کہ زیر نظر کتاب میں اس مشکل مسئلے کا حل موجود ہے۔
    بانو قدسیہ نے اشفاق احمد کا ایک مضمون بھی اپنی کتاب میں شامل کیا ہے، جس کے ابتدائی الفاظ یہ ہیں:
    " میں سمجھتا ہوں اب یہ بات کہہ دینی چاہیے اور اس کے کہنے میں کسی قسم کی معذرت یا کسی حیلے کو سہارا نہیں بنانا چاہیے کہ میں قدرت اللہ شہاب کا خلیفہ ہوں ، اور واحد خلیفہ ہوں کیونکہ انہوں نے دو مرتبہ خود اپنی زبان سے واشگاف الفاظ میں بیان دیا تھا کہ اشفاق احمد میرا خلیفہ ہے اور میں اس کے لیے دعا کرتا ہوں۔" (ص 63)
    شہاب صاحب نے خلیفہ کا لفظ کن معنوں میں استعمال کیا تھا ۔ اس کی تفصیل بانو قدسیہ نے ان الفاظ میں بیان کی ہے:
    " شہاب بھائی کے (پیروں کے) انگوٹھوں میں جو ناخن اگتے وہ ایسے نا ہنجار ہوتے کہ سیدھا باہر نکلے کی بجائے اندر کی طرف مڑ کر گوشت میں پیوست ہونے لگتے ۔ یہ ناخن خان صاحب (اشفاق احمد) بڑی پریت سے ، جیسے کوئی لڑکی گڑیا کو کپڑے پہناتی ہے ، کاٹا کرتے تھے۔" (ص61)
    یہ کام عموما لاہور میں اشفاق احمد کے گھر پر ہوتا تھا ، لیکن کبھی ایسا بھی ہوتا کہ اشفاق احمد کو یہ خدمت انجام دینے کے لیے اسلام آباد جانا پڑتا۔ شہاب صاحب فون کر کے بانو قدسیہ سے فون کر کے کہتے :
    "میرے ناخنوں کی تکلیف بڑھ گئی ہے ۔۔۔۔ تم میرے خلیفہ کو ایک دن کے لیے بھیج دو کہ آکر میرے ناخن کاٹ جائے۔" (ص 80)
    اردو ادب کی تاریخ میں ایک اور "خلیفہ" بھی گزرے ہیں ۔ یہ اپنے زماے کے مشہور شاعر اور میرزا سودا کے شاگرد تھے۔ نام عنایت اللہ تھا اور تخلص حجام۔ نہایت متقی اور پرہیز گار تھے، البتہ شاعری میں خاصے شوخ تھے۔ ان کے چند شعر سنیے:

    سر میاں حجام بہتوں کا پھریں تھے مونڈتے
    آج اس کوچے میں ان کی بھی حجامت ہوگئی
    اس شوخ کے کوچے میں نہ جایا کرو حجام
    چھن جائیں گے اک روز یہ ہتھیار تمہارے
    دکان کے آگے سے گزر جاتے ہیں بے لوث
    سکھوں کو ذرا دیکھ غضب کرتے ہیں کتنا
    کہتے ہیں حسینان جہاں مجھ کو خلیفہ
    حجام نہیں کہتے ادب کرتے ہیں کتنا

    آخری شعر میں لفظ " خلیفہ" انہیں معنوں میں استعمال کیا گیا ہے، جن معنوں میں شہاب صاحب استعمال کیا کرتے تھے۔
    (31 اگست 1989ء )​


    بشکریہ: سن تو سہی (مشفق خواجہ کی منتخب تحریریں)
    مرتبین: ڈاکٹر انور سدید، خواجہ عبد الرحمٰن طارق
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
    • دلچسپ دلچسپ x 1
  2. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,398
    بہت عمدہ، مزید کا انتظار رہے گا ۔ ۔ ۔ ۔
     
    • متفق متفق x 1
  3. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    بہت عمدہ اقتباس ہے عفرا ، مشفق خواجہ کے قلم کی کاٹ کے کیا کہنے ۔ انہوں نے خامہ بگوش کے عنوان سے جو کالم لکھے تھے ان میں شہاب نامہ کا بھی خوب تجزیہ کیا تھا ، طویل کالم تھا ہفت روزہ تکبیر میں آیا کرتا تھا ۔ کمال کے ناقد تھے ۔
     
    • معلوماتی معلوماتی x 1
  4. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,756
    جزاک اللہ خیرا سسٹر
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  5. عفراء

    عفراء webmaster

    شمولیت:
    ‏ستمبر 30, 2012
    پیغامات:
    3,918
    بالکل۔
    جی وہی خامہ بگوشیاں کتب کی صورت میں یکجا کی گئی ہیں۔ شہاب نامہ کے علاوہ بھی بہت سوں کی خبر لی ہے! وقت ملا تو کچھ اور شیئر کروں گی ان شاء اللہ۔ شہاب نامہ کا تجزیہ یہاں موجود ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  6. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    پھر تو آپ مزے کی چیز پڑھ رہی ہیں ، میں نے یہ کالم بہت عرصہ محفوظ رکھے تھے لیکن خانہ بدوش کتنے میگزین سنبھال سکتے ہیں ۔ اردو ادب کے بڑے بڑے ملحدوں کا جو خاکہ انہوں نے اڑا دیا ہے اس کے بعد کہیں وہ بات نہیں ملی ۔ ان کے لکھے خاکے جس نے پڑھ رکھے ہیں اسے آج میڈیا پر چھائے ہوئے نام نہاد ادبی خاندانوں کی حقیقت معلوم ہے ۔
     
    • معلوماتی معلوماتی x 1
  7. عفراء

    عفراء webmaster

    شمولیت:
    ‏ستمبر 30, 2012
    پیغامات:
    3,918
    ہمم درست فرمایا۔ میرا بھی پہلا تاثر یہی بنا ان کالمز کو پڑھ کر۔
    پھر آپ اب کتابیں خرید لیں ان کی!
    حیرت ہے کہ میری اس سے پہلے ان پر کبھی نظر نہیں گئی۔ شاید اپنے سے چھوٹوں کی چیزیں اس قابل لگتی نہیں!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  8. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    اچھا تو بھائی کی لائی ہوئی کتابوں میں سے اڑائی ہے ؟
    میری غیر نصابی کتابیں پہلے ہی جگہ کی تنگی کی وجہ سے تحفوں میں بٹ گئیں ابھی بھی بک شیلفس سے باہر پڑی ہیں ۔ سٹڈیز ختم کر لوں پھر بہت کچھ کرنا ہے ان شاءاللہ ۔
     
  9. عفراء

    عفراء webmaster

    شمولیت:
    ‏ستمبر 30, 2012
    پیغامات:
    3,918
    اچھا اندازہ لگایا ہے! اسی کی کلیکشن ہے : ) میرے ہاتھ میں یہ کتاب دیکھ کر مذاق کر رہا تھا کہ بچوں کی چیز نہیں ہے یہ!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  10. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    ماشاءاللہ بہت اچھا ذوق ہے آئی مسٹ سے ۔ واقعی مشفق خواجہ کو عام لوگ نہیں پڑھ سکتے ۔ آپ سب ماشاءاللہ ہونہار بچے ہیں ۔
     
  11. عفراء

    عفراء webmaster

    شمولیت:
    ‏ستمبر 30, 2012
    پیغامات:
    3,918
    ہہہہہہ
    میں کیا کہہ سکتی ہوں آپکا حسن ظن ہے تو اللہ اسے قائم رکھے! اٰمین
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  12. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,921
    کچھ ان کی کتب اور پبلشر کا نام و تعارف کتب سیکشن میں کروا دیں۔ مفید ہو گا اگر موضوعات کا تعارف بھی کروا دیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  13. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    ایک جگہ ہم نے بابوں کی کرامات پر بات کی تھی ، اسی سلسلے میں اچھا اقتباس ہے یہ ۔ اے حمید نے اپنے بارش ، سماوار خوشبو والے ایک کالم میں اشفاق احمد اور شہاب کے تصوف پر بہت اچھا تبصرہ کیا تھا اس کے بعدڈاکٹر انور سدید نے بھی شہاب کے رائٹرز گلڈ ، پریس ٹرسٹ اور دوسرے سرکاری کارناموں پر تفصیلا لکھا ۔ وہ سب سامنے ہو تو ان جملوں کا زیادہ لطف آتا ہے
    غلام محمد ، جنرل ایوب اور یحیی خان کے دور تک یہ شخص ملک کی اعلی بیورو کریسی کا کل پرزہ تھا اس کے بعد پاکئ داماں کی حکایات بڑھانا چہ معنی ۔
     
  14. عفراء

    عفراء webmaster

    شمولیت:
    ‏ستمبر 30, 2012
    پیغامات:
    3,918
    شکریہ! مضمون مکمل کر دیا ہے۔۔۔
     
  15. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,398
    کہاں؟؟؟ ذرا لنک تو دیجئے ۔ ۔ ۔ ۔
     
  16. عفراء

    عفراء webmaster

    شمولیت:
    ‏ستمبر 30, 2012
    پیغامات:
    3,918
    اسی تھریڈ کو اپڈیٹ کیا ہے بھائی۔ اوپر دیکھیں۔
     
  17. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,398
    اوہ، مطلع کرنے کا شکریہ!

    اب میں شکریہ کہاں ادا کروں؟

    سسٹر بہتر ہوتا کہ آپ اسی تھریڈ میں نئی پوسٹ کرتیں، یا پھر نیا تھریڈ لگا کر اس میں لنک دے دیتیں، تاکہ باقی ممبران کو بھی اس مضمون کے دوسرے حصے کے شائع ہونے کا پتہ چل جاتا، فورمز پر ایک بار کوئی تھریڈ یا پوسٹ پڑھ کر اکثر قارئین اسے دوبارہ نہیں دیکھتے ۔ ۔ ۔ ۔ اور اپڈیٹڈ پوسٹ ہسٹری بن کر رہ جاتی ہے۔
     
  18. عفراء

    عفراء webmaster

    شمولیت:
    ‏ستمبر 30, 2012
    پیغامات:
    3,918
    شکریہ کا مسئلہ تو نہیں ہے کہ وہ پچھلی پوسٹ پر ہی موجود ہے!
    اور پوسٹ کر کے مضمون مکمل ہونے کی خبر اسی لیے دی تاکہ باقی ارکان کو بھی معلوم ہو جائے۔
    بہرحال آپ کہتے ہیں تو دوبارہ ٹکڑوں میں پوسٹ کردوں؟
     
  19. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,398
    لو کر لو گل میں تو خان صاب کو بڑا فلسفی سمجھتا تھا ۔ ۔ ۔ ۔
     
  20. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,398
    آئندہ کے لئے رکھ چھوڑیں، برادرانہ مشورہ ہے کہ یا تو پورا ایک ساتھ پوسٹ کر دیا کریں، یا پھر ٹکڑوں میں الگ پوسٹس کی شکل میں تاکہ قاری کو ڈھونڈنا نہ پڑے کہ کہاں سے چھوڑا تھا، یا پھر قاری اسے پڑھا ہوا سمجھ کر دیکھے ہی نہ!
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں